بھوک پیٹ میں، ہوس نیت میں ہوتی ہے، پیٹ بھر جاتے ہیں، نیتیں مگر نہیں بھرتیں۔ پاکستانی کرکٹ ہے اور ہوس کے مارے گِدھ، برسوں سے ہماری کرکٹ کو نوچتے، چیرتے پھاڑتے گِدھ۔ کسی کو پیسوں کی ہوس، کسی کو کپتانی کی، کسی کو بورڈ میں عہدوں کی۔
اسپاٹ فکسنگ سے میچ فکسنگ تک، کھیل سے کھلواڑ کی کہانی نئی نہیں چوبیس برس پرانی ہے۔ میچ بیچنے کا پہلا سنگین الزام وسیم اکرم پر لگا، یہ الزام سابق فاسٹ باولر عطاالرحمان کی جانب سے لگایا گیا۔ 1993-94 میں کرائسٹ چر چ میں پاکستان اور نیوزی لینڈ کا میچ ہوا تھا۔ عطاالرحمان نے دعویٰ کیا کہ وسیم اکرم نے انہیں اس میچ میں بُری بائولنگ کرانے کے لیے ایک لاکھ روپے دیے۔ بعد میں وہ اِس الزام پر الٹی سیدھی قلابازیاں لگاتے رہے۔ یہ الزام پورا سچ تھا یا پورا جھوٹ، تحقیقاتی کمیشن میں یہ تو ثابت نہ ہو سکا، اگرچہ یہ ضرورت ثابت ہوا کہ وسیم نے اپنے کریڈٹ کارڈ سے عطاالرحمان کو لندن کا ٹکٹ لے کر دیا۔ وسیم اکرم پر دوسرا الزام 1996 میں ورلڈ کپ کے کوارٹر فائنل کے متعلق تھا، وہی کوارٹر فائنل جو بنگلور میں پاکستان اور بھارت کے درمیان کھیلا گیا۔ بھارت یہ میچ 39 رنز سے جیت گیا تھا۔ وسیم پر الزام لگایا گیا کہ وہ جان بوجھ کر اس اہم میچ میں نہیں کھیلے۔ عامر سہیل کے مطابق انہیں میچ سے صرف
پانچ منٹ پہلے بتایا گیا کہ کپتانی انہیں کرنا ہو گی۔ وسیم اکرم نے تحقیقاتی کمیشن کو بتایا کہ وہ زخمی ہونے کے باعث میچ نہ کھیل سکے۔ ٹیم کے غیرملکی فزیوتھراپسٹ کا بیان تھا کہ وسیم کی ''اِنجری‘‘ معمولی نوعیت کی تھی، انہوں نے میچ سے ایک دن پہلے وسیم کا طبی معائنہ کیا، وسیم کو یقین تھا کہ وہ اس میچ کے لیے مکمل فِٹ ہوں گے، آخری لمحات میں مگر انہوں نے میچ نہ کھیلنے کا فیصلہ کیا۔ وسیم پر 1997 کے آزادی کپ اور اس کے بعد شارجہ ٹرافی کے حوالے سے بھی الزامات لگائے گئے۔ جسٹس قیوم کمیشن نے ان تمام الزامات کی تحقیقات کیں اور اپنا فیصلہ سنایا۔ کمیشن نے قرار دیا کہ ان معاملات میں سب کچھ ٹھیک نہیں ہے، وسیم بھی اس معاملے میں پوری طرح ایماندار نہیں۔ انہوں نے کمیشن سے تعاون نہیں کیا، انہیں صرف شک کا فائدہ دیا جا رہا ہے۔ کمیشن نے وسیم کو کپتانی سے ہٹانے اور ان کو تین لاکھ روپے جرمانے کی تجویز دی۔ اسی کمیشن میں سلیم ملک عادی اور پیشہ ور سٹہ باز ثابت ہوئے، آسٹریلوی کھلاڑیوں نے بھی ان کے خلاف گواہی دی۔ کمیشن نے سلیم ملک اور عطاالرحمان دونوں پر تاحیات پابندی کی سفارش کی۔ اس کے علاوہ مشتاق احمد، وقار یونس، انضمام الحق، اکرم رضا اور سعید انور کو بھی جرمانہ کیا گیا۔ کمیشن نے یہ انکشاف بھی کیا کہ اسے 1999 کے ورلڈ کپ فائنل کی تحقیقات سے روکا گیا، وہ فائنل جس میں پاکستانی ٹیم 132رنز پر آئوٹ ہو گئی تھی۔ 2010 میں محمد عامر، آصف اور سلمان بٹ نے انگلینڈ میں جو کچھ کیا، سیکڑوں بار لکھا اور پڑھا جا چکا، رہی سہی کسر پی ایس ایل میں فکسنگ سکینڈل نے نکال دی ہے۔ فرش سے عرش پر ان کھلاڑیوں کو مُلک نے پہنچایا، پیسہ ملا، عزت اور شہرت بھی، ان کی ہوس کی مگر کوئی حد نہیں، میچ نہیں، قوم کے جذبات یہ بیچتے ہیں، وہ قوم جو انہیں سر آنکھوں پر بٹھاتی ہے۔ ریٹائرمنٹ کے بعد انہی متنازع کھلاڑیوں کو ٹیم انتظامیہ میں عہدوں سے نواز دیا جاتا ہے، یوں جنہیں نئے کھلاڑیوں کو جوا بازی سے بچانا چاہیے، وہی انہیں ورغلانے کا سبب بن جاتے ہیں۔
پاکستانی کرکٹ کا دامن صرف فِکسنگ نہیں، گروہ بندی کی وجہ سے بھی داغ دار ہے۔ ایسے کھلاڑیوں کو نشانِ عبرت بنانے کے بجائے، گھما پھرا کر دوبارہ ٹیم میں شامل کر لیا جاتا ہے۔ گزشتہ بارہ برس میں دھڑے بندی کے دو بانی کھلاڑی آج بھی ٹیم کا حصہ ہیں۔ ان میں ایک نے کرکٹ کم، ذاتی مفاد کا کھیل زیادہ کھیلا، ہمیشہ اپنی کپتانی کے لیے۔ گھٹیا گروہ بندی کا نتیجہ ہم 2016 کے ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ میں بھی بھگت چکے ہیں۔ نیوزی لینڈ سے اہم ترین میچ ہارنے کے بعد کوچ وقار یونس دو بلے بازوں پر کیوں چیخے چنگھاڑے، جاننے والے سب جانتے ہیں۔ شعیب ملک پر 2010 میں ایک سال کی پابندی کیوں لگائی گئی تھی؟ یہ بھی کوئی بھید نہیں۔
کرکٹ بورڈ میں بھی عہدوں کی لوٹ سیل لگی ہے۔ چیئرمین کرکٹ بورڈ شہریار خان تراسی برس کے ہو چُکے، جِن کے لیے خود کو سنبھالنا مشکل ہو، وہ ٹیم اور پورا بورڈ کیسے سنبھال سکتے ہیں؟ اللہ اللہ کرکے چھ ماہ پہلے ہٹائے جانے والے ٹیم منیجر انتخاب عالم کی عمر پچھتر سال ہو چکی تھی، ان کی جگہ لینے والے وسیم باری بھی ماشااللہ 70ویں برس میں ہیں۔ بورڈ کی سربراہی میں کیسی انوکھی کشش ہے؟ ہر کوئی آخری سانس تک اس سے چمٹا رہنا چاہتا ہے، وہ بھی جِن کی سانس ایک بار پھول جائے تو بمشکل بحال ہوتی ہے۔ اسی معاملے پر نجم سیٹھی اور ذکا اشرف کے درمیان جنگِ عظیم پوری قوم دیکھ چکی۔ دنیا بھر میں ہماری سبکی ہوئی، آئی سی سی بھی چیختی چِلاتی رہی، کرکٹ کے کرتا دھرتا مگر اپنی مستی میں مست رہے۔ کرکٹ اب روایتی کم، جدید تکنیکی کھیل زیادہ بن چُکا۔ کھلاڑیوں کی صلاحیتیں نکھارنے سے ذہنی تربیت تک، اپنی ٹیم کی خوبیوں سے مخالف ٹیموں کی خامیوں کی تلاش
تک، سب کچھ سائنسی اور تکنیکی بنیادوں پر ہوتا ہے۔ اب کرکٹ کو صرف میچ فکسنگ نہیں، اسپاٹ فکسنگ اور جوئے کے جدید طور طریقوں پر مبنی چیلنجز کا سامنا بھی ہے۔ کیا ہمارے بورڈ کے ضعیف، ہانپتے کانپتے، چکراتے لڑکھڑاتے عہدیدار اِن چیلنجز سے نمٹ سکتے ہیں؟ جو سابق کھلاڑی بورڈ پر برسے، کوئی عہدہ دے کر اس کا منہ بند کرا دیا جاتا ہے، دو چار کے سِوا تنقید کرنے والوں کی اکثریت کا مقصد اصلاح نہیں، اپنی فلاح ہے۔ پچھلے پندرہ برس سے کرکٹ کے نام پر لالچ اور مفادات کا کھیل کھیلا جا رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ فتح اور عظمت کے نہیں، آئے روز ذِلت و رسوائی کے نِت نئے تمغے ہمارے سینے پر سج جاتے ہیں، جواری اور بورڈ کے حواری جیت جاتے ہیں، پوری قوم ہار جاتی ہے۔