نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- نوجوان نسل کونبی کریم ﷺکی سیرت کاعلم ہوناچاہیے،وزیراعظم
  • بریکنگ :- آپ ﷺنےاپنی سیرت مبارکہ کےذریعےانصاف کادرس دیا،وزیراعظم
  • بریکنگ :- آپ ﷺنےمعاشرےمیں اچھےبرےکی تمیزرکھی،وزیراعظم
  • بریکنگ :- حضوراکرم ﷺنےخواتین،بیواؤں اورغلاموں کوحقوق دیئے،وزیراعظم
  • بریکنگ :- صرف اسلام نےیہ حق دیاکہ کئی غلام حکمران بن گئے،وزیراعظم
  • بریکنگ :- ریاست مدینہ میں میرٹ کاسسٹم تھا،باصلاحیت افراداوپرآتےتھے،وزیراعظم
  • بریکنگ :- اسلام نےپہلی بارخواتین کووراثت میں حقوق دیئے،وزیراعظم
  • بریکنگ :- پناماکیس میں کیابتاؤں کس طرح کےجھوٹ بولےگئے،وزیراعظم
  • بریکنگ :- کیس برطانوی عدالت میں ہوتاتوان کواسی وقت جیل میں ڈال دیاجاتا،وزیراعظم
  • بریکنگ :- برطانوی جمہوریت میں ووٹ بکنےکاتصوربھی نہیں کیاجاسکتا،وزیراعظم
  • بریکنگ :- سب کوپتہ ہےکہ سینیٹ انتخابات میں پیسہ چلتاہے،وزیراعظم
  • بریکنگ :- برطانیہ میں چھانگامانگاجیسی سیاست نہیں ہوتی،وزیراعظم
  • بریکنگ :- اخلاقیات کامعیارنہ ہوتوجمہوریت نہیں چل سکتی،وزیراعظم
  • بریکنگ :- قانون کی بالادستی کےبغیرخوشحالی کاخواب پورانہیں ہوسکتا،وزیراعظم
  • بریکنگ :- ہمیں عظیم قوم بنناہےتواسلامی اصولوں پرچلناہوگا،وزیراعظم
  • بریکنگ :- وزیر اعظم عمران خان کارحمت اللعالمین ﷺکانفرنس سےخطاب
  • بریکنگ :- آپ ﷺکی تعلیمات سےہمیں رہنمائی لینےکی ضرورت ہے،وزیراعظم
  • بریکنگ :- اللہ نےسب کچھ دیا،ملک میں کسی چیز کی کمی نہیں،وزیراعظم
  • بریکنگ :- مدینہ کی ریاست ہمارےلیےرول ماڈل ہے،وزیراعظم عمران خان
  • بریکنگ :- آپ ﷺدنیامیں تلوارکےذریعےنہیں،اپنی سوچ سےانقلاب لائے،وزیراعظم
  • بریکنگ :- ریاست مدینہ نہ صرف مسلمانوں بلکہ ہرمعاشرےکیلئےمثالی نمونہ بنی،وزیراعظم
  • بریکنگ :- اگرہمیں عظیم قوم بنناہےتواسلامی اصولوں پرچلناہوگا،وزیراعظم
  • بریکنگ :- انصاف ہمیشہ کمزورکوچاہیے،طاقتورخودکوقانون سےاوپرسمجھتاہے،وزیراعظم
  • بریکنگ :- انصاف اورانسانیت کی وجہ سےقوم مضبوط ہوتی ہے،وزیراعظم
  • بریکنگ :- ہماری جدوجہدملک میں قانون کی بالادستی کیلئےہے،وزیراعظم
  • بریکنگ :- بزدل انسان کبھی لیڈرنہیں بن سکتا،وزیراعظم عمران خان
  • بریکنگ :- عزت،رزق اورموت صرف اللہ تعالیٰ کےہاتھ میں ہے،وزیراعظم
  • بریکنگ :- ملک کانظام تب درست ہوگاجب قانون کی حکمرانی ہوگی،وزیراعظم
  • بریکنگ :- دنیامیں امیراورغریب کافرق بڑھتاجارہاہے،وزیراعظم
  • بریکنگ :- سالانہ ایک ہزارارب ڈالرچوری ہوکرآف شورکمپنیوں میں چلاجاتاہے،وزیراعظم
  • بریکنگ :- انصاف کانظام نہیں ہوگاتوخوشحالی نہیں آئےگی،وزیراعظم
  • بریکنگ :- طاقتوراورکمزورکیلئےالگ الگ قانون سےقومیں تباہ ہوجاتی ہیں،وزیراعظم
  • بریکنگ :- 50سال پہلےپاکستان خطےمیں تیزی سےترقی کررہاتھا،وزیراعظم
  • بریکنگ :- ہمیں اپنی سمت درست کرنی ہے،وزیراعظم عمران خان
  • بریکنگ :- ملکی ترقی کیلئےنظام درست کرنےکی ضرورت ہے،وزیراعظم
  • بریکنگ :- قانون کی حکمرانی کیلئے آوازبلندکرتارہوں گا،وزیراعظم
  • بریکنگ :- طاقتورکوقانون کےنیچےلاناہوگا،وزیراعظم عمران خان
  • بریکنگ :- فلاحی ریاست بنانےکےلیےکوشاں ہیں،وزیراعظم
  • بریکنگ :- احساس پروگرام کےتحت سواکروڑخاندانوں کوسبسڈی دیں گے،وزیراعظم
  • بریکنگ :- معاشرےمیں جنسی جرائم کابڑھنابہت خطرناک ہے،وزیراعظم
  • بریکنگ :- نوجوانوں کوسود کےبغیرقرضےدیں گے،وزیراعظم
  • بریکنگ :- اپنے نوجوانوں کوبےراہ روی سےبچاناہے،وزیراعظم
  • بریکنگ :- ہالی ووڈکلچرہمارےنوجوانوں کوتباہ کرے گا،وزیراعظم
  • بریکنگ :- خاندانی نظام میں بہتری لانےکی ضرورت ہے،وزیراعظم
  • بریکنگ :- ٹی وی چینلزکےپروگراموں کومانیٹرکرنےکی ضرورت ہے،وزیراعظم
  • بریکنگ :- بچوں سےموبائل نہیں چھین سکتےکم ازکم تربیت توکرسکتےہیں،وزیراعظم
  • بریکنگ :- مغرب کونہیں پتاہم اپنےنبی ﷺسےکتنی محبت کرتےہیں،وزیراعظم
Coronavirus Updates
"ACH" (space) message & send to 7575

دنیا کو درپیش سنگین خطرات

اقوام متحدہ کے مطابق‘ دنیا کے بیس ممالک میں بھوک کے شدید بحران کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے، مستقبل میں لاکھوں انسانوں پر سیاسی تنازعات‘کورونا کی وبا اور موسمیاتی تبدیلیوں کے تباہ کن اثرات مرتب ہونے کا اندیشہ ہے۔ اگر عالمی برادری نے اقدامات نہ کیے تو بڑا انسانی المیہ سامنے آسکتا ہے۔ اس حوالے سے عالمی ادارے ورلڈ فوڈ پروگرام اور فوڈ اینڈ ایگریکلچر آرگنائزیشن نے ایک رپورٹ بھی جاری کی ہے۔ ورلڈ فوڈ پروگرام کے مطابق‘ دنیا میں تین کروڑ چالیس لاکھ افراد انتہائی غذائی قلت کا شکار اور موت کے قریب ہیں۔ سب سے زیادہ برا حال جنگ زدہ علاقوں کا ہے جن میں یمن‘جنوبی سوڈان اور شمالی نائیجیریا سرفہرست ہیں۔ شام‘ لبنان اور ہیٹی کے بعد اب افغانستان میں بھی بھوک کا شدید بحران جنم لے چکا ہے۔
تقریباً ایسے ہی خدشات‘ جن کی وجہ سے کروڑوں لوگوں کی زندگیاں خطرے میں نظر آ رہی ہیں‘ کا اظہار وزیراعظم عمران خان نے گزشتہ دنوں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے اپنے ورچوئل خطاب کے دوران کیا۔ وزیراعظم صاحب نے دنیا کو کورونا سے منسلک اقتصادی بحران اور ماحولیاتی تبدیلیوں کے باعث لاحق خطرات کے بارے میں آگاہ کیا کیونکہ وائرس اقوام اور لوگوں کے درمیان امتیاز نہیں کرتا اور نہ ہی غیر یقینی موسمی حالات سے درپیش آفات امیر‘ غریب میں تمیز کرتی ہیں۔ اگرچہ پاکستان اب تک کورونا وبا سے نبرد آزما ہونے میں کامیاب رہا ہے لیکن دنیا کے کئی ممالک اس سے اب بھی شدید متاثر ہیں۔ وزیراعظم صاحب ایک طویل عرصے سے موسمیاتی تبدیلیوں کے خطرات سے نہ صرف آگاہ کرتے آ رہے ہیں بلکہ اس حوالے سے انہوں نے کئی اقدامات بھی کئے ہیں جن میں بلین ٹری سونامی منصوبہ سرفہرست ہے۔ بلین ٹری سونامی منصوبے کے تحت اب دس بلین درخت لگانے کا ہدف مقرر کیا گیا تھااور یہ ہدف اگلے پانچ برس کے لیے ہے۔ پلان کے مطابق پہلے تین سال میں تین ارب درخت لگائے جائیں گے۔ اس سے قبل ورلڈ بینک اپنی ایک رپورٹ میں پاکستان کے ایسے چھ اضلاع کی نشاندہی کر چکا ہے جہاں شجرکاری نہ کی گئی تو وہ اگلے تیس برس میں ریگستان بن جائیں گے؛ تاہم موسمیاتی تبدیلی سے پیدا ہونے والے خطرات صرف پاکستان کو ہی درپیش نہیں بلکہ یہ آج پورے کرۂ ارض کی بقا کا معاملہ بن چکا ہے۔
کئی معاملات ایسے ہیں جن میں ہمیں ایک جامع حکمت عملی درکار ہے‘ ان میں سب سے اہم نکتہ ویکسین میں مساوات کا ہے۔ کورونا امیر‘ غریب ممالک میں فرق نہیں کر رہا تو اس سے نمٹنے کیلئے بھی تفریق کا انداز نہیں اختیار کیا جانا چاہیے۔ ہر ملک کو‘ چاہے وہ چھوٹا ہے یا بڑا‘ ترقی یافتہ ہے یا ترقی پذیر‘ کووڈ کے خلاف جتنی جلدی ممکن ہو، ویکسین فراہم کی جانی چاہئے۔ دوسرا اہم نکتہ ترقی پذیر ممالک کیلئے سرمایے کی دستیابی کا ہے، یعنی جو ممالک قرضوں میں پہلے سے جکڑے ہوئے ہیں‘ انہیں قرضوں کی واپسی میں آسانیاں فراہم کی جانی چاہئیں۔ ان کے قرضوں کی ادائیگی کا دورانیہ بڑھا کر اور ری شیڈولنگ کر کے انہیں ریلیف دیا جا سکتا ہے تاکہ وہ کورونا سے ہونے والی تباہی سے ممکن حد تک خود کو محفوظ رکھ سکیں۔ تیسرا نکتہ‘ جس کی طرف انہوں نے توجہ دلائی وہ سرمایہ کاری کیلئے واضح حکمت عملی ہے تاکہ نئے روزگار پیدا ہوں‘غربت میں کمی لائی جا سکے اور کورونا کے شکار ممالک کے بنیادی انفراسٹرکچر کو بحال اور بہتر بنایا جا سکا۔
کرپشن کے باعث دولت کی غیرمنصفانہ تقسیم بھی دنیا میں عدم مساوات جیسے مسائل پیدا کر رہی ہے۔ یہ حقائق انتہائی خوفناک ہیں کہ دنیا کے سات ٹریلین ڈالر کے چوری شدہ اثاثہ جات مالیاتی طور پر محفوظ ٹھکانوں میں جمع ہیں اور کرپٹ حکمران اشرافیہ کی لوٹ مار کی وجہ سے امیر اور غریب ممالک کے درمیان فرق خطرناک رفتار سے بڑھ رہا ہے۔ موسمیاتی تبدیلیوں کے ساتھ ساتھ وزیراعظم کرپشن کے مسئلے پر بھی آواز اٹھاتے رہتے ہیں۔ اور جب کرپشن عالمی سطح کی ہو تو اس کے نقصانات کا دائرہ بھی بڑھ جاتا ہے۔ اس طرح کی کرپشن ترقی پذیر ممالک کے محدود وسائل کے خاتمے کے باعث بنتی ہے اور غربت کی سطح کو مزید گمبھیر بنا دیتی ہے ۔ منی لانڈرنگ کی وجہ سے مقامی کرنسی کی قدر گر جاتی ہے اور اس دولت کو لوٹ کر مغربی دارالحکومتوں اور آف شور ٹیکس فری جنتوں میں منتقل کر دیا جاتا ہے۔ ترقی پذیر ممالک سے چرائے گئے اثاثہ جات کو واپس لینا غریب اقوام کیلئے ممکن نہیں اور یوں ان ممالک کیلئے مسائل کی دلدل مزید گہری ہوتی چلی جاتی ہے۔
چوتھا نکتہ‘ جس کی طرف وزیراعظم نے توجہ دلائی‘ وہ اسلاموفوبیا ہے جس کی آڑ میں مسلمانوں کو بدنام اور دینِ اسلام پر انگلی اٹھانے کا سلسلہ عرصہ دراز سے جاری ہے۔ نائن الیون کے دہشت گرد حملوں کے بعد بلاوجہ بعض حلقوں کی طرف سے بلا وجہ دہشت گردی کو اسلام کے ساتھ منسوب کیا گیا جس کے بعد خاص طور پر امریکا اور یورپی ممالک میں مسلمانوں کو ہدف بنانے کے رجحان میں اضافہ دیکھنے میں آیا۔ اسلامو فوبیا کی انتہائی بدترین شکل کا اس وقت بھارت پر راج ہے۔ نفرت سے بھرپور ہندوتوا نظریے نے‘ جس کا پرچار فاشسٹ آر ایس ایس اور بی جے پی حکومت نے کیا ہے‘ بھارت کی مسلم برادری میں خوف اور تشدد کی لہر پیدا کی ہوئی ہے۔ گائے ذبح کرنے کا الزام لگا کر لوگوں کو تشدد کر کے مارنے، اقلیتوں پر حملہ کرنے کے واقعات آئے روز سامنے آتے رہتے ہیں ۔ پھر یہی بھارت‘ جو خود سیکولر کہتا ہے‘ مقبوضہ کشمیر میں غیرقانونی اقدامات کا ڈھیر لگا دیتا ہے۔
کورونا سے قبل جب وزیراعظم جنرل اسمبلی کے اجلاس میں گئے تھے تب بھی ان کی تقریر کا فوکس مقبوضہ کشمیر تھا جس پر بھارت کو خاصی تکلیف پہنچی تھی۔ حالیہ تقریر میں بھی انہوں نے بالخصوص5 اگست 2019 ء کے بعد سے مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارت کے متعدد غیر قانونی اور یکطرفہ اقدامات سے دنیا کو آگاہ کیا کہ کس طرح بھارت نے نو لاکھ قابض افواج کے ذریعے دہشت کی فضا قائم کر رکھی ہے۔ کشمیریوں کی سینئر قیادت کو پابند سلاسل رکھا ہوا ہے۔ میڈیا اور انٹرنیٹ پر سخت پابندیاں عائد ہیں۔ پُرامن احتجاج کو پُرتشدد طریقے سے دبایا جا رہا ہے۔ 13 ہزار نوجوان کشمیریوں کو اغوا کیا گیا جبکہ ہزاروں کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا ۔ جعلی مقابلوں میں سینکڑوں بے گناہ کشمیریوں کو ماورائے عدالت قتل کیا گیا حتیٰ کہ پورے پورے محلوں اور دیہات کو تباہ کرکے لوگوں کو اجتماعی سزائیں دی گئیں۔ کون نہیں جانتا کہ ان غیر قانونی کوششوں اور جابرانہ ہتھکنڈوں کا واحد مقصد مقبوضہ وادی میں آبادی کے تناسب کو تبدیل کرنا اور مسلمان اکثریت کو اقلیت میں بدلنا ہے۔ یہ تمام بھارتی اقدامات جموں و کشمیر سے متعلق اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے خلاف ہیں۔ بھارتی بربریت کی تازہ ترین مثال عظیم کشمیری رہنما سیّد علی شاہ گیلانی کے جسدِ خاکی کو زبردستی چھیننا، ان کے خاندان اور دوست احباب کو نمازِ جنازہ کی ادائیگی جیسے مذہبی فریضے سے روکنا اور ان کی وصیت کے مطابق انہیں تدفین سے محروم رکھنا ہے۔ کسی قانونی یا اخلاقی پابندی سے عاری یہ عمل انسانی شائستگی کی بنیادی اقدار کے بھی منافی ہے۔ وزیراعظم عمران خان کا جنرل اسمبلی سے یہ مطالبہ بروقت اور برحق ہے کہ مناسب رسوم کے ساتھ سیّد علی گیلانی کے جسدِ خاکی کی‘ ان کی وصیت کے مطابق‘ شہدا کے قبرستان میں تدفین کی اجازت دی جائے۔ اسی طرح انہوں نے افغانستان کے مسئلے پر بھی دنیا کو جھنجوڑاکیونکہ دنیا اس مسئلے کو اگر سنجیدہ نہیں لے گی تو خطے کے ساتھ ساتھ باقی دنیا کو بھی اس کے ردعمل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ پاکستان پہلے ہی تیس لاکھ افغان پناہ گزینوں کی میزبانی کر رہا ہے، اگر ان کی تعداد بڑھتی ہے تو اکیلا پاکستان کیسے ان کا بوجھ اٹھائے گا‘ اس لئے تمام دنیا کو افغان عوام کی امداد کیلئے آگے آنا چاہیے کیونکہ یہ مسئلہ صرف افغانستان کے چند ہمسایہ ممالک تک محدود نہیں بلکہ دنیا بھر پر اس کے اثرات مرتب ہوں گے لہٰذا افغانستان کے عوام کی بہتری کیلئے وہاں کی حکومت کو مضبوط کرنے سے یہ مسئلہ وہیں پر حل کیا جا سکتا ہے۔ ان تمام مسائل اور نکات پر دنیا کوسنجیدگی سے غور کرنا اور ان کے حل کیلئے مشترکہ حکمت عملی بنانا ہو گی تاکہ ایک پائیدار‘مضبوط اور مساوات پر مبنی عالمی بھائی چارے کا خواب شرمندۂ تعبیر ہو سکے۔

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں