شنگھائی تعاون تنظیم اجلاس، پاکستان کیلئے سفارتی اہمیت کا اہم موقع
وزیراعظم شہباز کی عالمی رہنماؤں سے ملاقاتیں متوقع، علاقائی امن و استحکام پر توجہ
(تجزیہ :سلمان غنی )
کرغزستان کے دارالحکومت بشکیک میں منعقد ہونے والی شنگھائی تعاون تنظیم کی کانفرنس کو علاقائی امن و استحکام، معاشی ترقی، باہمی روابط اور اہم عالمی و علاقائی مسائل کے حوالے سے غیر معمولی اہمیت کا حامل قرار دیا جا رہا ہے ۔ اجلاس میں چین، روس، بھارت، پاکستان، ایران سمیت تنظیم کے دیگر رکن ممالک کی قیادت شرکت کر رہی ہے ۔ وزیراعظم محمد شہباز شریف بھی بشکیک پہنچ چکے ہیں، جہاں وہ کانفرنس میں شرکت کے علاوہ اہم عالمی رہنماؤں سے دوطرفہ ملاقاتیں بھی کریں گے ۔شنگھائی تعاون تنظیم کو ایک ایسے علاقائی پلیٹ فارم کے طور پر دیکھا جاتا ہے جو اتفاق رائے ، خودمختاری، عدم مداخلت اور باہمی احترام کے اصولوں پر قائم ہے ۔ تنظیم کی ابتدائی توجہ دہشت گردی، انتہا پسندی اور شدت پسندی کے خاتمے پر مرکوز تھی، تاہم وقت کے ساتھ اس کا دائرہ اقتصادی تعاون، علاقائی روابط، تجارت، سرمایہ کاری اور سیاسی ہم آہنگی تک وسیع ہو چکا ہے ۔موجودہ عالمی صورتحال میں اس اجلاس کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے ۔ امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی نے خطے کے امن و استحکام کو متاثر کیا ہے ، جبکہ اس کے اثرات توانائی کی عالمی منڈیوں، اہم سمندری راستوں اور علاقائی سلامتی پر بھی مرتب ہو رہے ہیں۔
ایسے حالات میں شنگھائی تعاون تنظیم کے سامنے اہم سوال یہ ہے کہ آیا علاقائی ممالک موجودہ بحرانوں سے نمٹنے کیلئے مشترکہ سفارتی کوششیں اور مؤثر سلامتی کا نظام تشکیل دے سکتے ہیں یا نہیں۔پاکستان کیلئے یہ اجلاس اس اعتبار سے بھی اہم ہے کہ وہ ایک جانب چین کے ساتھ اپنے قریبی تزویراتی تعلقات رکھتا ہے تو دوسری جانب ایران، روس اور وسطی ایشیائی ممالک کے ساتھ بھی روابط بڑھا رہا ہے ۔ اسلام آباد کیلئے بہتر حکمت عملی یہ ہوگی کہ وہ کسی ایک عالمی بلاک کا حصہ بننے کے بجائے متوازن علاقائی پالیسی کو آگے بڑھائے اور امن، تجارت، سرمایہ کاری اور علاقائی رابطوں کے فروغ کو اپنی سفارتی ترجیحات میں شامل رکھے۔
کانفرنس کے موقع پر چین اور پاکستان کے درمیان پاک چین اقتصادی راہداری، تجارت، سرمایہ کاری اور سلامتی کے شعبوں میں تعاون کو نئی سمت دینے کے امکانات بھی موجود ہیں۔ پاکستان اپنی جغرافیائی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے چین، ایران، افغانستان، وسطی ایشیا اور خلیجی ممالک کے درمیان علاقائی روابط کے فروغ میں اپنے کردار کو نمایاں کر سکتا ہے ۔اگرچہ امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی بظاہر کانفرنس کے بنیادی ایجنڈے کا حصہ نہیں، تاہم موجودہ علاقائی صورتحال کے پیش نظر جنگ بندی، مذاکرات، خودمختاری، عدم مداخلت اور علاقائی استحکام کے معاملات پر تبادلہ خیال متوقع ہے۔
پاکستان کیلئے یہ امر خصوصی اہمیت رکھتا ہے کیونکہ ایران اس کا ہمسایہ ملک ہے ۔ اسلام آباد خطے میں کشیدگی کے خاتمے ، مسائل کے سفارتی حل اور تنازع کے مزید پھیلاؤ کو روکنے کیلئے اپنے مثبت کردار کو اجاگر کر سکتا ہے ۔وزیراعظم محمد شہباز شریف کی عالمی رہنماؤں سے ملاقاتیں بھی پاکستان کیلئے اہم سفارتی موقع ہوں گی۔ ان ملاقاتوں میں دوطرفہ تعلقات، تجارت، سرمایہ کاری، علاقائی امن اور سلامتی کے معاملات زیر بحث آنے کے ساتھ افغانستان کی سرزمین سے پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے مسئلے اور سرحدی سلامتی کے اقدامات سے بھی متعلقہ ممالک کو آگاہ کیا جا سکتا ہے ۔ماہرین کے مطابق پاکستان کو کانفرنس میں جذباتی بیانیے کے بجائے متحرک سفارت کاری کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔
بھارت کے ساتھ براہ راست محاذ آرائی کے بجائے امن، تجارت، علاقائی رابطوں اور دہشت گردی کے خلاف مشترکہ تعاون کو اپنا بیانیہ بنانا پاکستان کیلئے زیادہ مؤثر ثابت ہو سکتا ہے ۔ پاکستان کی اصل کامیابی اس بات میں ہوگی کہ وہ خود کو کسی ایک فریق کے طور پر نہیں بلکہ علاقائی امن اور تعاون کیلئے ایک اہم شراکت دار کے طور پر پیش کرے ۔شنگھائی تعاون تنظیم میں روس، چین، بھارت، پاکستان، ایران، بیلاروس، قازقستان، کرغزستان، تاجکستان اور ازبکستان مستقل رکن ہیں، جبکہ متعدد دیگر ممالک کو مختلف نوعیت کی شراکت داری حاصل ہے ۔ موجودہ عالمی کشمکش اور علاقائی سلامتی کے بڑھتے ہوئے مسائل کے تناظر میں بشکیک اجلاس پاکستان کیلئے اپنی سفارتی اہمیت منوانے ، علاقائی طاقتوں سے روابط مضبوط کرنے اور قومی مفادات کو مؤثر انداز میں آگے بڑھانے کا اہم موقع ثابت ہو سکتا ہے۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments