"ACH" (space) message & send to 7575

اسلاموفوبیا

یہ خبر اس سال یا صدی کی اہم ترین خبر ہے جس پر نہ صرف پوری قوم بلکہ پوری مسلم اُمہ کو فخر ہونا چاہیے اور ناز بھی کہ پندرہ مارچ 2022 کے تاریخ ساز دن اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے اسلاموفوبیا کیخلاف قراردار منظورکرلی اور اسلاموفوبیا سے نمٹنے کے لیے عالمی دن منانے کا اعلان کیا۔ ایک عالمی پلیٹ فارم پر اسلاموفوبیا کی روک تھام کے حوالے سے پاکستان کے موقف کو پذیرائی ملنا ہمارے لئے باعث اعزاز ہے۔ ویسے تو یہ سلسلہ ایک طویل عرصے سے جاری ہے لیکن نائن الیون کے بعد پوری دنیا میں اسلاموفوبیا کی لہر میں بہت زیادہ شدت پیدا ہوئی۔ وہ ممالک جو خود کو تہذیب اور شائستگی کے علمبردار سمجھتے ہیں اور جو تحمل و برداشت کو فروغ دینے کے بیان جاری کرتے نہیں تھکتے‘ درحقیقت ان کے ہاں اسلاموفوبیا کے حوالے سے جتنی شدت پائی جاتی ہے کہیں اور نہیں ہو گی۔ اس میں اب کوئی شک نہیں رہا کہ مذہبی منافرت اور تعصب کو سب سے زیادہ ہوا مغرب نے ہی دی۔ فرانس‘ جو دنیا میں بڑا جدید اور مہذب ملک سمجھا جاتا ہے‘ توہین رسالت کے حوالے سے دل آزاری کرنے میں سب سے آگے رہا ہے۔ اسی نے گستاخانہ خاکوں کی اشاعت کرکے مسلمانوں کی دل آزاری کا اہتمام کیا تھا جس کے بعد پوری دنیا کے مسلم ممالک میں تشویش کی لہر دوڑ گئی تھی اور اس بات کا یقین ہو گیا تھا کہ یہ سب ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت کیا جا رہا ہے۔ پھر اسلاموفوبیا کی ایک خوفناک اور بھیانک شکل بھارت میں بھی دیکھی جا سکتی ہے جہاں مسلمانوں کو منظم دہشت گردی کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ ان کی مسجدیں‘ ان کے گھر‘ ان کے کاروبار‘ کچھ بھی محفوظ نہیں۔ دہشت گردی کو چند دہائیوں سے منظم سازش اور منصوبہ بندی کے ساتھ دین سے جوڑا جارہا ہے جس کی وجہ سے پوری دنیا میں مسلمانوں کی زندگی اجیرن ہوچکی ہے۔ انہیں زندگی کے پیشہ ورانہ معاملات میں ہر جگہ تنگ نظری کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اسلام امن و آشتی کا دین ہے‘ دہشت گردی اور انسانیت کے قتل کی کھل کر مذمت کرتا ہے۔ وزیراعظم عمران خان کو اس قراردار کی منظوری کا کریڈٹ جاتا ہے کیونکہ دو برس پہلے جب ڈنمارک کے ایک گستاخ کارٹونسٹ اپنے تیار کئے گئے خاکوں کے ذریعے توہین کا مرتکب ہوا تو سب سے پہلے انہوں نے ہی اس کیخلاف اقوام متحدہ میں آواز بلند کی تھی۔ انہوں نے ہی مسلم دنیا کے رہنماؤں کو ایک خط تحریر کیا تھا جس میں انہوں نے واضح کیا تھا کہ مسلم امہ میں مغربی دنیا خاص طور پر یورپی ممالک کی جانب سے اسلاموفوبیا اور تضحیک و طنز پر مبنی متنازع خاکوں کے ذریعے کیے جانے والے حملوں پر خدشات اور بے چینی بڑھ رہی ہے اور کچھ یورپی رہنماؤں کی جانب سے دیے گئے بیانات اور قرآن کی بے حرمتی سے متعلق واقعات اس بات کی جانب اشارہ ہیں کہ یورپی ممالک‘ جہاں مسلمان کثیر تعداد میں آباد ہیں‘ میں اسلاموفوبیا میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ خان صاحب نے ایک عرصہ یورپ میں گزارا ہے۔ وہ آکسفورڈ کے تعلیم یافتہ اور کرکٹ اور اب سیاست کی وجہ سے پوری دنیا میں جانے ہیں‘ اس لئے انہیں علم تھا کہ کیسے مغرب کو اس معاملے پر قائل کرنا ہے اور کیسے اس مسئلے کو منطقی انجام تک پہنچانا ہے۔
بھارت میں بھی آج اسلاموفوبیا کسی نہ کسی شکل میں عروج پر ہے۔ سکول‘ کالج کی بچیوں کے سروں سے سکارف اتروائے جا رہے ہیں۔ ان پر تعلیم کے دروازے تک بند کر دئیے گئے ہیں۔ مقبوضہ کشمیر میں بھی مسلمانوں کو اسلامی عقائد کے مطابق زندگی گزارنے نہیں دی جا رہی۔ بھارتی فوج ریاستی دہشت گردی کرتے ہوئے کشمیری عوام کی زندگی اجیرن کر رہی ہے۔ ہر واقعے کو دہشت گردی اور مذہب سے جوڑ کر وادی کو جہنم بنا دیا گیا ہے۔ یورپ بھی کسی سے کم نہیں۔ وہاں بھی مساجد بند کر دی جاتی ہیں اور مسلمان خواتین سے ان کی مرضی کا لباس زیب تن کرنے کی آزادی چھینی جا رہی ہے حالانکہ وہاں پادری اور راہبائیں اپنے مذہبی لباس پہنتی ہیں۔ یورپ میں مسلمانوں کے خلاف کھلے عام اور ڈھکے چھپے انداز میں تفریق صاف نظر آتی ہے۔ اقوام متحدہ نے بالآخر دنیا کو درپیش سنگین چیلنج کو تسلیم کر لیا ہے جس کا مقصد اسلاموفوبیا کا خاتمہ، مذہبی علامات اور طریقوں کا احترام اور مسلمانوں کے خلاف منظم نفرت انگیز تقاریر اور امتیازی سلوک کوکم کرنا ہے۔ یہ بھی درست کہا جا رہا ہے کہ قرارداد کی منظوری تو ہوگئی لیکن اگلا چیلنج اس تاریخی قرارداد پر عملدرآمد یقینی بنانا ہے کیونکہ ماضی میں دیکھا گیا کہ اقوام متحدہ کی جانب سے قراردادیں تو منظور کر لی جاتی ہیں لیکن جب عمل کی باری آتی ہے تو سب کو سانپ سونگھ جاتا ہے۔ مسئلہ کشمیر بھی آج تک اقوام متحدہ کی سرد مہری کی وجہ سے حل نہیں ہو سکا اور آج تک سرد خانے میں پڑا ہوا ہے۔ اسلام اور اسلامی عقائد کیخلاف نفرت انگیز تقاریر و مواد کے علاوہ دُنیا میں مسلمانوں سے امتیازی سلوک و تشدد میں بھی وقت گزرنے کے ساتھ اضافہ ہوتا جارہا ہے‘ جو سنگین مسئلہ ہی نہیں عالمی انسانی حقوق کی خلاف ورزی بھی ہے اور جو عالم اسلام میں شدید اضطراب کا باعث ہے۔ کچھ ماہ پہلے کینیڈا میں ایک شخص نے پاکستان کی ایک مسلم فیملی پر سڑک پر گاڑی چڑھا کر انہیں شہید کر دیا تھا۔ اس طرح کے واقعات مغربی جنونیوں کی جانب سے پیش آتے ہیں‘ لیکن انہیں کوئی دین سے نہیں جوڑتا لیکن مسلم دنیا میں کوئی واقعہ سرزد ہو جائے یا کسی مسلمان سے کسی جرم کا ارتکاب ہو جائے تو اسے نشانے پر رکھ لیا جاتا ہے۔ توہین کے واقعات کا سلسلہ صدیوں پرانا ہے۔ مردُود راج پال نے گستاخی کرتے ہوئے ایک کتاب شائع کی تھی جس پر غازی علم دین نے اسے اس کی دکان کے اندر ہی جہنم واصل کر دیا تھا۔ اسی طرح ڈنمارک میں متنازع کارٹون شائع کیے گئے اور ستم یہ کہ ڈنمارک کے صدر کی طرف سے اسے اظہارِ رائے کی آزادی سے منسوب کیا گیا جس کے بعد بات برداشت سے باہر ہوگئی اور دیکھا جائے تو یہی وہ واقعہ تھا جس کے بعد پاکستان نے فیصلہ کرلیا کہ وہ مسلم اُمہ کی ترجمانی کرتے ہوئے اس مسئلے کے حل کیلئے اپنی تمام تر توانائیاں اور صلاحیتیں لگا دے گا۔ پاکستان کے ٹھوس موقف کو پذیرائی ملی اور اس قراردار کی منظوری اور اس کے نفاذ کے بعد یقین ہے کہ اب کوئی بھی ایسی گستاخی کرنے کی جرأت نہیں کر سکے گا۔ یہ کامیابی سفارتی انداز میں حاصل ہوئی اور اس سے دنیا کو یہ پیغام بھی گیا کہ پاکستان سمیت دنیا کے تمام مسلم ممالک امن و آشتی پر یقین رکھتے ہیں۔ وہ کسی کے مذہبی معاملات کو چھیڑتے ہیں نہ ہی اپنے مذہبی معاملات کو چھیڑنے کی اجازت دے سکتے ہیں۔ ہر شخص کو چاہے وہ کسی مذہب سے تعلق رکھتا ہو اپنے انداز میں اخلاقیات کے دائرے میں زندگی گزارنے کا حق ہے اور آزادیٔ رائے کا بھی۔ دنیا میں جتنی بھی ترقی ہو جائے‘ اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہو سکتا کہ کسی کے دین کو نشانے پر رکھ لیا جائے اور مقدس ہستیوں کے بارے میں نازیبا الفاظ اور مقابلوں کو آزادیٔ اظہار کا نام دے کر اربوں افراد کی دل آزاری کی جائے۔ اب جبکہ اقوام متحدہ اس قرارداد کو منظور کر چکا ہے تو اسے اس کے نفاذ اور دنیا میں اس قسم کے نفرت انگیز اور تعصب پر مبنی واقعات کی روک تھام کا ٹھوس انتظام کرنا ہو گا تاکہ توہین اور اسلاموفوبیا کے واقعات کا ہمیشہ ہمیشہ کیلئے تدارک کیا جا سکے۔

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں