مارکیٹ میں 650روپے فی کلو گیس فروخت ہونا شروع

 مارکیٹ میں 650روپے فی کلو گیس فروخت ہونا شروع

مارکیٹ میں 650روپے فی کلو گیس فروخت ہونا شروع من مانیوں پر سرکاری نرخناموں پر عمل درآمد کے ذمہ داران خاموش تماشائی بن گئے

خوشاب(نمائندہ دُنیا)حکومت کی جانب سے پٹرولیم مصنوعات کے بعد ایل پی جی کی قیمتوں میں کئے جانیوالے ہوشربا اضافہ نے شہریوں کی چیخیں نکال دیں ، عوامی حلقوں کے مطابق حکومت نے ان پر مہنگائی کا ایک اور ڈرون حملہ کرتے ہوئے گھریلو استعمال کی گیس کی قیمت میں گیس کی قیمت میں50روپے فی کلو گرام اضافے کے ساتھ 550روپے فی کلو گیس فروخت کرنے کا اعلان کیا جس کے بعد گیس مافیا نے بہتی گنگا میں ہاتھ دھونے کیلئے از خوود مزید 100اضافہ کرتے ہوئے مارکیٹ میں 650روپے فی کلو گیس فروخت کرنا شروع کر دی، ستم ظریفی یہ ہے کہ ان کی من مانیوں پر سرکاری نرخناموں پر عمل درآمد کے ذمہ داران خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں اور گیس مافیا کی من مانیوں کا نوٹس لینے والا کوئی نہیں، شہریوں کا کہنا ہے کہ مہنگائی کے ہاتھوں پہلے ہی پریشان عوام کے لیے کھانا پکانا بھی مشکل ہوتا جا رہا ہے ، ایسے میں گیس کی قیمت میں نا قابل بردزاشت اضافہ غریب اور متوسط طبقے کے لیے ناقابلِ برداشت بوجھ بن گیا ہے ۔ آخر راتوں رات قیمتوں میں اتنا بڑا اضافہ کس قانون اور جواز کے تحت کیا گیا، اور متعلقہ ادارے گیس فروخت کرنے والوں سے سرکاری نرخوں پر عمل درآمد سے کیوں گریز کر رہے ہیں ؟ شہریوں نے وزیراعظم شہباز شریف سے مطالبہ کیا ہے کہ ایل پی جی کی قیمت میں اچانک اضافے کا فوری نوٹس لیا جائے ، قیمتوں میں اضافے کی وجوہات سامنے لائی جائیں۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...