موت سے لڑتے ننھے فرشتے

موت سے ہرلمحہ لڑتا، کبھی ہارتا ، کبھی جیتتا ، کینسر کا مریض پانچ سالہ احمد، ننھی خواہشات، ننھے سوالات ، وہ سوالات جو اپنی پیاری ماں سے وہ پوچھتا، وہ ماں جس کے پاس، ہر سوال کے جواب میں ، صرف آنسو ہیں، بے شمار آنسو، کتنے سمندر ہیں ، جو اُس کی آنکھیں بہا چکیں، اورکتنے سمندر ہیں جو ان آنکھوں نے ابھی بہانے ہیں، ماں بیٹے کی یہ کہانی عجیب کہانی ہے ۔
سکول کا وہ پہلا دن ،احمد کو بھولتا ہے نہ اُس کی ماں کو،چاند جیسی چمکتی آنکھیں، نرم ونازک پھولوں کی طرح کِھلا چہرہ،اسکول جانے سے پہلے ، ماں نے اسے گلے لگایا، اُس کا ماتھا چوما ، اورخوابوں کی دنیا میں کھو گئی، وہ سیکڑوں خواب ، جن کی تعبیر احمد سے جڑی تھی ۔خواب توخواب ہوتے ہیں، کبھی پورے ہو جاتے ہیں، اورکبھی ٹوٹ کرکرچیوں کی طرح بکھرنے لگتے ہیں۔اِس ماں کے خواب بھی ، اُس وقت بکھرنے لگے ، جب کچھ ہی دیر بعد، احمد کو بے ہوشی کی حالت میں اسکول سے واپس لایا گیا۔اُس کی بیماری کسی کو سمجھ نہ آئی ،چند ہی روز میں، وہ سوکھ کر تنکا ہونے لگا۔زندگی اُس سے دوراورموت قریب ہونے لگی ۔ احمد کے علاج کے لیے، دردر کی ٹھوکریں اُس کی ماں نے کھائیں، ساری جمع پونجی اُس نے اپنے لال پر لٹا دی ، پہلے زیور بِکا، پھر گھر کا سار ا سامان بھی ۔اپنے گردے تک بیچنے کے لیے وہ خریدار ڈھونڈتی۔خود بھی روتی، دوسروں کو بھی رُلاتی۔ آسمان کی طرف نگاہیں اُٹھا کر ، گڑ گڑا کر، وہ اپنے رب سے ، اپنے جگر گوشے کے لیے دعائیں مانگتی، اورپھر رات کے کسی پہر،قبولیت کی کسی گھڑی میں، اُس کی دعا سنی گئی ۔ ایک ڈاکٹر کے مشورے پر،وہ شوکت خانم ہسپتال چلی آئی اوریہاں سے کہانی نے ایک نیا موڑ لیا۔
احمد میں کینسر کی تشخیص ہوئی، ایسا موذی مرض اوراتنا مہنگا علاج، خالی ہاتھ ماں ، خالی آنکھوں سے اپنے بیٹے کو تکتی ، بے بس اورلاچار،لیکن پھر مسیحاوں کی مسیحائی شروع ہوئی۔ایک نہیں، کئی ڈاکٹروں نے ، بیک وقت احمدکا علاج شروع کیا، بالکل مفت۔ایک پیسہ بھی ہسپتال نے نہ مانگا،وارڈ کے لیے ، نہ ہی کسی ٹیسٹ یا دوا کے لیے ۔ پہلے پہل، علاج کے لیے جب برقی رو احمد کے جسم سے گزاری جاتی، تو وہ زارو قطار روتا، اور اُسے دیکھ کراُس کی ماں بھی ۔پھر آہستہ آہستہ وہ سنبھلنے لگا، جسمانی طورپر بھی، اورذہنی طورپر بھی۔ آخری بار شدت درد سے جب وہ رویا،تواپنے ڈاکٹروں کو بھی اُس نے رلا دیا ،معصومانہ لہجے میں اُس نے التجا کی ، کہ اُس کی ماں کو اُس کے رونے کاپتہ نہ چلے ۔ وہ جانتا تھا، کہ اس کی ماں بہت رو چکی، اور وہ اُسے اب روتے دیکھنا نہیں چاہتا۔ احمد کا حوصلہ بڑھ رہا ہے، اور وہ زندگی کی 
جانب لوٹ رہا ہے،اُس کے اورموت کے درمیان شوکت خانم ہسپتال اور اس کاعملہ کھڑا ہے ،پورے خلوص او ر ایمانداری کے ساتھ ، اوراُنہیں سہارا ہے ، اُن کروڑوں لوگوں کا، جو اس ادارے کو عطیات دیتے ہیں، جن کے دلوں میں قدرت نے، ناداروں ، بے بسوں اورمفلسوں کے لیے رحم ڈالا ہے۔
بائیس برس پہلے کا منظر، اب بھی بہت سوں کی آنکھوں میں گھومتا ہے، جب پاکستانی قوم نے ، اس ہسپتال کو بنانے کے لیے تاریخ رقم کی۔ غریب امیر، مذہب، فرقے، مسلک، معاشرتی، سیاسی، علاقائی اورصوبائی، ہر قسم کی تفریق مٹ گئی۔ کالجوں یونیورسٹیوں کی لڑکیوں نے اپنی بالیاں اور چوڑیاں، لڑکوں نے اپنے جیب خرچ، بڑوں بوڑھوں نے اپنی تنخواہیں اورپنشنیں ، دلہنوں نے اپنے زیوراورمفلس بیواوں تک نے اپنی جمع پونجیاں اس ہسپتال پر نچھاور کر دیں۔پھر وہ وقت بھی آیا ، جب 1994ء میں ، کینسرسے لڑتی نو سال کی ننھی پری سمیرا نے اس ہسپتال کا افتتاح کیا،وہ سمیرا، جسے موت نے اپنے شکنجے میں جکڑ رکھا تھا۔ پھر اِسی ہسپتال میں سمیرا کا مفت علاج ہوا، وہ شفایاب ہوئی اورآج بائیس برس بعد، اسی ہسپتال میں ملازمت کر رہی ہے ۔اب وہ روتی نہیں، ہنستی ہے، ہنساتی ہے اورخوشیاں بانٹتی ہے ۔ اس ہسپتال کا قائم ہونا، اور قائم رہنا، کسی معجزے سے کم نہیں۔وہ معجزہ جو پاکستانیوں نے کر دکھایا، ایسا معجزہ ، جسے صرف پاکستانی ہی نہیں، پوری دنیامانتی ہے ۔بائیس برس میں ساڑھے بائیس ارب روپے، اس ہسپتال میں ہزاروں غریبوں کے علاج پر خرچ ہو چکے۔کینسر کی زد میں آئے سیکڑوں معصوم بچے، اب بھی یہاں موت سے زندگی کی جنگ لڑرہے ہیں۔انہیں بچانے کے لیے ساڑھے چار ارب روپے اس سال درکار ہیں، بجا کہ رقم بہت بڑی ہے، لیکن ایک آس ہے ، جوپچھلے بائیس برس سے ٹوٹی نہیں، اور یہ آس بندھی ہے اُن بندوں سے، جوانسانیت کے لیے، اپنے رب سے تجارت کرتے ہیں، بغیر کسی غرض کے ۔اللہ تو خود فرماتا ہے، صدقہ اور خیرات دینے والے ، مجھے قرض حسنہ دیتے ہیں، اور میںہی اس کا اجر، کئی گنا بڑھا کر لوٹا دوں گا۔ماننے والے مانتے ہیں کہ صدقہ ، بلائیں ٹالتا اور تقدیریں بدل دیتا ہے۔
شوکت خانم ہسپتال کی کہانی، صرف احمد کے گرد نہیں گھومتی، اس کے ننھے کرداروں میں، سدرہ، حذیفہ، نمرہ ، حدید، سعدیہ ، نسیم ، مہتاب، موسیٰ ،نِدا،صبا اور ان جیسے سیکڑوں معصوم بچے بھی شامل ہیں ، اور ان کی شہزادوں اورپریوں جیسی تصویریں، ہسپتال کی ویب سائٹ پر بھی موجود ہیں ۔ان کی آنکھیں ، اب بھی خواب دیکھتی ہیں، ان کے دلوں میں، اب بھی ارمان مچلتے ہیں۔کوئی ہے جو ان کے خوابوں کو ٹوٹنے سے بچا لے ؟ان کے ارمانوں کو بکھرنے سے بچا لے، انہیں ان کا کھیلتا کودتا ، ہنستا ہنساتابچپن لوٹا دے، وہ بچپن جو ان کے ہمجولی اور ساتھی گزار رہے ہیں ۔ انہیں گھرواپس جانا ہے۔ وہ گھر جہاں ان کی مسکراہٹیں گونجتی تھیں، وہ گھر جِن کے درو دیوار، اِن کے بغیر اداس ہیں۔ گھر سے دور، اِن کی پلکوں میں ، درد کے دریا تیرتے ہیں،کوئی ہے جواِن کے درد بانٹ لے ؟ کوئی ہے جو اِن کے دُکھ خرید لے ؟

Advertisement
0 seconds of 0 secondsVolume 0%
Press shift question mark to access a list of keyboard shortcuts
00:00
00:00
00:00
 
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں