ان دنوں آئین کی شق 62اور 63 کے حوالے سے دلچسپ بحث چھڑی ہوئی ہے ۔ریٹرننگ افسروں کی طرف سے امیدواروں سے کاغذات نامزدگی وصول کرتے وقت پوچھے گئے سوالات اور جوابات نے اخبارات کو بھی دلچسپ خبروں کا مواد مہیا کیا ہے۔ امیدواروں سے کلمے ، درود شریف، دعائے قنوت، آیۃ الکرسی، نمازوں کی رکعتوں کی تفصیل، نماز جنازہ، تیسویں پارے کی سورتیں سنانے کے لیے کہا گیا۔ بہت سے امیدوار جن میں ایک کا تعلق جماعت اسلامی سے بھی بتایا گیا ہے، کئی سوالوں کے جوابات دینے سے قاصر رہے جبکہ اداکارہ مسرت شاہین بعض ٹی وی چینلز پرمولانا فضل الرحمن کے مدمقابل کاغذات نامزدگی جمع کراتے ہوئے پوری آیۃ الکرسی پڑھ کر دائیں بائیں پھونکیں مارتی نظر آئیں۔ ضیاء الحق کے زمانے میں انجینئروں، ڈاکٹروں، لیکچراروں، پروفیسروں، نرسوںوغیرہ کی بھرتی سے لے کر پبلک سروس کمیشن کے انٹرویوز تک تمام امیدواروں سے اسی طرح اسلامیات کے سوالات کئے جاتے تھے۔ درست جواب دے کر بھرتی ہونے والے بے شمار افسر اپنے اپنے شعبوں اور محکموںمیں ترقی کرکے اعلیٰ ترین عہدوں پر فائز ہوئے ۔ ہمارے ہاں جمہوریت اور اسلام سکھانے کا کام فوجی آمروں کی اجارہ داری رہا ہے۔ انہوں نے اپنے اقتدار کو قائم کرنے اور طول دینے کے لیے کئی پرُفریب مفروضے قائم کئے۔ ایوب خاں نے کہا کہ ہمارے عوام ابھی جمہوریت کے اہل نہیں ہیں اس لیے بنیادی جمہوریت کا بالواسطہ نظام ِ انتخاب قائم کیاگیا۔ اس نظام نے ملک کو دولخت کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ پرویز مشرف نے ڈگری کی شرط عائد کی کہ گریجوایٹ نمائندے اسمبلی میں جائیں گے تو بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کریں گے ۔سب کو معلوم ہے کہ اصلی اور جعلی ڈگریوں والوں نے مشرف کے9سالہ دور میں ملک کو کس تباہی سے دوچار کیا۔ 1973ء میں قوم اور ملک کو پہلی مرتبہ ایک متفقہ آئین ملا جس پر دستخط کرنے والوں میں جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا مفتی محمود، جمعیت علمائے پاکستان کے سربراہ مولانا شاہ احمد نورانی اور جماعت اسلامی کے رہنما پروفیسر غفور احمد بھی شامل تھے۔ لیکن اس میں ارکان اسمبلی کی اہلیت کی شق 62اور نااہلیت کی شق63کو مشرف بہ اسلام کرنے کا کارنامہ ضیاء الحق نے صدارتی فرمان نمبر14مجریہ 1985ء کے آرٹیکل 4کے ذریعہ انجام دیا۔ ضیاء نے ان میں مبہم شقوں کا اضافہ کیا جن سے ملک میں فساد پھیل سکتا ہے کیونکہ ہر شخص ان شقوں کی متضاد تشریح کر سکتا ہے اور بعض تشریحات ایک دوسرے سے متصادم ہو سکتی ہیں۔ مثلاً رکن اسمبلی کی اہلیت کی شق62کی ان ذیلی شقوں کو دیکھئے: (د)وہ اچھے کردار کا حامل ہو گا اور اس کی عام شہرت ایک ایسے شخص کی نہیں ہو گی کہ جو اسلامی احکامات سے انحراف کرتا ہے۔ (ہ)وہ اسلامی تعلیمات کا خاطر خواہ علم رکھتا ہو اور اسلام کے مقرر کردہ فرائض کا پابند ہو نیز گناہ کبیرہ سے اجتناب کرتا ہو۔ (و)وہ سمجھدار، پارسا ہو اور فاسق نہ ہو اور ایماندار (صادق) اور امین ہو۔ (ح)اس نے قیام پاکستان کے بعد ملک کی سا لمیت کے خلاف کام نہ کیا ہو اور نظریہ پاکستان کی مخالفت نہ کی ہو۔ امیدوار کی نااہلی کی شق 63کی ذیلی شق : (ز)وہ کسی ایسی رائے کی تشہیر کر رہا ہو یا کسی ایسے طریقے پر عمل کر رہا ہو جو نظریہ پاکستان یا پاکستان کے اقتدار اعلیٰ، سا لمیت یا سلامتی یا اخلاقیات یا امن عامہ کے قیام یا پاکستان کی عدلیہ کی دیانتداری یا آزادی کے لیے مضر ہو یا جو پاکستان کی مسلح افواج یاعدلیہ کو بدنام کرے یا اس کی تضحیک کرے۔ اب دیکھئے کہ ’’عام شہرت‘‘ ، ’’اسلامی احکامات سے انحراف‘‘، ’’اسلامی تعلیمات کا خاطر خواہ علم‘‘، ’’گناہ کبیرہ‘‘، ’’سمجھدار اور پارسا‘‘، ’’فاسق‘‘، ’’صادق اور امین‘‘، ’’ملک کی سا لمیت کے خلاف کام‘‘ اور نظریۂ پاکستان‘‘ ایسی اصطلاحیں ہیں جن کا ہر شخص کے نزدیک اپنا الگ مطلب ہے۔ بالخصوص علمائے دین ان کا اپنا اپنا مفہوم رکھتے ہیں اور ان کی تشریحات متصادم ہیں۔امین ہونے کا متفقہ پیمانہ کیا ہے؟جمعیت علمائے ہند، جماعت اسلامی، مجلس احرار اور خاکسار تحریک کے مطابق قائداعظم بھی مذکورہ شرائط پر پورے نہیں اترتے تھے۔ امیر جماعت اسلامی مولانا مودودی نے ’’مسلمانوں کی موجودہ سیاسی کشمکش، جلد سوم میں لکھا تھا کہ ’’لیگ کے چھوٹے سے چھوٹے مقتدی سے لے کر قائداعظم تک اسلام کی ابجد سے بھی واقف نہیں ہیں۔‘‘ اورایک احراری لیڈر نے تو قائداعظم کو نعوذ باللہ کا فراعظم تک کہہ دیا تھا ۔ سیاسی اصطلاحیں ’’ملک کی سا لمیت کے خلاف کام‘‘ اور ’’نظریۂ پاکستان‘‘ کا مفہوم اور تشریح بھی ہر سیاسی مکتب فکر کی جدا جدا بلکہ متصادم ہے۔ 71ء میں مجیب کی عوامی لیگ اور بھاشانی کی نیپ پر یہی دو الزامات عائد کرکے وہاں فوجی کارروائی کی گئی تھی اور ملک دو لخت کر دیا گیا تھا۔ ’’نظریۂ پاکستان‘‘ کی اصطلاح یحییٰ خاں کے دور میں دائیں بازو کی جماعتوں نے مارشل لاء حکومت کے وزیر اطلاعات نوابزادہ شیر علی آف پٹودی کے ایما پر اور سرپرستی میں استعمال کرنا شروع کی تھی۔ اس سے پہلے یہ اصطلاح کبھی استعمال نہیں کی جاتی تھی۔ ضیاء الحق نے 73ء کے آئین کو مشرف بہ اسلام کیا تو پارلیمنٹ کے لفظ کو مجلس شوریٰ کے لفظ سے بدل دیاگیا۔ مجلس شوریٰ کی حیثیت عام طور پر محض مشاورتی نوعیت کی ہوتی ہے ۔ اسٹیبلشمنٹ یہی چاہتی تھی کہ پارلیمنٹ کی حیثیت محض نمائشی ہو۔اس مقصد کے لیے قرارداد مقاصد کا بھی سہارا لیا گیا۔ ضیاء الحق کے محولہ بالا صدارتی فرمان کے ذریعہ آئین میں شق 2 Aشامل کی گئی جس کے مطابق قرارداد مقاصد کو آئین کا باضابطہ، مستقل اور مؤثر حصہ قرار دے دیا گیا۔ قرارداد مقاصد مارچ1949ء میں وزیراعظم لیاقت علی خاں نے دستور ساز اسمبلی سے منظور کرائی تھی۔ یہ 73ء کے آئین کی طرح متفقہ طور پر منظور نہیں ہوئی تھی بلکہ ایوان کی سادہ اکثریت سے منظور ہوئی تھی۔ مشرقی پاکستان کے اقلیتی ارکان نے اس کی بھرپور مخالفت کی تھی۔ ان کے مطابق یہ قرارداد قائداعظم کی 11؍اگست 1947ء کی دستور ساز اسمبلی کے افتتاحی اجلاس میں کی گئی تقریر کی روح سے متصادم تھی جس میں مذہب کو فرد کا ذاتی معاملہ قرار دیا گیا تھا اور امور ریاست کو مذہب سے بالکل علیحدہ رکھنے کا واشگاف اور غیر مبہم الفاظ میں اعلان کیا گیا تھا۔ ایک رکن اسمبلی بھوپندر کمار دتہ نے اپنی تقریر میں کہا تھاکہ اس قرارداد کی بنیاد پر ’’کسی دن کوئی بچہ سقہ جیسا سپاہی طالع آزما اپنی مرضی اور اختیار اس ریاست پر ٹھونس دے گا۔ وہ ہماری ریاست کے عوام کے سامنے اپنے دعوے کی بنیاد اس قرارداد کی اس شق پر رکھے گا جس میں کہا گیا ہے کہ اللہ نے جمہور کی وساطت سے مملکت پاکستان کو اختیار حکمرانی نیابتاً عطا فرمایا ہے۔ اسے اس میں صرف ایک اور رشتہ جوڑنا ہو گا اور وہ یہ کہ مملکت پاکستان کی وساطت سے اختیارِ حکمرانی نیابتاً جمہور کو مل گیا ہے اور پھر وہ اعلان کر دے گا کہ اللہ تعالیٰ نے اسے پاکستان کا حکمران مقرر کیا ہے۔‘‘ 5؍جولائی 1977ء کو ضیاء الحق نے بالکل یہی کیا جس کی پیش گوئی دتہ نے 1949ء میں کر دی تھی۔