عیدالفطر کے بعد ملکی سیاسی درجہ حرارت میں تیزی آسکتی

عیدالفطر کے بعد ملکی سیاسی درجہ حرارت میں تیزی آسکتی

خطے کی صورتحال پر اجلاس میں اپوزیشن شریک ہوتی تویہ زیادہ مؤثر ہوتا

(تجزیہ: سلمان غنی)

پاک افغان کشیدگی اور امریکا و اسرائیل کی ایران کے ساتھ جنگ اور خطے پر اس کے اثرات کے حوالے سے وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے بلائے جانے والے اجلاس کا مقصد تو قومی سلامتی کے ایشوز پر اتفاق رائے اور قومی لائحہ عمل کا یقین تھا لیکن اپوزیشن نے بانی پی ٹی آئی کی صحت اور ان سے ملاقاتوں کو جواز بنا کر قومی ایشوز پر مشاورتی عمل میں شرکت سے انکار کر دیا جس سے ایک بات تو واضح ہوگئی کہ اپوزیشن نے اب تمام تر ایشوز پر اپنے کردار کو بانی پی ٹی آئی کی صحت  اور ان سے ملاقات تک محدود کر لیا ہے اور انہیں قومی اور سیاسی ایشوز پر ڈائیلاگ سے کوئی غرض نہیں ،جس کی بنا پر کہا جا سکتا ہے کہ قومی بیانیہ تسلسل نہ پا سکا اور سیاسی کشمکش نمایاں ہو گئی جو کسی بھی طرح ملک کے مفاد میں نہیں، البتہ جمعیت علما اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے حکومت اور پالیسیز کے حوالے سے شدید تحفظات کے باوجود اجلاس میں شرکت کر کے یہ ثابت کیا۔

کہ ان کا طرز عمل سیاسی ہے اور وہ اہم اور حساس ایشوز پر مذاکراتی عمل کو بھی ناگزیر سمجھتے ہیں ،حکومتی ذریعے نے بتایا کہ اپوزیشن لیڈرز محمود خان اچکزئی اور راجہ ناصر عباس مذکورہ ایشو پر بریفنگ میں شرکت پر آمادہ تھے لیکن ان کی جانب سے یہ شرکت پی ٹی آئی کی منظوری سے مشروط تھی، انہوں نے اپنی آرا سے پی ٹی آئی کی لیڈر شپ کو آگاہ کر دیا مگر انہیں بتایا گیا کہ یہ فیصلہ پی ٹی آئی کی سیاسی کمیٹی کرے گی اور بعد ازاں پی ٹی آئی کی سیاسی کمیٹی نے مذکورہ اجلاس میں شرکت سے یہ کہتے ہوئے معذرت ظاہر کر دی کہ اگر حکومت بانی پی ٹی آئی کی صحت کے حوالے سے سنجیدہ نہیں اور انہیں شفا ہسپتال منتقل کرنے کے لئے تیار نہیں تو پھر ہمارا ان کی بریفنگ میں شرکت کا بھی جواز نہیں ،اطلاعات تو یہ بھی ہیں کہ مذکورہ اجلاس میں بھی یہ رائے سامنے آئی تھی کہ افغانستان اور ایران کے معاملات خطے کے حوالے سے حساس ہیں اور ہمیں اس حوالے سے بریفنگ میں چلے جانا چاہئے مگر فیصلہ اکثریت رائے سے ہوا اور اپوزیشن نے اس میں شریک ہونے سے انکار کر دیا ۔

اپوزیشن کی عدم شرکت سے سیاسی درجہ حرارت میں کمی نہیں آئے گی بلکہ عیدالفطر کے بعد اور تیزی آ سکتی ہے ۔جہاں تک مذکورہ اجلاس کے مقاصد اور اثرات کا سوال ہے تو اس میں وزیراعظم شہباز شریف ، بلاول بھٹو زرداری، مولانا فضل الرحمن اور دیگر رہنماؤں نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ ہمیں اپنے مفادات کو دیکھنا ہے ، پاکستان ایک ذمہ دار ملک ہے اور اس بنیاد پر ہمیں ہر ایشو پر ذمہ داری کا ثبوت دینا ہوگا ۔اجلاس میں کچھ شرکا کی جانب سے وزیراعظم شہباز شریف کو براہ راست قوم سے خطاب کی تجویز بھی دی گئی جبکہ مولانا فضل الرحمن نے اس طرح پارلیمنٹ کو بھی اعتماد میں لینے کو کہا ۔لہٰذا حکومت کی جانب سے افغانستان کے حوالے سے معاملات اور خلیج میں جاری صورتحال پر بریفنگ کے اس عمل کو بروقت اور نتیجہ خیز قرار دیا جا سکتا ہے لیکن اگر اس میں اپوزیشن کی لیڈر شپ بھی شریک ہوتی تو اس کے اثرات عوامی اور سیاسی سطح پر اور زیادہ مو ٔثر بن سکتے تھے ۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں