"ACH" (space) message & send to 7575

امریکہ سے چھٹکارا

کیا ہی اچھا ہو کہ ٹرمپ کے احمقانہ ٹویٹ کے باعث ہم امریکی سحر سے نکل آئیں‘ ہم اس کی امداد پر انحصار کرنا چھوڑ دیں۔ ہمیں یہ کام بہت پہلے کر لینا چاہیے تھا لیکن کیا کریں کہ ہماری قیادتیں ایک مدت سے امریکہ پر انحصار کرتی آ رہی ہیں اور اس عمل کا آغاز 1949ء میں اس وقت ہوا جب وزیراعظم لیاقت علی خان کو دورۂ روس کی دعوت ملی۔ ابھی قیام پاکستان کو بمشکل دو برس گزرے تھے اور بطور پڑوسی ملک‘ روس کی دعوت کو ہمیں فوراً قبول کر لینا چاہیے تھا لیکن اس دعوت کے جواب میں بیگم رعنا لیاقت علی خان نے ناگوار لہجے میں کہا ''بات تو تب تھی جب یہ دعوت امریکی صدر ٹرومین کی طرف سے آتی‘‘۔ خاتون اول کی یہ بات کسی سفارت کار کے ذریعے امریکی صدر تک پہنچ گئی۔ صدر ٹرومین معاملہ فہم اور موقع شناس صدر تھے۔ انہیں یہ بھی علم تھا کہ اگر پاکستان اور روس کے تعلقات آغاز میں ہی مضبوط ہو گئے تو دونوں ملکوں کی یہ باہمی دوستی خطے میں روس کی اجارہ داری کا باعث بنے گی۔ ٹرومین نے فوری طور پر وزیراعظم لیاقت علی خان کو خاتون اول سمیت دورۂ امریکہ کی دعوت دی جو انہوں نے بخوشی قبول کر لی۔ انہوں نے روس کا دورہ کینسل کر دیا۔ وزیراعظم لیاقت علی خان اہلیہ سمیت 3 مئی 1950ء کو امریکہ پہنچے‘ 26 مئی تک مختلف امریکی ریاستوں میں بطور سرکاری مہمان رہے‘ 26 مئی کو ان کا آفیشل دورہ ختم ہو گیا لیکن یہ نجی طور پر مزید ایک ماہ اور سات دن امریکہ میں سیر و تفریح کرتے رہے اور 3 جولائی 1950ء کو امریکہ سے نکلے‘ کینیڈا پہنچے‘ وہاں سے لندن گئے اور بارہ جولائی کو واپس پاکستان پہنچ گئے۔ یہ ہمارا دنیا کے سامنے امریکہ کے حوالے سے پہلا جیسچر یا فرسٹ امپریشن تھا اور چونکہ فرسٹ امپریشن لاسٹ امپریشن ہوتا ہے؛ چنانچہ یہ امپریشن ابھی تک قائم ہے۔ ہم اُس وقت تک اپنے دل‘ اپنے دماغ اور اپنے سائے تک سے امریکہ کی چھاپ نہیں مٹا سکے جب تک ٹرمپ جیسے فاتر العقل شخص نے بیوقوفانہ ٹویٹ نہیں کر دیا۔ روس نے اس بات کو اپنے دل میں رکھا اور اپنی ہتک اور تذلیل سمجھا۔ اس کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا پاکستان ایک پڑوسی ملک کو چھوڑ کر امریکہ کو فوقیت دے گا۔ بھارت جو پاکستان کی کمزوریوں کی تاک میں بیٹھا ہوا تھا‘ اس نے روس کے ساتھ قربتیں اختیار کرنا شروع کر دیں‘ روس کو بھی خطے میں پاکستان کا بہتر متبادل مل گیا چنانچہ اگلے کئی برس تک روس اور بھارت ایک دوسرے کے قریب ہوتے چلے گئے اور روس نے درجنوں اقتصادی اور دفاعی معاہدے پاکستان کے بجائے بھارت کے ساتھ کئے‘ یہاں تک کہ 71ء کی جنگ میں بھارت کی بھرپور جنگی معاونت کی‘ جس کے باعث ہمارا ایک بازو کٹ کر بنگلہ دیش بن گیا۔
یہ کہنا درست نہیں کہ پاکستان امریکہ سے کہیں چھوٹا ملک ہے‘ یہ دفاعی‘ معاشی اور جغرافیائی اعتبار سے امریکہ کا مقابلہ نہیں کر سکتا اس لئے ہمیں اس سے ٹکر نہیں لینی چاہیے۔ کیا اس کا مطلب یہ سمجھا جائے کہ ہم اپنی بے عزتی برداشت کرتے رہیں؟ ہم دہشت گردی کے میدان میں ستر ہزار جانیں اور ایک سو بیس ارب ڈالر کا نقصان کرا چکے ہیں، اس کے باوجود امریکہ ہماری قربانیوں کو تسلیم کرنے کو تیار نہیں اور الٹا ہمیں جھوٹا کہہ رہا ہے۔ کیا ہم سربیا سے بھی چھوٹے اور کمزور ملک ہیں جس نے نوے کی دہائی میں امریکہ کو دفاعی میدان اور جدید ٹیکنالوجی میں ایسا جواب دیا جو امریکہ کو کبھی نہیں بھولے گا۔ سربیا جو رقبے کے لحاظ سے پاکستان سے دس گنا چھوٹا ملک ہے‘ جس کی کل آبادی لاہور شہر سے بھی کم ہے اور جس کا شمار تیسری دنیا کے ممالک میں ہوتا ہے‘ وہاں امریکہ کے راڈار پر نظر نہ آنے والے سٹیلتھ طیارے آتے اور بمباری کر کے چلے جاتے تھے۔ ایسا ہی ایک واقعہ ہمارے ہاں ایبٹ آباد میں بھی پیش آیا تھا جب ''آپریشن نیپچون سپیئر‘‘ میں چار امریکہ سٹیلتھ ہیلی کاپٹر رات کے اندھیرے میں اسامہ بن لادن کا کام تمام کرنے آئے اور چند منٹوں میں آپریشن مکمل کر کے واپس چلے گئے۔ یہ چاروں ہیلی کاپٹر راڈار پردکھائی نہیں دئیے اور انتہائی نیچی پرواز کے ذریعے ایبٹ آباد داخل ہوئے۔ سربیا میں جب اس طرح کی امریکی کارروائیاں تواتر کے ساتھ ہوئیں تو اس نے مسئلے کا حل ڈھونڈ نکالا۔ سربیا کے ایک کرنل زولٹن ڈینی نے اس خطرے کی بو انیس سو اسی کی دہائی میں سونگھ لی تھی۔ جب کرنل ڈینی نے محسوس کیا امریکہ ایسے طیاروں پر کام کر رہا ہے جو ریڈار پر نظر نہیں آتے (یہ سٹیلتھ ٹیکنالوجی کہلاتی ہے) کرنل ڈینی اور سربین افواج نے اس ٹیکنالوجی کا توڑ نکالنے کیلئے اینٹی سٹیلتھ ٹیکنالوجی پر کام شروع کر دیا‘ ان کے پاس نئے راڈار بنانے اور پھر انہیں اینٹی سٹیلتھ ٹیکنالوجی کا حامل بنانے کے لئے زیادہ وقت نہیں تھا چنانچہ انہوں نے اپنے 1960ء کے بنے ہوئے راڈارز میں چند سائنٹفک تبدیلیاں کرنے کا فیصلہ کیا۔ وہ اس نتیجے پر پہنچے اگر ان راڈارز کی فریکوئنسی کم رکھی جائے لیکن ویو لینتھ بڑھا دی جائے تو راڈار سے نکلنے والی لہریں سٹیلتھ جہاز کی اندرونی سطح تک پہنچ جائیں گی اور چونکہ اندرونی سطح پر اس مواد کی کوٹنگ نہیں کی گئی ہوتی جو جہاز کی بیرونی سطح پر لہروں کو دھوکہ دینے کیلئے پینٹ کیا جاتا ہے تو راڈارز کی لہریں جہاز کے اندرونی حصوں سے ٹکرا کر واپس آ جائیں گی اور راڈار پر جہاز کی موجودگی بتلا دیں گی۔ کرنل ڈینی کی یہ محنت 27مارچ 1999ء کو اس وقت اس کے کام آگئی جب جنگ کے دوران ایک ایف 117سٹیلتھ طیارہ سربیا کی حدود میں داخل ہوا‘ یہ طیارہ امریکہ کی ایجاد تھی‘ امریکہ نے ایسے 64 طیارے بنائے اور ایک طیارے پر 42 ملین ڈالر لاگت آئی تھی‘ جب یہ طیارہ کوسووو کی حدود میں آیا تو راڈارز نے نہ صرف اس کی نشاندہی کی بلکہ یہ طیارہ اینٹی ایئرکرافٹ میزائل کے نشانے پر آ یا اور چند ہی سیکنڈ کے بعد ملبے کا ڈھیر بن گیا۔ آپ حیران ہوں گے کہ سٹیلتھ ٹیکنالوجی صرف امریکہ کے پاس نہیں‘ چین نے بھی J-20 سٹیلتھ طیارہ بنا لیا ہے‘ جاپان نے شن شن نامی فائٹر تیار کیا ہے جو 2014ء میں جاپانی بیڑے میں شامل ہو چکا ہے اور تو اور بھارت بھی روس کے ساتھ مل کر سکھوئی ٹی 50 سٹیلتھ طیارہ بنا چکا ہے‘ اس طیارے کی کامیاب فلائٹ کا تجربہ 29 جنوری 2010ء کو ہو چکا ہے اور بھارت رواں سال اسے اپنی فضائیہ میں شامل بھی کرنے والا ہے۔
آپ ذرا غور کیجئے قرآن مجید میں جن گھوڑوں کی تیاری کا حکم ہے‘ آج یہ گھوڑے عیسائی‘ یہودی‘ہندو اور سکھ کے ہاتھوں میں تیار ہو رہے ہیں‘ یہ گھوڑے وہی ہیں جن کا ذکر سورۃ الانفال کی آیت 60میں آیا ہے ''تم لوگ‘ جہاں تک تمہارا بس چلے، زیادہ سے زیادہ طاقت اور تیار بندھے رہنے والے گھوڑے اُن کے مقابلے کیلئے مہیا رکھو تاکہ اس کے ذریعے سے اللہ کے اور اپنے دشمنوں کو اور ان دوسرے اعداء کو خوفزدہ کر دو‘‘ اور آج کے گھوڑے جدید ڈرون طیارے‘ بین البراعظمی بیلسٹک میزائل‘ اواکس‘ سٹیلتھ اور جی پی ایس ٹیکنالوجی‘ بی باون‘ ایف بائیس‘ ایف 117سٹیلتھ سپر فائٹر جہاز‘ بلیک ہاک ایچ 60ہیلی کاپٹرز‘ اندھیرے‘ پانی اور دیوار کے پار دیکھنے والے آلات اور بغیر پائلٹ جہاز اور ہیلی کاپٹرز اور خودکار اینٹی ایئرکرافٹ میزائل اور ہزاروں میل دور کی نقل و حرکت دیکھنے اور سننے والی جدید ٹیکنالوجی اور آلات ہیں۔ یہ درست ہے کہ پاکستان بھی چین کے ساتھ مل کر اپنے دفاع کو مضبوط تر بنا رہا ہے لیکن اس میں مزید تیزی آنی چاہیے۔ امریکہ بھی اگر افغانستان میں ناکام ہوا ہے تو اسے اس کا نزلہ پاکستان پر گرانے کی ضرورت نہیں۔ اس نے بلا وجہ خطے میں جنگ کا بازار گرم کر رکھا ہے اور اب پاکستان کو نشانہ بنانے پر تُلا ہے۔ شاید اسے معلوم نہیں کہ اس کا واسطہ اس فوج سے ہے جو دنیا کی بہترین فوج سمجھی جاتی ہے اور جس نے دہشت گردی کی پیچیدہ ترین جنگ صرف دو سال کے عرصے میں جیتی۔ جس طرح سانحہ سولہ دسمبر کے بعد پوری قوم اکٹھی ہو گئی تھی‘ آج ٹرمپ کی اس بلیک میلنگ کے بعد بھی وہی ماحول بن چکا ہے۔ سب لوگ اس نکتے پر متفق ہو چکے ہیں کہ اگر ہم صرف دو برس میں دہشت گردی کو شکست دے سکتے ہیں تو آئندہ چند برسوں میں امریکہ سے بھی چھٹکارا پا سکتے ہیں‘ ہم اس سے بھی جان چھڑا سکتے ہیں!

 

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں