اسرائیل کشیدگی برقرار رکھنے کا خواہاں :بریگیڈیئر (ر)راشد ولی
ٹرمپ کے بیانات بدلتے رہتے ، ایران سے معاہدہ فوری نظر نہیں آتا:دفاعی تجزیہ کار مذاکرات کی پیشرفت ممکن، اصل رکاوٹ اسرائیلی موقف : ’’دنیا مہر بخاری کیساتھ‘‘
لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک)دفاعی تجزیہ کار بریگیڈیئر (ر)راشد ولی نے کہا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اپنے بیانات تبدیل کرتے رہتے ہیں اور ایران کے حوالے سے ان کا حالیہ مؤقف بھی اسی تسلسل کا حصہ ہے ۔دنیا نیوز کے پروگرام ‘‘دنیا مہر بخاری کے ساتھ ’’ میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اسرائیل نہیں چاہتا کہ کوئی بھی مذاکراتی عمل آگے بڑھے ، جبکہ ایران نے بھی اسی بنیاد پر جوابی کارروائیاں کی ہیں کیونکہ اسرائیل سیزفائر کی پاسداری نہیں کر رہا تھا۔ خطے میں موجودہ صورتحال کو فوری طور پر مکمل جنگ قرار نہیں دیا جا سکتا کیونکہ تمام فریقین جوابی کارروائی کی بات کر رہے ہیں، تاہم جنگ بندی ختم کرنے کا کوئی واضح اعلان سامنے نہیں آیا۔
صدر ٹرمپ ایران پر دباؤ بڑھانے کے لیے بیانات دیتے رہتے ہیں جبکہ ایران کی طرف سے بھی سخت جوابی بیانات آتے ہیں، تاہم اس کے باوجود مذاکرات میں پیش رفت کے امکانات موجود ہیں۔ اسرائیل نہیں چاہتا کہ ایران کے ساتھ کسی قسم کی بات چیت ہو، جبکہ امریکا کی کوشش ہے کہ معاملات جلد طے پا جائیں کیونکہ وہاں انتخابی ماحول ہے اور ہر گزرتا دن اہمیت رکھتا ہے ۔ صدر ٹرمپ نے حال ہی میں نیتن یاہو سے سخت گفتگو کی تھی لیکن اسرائیل کی جانب سے کوئی خاطر خواہ ردعمل سامنے نہیں آیا، جس سے لگتا ہے کہ اسرائیل کسی حد تک امریکی پالیسی پر اثر انداز ہو رہا ہے ۔ ایران بات چیت کے لیے تیار ہے لیکن اصل رکاوٹ اسرائیل ہے ، جو نہیں چاہتا کہ کوئی معاہدہ ہو۔ اسرائیل نے امن کو یرغمال بنا رکھا ہے ، تاہم اس کے باوجود مذاکراتی عمل کے آگے بڑھنے کی توقع برقرار ہے ۔