نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- پائلٹ نےلینڈنگ سےقبل کنٹرول ٹاورسےرابطہ کرکےصورتحال سےآگاہ کیا
  • بریکنگ :- اےایس ایف کی مسافرکوحراست میں لینےکی کوشش،ملزم ہجوم کافائدہ اٹھاکرفرار
  • بریکنگ :- مسافرکےکوائف اورسی سی ٹی وی فوٹیج حاصل کرلی گئی،سی اےاے
  • بریکنگ :- کراچی:سول ایوی ایشن حکام نےمسافرکانام لاک لسٹ میں ڈال دیا،ذرائع
  • بریکنگ :- کراچی:نجی ایئرلائن کی پروازمیں مسافرکی خاتون فضائی میزبان سےبدتمیزی
  • بریکنگ :- نجی ایئرلائن کی پروازلاہورسےکراچی آرہی تھی
Coronavirus Updates
"DRA" (space) message & send to 7575

پاکستان کی سیاسی تاریخ کا ایک دلچسپ دور …(آخری حصہ)

میاں عارف افتخار ملک معراج خالد کے دفتر واقع لکشمی مینشن لاہور میں منعقد ہونے والی ہر سیاسی تقریب میں باقاعدگی سے شریک ہوتے‘ لیکن ہمیشہ دیر سے آتے تھے۔ ان کے چہرے مہرے اور لباس سے بخوبی اندازہ ہو جاتا تھا کہ وہ ابھی ابھی باتھ روم سے نکل کر اور تیار ہو کر آئے ہیں مگر ان کا رویہ ہمیشہ معذرت خواہانہ ہوتا تھا اور بعض کامریڈز کی طرف سے تنقید کو وہ خندہ پیشانی سے قبول کر لیتے تھے۔ ایک دفعہ ہال فل ہونے کی وجہ سے انہیں اندر کھڑے ہونے کیلئے بھی جگہ نہ مل سکی تو وہ دروازے پر ادھر ادھر بکھری ہوئی جوتیوں میں جگہ بنا کر وہاں بیٹھ گئے۔
جن تنظیموں اور سوسائٹیوں کی تقریبات لکشمی مینشن میں باقاعدگی سے منعقد ہوتی تھیں‘ ان میں پاک کیوبا فرینڈشپ ایسوسی ایشن بھی شامل تھی۔ پاکستان میں کیوبا کے ناظم الامور‘ جو مسٹر ''گِرا‘‘ کے نام سے مشہور تھے‘ سوسائٹی کی تقریبات کے انعقاد میں سرگرمی سے حصہ لیتے تھے۔ اسی سبب وہ لاہور کے انقلابی‘ سیاسی حلقوں میں نہ صرف جانی پہچانی بلکہ پاپولر شخصیت تھے۔ ایک دفعہ انہوں نے میاں عارف سے سوال کیا کہ میاں صاحب فرض کریں‘ آپ باتھ روم میں ہیں اور باہر دروازے پر انقلاب دستک دے رہا ہو تو آپ اسے ویلکم کرنے کیلئے باتھ روم سے کتنی دیر میں باہر آئیں گے؟
پاکستان کی سیاسی تاریخ کا یہ ایک رومانوی دور تھا اور اس میں سرگرمی سے حصہ لینے والا ہر کردار‘ خواہ ان کا تعلق طلبا کمیونٹی سے تھا یا ٹریڈ یونین سے‘ پروفیشنل گروپ سے‘ سیاسی جماعتوں یا چھوٹے کاروباری طبقے سے‘ اپنے فوری مفادات اور کیریئر سے بے نیاز ہو کر جلسے جلوسوں اور احتجاجی مظاہروں میں حصہ لے رہا تھا۔ یہ سرگرمیاں اس تحریک کا حصہ تھیں‘ جس کا آغاز 1968 میں راولپنڈی سے طلبا اور پولیس کے مابین ایک تصادم کے نتیجے میں ہوا تھا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان میں سیاسی ہلچل کی اس کیفیت کو پیدا کرنے میں عالمی سطح پر وقوع پذیر ہونیوالی تبدیلیوں کا بڑا ہاتھ تھا‘ جن کا پہلے ذکر کیا گیا ہے‘ مگر پاکستان میں 1958 سے قائم ایوب خان کی حکومت کے خلاف عوام کے گلیوں اور سڑکوں پر آنے کا 1965 کی جنگ سے بڑا گہرا تعلق تھا۔ یہ جنگ ایوب خان کے اقتدار کو استحکام بخشنے والے عوامل کیلئے ایک بہت بڑا دھچکا تھی۔ یہ جنگ‘ جو اگرچہ صرف 17 دن جاری رہی‘ پاکستان میں معاشی ترقی کے لیے بہت نقصان دہ ثابت ہوئی۔
اس جنگ کی وجہ سے پاک امریکہ تعلقات شدید دبائو میں آ گئے تھے‘ کیونکہ اس کی وجہ سے امریکہ نے نہ صرف پاکستان کو ہتھیاروں کی سپلائی بند کر دی تھی بلکہ 1950 کے دو طرفہ معاہدوں کے تحت پاکستان کو امریکہ سے ملنے والی اقتصادی امداد کا حجم بھی کافی حد تک کم ہو گیا تھا۔ جنگ کی وجہ سے پاکستان میں ترقیاتی عمل کو یکدم بریک لگ گئی۔ اس سے نہ صرف بے روزگاری اور افراطِ زر میں اضافہ ہوا بلکہ پچھلے دس سالوں میں عالمی بینک اور ہارورڈ یونیورسٹی کے اقتصادی ماہرین کے زیرِ اثر ایوب دور میں جو معاشی پالیسیاں اپنائی گئی تھیں‘ ان کے تضادات بھی کھل کر سامنے آ گئے تھے۔ اس کا بھرپور ذکر اور تجزیہ محبوب الحق کی کتاب ''22 خاندان‘‘ میں موجود ہے اور اس کا سب سے نمایاں اظہار امیر اور غریب کے درمیان تیزی سے بڑھتے ہوئے فرق کی صورت میں ظاہر ہو رہا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ ایوب خان کیخلاف یہ تحریک زیادہ تر شہروں تک محدود تھی اور اس میں مختلف تنظیموں اور پارٹیوں کے تحت منظم ہونے والے جلسوں اور جلوسوں میں حصہ لینے والے زیادہ تر کالجوں‘یونیورسٹیز کے طلبا‘ ٹریڈ یونین اراکین‘ اساتذہ‘ وکیل اور چھوٹے دکان دار تھے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس میں ایوب خان کی مخالف سیاسی پارٹیوں کے اتحاد ''متحدہ اپوزیشن پارٹیز‘‘ (COP) کا وجود کہیں نظر نہیں آتا تھا۔ وجہ یہ تھی کہ COP کے نعروں اور مطالبات‘ جن میں 1956 کے آئین کی بحالی سرِ فہرست تھی‘ میں عوام کیلئے کوئی دلچسپی نہیں تھی۔ پاکستان کی روایتی سیاست‘ جو صرف بڑے بڑے جاگیرداروں اور سرمایہ داروں کے ڈرائنگ رومز تک محدود تھی‘ کی جگہ پاکستان میں ایک نیا سیاسی کلچر ابھر رہا تھا۔ اس میں سیاسی سرگرمیوں کا مرکز اب گلیاں‘ سڑکیں‘ فیکٹریاں اور تعلیمی ادارے تھے۔ اس انقلابی تبدیلی کو کوئی سب سے پہلے اور سب سے بہتر سمجھا تو وہ ذوالفقار علی بھٹو تھے‘ جنہوں نے 1968 میں پاکستان پیپلز پارٹی کی بنیاد رکھ کر قومی سیاست کو ایک نئی جہت دی۔
1965 کی جنگ نے اس احتجاجی سیاست کو ایک نئی قوت فراہم کی کیونکہ اندرونی طور پر ایوب خان کی پوزیشن کمزور ہو چکی تھی اور بیرونی طور پر اس کی حکومت عالمی برادری میں آئسولیشن کا شکار تھی۔ 1962 کی چین بھارت سرحدی جنگ کی وجہ سے امریکہ سمیت مغربی طاقتوں کا جھکائو نمایاں طور پر بھارت کی طرف ہو چکا تھا۔ پاکستان مغربی ممالک اور امریکہ کی طرف سے فراخ دلانہ امداد سے محروم ہو چکا تھا‘ البتہ پاکستان کے ساتھ چین کے تعلقات میں نئی جہت اور طاقت پیدا ہو چکی تھی‘ مگر ''عظیم پرولتاری ثقافتی انقلاب‘‘ کی وجہ سے چین خود اندرونی خلفشار کا شکار تھا‘ اس لیے وہ صرف محدود پیمانے پر ہی پاکستان کے لیے مددگار ثابت ہو سکتا تھا۔ امریکہ اور اس کے اتحادی ممالک کی مخاصمت کی وجہ سے چین تب تک اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں اپنی مستقل نشست حاصل کرنے میں کامیاب نہ ہو سکا تھا‘ اس لیے عالمی سیاست میں اس وقت کوئی ملک پاکستان کا ہمنوا نہیں تھا۔ ایسی صورت حال کا مقابلہ کرنے کے لیے اندرونی سیاسی استحکام اور اتحاد کی اہمیت کئی گنا بڑھ جاتی ہے‘ مگر پاکستان میں صورت حال اس کے برعکس تھی۔ اپوزیشن ایوب خان حکومت کے ساتھ تعاون کرنے کے بجائے اس کا تختہ الٹنے کی جدوجہد میں مصروف تھی اور اس کی سب سے بڑی وجہ ایوب خان کا 1962 کے آئین کی بنیاد پر قائم کیا جانے والا صدارتی نظام حکومت تھا‘ جس نے عوام کو براہ راست حقِ رائے دہی سے محروم کر کے بالواسطہ انتخابات متعارف کروائے اور 1956 کے آئین کے تحت صوبوں کو ملنے والی داخلی خود مختاری کو ختم کر کے تمام اختیارات مرکز کے ہاتھ میں مرتکز کر دیئے۔ پاکستان کے ایک سابق چیف جسٹس‘ جسٹس محمد منیر کے مطابق ایوب خان کے 1962 کے آئین نے پاکستانی وفاق کو عملی طور پر ایک وحدانی ریاست میں تبدیل کر دیا تھا۔ اس کے نتیجے میں ایوب خان کی حکومت کے خلاف عوامی نفرت ملک میں صرف عمودی ہی نہیں بلکہ افقی سطح پر بھی نمودار ہو چکی تھی۔ شیخ مجیب الرحمن کے چھ نکات اس کی نمایاں مثال تھے۔ اپنے دورِ اقتدار کے آخری نصف حصے میں داخلی محاذ پر ایوب خان کو درپیش اگر کوئی سب سے سنگین چیلنج تھا تو وہ شیخ مجیب الرحمن کے چھ نکات تھے کیونکہ ان میں ایوب خان کے مرکزیت پر مبنی سیاسی نظام کو یکسر مسترد کر کے ون مین ون ووٹ اور پارلیمانی نظامِ حکومت کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ ایوب خان مشرقی پاکستان میں اپنی حکومت کی بڑھتی ہوئی مخالفت اور زیادہ سے زیادہ صوبائی خود مختاری کے مطالبے سے مضطرب تھے اور اس اضطراب میں یہاں تک کہہ گئے کہ یہ ''بنگالی صرف ہتھیاروں کی زبان سمجھتے ہیں‘‘۔ اس پر ملک معراج خالد کے دفتر میں ایک بنگالی دانشور اور سیاستدان نے تبصرہ کرتے ہوئے دو افراد کی مثال دی تھی۔ ان میں سے ایک پاگل تھا اور ایک ہوشمند۔ دونوں اپنی پیاس بجھانے کے لیے پانی کے ایک جوہڑ میں داخل ہوئے۔ ہوش مند آدمی ٹھنڈے اور صاف پانی کی تلاش میں اس طرف بڑھا جہاں پانی گہرا تھا۔ اچانک اسے اپنے پیچھے آتے ہوئے پاگل کا خیال آیا۔ فوراً پیچھے مڑ کر اس سے کہنے لگا ''او پاگل آدمی ہم پانی پینے لگے ہیں‘ دیکھنا گہرے پانی میں ہمیں دھکا دے کر ڈبو نہ دینا‘‘۔ پاگل اس پر زور سے ہنسا اور کہا ''پہلے تو ہمیں معلوم نہ تھا‘ اب ہم تم کو ضرور دھکا دیں گے‘‘۔ ایک صاحب نے بھی سندھ کے وزیر اعلیٰ مراد علی شاہ پر الزام لگایا ہے کہ وہ قوم پرستی پر مبنی سیاست اختیار کر رہے ہیں۔ اس کے مضمرات کیا ہوسکتے ہیں؟ اس کا جواب میں قارئین پر چھوڑتا ہوں!

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں