کشمیر پاکستانیوں کی شہ رگ ہے، عام پاکستانیوں کی، لیڈروں کی بات مگر الگ ہے، ان کے لیے کشمیر محض سیاسی شہ رگ ہے۔ کشمیریوں کے آنسو انہوں نے بیچ ڈالے، کشمیریوں کے زخموں پر بھائو تائو کیا، کشمیریوں کے لہو پر سودے بازی کی، سیاسی سودے بازی۔ مولانا فضل الرحمان کشمیر کمیٹی کے چیئرمین کیوں بنائے گئے؟ کیا یہ سمجھنے کے لیے افلاطونی عقل درکار ہے؟
سید علی گیلانی برہم ہیں۔ ستاسی برس کے علی گیلانی جن کا لڑکپن، عہدِ جوانی اور بڑھاپا کشمیریوں کا مقدمہ لڑتے گزر گیا۔ کانٹے کی طرح جو ہمیشہ بھارت کی آنکھوں میں کھٹکتے رہے، جنہیں بھارتی استعمار پاکستان نواز گردانتا ہے۔ گیلانی صاحب کے صبر کا پیمانہ اب چھلک رہا ہے، کشمیریوں کی لاشوں پر برسہا برس کی سودے بازی پر وہ زِچ ہیں۔ مولانا فضل الرحمان کو کشمیر کمیٹی کی سربراہی سے ہٹانے کا مطالبہ انہوں نے کیا ہے۔ سوال بہت ہیں، جواب کوئی نہیں۔ کشمیر کمیٹی نے اب تک کیا کارنامے سرانجام دیے؟ اور مولانا صاحب کی کشمیر کے لیے کیا خدمات ہیں؟ آخر اس کمیٹی کی سربراہی اتنی پُرکشش کیوں ہے؟ اس لیے کہ تمام قائمہ کمیٹیوں سے کئی گنا زیادہ فنڈز اس کے پاس ہیں؟ چھ کروڑ روپے سالانہ۔ وفاقی وزیر کے مساوی عہدہ مولانا کے پاس ہے۔ اسلام آباد کی وزرا کالونی میں عالیشان گھر اور بڑی سرکاری گاڑی۔ آٹھ برس ہوتے ہیں، مولانا کو یہ تمام مراعات حاصل ہیں۔ 2008ء میں پیپلز پارٹی اقتدار میں آئی۔ بی بی شہید کی نہیں، زرداری صاحب کی پیپلز پارٹی۔ وہی آصف زرداری جو عوامی سیاست کے کم، سیاسی سودے بازی کے ماہر زیادہ ہیں۔ اپنی حکومت مستحکم رکھنے کے لیے حلیفوں اور حریفوں سب کو انہوں نے نوازا، ذاتی جیب سے نہیں، قومی خزانے سے۔ مولانا صاحب کو جہاں تین وزارتیں ملیں، وہیں کشمیر کمیٹی کی سربراہی کا نذرانہ بھی انہیں پیش کیا گیا۔ جہازی سائز کی اس کمیٹی نے کشمیریوں کی کیا خدمت کی؟ 2009ء میں شوپیاں زیادتی اور قتل کیس سامنے آیا، ہزاروں کشمیری جان پر کھیل کر احتجاج کرتے رہے، ان پر گولیاں برسائی گئیں، حریت رہنما گرفتار ہوئے لیکن کشمیر کمیٹی لمبی تان کر سوئی رہی۔ 2010ء میں بھارتی فوج نے مقبوضہ کشمیر میں تین پاکستانیوں کی دراندازی کا ڈرامہ رچایا، تین کشمیری نوجوانوں کو جعلی مقابلے میں شہید کر دیا گیا، تحقیقات ہوئیں تو بھانڈا پھوٹ گیا، خود بھارتی آرمی کو اعتراف جرم کرنا پڑا۔ اس بربریت پر وادی میں احتجاج کیا گیا تو 110 کشمیریوں کو لہو میں نہلا دیا گیا۔ تین ماہ کشمیریوں پر بدترین تشدد جاری رہا، دنیا بھر میں انسانی حقوق کی تنظیمیں چِلا اُٹھیں لیکن ہماری کشمیر کمیٹی بے حس و حرکت رہی۔ مسئلہ کشمیر اجاگر کرنے کے لیے کوئی حکمت عملی نہ ٹھوس سفارشات۔ 2013ء میں وقت بدلا اور حکومت بھی لیکن کشمیر کمیٹی کی سربراہی نہ بدلی۔ پیپلز پارٹی کی نظریاتی مخالف مسلم لیگ ن اقتدار میں آئی، کشمیر کمیٹی کی سربراہی پھر اُنہیں کی چوکھٹ پر رکھ دی گئی۔ اگلے دو برس تو اس کمیٹی نے کمال ہی کر دیا۔ اُدھر کشمیری جلتے، مرتے اور کٹتے رہے، اِدھر 2013ء کے وسط سے 2015ء کے وسط تک، پورے دو سال کشمیر کمیٹی کا ایک اجلاس بھی نہ بلایا گیا۔ 2016ء میں مودی سرکار نے مقبوضہ کشمیر میں درندگی کی ہولناک داستانیں رقم کیں، درجنوں کم سن بچوں کو اندھا کر دیا گیا، سو سے زائد لاشے گرائے اور تیرہ ہزار کو لہولہان کر ڈالا۔ دوسری جانب تین برس میں کشمیر کمیٹی کے کُل ملا کر تین اجلاس ہوئے، وہ بھی روایتی۔ اس دوران کمیٹی کے اخراجات کی مد میں سترہ کروڑ روپے اُڑا دیے گئے۔ یہ ہے کشمیر پر پارلیمانی کمیٹی کی کارکردگی، اس سے زیادہ توقع بھی کیا کی جا سکتی، کمیٹی سے الگ ہونے کو وہ اب بھی تیار نہیں۔
کشمیریوں کے نام پر، سیاستدانوں کے بیرون ملک سیر سپاٹوں کی الگ داستان ہے۔ گزشتہ برس حکومت نے بائیس ارکان پارلے منٹ کو دنیا کے مختلف دارالحکومتوں میں بھیجنے کا فیصلہ کیا۔ بظاہر بھارتی مظالم کا پردہ چاک کرنے کے لیے۔ ان میں آدھوں کو بیرون ملک تو ایک طرف، اپنے شہر سے باہر بھی کوئی نہیں جانتا۔ سفارت کاری کا کوئی تجربہ نہ کوئی مخصوص تعلیمی پس منظر۔ مشاہد حسین سید اور اِکادُکا ارکان کے سوا، دیگر تمام کی کارکردگی عملی طور پر صفر رہی۔ یوں یہ پوری مشق گھومنے گھمانے تک محدود رہی، قومی خزانے سے کروڑوں روپے خرچ کر کے۔
بھارت بڑی منڈی ہے، بڑی منڈی سے بڑی طاقتوں کے مفادات جڑے ہیں۔ بجا کہ سفارتی سطح پر کشمیریوں کی جنگ لڑنا مشکل ہے لیکن ناممکن نہیں۔ علی رضا سید سفارتی محاذ پر کشمیریوں کا گمنام مجاہد ہے۔ ستاون برس کا علی رضا جو یورپ میں کشمیر کونسل چلاتا ہے۔ یورپی یونین کی پارلے منٹ اور اہم ترین ادارے برسلز میں ہیں۔ محدود وسائل میں کمال حکمت عملی سے علی رضا نے مسئلہ کشمیر پورے یورپ میں اٹھایا۔ برسوں پہلے ذاتی خرچ پر یورپی پارلے منٹ میں کشمیر کانفرنس کروائی۔ برطانیہ کے مسلمان اور پاکستانی ارکان پارلے منٹ کو مدعو کیا، انسانی حقوق کی ممتاز تنظیموں کے عالمی نمائندوں کو بُلایا، مقبوضہ کشمیر میں بھارتی سفاکیت کے دستاویزی ثبوت جمع کرنے کے لیے ماہرین کی ریسرچ کمیٹی بنائی۔ پھر یہ دستاویز کانفرنس میں پیش کی گئی، اس پر بحث ہوئی اور بھارتی مظالم کی داستانیں سن کر شرکا کے رونگٹے کھڑے ہو گئے۔ اس کے بعد علی رضا نے برسلز اور یورپ کے دیگر شہروں میں کشمیریوں اور پاکستانیوں کو منظم کیا، سردار صدیق جیسے ممتاز کمیونٹی رہنمائوں کو ساتھ ملایا اور کشمیر کانفرنس ہر سال ہونے لگی۔ اس کانفرنس میں اب یورپی اور برطانوی پارلے منٹ کے ارکان بھی شریک ہوتے ہیں۔ اسی کانفرنس کے ذریعے کشمیریوں کی اجتماعی قبروں کا معاملہ یورپی پارلے منٹ میں گونجا، یوں پہلی مرتبہ باضابطہ سرکاری سطح پر بھارت
کی ریاستی دہشت گردی کی مذمت کی گئی۔ اس سفارتی کامیابی کے بعد، علی رضا نے کشمیر کونسل کے تحت ہر سال ہفتہ کشمیر منانا شروع کر دیا۔ اب ہر برس سات روز یورپی پارلے منٹ کے سامنے مسئلہ کشمیر پر مختصر دورانیے کی دستاویزی فلمیں چلائی جاتی ہیں۔ بھارتی تشدد کا شکار خواتین اور بچوں کی تصاویر آویزاں کی جاتی ہیں، اس لیے کہ مغربی معاشرہ عورتوں اور بچوں کے حوالے سے زیادہ حساس ہے۔ گزشتہ برس ان ننھے کشمیریوں کی تصاویر والے پوسٹرز بنائے گئے جنہیں تیز دھار چھروں سے اندھا کر دیا گیا تھا۔ ان تصویروں کو دیکھتے ہوئے یورپی ارکان پارلے منٹ اور شہریوں کی آنکھیں نم نظر آئیں۔ اسی ہفتہ کشمیر میں بھارتی بربریت پر عالمی تنظیموں کی مصدقہ رپورٹس کے اہم نکات پر مبنی کتابچے مفت بانٹے جاتے ہیں۔ یوں پرامن طریقے سے، آہستہ آہستہ پورے یورپ کو کشمیر میں انسانی المیے سے آگاہ کیا جا رہا ہے۔ کشمیر کونسل نے کشمیریوں کے حق خود ارادیت کی قرارداد پر دستخطی مہم بھی شروع کر رکھی ہے۔ دس لاکھ یورپی باشندوں کے دستخط کے بعد یہ قرارداد یورپی پارلے منٹ میں پیش کی جائے گی۔ علی رضا سید، سردار صدیق اور ان کے ساتھی یہ خدمات رضاکارانہ طور پر انجام دے رہے ہیں۔ اگر انفرادی سطح پر اتنی موثر مہم چل سکتی ہے تو حکومتی سطح پر کیا کچھ نہیں کیا جا سکتا۔ کشمیریوں کا مقدمہ لڑنے کے لیے پختہ عزم، نیک نیتی اور ٹھوس حکمت عملی درکار ہے، سیاسی سوداگروں کا اگرچہ اس سے کوئی سروکار نہیں، وہ تو بس کشمیریوں کے دکھ بیچتے ہیں اور درد بھی، ان کی آہیں بیچتے ہیں اور سسکیاں بھی، ان کے زخم بیچتے ہیں اور جذبات بھی، سب سیاسی مفادات کے لیے۔