بادام اور کاجو سمگل شدہ اشیا میں شامل نہیں:سپریم کورٹ
محض درآمدی پابندیوں کی خلاف ورزی سے یہ اشیا سمگل شدہ قرار نہیں پاتیں کسٹمز حکام کی بلوچستان ہائی کورٹ کے فیصلوں کے خلاف دائر درخواستیں خارج
اسلام آباد ( کورٹ رپورٹر)چھلکے کے بغیر بادام اور کاجو کسٹمز ایکٹ کے تحت سمگل شدہ اشیا کی مخصوص فہرست میں شامل نہیں، محض درآمدی پابندیوں کی خلاف ورزی سے یہ اشیا قانونی طور پر سمگل شدہ قرار نہیں پاتیں۔سپریم کورٹ نے کسٹمز حکام کی جانب سے بلوچستان ہائی کورٹ کے فیصلوں کے خلاف دائر درخواستیں خارج کرتے ہوئے قرار دیا کہ متعلقہ نوٹیفکیشن میں درج ‘‘تمام اقسام کی غذائی اجناس اور غذائی اشیا’’ کی عبارت کو اس حد تک وسیع نہیں کیا جا سکتا کہ اس میں الگ نوعیت کی اشیا یعنی بادام اور کاجو بھی شامل ہو جائیں۔جسٹس محمد شفیع صدیقی کی جانب سے فیصلہ تحریر کیا گیا۔مقدمات کے مطابق 20 اکتوبر 2024 کو کسٹمز حکام نے خفیہ اطلاع پر نوکنڈی میں ایسی گاڑیوں کو روکا جن میں غیر ملکی بادام اور کاجو منتقل کیے جا رہے تھے ۔
گاڑیوں کے ڈرائیوروں کی جانب سے پیش کردہ گڈز ڈیکلریشن کسٹمز ریکارڈ سے مطابقت نہیں رکھتا تھا، کیونکہ متعلقہ ڈیکلریشن ایرانی کشمش سے متعلق تھا اور اس میں درج گاڑیوں کی تفصیلات بھی مختلف تھیں۔کسٹمز حکام نے سامان اور اسے منتقل کرنے والی گاڑیوں کو ضبط کرنے کا حکم دیا، تاہم کسٹمز اپیلٹ ٹربیونل نے سامان واجب الادا ڈیوٹی و ٹیکس اور کسٹمز مالیت کے 20 فیصد کے مساوی جرمانے کی ادائیگی سے مشروط کرکے چھوڑنے کی اجازت دے دی، جبکہ گاڑیوں کی ضبطی کا حکم بھی کالعدم قرار دے دیا۔ بلوچستان ہائی کورٹ نے کسٹمز حکام کی جانب سے ان فیصلوں کو چیلنج کرنے کی درخواستیں مسترد کر دی تھیں۔سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ متعلقہ نوٹیفکیشن میں غذائی اجناس کی مختلف اقسام کا ذکر ہے ، جن میں گندم، چاول، مکئی، جو، دالیں اور دیگر اجناس شامل ہو سکتی ہیں، تاہم بادام اور کاجو عام مفہوم میں گری دار میوے ہیں اور انہیں غذائی اجناس کی اسی قسم میں شامل نہیں کیا جا سکتا۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments