نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- ترجمان دفترخارجہ کی صحافیوں سےغیررسمی گفتگو
  • بریکنگ :- اوآئی سی وزرائےخارجہ کونسل کااجلاس 19دسمبرکواسلام آبادمیں ہوگا،ترجمان
  • بریکنگ :- اسلامی ممالک کےوزرائےخارجہ کوشرکت کی دعوت دی گئی، ترجمان
  • بریکنگ :- اجلاس میں سلامتی کونسل کےمستقل ارکان کوشرکت کی دعوت،ترجمان
  • بریکنگ :- یورپی یونین،اقوام متحدہ اوراس کی امدادی ایجنسیوں کوشرکت کی دعوت،ترجمان
  • بریکنگ :- ورلڈبینک اورعالمی مالیاتی اداروں کےاعلیٰ حکام کوشرکت کی دعوت،ترجمان
  • بریکنگ :- جرمنی،جاپان،کینیڈا،آسٹریلیاکوبھی مدعوکیاجارہاہے،ترجمان دفترخارجہ
  • بریکنگ :- اجلاس میں افغانستان کااعلیٰ سطح وفدشرکت کرےگا،ترجمان
  • بریکنگ :- اوآئی سی سیکرٹریٹ کےآفیشلزاجلاس کی تیاریوں کاجائزہ لیں گے،ترجمان
  • بریکنگ :- اوآئی سی وزرائےخارجہ کاغیرمعمولی اجلاس 1980میں ہواتھا،ترجمان
  • بریکنگ :- 41سال بعدپاکستان افغانستان پراوآئی سی وزرائےخارجہ اجلاس کی میزبانی کررہاہے
  • بریکنگ :- افغانستان کوامدادنہ پہنچائی گئی تومعاشی بحران جنم لےسکتاہے، ترجمان
Coronavirus Updates
"ACH" (space) message & send to 7575

عمر شریف اور ناسٹیلجیا!

عمر شریف کے انتقال کی خبر سنی تو ان سے جڑی بچپن کی یادیں سامنے آنے لگیں۔ یہ ناسٹیلجیا بھی بڑی عجیب چیز ہے۔ انسان کا پیچھا اس وقت تک نہیں چھوڑتا جب تک خود انسان رخصت نہیں ہو جاتا۔ عمر شریف کا نام ذہن میں آتے ہی بہت سی چیزیں یاد آتی ہیں جن کا آج وجود تو شاید ہو مگر وہ اس طرح نظر نہیں آتیں‘ ان میں ٹیپ ریکارڈر‘ کیسٹ‘ واک مین‘ مزاحیہ آڈیو ڈرامے اور ان سے پھوٹنے والے وہ جینوئن قسم کے قہقہے تھے جو آج ناپید ہو تے جا رہے ہیں۔ جن لوگوں کا بچپن عمر شریف کے ڈراموں کی آڈیو کیسٹس سنتے گزرا‘ وہ جانتے ہیں کہ جب عمر شریف کے ڈرامے کی کیسٹس سنتے ہوئے اس کی رِیل ٹیپ میں پھنس جایا کرتی تھی تو کتنی جھنجھلاہٹ ہوتی تھی۔ کئی مرتبہ تو کیسٹ اس موقع پر رُک جاتی جب مزاح اپنے جوبن پر ہوتا تھا‘ پھر فوری طور پر ٹیپ ریکارڈر سے کیسٹ پلیئر کا ڈھکنا کھول کر کیسٹ باہر نکالی جاتی تو اس کی رِیل ریکارڈر کی گراریوں سے بری طرح چپکی اور الجھی نظر ہوتی۔ پتنگ کی ڈور کی طرح اسے نکالتے تو کئی فٹ تک طویل رِیل ہاتھ میں آ جاتی۔ پھرکیسٹ کے سوراخ‘ جس پر کیسٹ چلتی تھی‘ میں پین ڈال کر دیر تک گھمانا پڑتا تاکہ رِیل واپس کیسٹ پر چڑھ جائے۔ جیسے ہی یہ اصل حالت میں آتی تو سب خوشی کا نعرہ لگاتے اور کیسٹ واپس ڈال کر احتیاط سے ریوائنڈ کا بٹن دباتے تاکہ جو حصہ سننے سے رہ گیا‘ وہ دوبارہ سنا جا سکے۔ آج تو ہم موبائل پر کوئی بھی وڈیو کہیں بھی چھوڑتے ہیں‘ تو چند دن بعد بھی وہ وڈیو کھولتے ہیں تو وہیں سے دوبارہ لگ جاتی ہے۔ آج موبائل اور ٹی وی پر کامیڈی کی سینکڑوں وڈیوز کی بھرمار نظر آتی ہے، اوپر سے ٹک ٹاک پر تیس تیس سیکنڈ کے ہزاروں مزاحیہ کلپ بھی اَپ لوڈ ہوتے رہتے ہیں لیکن یہ سچ ہے کہ اتنی جدید ٹیکنالوجی‘ سہولتیں اور روزانہ آنے والی یہ لاکھوں مزاحیہ وڈیوز عمر شریف کے ایک ڈرامے ''بکرا قسطوں پر‘‘ کا مقابلہ بھی نہیں کر سکتیں جو کئی دہائیوں تک موضوعِ محفل بنا رہا تھا۔
عمر شریف طویل علالت کے بعد ہفتے کے روز جرمنی میں انتقال کر گئے۔ ان کی عمر 66 سال تھی۔ اہلِ خانہ اور کچھ ڈاکٹروں کا خیال تھا کہ ان کا علاج امریکا میں ممکن تھا۔ اس سلسلے میں حکومت سے بھی اپیل کی گئی بالآخر ان کے علاج کیلئے چار کروڑ روپے اور دیگر اجازت نامے جاری کیے گئے۔ حکومت نے بروقت قدم اٹھایا وگرنہ یہ کسک رہ جاتی کہ انہیں باہر بھجوانے میں سنجیدگی نہیں دکھائی گئی۔ چند روز قبل ہی عمر شریف کو علاج کی غرض سے پاکستان سے امریکا منتقل کیا جارہا تھا کہ طویل سفر اور تھکاوٹ کے باعث راستے میں ان کی طبیعت بگڑ گئی جس پر رک کر جرمنی کے ایک ہسپتال میں انہیں داخل کرانا پڑا؛ تاہم ان کی طبیعت مزید بگڑتی گئی اور بالآخر وہ جانبر نہ ہو سکے۔
کراچی کے علاقے لیاقت آباد میں پیدا ہونے والے عمرشریف نے اپنے کیریئر کا آغاز 1974ء میں 14 سال کی عمر میں کیا تھا۔ وہ شوبز انڈسٹری کے ایک درخشاں ستارے ہی نہ تھے بلکہ ہر اس گھر کے ایک رُکن کی حیثیت اختیار کر چکے تھے جہاں مزاح کو دیکھا اور پسند کیا جاتا تھا۔ وہ قہقہوں کے بادشاہ کہلاتے تھے۔ جب سٹیج پر آمد کیلئے ان کا نام لیا جاتا تو ان کے آنے سے قبل ہی حاضرین کے لب گدگدانا شروع کر دیتے۔ انہیں یقین ہوتا تھا کہ عمر شریف ان کے غموں کو آج ایک مرتبہ پھر اپنے چٹکلوں کے ذریعے دور کر دیں گے۔ ان کی اداکاری سے بے ساختہ قہقہوں کا طوفان آ جاتا۔ وہ ٹی وی‘ فلم اداکار‘ ڈائریکٹر‘ کمپوزر‘ شاعر اور مصنف تھے اور ایک نیک دل انسان بھی۔ جن نامور فنکاروں نے اپنی اداکاری کے ذریعے نہ صرف اندرونِ ملک بلکہ بھارت سمیت دنیا بھر میں پاکستان کا نام روشن کیا ان میں عمر شریف سرفہرست تھے۔ انہیں جنوبی ایشیا کے کنگ آف کامیڈین کا خطاب بھی دیا گیا۔ کم لوگ جانتے ہیں کہ عمر شریف وہ پہلے پاکستانی اداکار تھے جنہوں نے 1980ء میں پہلی بار آڈیو کیسٹ سے مزاحیہ ڈرامہ ریلیز کیا۔ معروف اداکار معین اختر کے ساتھ عمر شریف کی اداکاری کو چار چاند لگ گئے۔ انہوں نے بھارت میں بھی بطور مصنف وہدایتکار ایک فلم شروع کی تھی جس میں راجیش کھنا کو کاسٹ کیا گیا مگر وہ فلم چند دن کی عکس بندی کے بعد بند ہو گئی۔ پاکستان میں وہ متعدد ٹی وی شوز میں میزبانی کے فرائض سرانجام دیتے رہے۔
عمر شریف صرف پانچ سال کے تھے جب ان کے والد کی موت ہوگئی تھی۔ انہیں بچپن سے ہی ایکٹنگ اور ڈرامے میں بہت دلچسپی تھی۔ ایک مرتبہ انہوں نے مصری نژاد ہالی وُڈ فلم ایکٹر عمر شریف کی فلم دیکھی اور اس سے بہت متاثر ہوئے جس کے بعد انہوں نے اپنا نام محمد عمر سے عمر شریف رکھ لیا۔ بھارتی فلم دبنگ کا گانا ''منی بد نام ہوئی‘‘ ان کی ایک نہ ریلیز ہو سکنے والی فلم کے ایک گانے کا چربہ تھا۔ عمر شریف نے 2006ء میں عمر شریف ویلفیئر ٹرسٹ بنایا جس کے تحت 2016ء میں اورنگی ٹائون کراچی میں ''ماں‘‘ کے نام سے ایک ہسپتال بھی بنایا جو آج بھی دکھی انسانیت کی خدمت کر رہا ہے۔ عمر شریف چونکہ خود انتہائی غربت کی سطح سے ابھرے تھے‘ اس لئے انہیں ٹی وی اور فلم کی دنیا میں ساتھی اداکاروں کے حالات کا ادراک تھا۔ اسی لئے انہوں نے اس ہسپتال میں غریب آرٹسٹوں کے علاج کیلئے خصوصی انتظام کیا تاکہ انہیں دربدر نہ بھٹکنا پڑے۔ وہ ہمیشہ اپنے کام سے سماج کو بہتر بنانے کی کوشش میں لگے رہے۔ معروف بھارتی کامیڈین کپل شرما اور گووندا تو علی الاعلان کہتے ہیں کہ ہم عمر شریف کو کاپی کرتے تھے۔ بعض اوقات عمر شریف بڑی بات بڑے آرام سے کہہ جاتے اور دوسرا ناراض ہونے کے بجائے ہنسنے لگتا۔ کئی سال قبل‘ دبئی کی ایک تقریب میں بالی وُڈ کے بڑے ستارے موجود تھے۔ عمرشریف سٹیج پر آئے اور امیتابھ بچن کو مخاطب کرتے ہوئے کہا‘ آج پہلی بار میں نے امیتابھ بچن صاحب کو زندہ (لائیو)دیکھا ہے۔ یہ سن کر ایک لمحے کو سناٹا چھا گیا اور پھر پورا ہال قہقہوں سے گونج اٹھا اورہنستے ہنستے امیتابھ بچن کی آنکھوں میں بھی آنسو آگئے۔ اس تقریب میں ہمارے آج کے وزیراعظم عمران خان صاحب بھی امیتابھ بچن کے ساتھ والی ٹیبل پر موجود تھے۔
عمر شریف ساری زندگی اپنے مزاح اور اپنی شخصیت کے ذریعے شہرت اور کامیابیاں سمیٹتے رہے لیکن پھر ان کی زندگی میں ایک ایسا حادثہ رونما ہو جو ان کے لیے ایک روگ بن گیا۔ گزشتہ برس فروری میں عمر شریف کی اکلوتی صاحبزادی حرا عمر‘ جو طویل عرصے سے گردوں کے عارضہ میں مبتلاتھیں‘ اپنے خالقِ حقیقی سے جا ملیں۔ ہر باپ کی طرح عمر شریف کو بھی اپنی بیٹی سے بے انتہا محبت تھی۔ سچ پوچھیں تو انہوں نے پچھلے ایک سال سے جینا چھوڑ دیا تھا۔اپنی بیٹی کے انتقال کے بعد عمر شریف لوگوں سے کہتے رہے کہ میرا اب دنیا میں جی نہیں لگتا۔ شاید انہوں نے بیٹی کی موت کے بعد سے زندگی سے امید بالکل ہی چھوڑ دی تھی۔ میڈیکل سائنس یہی کہتی ہے کہ جب آپ امید چھوڑ دیتے ہیں تو زندگی کے دن گنے جاتے ہیں اور آپ انتہائی تیز رفتاری کے ساتھ موت کی بانہوں میں اتر جاتے ہیں۔
دعا ہے کہ خدا کسی کو بھی اولاد اوروالدین کی بیماری اور ان کی اچانک جدائی کا غم نہ دکھائے کہ یہ غم سہنا بذاتِ خود کسی قیامت سے کم نہیں ہوتا اور اس کا احساس وہی کر سکتے ہیں جو اس قیامت‘ اس تکلیف سے گزرتے ہیں۔ جو ہر لمحہ جیتے‘ ہر لمحہ مرتے ہیں۔

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں