ماڈل بازار، 88 دکانداروں نے رقم واپس لے لی

ماڈل بازار، 88 دکانداروں نے رقم واپس لے لی

دکانداروں کو پابند بنانے کی کوشش کی گئی کہ اشیائے ضروریہ منڈی ریٹ سے 20 روپے کلو کم قیمت پر فروخت کریں، دکانداروں نے الاٹمنٹیں منسوخ کرا لیں شرط عائد کرنے سے پہلے انتظامیہ کو اس امر کو یقینی بنانا چاہیے تھا کہ آڑھتی اور تھوک فروش ا اشیاء 20 روپے فی کلو کم قیمت پر فراہم کریں، دکانداروں کا موقف

سرگودھا(سٹاف رپورٹر) کروڑوں روپے کے سرکاری فنڈز خرچ کرکے قائم کیا جانے والا ماڈل بازار ناقص منصوبہ بندی کے باعث ابتدا ہی میں بحران سے دوچار ہوگیا، جہاں 88 دکانوں کی تعمیر اور پہلے سے موجود ریڑھی بانوں کو کاروبار کے مواقع فراہم کرنے کے دعوؤں کے باوجود دکانداروں نے الاٹمنٹیں منسوخ کروا کر اپنی سکیورٹی رقوم واپس لینا شروع کر دی ہیں، انتظامیہ کی جانب سے پرانی سبزی منڈی میں گورنمنٹ پائلٹ گرلز ماڈل ہائی سکول کی دیوار کے ساتھ ماڈل بازار کے تحت 88 دکانیں تعمیر کی گئیں، جبکہ وہاں پہلے سے کاروبار کرنے والے ریڑھی بانوں سے فی کس 32 ہزار روپے سکیورٹی کی مد میں وصول کرکے انہیں دکانیں الاٹ کی گئیں۔ تاہم الاٹمنٹ کے معاہدے میں مبینہ طور پر دکانداروں کو اس امر کا پابند بنانے کی کوشش کی گئی کہ وہ اشیائے ضروریہ منڈی ریٹ کے مقابلے میں 20 روپے فی کلو کم قیمت پر فروخت کریں، جس پر دکانداروں نے شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے الاٹ منٹس منسوخ کروانے اور اپنی جمع شدہ رقوم واپس لینے کا سلسلہ شروع کر دیا۔ متاثرہ ریڑھی بانوں کا مؤقف ہے کہ کم قیمت پر اشیاء فروخت کرنے کی شرط عائد کرنے سے پہلے انتظامیہ کو اس امر کو یقینی بنانا چاہیے تھا کہ آڑھتی اور تھوک فروش انہیں اشیاء مقررہ منڈی ریٹ سے 20 روپے فی کلو کم قیمت پر فراہم کریں، تاکہ وہ خریداری کی لاگت، دکان کے اخراجات اور دیگر ضروری معاملات پورے کرنے کے بعد اپنا محدود سرمایہ بچا سکیں اور کاروبار جاری رکھ سکیں۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...