جنوبی ایشیا: ٹرمپ کی پاکستان بارے پالیسی اچھی :مشاہد

جنوبی ایشیا: ٹرمپ کی پاکستان بارے پالیسی اچھی :مشاہد

سی آئی اے نے کچھ بندے ایران بھیجے تھے ،خامنہ ای ایران میں ہی رہیں گے امریکا سپریم لیڈر ،صدر،سپیکر کوٹارگٹ کرسکتا، دنیا مہر بخاری کیساتھ میں گفتگو

لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک) سینئر سیاست دان مشاہد حسین سید نے کہا ہے کہ ڈٖونلڈ ٹرمپ کی جنوبی ایشیا میں پاکستان سے متعلق پالیسی اچھی ہے ،ٹرمپ بھارت کو رگڑا دے رہا ہے ،اس طرح ہمارے لیے جنوبی ایشیا کے حوالے سے ڈٖونلڈ ٹرمپ کا ہونا فائدہ مند ہے ،لیکن عالمی سیاست کیلئے وہ نقصان دہ ہے ۔دنیا نیوز کے پروگرام ‘ دنیا مہر بخاری کے ساتھ ’میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا ڈٖونلڈ ٹرمپ نے بہت بڑا یوٹرن لیا ہے ،اس نے کہا تھا نومور  وار،نومور رجیم چینجز لیکن مجھے لگتا ہے ،اب ڈٖونلڈ ٹرمپ کا ایجنڈا امریکا فرسٹ نہیں، اسرائیل فرسٹ ہے ،خاص کر فلسطین اور ایران کے حوالے سے ،جہاں تک وینزویلا کا تعلق ہے وہ انہوں نے اناونس کردیا،ایران میں جو احتجاج شروع ہوئے تھے وہ مہنگائی، معیشت کے حوالے سے تھے۔

میرے خیال میں موساد اور سی آئی اے نے کچھ بندے ٹرینڈ کئے اور انہیں ایران بھیجا ،کیونکہ ایران میں کوئی عام آدمی اسلحہ لے نہیں سکتا،ٹریننگ یافتہ افراد نے بندوں کو مارا ہے ،500 فوجی مارے گئے ان میں پاسدران انقلاب کے اہلکار شامل تھے ،ایران کی ایک ہی ناکامی ہے کہ موساد اور سی آئی اے نے ان کی سکیورٹی بریج کردی۔ انہوں نے کہا ایرانی سپریم لیڈرآیت اللہ خامنہ ای ایران میں ہی رہیں گے ،دوسر ے ممالک کی طرف جانے کی خبریں جعلی ہیں،اگر حملہ ہوتا ہے ،ان کی شہادت ہوتی ہے تو انہوں نے تین آدمیوں کے نام دے دیئے ہیں،بات یہ ہے کہ ایران وینزویلا نہیں ہے ،وینزویلا میں سی آئی اے نے فوج کے کچھ بندوں کوخریدلیا تھا،پھر اس کے صدر کو وہاں سے اٹھالیا،وینزویلامیں سسٹم بھی اب تک وہی چل رہا ہے ،ایران میں ایسا نہیں ہے بلکہ یہاں مضبوط نظام ہے ،امریکا ایسا نہیں کرسکتا،اس وقت امریکا کے پاس ملٹری آپشن ہے ،امریکا ایران میں ٹاپ لیڈرشپ سپریم لیڈرآیت اللہ خامنہ ای ،صدر،سپیکر آف پارلیمنٹ کوٹارگٹ کرسکتا ہے ،امریکا پاسداران انقلاب کے ہائی کمانڈ اوران کے ہیڈکوآرٹرز کو بھی ٹارگٹ کرسکتا ہے ۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں