جان سے پیارے امی ابو جان ،وہ جان جو جل کر راکھ ہو گئی ، وہ جان جو آپ کی امانت تھی، آپ کی آبرواورغیرت پرقربان ہوگئی!
دل بہت اُداس ہے، کہ بہت دن ہوئے آپ کا چہرہ نہیں دیکھا۔آپ سے، بھائی سے اورمجھ سے جُڑی، کتنی ہی باتیں، کتنی ہی یادیںہیں، جو آنسو بن کر میری پلکوں میں جھلملاتی رہتی ہیں۔ لیکن میں ان آنسوئوں کو آنکھوں میں ہی قید رکھتی ہوں، اندر ہی اندر، ٹوٹتی ہوں، بکھرتی ہوں، لیکن دل کا کوئی کرب، چہرے سے عیاں نہیں ہونے دیتی، کہ بیٹی ہونے کے ناتے، ہمیشہ ضبط اورصبرکرنا ہی میں نے سیکھا ہے۔
ہوش سنبھالنے کے بعد، پہلی عید کا وہ منظر ، اب بھی مجھے کچھ کچھ یاد ہے۔ ابو جان، میرے دُلارے بھائی کے لیے نئے کپڑے لائے تھے، جب بھائی نئے کپڑے پہن کر، چاند کی طرح چمک رہا تھا، امی کی آنکھیں بھی خوشی سے چمکنے لگی تھیں۔ ہلکا سا گماں مجھے ہوا، کہ شاید میرے لیے بھی نئے کپڑے آئے ہوں، امی نے میرا چہرا پڑھ لیا اور بولیں، تم نے کون سا باہر جانا ہے بیٹی۔ جی امی! میں نے بجھتے دل مگر مسکراتے چہرے سے جواب دیا۔ اور اس کے بعد، امی کی طرح، میری آنکھیں بھی چمکنے لگیں، آنسوئوں کے چمکتے نم قطروں سے، لیکن ضبط کا بندھن میں نے ٹوٹنے نہ دیا۔ صبر کا پہلا سبق، اُسی دن میں نے سیکھا تھا۔ بغیر کسی جلن کے، شہزادوں کی طرح دمکتے بھائی کے ماتھے پر میں نے بوسا دیا، کہ وہ مجھے جان سے بھی زیادہ عزیز تھا۔
وقت چلتا اور گزرتا گیا، لیکن میری زندگی ٹھہری رہی، بس اتنا فرق پڑا ، کہ کم سِنی میں ، امی کے ساتھ گھرکے کام کاج میں ہاتھ بٹاتی رہی، اور تھوڑی بڑی ہوئی تو سارا کام خود سنبھال لیا، کہ ڈھلتی عمر میں امی جان کو کام کرتے دیکھ کر، میرا کلیجہ کٹتا تھا۔ صبح سویرے اٹھ کر، سب کے لیے ناشتہ بنانا، گھر کی جھاڑ پونچھ، صفائی ستھرائی، برتن اورکپڑے دھونے سے دوپہر اور رات کا کھانا بنانے تک، سب کچھ میں نے، اپنے ہاتھ میں لے لیا۔ دن بھر کی مشقت سے میری کمر دُکھنے لگتی، لیکن کبھی کوئی گلہ شکوہ لبوں پر میں آنے نہ دیتی،میرا دل بھی ہمیشہ مطمئن اورخوش رہتا ، کہ اپنے امی ابو اور بھائی کی خدمت ہی تو کر رہی ہوں میں۔
امی اور ابو جان! یادوں کا ایک سمندر ہے، جو قطرہ قطرہ آنسو بن کراب میری آنکھوں سے بہنے لگا ہے۔ اتنی راتیں میں نے جاگ کر گزاریں، کہ ابدی نیند سونے کے بعد بھی میری نیند پوری نہیں ہو سکی۔ امی جب بھی بیمار ہوتیں، ساری رات میں ان کے سرہانے جاگتی، انہیں دو ا دیتی، پانی پلاتی ، اُن کا سر اورجسم دباتی، اور اپنے رب سے گڑگڑا کر ان کی صحت کے لیے دعائیں مانگتی۔ ابو بھی اگر کبھی رات کو کھانستے، تو میرا دل تڑپ اٹھتا، فورا اُٹھ کر، اُن کی طبیعت پوچھتی، اُنہیں قہوہ بنا کر دیتی، اور ساتھ ہی یہ التجا بھی کرتی، کہ ابو جان! اگر ذرا سی بھی کوئی تکلیف محسوس ہو، تو فورا مجھے آواز دیجیے گا، میں جاگ ہی رہی ہوں۔وہ رتجگے بھی مجھے بھلائے نہیں بھولتے، جب بھائی بخارمیں تپتا تھا، اور میں اس کے ماتھے پر ٹھنڈی پٹیاں کرتی، اسے تسلیاں دیتی، ساری رات کھلی آنکھوں میں گزار دیتی۔
بھائی سے مجھے بے حد پیار تھا، صرف دو موقعوں پر میں اُسے ڈانٹتی، جب وہ امی کی دوا لانے کے بجائے، دوستوں کے ساتھ کھیلنے چلا جاتا، اور جب وہ ابو سے اونچی آواز میں بات کرتا، اور اُن کی آنکھیں نم ہو جاتیں۔ اس کے باوجود، وہ امی ابو کا لاڈلا تھا اور میرا بھی۔گھر میں کبھی کبھار گوشت پکتا، تو امی بھائی کی پلیٹ میں بوٹیاں ڈالتیں، اور میری پلیٹ میں صرف پانی جیسا شوربا
ہوتا۔ پھر بھی حسد یا احساس کمتری کا سایہ تک میں اپنے دل و دماغ پر نہ پڑنے دیتی، کھانا کھاتے وقت، پیار بھری نظروں سے، امی، ابو اور بھائی کو دیکھتی رہتی، کہ وہی میرا سب کچھ، میری دنیا تھے۔ بہت جلد میںخود اتنی سمجھدار ہو گئی ، کہ اگر بھائی نے دیر سے آنا ہوتا ، تو میں ہانڈی سے اپنے لیے شوربا نکال لیتی اوربوٹیاں بھائی کے لیے رہنے دیتی۔
ابو جان سے مجھے لازوال محبت اور عقیدت تھی، میں خود کو اُن کا فخر اور شان اوراُنہیں اپنا پاسبان سمجھتی۔ بچپن سے نوجوانی تک، اُن کا سایہ ، مجھے اپنے گرد آہنی حفاظتی حصار جیسا محسوس ہوتا۔ جتنی شدت سے میں امی ابو اور بھائی سے محبت کرتی، مجھے لگتا کہ وہ بھی مجھے ایسے ہی چاہتے ہوں گے، لیکن ایک دن میرا مان، میرا خیال، محض خواب اورسراب لگنے لگا۔ جانے کس جرم میں، میری ساری محبتوں اورعقیدتوں کو بُھلا کر، ظالم زمانے کی جھوٹی انا کی تسکین کے لیے، غیرت کے نام پر، میرے اپنے گھر والوں نے مجھے زندہ جلانے کے لیے درندوں کے حوالے کر ڈالا۔ پتھرائی آنکھوں سے، میرے اوپر پٹرول چھڑکتے بے حس لوگوں کو میں تک رہی تھی۔ بے بس اور بے سکت۔ آگ بھڑکی اورپل بھر میں شعلے میرے جسم سے لپٹنے لگے، میری جلد پگھل کر میری ہڈیوں سے اترنے لگی تھی، میری آنکھیں اُبل کر باہر آنے لگی تھیں اور امی ابو اور بھائی کے ساتھ گزرے لمحوں کا ایک ایک منظر میرے ذہن میں گھومنے لگا تھا۔آگ سے نہیں ، کرب کی تپش سے، میری روح جھلسنے لگی تھی۔ آخری سانس کے سلگنے تک، اک آس میرے دامن سے لپٹی رہی، کہ کہیں سے میرے پاسبان، میرے پیارے ابو جان کے آہنی بازو ، اپنی بیٹی کے گرد حفاظتی حصار بنا لیں گے، یا میری پیاری امی جان، مجھ سے لپٹ کر مجھ سے لپٹے آگ کے شعلے بجھا ڈالیں گی، یا میرا سجیلا بھائی ، کسی مسیحا کی طرح، اچانک کہیں سے نمودار ہو کر، مجھے اپنی بانہوں میں چھپا لے گا۔ رات ڈھلتی رہی اورمیں جلتی رہی اورمیری ہر آس بھی جل کر راکھ ہوگئی۔
پیارے امی ابو جان !
میرے جسم کی جلن تواب ختم ہوچکی، لیکن روح کی جلن ختم نہیں ہوتی۔پھر بھی، صبح شام، آپ کی یاد مجھے ستاتی ہے، آپ کی فکر بھی بہت رہتی ہے، کون آپ کو دوا پلاتا ہو گا، اورکون درد میں سہلاتا ہو گا۔ میری فکر مت کیجیے گا، میں اکیلی نہیں، یہاں میری بہت سی سہیلیاں بن گئی ہیں، ان کی کہانیاں بھی میرے جیسی ہیں، کسی کو کلہاڑی سے کاٹا گیا، کوئی گولیوں سے چھلنی ہوئی اورکوئی زندہ درگور، کسی کو تیزاب سے جھلسایا گیا اورکسی کو آگ میںجلایا گیا۔ ہم سب سکھیاں اپنے دکھ آپس میں بانٹ لیتی ہیں ، اتنی کہانیاں ہیں کہ سنتے سُناتے سارا وقت کٹ جاتا ہے۔بس ہم سب کا ایک ملال اورسوال ہے، آخرہمارا قصور کیا تھا؟ اوراگر ہم سے کوئی خطا ہو بھی گئی ، تو اس کی سزا وہی تھی، جو ہمیں دی گئی ؟اور یہی خطا اگر ہمارے بھائیوں سے ہوتی، تو انہیں بھی ایسی ہی سزا ملتی؟
پیارے امی ابو جان !
میںہر لمحہ، آپ کی صحت اورلمبی عمر کے لیے دعاکرتی ہوں۔ اپنے رب سے ، ایک ہی التجا کرتی ہوں کہ آخرت میں بھی ، امی ابو اوربھائی کے ساتھ رہوں، اور مجھے وہاں بھی آپ سب کی خدمت کا موقع ملے۔پھر کوئی مجھے آپ سے جدا نہیں کر پائے گا ، کہ وہاں ظالم سماج کے جرگے نہیں، صرف رب کی عدالت لگتی ہے ، وہ رب جس نے بیٹیوں کوتوقیر اورتعظیم دینے کاحکم دیا۔اگر کوئی دکھ ، جانے انجانے میں، آپ کو میں نے دیا ، تومجھے معاف کر دیجیے گا۔
والسلام !!
آپ کی تابعدار بیٹی !!!