نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- وفاقی وزیرداخلہ شیخ رشیداحمدکامودی کی تقریرپرردعمل
  • بریکنگ :- مودی کی تقریردنیاکےایک بڑےفورم پرغیرمعیاری تقریرتھی،شیخ رشید
  • بریکنگ :- ایسالگ رہاتھایونین کونسل کالیڈراقوام متحدہ سےخطاب کررہاہے،شیخ رشید
  • بریکنگ :- اقوام متحدہ کےفورم پرایسی فرسودہ اوربےربط تقریرکبھی نہیں سنی،شیخ رشید
Coronavirus Updates
"HRC" (space) message & send to 7575

کچھ کرکٹ کے بارے میں

عربوں کا محاورہ یہ ہے : لکل فن رجال ۔ ہر کام کے مخصوص آدمی ہوتے ہیں ...اور سرکارؐ کا فرمان یہ ہے : بندے سے جو کام اللہ لینا چاہے ، اس کے لیے سہل کر دیتاہے ۔ 
پاکستان کرکٹ بورڈ اور ٹیم کے کھلاڑیوں کو کاش کوئی بتا سکتا کہ اپنی بہترین صلاحیت بروئے کار لانے کے چند سادہ سے اصول ہیں ۔ کون ہے ، دبائو کا جو شکار نہیں ہوتا۔ کون ہے جسے طاقتور حریف سے واسطہ نہیں پڑتا ۔ آدمی کو آخر کار اللہ نے آزمائش کے لیے پیدا کیا ۔ اسی میں استعداد بڑھتی اور افق وسیع ہوتے ہیں ۔ 
دبائو ٹالنے کے قرینے ہیں ۔ ان میں سے ایک یہ ہے کہ فرض کی نوعیت اور پھر جزئیات پر غور کیا جائے ۔ نتیجہ آدمی کے ہاتھ میں نہیں ہوتا۔ کوشش ضرور ہوتی ہے ۔ یکسوئی سے آدمی کام میں جت جائے تو کچھ نہ کچھ ضرور پا لیتا ہے ۔ 
2013ء کے الیکشن سے قبل ، مینارِ پاکستان پر پی ٹی آئی کے دوسرے جلسہ ء عام کے لیے عمران خان کے ساتھ جانا تھا مگر نہ جا سکا ۔ اب رکشہ کی تلاش میں نکلے ، جسے جلسہ گاہ سے ایک کلومیٹر پہلے روک لیا گیا ۔ کم خوابی سے تکان تھی ۔ اب کچھ اور بڑھ گئی ۔ کپتان کا خطاب شروع ہو اتو بارش نے آلیا۔ ابر اس طرح ٹوٹ کے برسا کہ خزاں کے موسم میں کم کبھی برسا ہوگا ۔ کبھی ایک اور کبھی نگرانی پر مامور پولیس کی دوسری گاڑی میں پناہ لی ، پھر بوندا باندی میں پیدل چلنا شروع کیا ۔ کوٹ بارش سے بھیگ کر بوجھ بن گیا تھا ۔ کسی نہ کسی طرح ہوٹل جا ہی پہنچے ۔ بس اتنی ہی سکت باقی تھی کہ نہا لیا ، لباس تبدیل کر لیا ۔ 
ابھی کچھ عرصہ پہلے تک ،چلتے پھرتے کہیں بھی کالم لکھ لیا کرتا تھا ۔ ایک بار ، پروفیسر صاحب کے انتظار میں عبارت سے نمٹ رہا تھا۔ وہ حیرت زدہ رہ گئے اور کہا "The most unorganized talent, I have ever seen"۔ زندگی بھر ایسی بے ترتیب جستجو میں نے نہیں دیکھی ۔ کچھ ترتیب پیدا کرنے کی کوشش کی ۔ اب بھی عالم مگر یہ ہے کہ بعض اوقات ٹیلی فون پر لکھواتا ہوں ۔ بگڑا ہوا مزاج آسانی سے سدھرتا نہیں ۔
بستر پہ نڈھال ، اس روز خود سے میں نے سوال کیا کہ اگر آج لکھ نہ سکا تو کیا اپنے دفتر اور قاری کا مقروض نہ ہو جائوں گا۔ بلال الرشید ، ارشاد محمود اور ان کے ایک جواں سال دوست سے ان کا تجزیہ سنا اور لکھوانا شروع کیا ۔الحمد للہ 2ہزار الفاظ لکھ ڈالے ۔ تنقیدی نقطہ ء نظر سے دوسرے دن نگاہ ڈالی تو تسلی ہوئی کہ صحت مندی کے عالم میں بھی ، اس سے بہتر شاید نہ لکھا جا سکتا ۔ طاقت ایک نفسیاتی چیز ہے ۔ جسم تھکتا ہے ، دماغ نہیں ۔ مدینہ والوں نے ، میرے ماں باپ ان پہ فدا ہوں ، پیٹ پر پتھر باندھ کر خندق کھودی تھی ۔۔۔اور سرکارؐ نے دو پتھر ۔ 
پچھلے پانچ برس میں ، اس ایک تجربے نے کتنی ہی بار بدترین حالات میں حوصلہ بخشا ۔ درویش نے ایک بار اچانک پوچھا : لکھنے سے پہلے تم کیا پڑھتے ہو ؟ عرض کیا: وہی جو سب مسلمان '' رب الشرح لی صدری و یسر لی امری واحلل عقدۃ من لسانی‘‘۔ یا رب میرا سینہ کھول دے ، میرا کام آسان کردے اور میری زبان کی گرہ نکال دے ۔ سیدنا موسیٰ ؑ کی دعا ، نبوت عطا ہونے کے بعد پہلی بار جب وہ فرعون کے دربار میں بھیجے گئے ۔ جب ان سے کہا گیا ، نرمی کے ساتھ بات کرنا ۔ یہ ٹھیک قرآنِ کریم کا وسط ہے ؛چنانچہ یہ لفظ '' ولیتلطف‘‘ نمایاں لکھا جاتاہے ۔ 
عارف نے کہا : ایک دعا سرکارؐ نے تعلیم کی اور فرمایا تھا : جو اس دعا کو پڑھ کر آغاز کرے ، کبھی ناکام نہیں ہو سکتا ۔ عرض کیا ، یہ تو رحمتہ اللعالمینؐ کی گویا ضمانت ہے ۔ فرمایا: بالکل ۔ الھم احسن عاقبتنا فی الامور کلھا و اجرنا من خزی الدنیا و العذاب الاخرۃ۔ اے اللہ ہمارے سب کاموں کا انجام اچھا کر ، دنیا میں رسوائی اور آخر ت میں عذاب سے محفوظ رکھ ۔ چند ماہ بعد ارشا د کیا : لاحول ولا قوۃ الا بااللہ بھی پڑھا کرو۔ اے اللہ میری کوئی قوت ہے نا ارادہ ۔ درود تو ظاہر ہے ، آخر میں پڑھا ہی جاتاہے اور باعثِ برکت ہوتاہے ۔ ساری دعائیں لگ بھگ ایک منٹ میں ۔ یکسوئی پھر اس طرح ابھرتی ہے کہ آدمی حیران رہ جاتاہے ۔ فرمایا: بندے کے لیے اللہ ویسا ہے ، جیسا کہ وہ گمان کرے ۔ 
کیا فقط دعا سے حسنِ عمل ممکن ہے ؟ ایساہی اگر ہوتا تو عالی مرتبتؐ کو طائف ،بدر اور احد سے کیوں گزرنا پڑتا ۔ عمر بھر میں ہزاروں افراد کی کمال باریک بینی سے تربیت کیوں فرمایا کرتے ۔ ایک ایک کو فریب ہائے نفس سے نجات کے طریق کیوں سکھایا کرتے ۔ فقیر سے پوچھا گیا تو کہا : جی نہیں ، فقط دعا نہیں بلکہ توجہات ۔ 
ہر کام کے مطالبے ہیں ، ہر چیز ریاضت چاہتی ہے اور کمالِ فن کے لیے خون پسینہ ایک کرنا ہوتاہے ۔ اب مجھے بریگیڈئیر سلطان یاد آتے ہیں ۔ 1971ء کے مشرقی پاکستان میں بھارتی فوج ان سے ایک انچ بھی چھین نہ سکی تھی ۔ جس کی گرفتاری پر بھارتی جرنیلوں نے جس کے ساتھ تصاویر بنوائیں ۔ جس نے مصری جنرلوں کو اسرائیل سے نمٹنے کا سلیقہ سکھایا تو جنرل ضیاء الحق سے وہ درخواست کرتے رہے کہ کوئی دن کے لیے انہیں قاہرہ چھوڑ جائیں ۔ خلیج کی پہلی جنگ میں، جس نے ایران کی دفاعی لائن تعمیر کی ۔ 1973ء میں بلوچستان میں فوجی کارروائی کا ہنگام جو اس قدر آسودہ تھا کہ جنگل اگاتا رہا ۔ باغیوں کو گرفتار کرنے کے بعد ہر بار سمجھا بجھا کے انہیں رہا کر دیتا ۔ 
ہر رجمنٹ میں ایک میجر کھیلوں کا انچارج ہوتاہے۔ باسکٹ بال کے ایک مقابلے میں بارہ ٹیمیں شریک تھیں ۔ میجر سلطان کی ٹیم بارھویں نمبر پر رہی ۔ جیتنے والی ٹیم کو اس نے مقابلے کا چیلنج دیا ، تین ماہ بعد ...اور یا للعجب، جیت لیا ۔ 
بریگیڈئیر سے نسخہ دریافت کیا تو اس نے کہا : صبح سویرے میں ، میدان میں انہیں لے گیا ۔ ود اڑھائی گھنٹے سے زیادہ مشق اس کھیل میں نہیں ہوتی ۔ میں نے جاری رکھی ۔ تین گھنٹے، چار گھنٹے ، پانچ گھنٹے ، چھ گھنٹے ۔ سورج سر پہ چمک رہا تھا ۔ تھک ہار کر وہ گرنے لگے ۔ روزانہ مشق کے وعدے پر رہائی انہیں ملی ۔ ان سے کہا گیا کہ گیند اپنے بستر پہ رکھ کر وہ سویا کریں گے ۔ اس کے ساتھ کھیلتے غسلخانے جائیں گے ۔ اس کے ساتھ برآمد ہوں گے ۔ اس کے ساتھ پی ٹی کرنے اور اس کے ساتھ لنگر میں کھانا کھانے ۔ 
1965ء اور 1971ء دونوں جنگوں میں بریگیڈئیر کو ستارہ ٔ جرات ملا ۔ 1965ء میں مقبوضہ کشمیر کے 120کلومیٹر اندر جا کر ایک بھارتی بٹالین دستی بمو ں سے اس نے تباہ کر دی تھی اور بحفاظت اپنے ساتھیوں کے ہمراہ لوٹ آیا تھا ۔ شاید وہ واحد افسر تھا ، جسے اس کی زندگی ہی میں نشانِ حیدر دینے کے بارے میں سوچا گیا ۔ دوسرے ستارۂ جرات پہ وہ شاد نہ تھا ۔ اس کا خط جی ایچ کیو کی فائلوں میں کہیں پڑا ہوگا ۔ '' میں نے اپنی جنگ دھات کے اس ٹکڑے کے لیے نہیں لڑی تھی ، جسے میری موت کے بعد دیوار پہ لٹکایا جائے گا ۔ ‘‘
اتوا رکے میچ میں بہت غلطیاں ہوئیں ۔ نکتے کی بات عمران خاں نے کہی : ہار جاتے مگر لڑ کے ہارتے ۔عامر خاکوانی کا کہنا ہے کہ وہ دفاعی انداز کے ساتھ میدان میں اترے ۔ دوسرے لوگ بات کرنے کے زیادہ اہل ہیں ۔ ایک عامی کی رائے میں کرکٹ کا پاکستانی ڈھانچہ ناقص ہے ۔کرکٹ بورڈ تشکیلِ نو چاہتاہے ۔ پاکستانی کرکٹ کو ایک ایسے لیڈر کی ضرورت ہے ، جو اس کی ماں اور باپ بن کر سوچے ۔ جو خود کو اس میں کھپا دے ۔ اگر پہلے چار میچ ہار کے ، 1992ء کا عالمی کپ پاکستان جیت سکتاہے تو اب کیوں نہیں ۔ ہاں مگر میاں محمد نواز شریف کے نسخے پر نہیں ، جنہوں نے پہلے سیف الرحمٰن کے بھائی مجیب الرحمٰن کو کرکٹ بورڈ کا چئیرمین بنایا اور پھر اپنے چہیتے نجم سیٹھی کو ۔ 
عربوں کا محاورہ یہ ہے : لکل فن رجال ۔ ہر کام کے مخصوص آدمی ہوتے ہیں ...اور سرکارؐ کا فرمان یہ ہے : بندے سے جو کام اللہ لینا چاہے ، اس کے لیے سہل کر دیتاہے ۔ 

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں