مشرق وسطی جنگ،ڈالر کی بالادستی کمزور،خطے کی سلامتی شدید متاثر ہوسکتی :ماہرین
جنگی صورتحال کے باعث آبنائے ہرمز میں تیل کی ترسیل میں ممکنہ خلل نے عالمی منڈیوں میں بے چینی پیدا کر دی ڈی ڈالرائزیشن کا رجحان ، ایران، چین ،روس متبادل مالیاتی نظام کی جانب گامزن ، علاقائی اقتصادی بلاکس مضبوط ہوگا
اسلام آباد (وقائع نگار)مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کی صورتحال نے نہ صرف خطے کی سلامتی کو متاثر کیا بلکہ اس سے عالمی مالیاتی نظام میں بھی غیر یقینی کیفیت کا خدشہ بڑھ گیا ،جنگ کی صورتحال امریکی ڈالر کی عالمی بالادستی کمزور کر سکتی ہے ؟ماہرین کے مطابق اس تنازع کے اثرات ڈی ڈالرائزیشن (ڈالر پر انحصار کم کرنے ) کے عمل کو تیز کر سکتے ہیں ، حالیہ رپورٹس کے مطابق آبنائے ہرمز میں کشیدگی اور تیل کی ترسیل میں ممکنہ خلل نے عالمی منڈیوں میں بے چینی پیدا کر دی ، کیونکہ دنیا کی تقریباً 20 فیصد تیل سپلائی اسی راستے سے گزرتی ہے ۔ اس صورتحال کے باعث توانائی کی قیمتوں میں اضافے اور عالمی مالیاتی نظام میں غیر یقینی کیفیت کا خدشہ بڑھ گیا ۔
ایرانی مؤقف کے مطابق تیل کی تجارت میں متبادل کرنسیوں کے استعمال پر زور دیا جا رہا ہے ، بالخصوص چینی کرنسی یوآن کو فروغ دینے کی بات کی جا رہی ہے ۔ یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب عالمی معیشت میں امریکی ڈالر کی بالادستی بڑی حد تک پیٹرو ڈالر سسٹم سے جڑی ہوئی ہے ، جس کے تحت تیل کی زیادہ تر تجارت ڈالر میں ہوتی ہے ۔تاہم ایران جیسے ممالک، جو امریکی پابندیوں کا سامنا کر رہے ہیں، پہلے ہی ڈالر سے ہٹ کر متبادل تجارتی راستے تلاش کر رہے ہیں۔ ایران نے روس اور دیگر ممالک کے ساتھ مقامی کرنسیوں میں تجارت بڑھانے کی کوششیں تیز کر دی ہیں۔اسی طرح، ایران نے برکس (BRICS) ممالک کے ساتھ مل کر ڈالر کے بجائے دیگر کرنسیوں میں لین دین کو فروغ دینے کا عندیہ بھی دیا ،ماہرین کا کہنا ہے کہ جب امریکہ پابندیوں کے ذریعے ڈالر کو ہتھیار کے طور پر استعمال کرتا ہے تو متاثرہ ممالک متبادل مالیاتی نظام بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔ایران، روس اور چین جیسے ممالک ایسے مالیاتی نیٹ ورکس پر بھی کام کر رہے ہیں جو امریکی (SWIFT) سسٹم سے آزاد ہوں۔بین الاقوامی مالیاتی اداروں نے خبردار کیا ہے کہ اگر یہ کشیدگی طویل ہو گئی تو عالمی معیشت شدید دباؤ کا شکار ہو سکتی ہے ،
جس سے مالیاتی منڈیوں میں عدم استحکام بڑھے گا ،ایسے حالات میں ممالک اپنی معیشت کو محفوظ بنانے کے لیے ڈالر پر انحصار کم کرنے کی کوشش کر سکتے ہیں ، ماہرین کے مطابق مستقبل میں تیل کی تجارت میں متبادل کرنسیوں کا استعمال بڑھ سکتا ہے ،علاقائی اقتصادی بلاکس مزید مضبوط ہو سکتے ہیں،عالمی مالیاتی نظام زیادہ کثیر قطبی شکل اختیار کر سکتا ہے ،پاکستان جیسے ممالک کے لئے صورتحال ایک مشکل توازن پیدا کرتی ہے ۔ ایک طرف ڈالر پر انحصار کم کرنے کا عالمی رجحان ہے ، جبکہ دوسری طرف ملکی معیشت اب بھی بڑی حد تک ڈالر سے جڑی ہوئی ہے ۔ اس لئے بھی بڑی تبدیلی کے اثرات براہ راست پاکستان کی معیشت اور خارجہ پالیسی پر مرتب ہو سکتے ہیں۔مشرقِ وسطیٰ کی یہ کشیدگی صرف ایک علاقائی مسئلہ نہیں بلکہ عالمی مالیاتی نظام کے لئے ایک ممکنہ موڑ بھی ثابت ہو سکتی ہے ۔ اگر یہ رجحان جاری رہا تو آنے والے برسوں میں دنیا ایک ایسے نظام کی طرف بڑھ سکتی ہے جہاں امریکی ڈالر واحد غالب کرنسی نہ رہے بلکہ مختلف کرنسیاں عالمی تجارت میں اہم کردار ادا کریں۔تاہم یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ ڈالر کی بالادستی مکمل طور پر ختم ہو جائے گی، لیکن موجودہ صورتحال نے اس نظام میں دراڑ ضرور ڈال دی ہے ۔