"IYC" (space) message & send to 7575

بھارت چاروں جانب سے گھر چکا

یکم جون 2024ء کو بنگلہ دیش میں وزیراعظم شیخ حسینہ واجد کی پالیسیوں کے خلاف شروع ہونے والی تحریک کی قیادت وہاں کے طلبہ نے کی تھی۔ جن طلبہ نے تحریک کو لیڈ کیا انہوں نے فروری 2025ء میں نیشنل سٹیزن پارٹی (این سی پی) قائم کر لی۔ این سی پی نے ملک میں متبادل سیاسی قیادت کی بات کی لیکن ناقدین نے انہیں جماعتِ اسلامی کی بی ٹیم قرار دیا کیونکہ ایک تو اس نے اگلے ماہ ہونے والے انتخابات کے سلسلے میں جماعت اسلامی سے اتحاد قائم کر لیا ہے اور دوسرے این سی پی کے سیاسی نظریات جماعت اسلامی سے ملتے جلتے ہیں۔
یاد رہے کہ بنگلہ دیش کی البدر‘ الشمس اور جماعت اسلامی نامی تنظیموں نے 1971ء کے بحران میں متحدہ پاکستان کا نعرہ بلند کرتے ہوئے پاک فوج کا ساتھ دیا تھا اور اسی وجہ سے انہیں وہاں' رضا کار‘ قرار دیا جاتا ہے اور حسینہ واجد کی حکومت میں ان سے نفرت کی جاتی تھی‘ حتیٰ کہ حسینہ واجد نے عدالتوں کے ذریعے چن چن کر ایسے افراد کو سزائیں دلائیں اور انہیں پھانسی چڑھایا جنہوں نے سقوط ڈھاکہ سے پہلے پاک فوج کا ساتھ دیا تھا‘ یعنی رضا کار قیادت کو۔ آپ کو یاد ہو گا کہ بنگلہ دیش میں 2024ء میں احتجاج کا آغاز کوٹہ سسٹم کے خلاف ہوا تھا۔ بنگلہ دیش میں سرکاری ملازمتیں کوٹہ سسٹم کے تحت دی جاتی رہی ہیں۔ وہاں سرکاری ملازمتوں میں 56 فیصد نوکریاں مختلف کیٹیگریز میں تقسیم کی جاتی تھیں اور اس 56 فیصد میں سے 30 فیصد کوٹہ 1971ء کی جنگ میں بنگلہ دیش کی جانب سے حصہ لینے والوں کی اولادوں اور آگے ان کی بھی اولادوں کے لیے مختص تھا جبکہ 44 فیصد سرکاری نوکریاں اوپن میرٹ پر دی جاتی تھیں۔ 2024ء میں طلبہ اسی ناجائز کوٹہ سسٹم کے خلاف احتجاج کر رہے تھے جب ایک روز حسینہ واجد نے غصے میں یہ کہہ دیا کہ اگر کوٹہ مکتی یودھا یعنی بنگلہ دیش کی جنگ آزادی میں حصہ لینے والوں کو نہیں دینا تو کیا یہ کوٹہ رضا کاروں کو دے دیں؟ یہ ان کا بنگلہ دیش میں الشمس اور البدر کے گروپوں جماعت اسلامی اور بہاری کمیونٹی کی طرف طنزیہ اشارہ تھا لیکن ان کے کہے گئے اس ایک فقرے نے پورے بنگلہ دیش میں ایسی آگ لگائی‘ ایسا غم و غصہ پیدا کیا کہ حسینہ واجد کو وزارت عظمیٰ چھوڑ کر اور جان بچا کر ملک سے فرار ہونا پڑا۔ وہ اس وقت بھارت میں اپنے محسن نریندر مودی کی پناہ میں ہیں۔ انقلاب کے بعد بنگلہ دیش کے طلبہ کئی روز تک سڑکوں پر کھڑے ہو کر توئی کے آمی کے رجا کار رجا کار (تم کون میں کون رضا کار رضا کار) کے نعرے بلند کرتے رہے تھے۔
اب اس این سی پی اور جماعت اسلامی کے ایک دوسرے کے قریب آنے پر سب سے زیادہ لرزہ نریندر مودی حکومت پر طاری ہے کیونکہ اگر یہ اتحاد کامیاب ہو کر بنگلہ دیش میں برسر اقتدار آ گیا تو بھارت کا بنگلہ دیش میں کردار مکمل طور پر اور شاید ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائے گا۔ ایسے حالات میں بھارت کو مغرب کے علاوہ اپنی مشرقی سرحد پر بھی ایک کبھی نہ ختم ہونے والے دباؤ کا سامنا کرنا پڑے گا۔ بھارت کی جانب سے بنگلہ دیش میں طلبہ رہنماؤں کو اسی لیے تاک تاک کر نشانہ بنانے کی دھمکی دی گئی اور اس دھمکی پر کسی حد تک عمل درآمد بھی شروع ہو چکا ہے۔ بنگلہ دیش میں بھارت کے خلاف نفرت کا اندازہ تو آپ نے لگا لیا‘ بھارت میں بھی بنگلہ دیش کے خلاف نفرت کم نہیں ہے اور یہ آگ بجھتی نظر نہیں آتی۔ اندازہ اس بات سے لگائیں کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کے رہنما سنگیت سوم نے بالی وڈ کے معروف اداکار شاہ رخ خان کو انڈین پریمیئر لیگ (آئی پی ایل)کی اپنی ٹیم کولکتہ نائٹ رائیڈرز کے لیے بنگلہ دیش کے ایک کھلاڑی کو خریدنے پر غدار قرار دے دیا ہے اور انہیں نقصان پہنچانے پر انعام کا اعلان بھی کیا گیا ہے۔
دراصل ہوا یہ ہے کہ اپنے پڑوسی ممالک پر اپنی دھونس جمانے اور ان پر اپنی چودھراہٹ قائم کرنے کے چکر میں بھارت نے خود اپنا ہی بیڑا غرق کر لیا ہے۔ 78 برسوں میں بھارت کا اقتدار سنبھالنے والی ساری بھارتی قیادت خصوصاً موجودہ وزیر اعظم نریندر مودی کی ہٹلریت نے بھارت کو اس نہج پر لا کھڑا کیا ہے کہ اس کے ایک طرف پاکستان ہے جسے بھارتی قیادت نے کبھی دل سے قبول نہیں کیا‘ نہ امن اور سکون کے ساتھ رہنے دیا ہے۔ مشرق کی طرف بنگلہ دیش اور شمال کی طرف چین اور نیپال ہیں جن کے ساتھ بھارت کے تعلقات کبھی اطمینان بخش نہیں رہے۔ شمال ہی میں ہمالیہ کے طویل پہاڑی سلسلے ہیں اور جنوب اور مشرق کی جانب ہمالیہ سے وسیع و عریض سمندر ہے۔ رہی سہی کسر بھارت میں انتہا پسند ہندتوا نے پوری کر دی ہے جس کے ہاتھوں مسلمانوں سمیت کوئی بھی اقلیت محفوظ نہیں ہے۔ اس حوالے سے تکلیف دہ واقعات ہر دوسرے چوتھے روز منظر عام پر آتے رہتے ہیں۔ ان حالات میں بھارتی چودھراہٹ کے پاس ایک ہی راستہ باقی بچتا ہے کہ ملک کے ٹکڑے ٹکڑے کر دے‘ کئی آزاد ریاستیں بنا دے اور خود جا کر سمندر میں غرق ہو جائے یا پھر ہمالیہ سے سر ٹکرا ٹکرا کر اپنی موت آپ مر جائے کہ استبداد کے لیے اب روئے ارض پر کوئی جگہ باقی نہیں بچی ہے۔
بھارت کے لیے ایک اور راستہ بھی ہو سکتا ہے اور وہ راستہ ہے جیو اور جینے دو کی پالیسی اختیار کرنا‘ خود امن سے رہنا اور دوسروں کو بھی سکون کے ساتھ آگے بڑھنے کے مواقع فراہم کرنا۔ بھارت کے اندر کے معاملات کو ٹھیک کرنا اور دوسرے ممالک کے داخلی معاملات میں مداخلت نہ کرنا۔ اس حقیقت سے کوئی بھی پڑوسی ملک انکار نہیں کرے گا کہ بھارت اس خطے کا ایک بڑا ملک اور ایک بڑی معیشت ہے‘ لیکن اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں ہو سکتا کہ آس پاس کے سارے ممالک بھارت کے باجگزار بن جائیں۔ بھارت کے ساتھ اچھے تعلقات ضرور رکھے جا سکتے ہیں‘ باہمی تجارت بھی کی جا سکتی ہے‘ عوام کو ایک دوسرے کے ہاں آنے جانے کے لیے اچھی اور سہل سفری سہولیات بھی مہیا کی جا سکتی ہیں‘ لیکن بھارت کی بالا دستی کسی صورت‘ کسی طور قبول نہیں کی جا سکتی۔ ذرا سوچیے کہ اگر ایسا ہو جائے یعنی بھارت راہِ راست پر آ جائے تو جنوبی ایشیا کا یہ پورا خطہ جنت نظیر بن جائے۔ یہاں یورپی یونین کی طرز پر ایشیائی یونین بن جائے اور پاکستان کے سیاحت میں دلچسپی رکھنے والوں کو بھارت بنگلہ دیش اور اس سے آگے میانمار اور تھائی لینڈ تک جانے میں کوئی رکاوٹ باقی نہ رہے۔ بھارت میں سیاحت کے لیے آنے والوں کو پورے خطے کے کسی بھی ملک میں جانے کے لیے مزید کسی پرمٹ کی ضرورت نہ رہے۔ لیکن ایسا تبھی ممکن ہو سکتا ہے جب بھارت ہندتوا سے اپنی جان چھڑائے‘ انتہا پسندی کو ترک کرے‘ اپنے ہاں بسنے والی اقلیتوں کو ان کے پورے حقوق دے‘ پڑوسی ممالک کے ساتھ تمام سرحدی تنازعات ختم کر دے‘ دہشت گردوں کو فنڈز کی فراہمی بند کر دے‘ سارک جیسی اہم اور دور رس نتائج و اثرات کی حامل تنظیم کو آگے بڑھنے کا راستہ فراہم کرے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ مسئلہ کشمیر پر ڈھٹائی کا مظاہرہ کرنے اور خود فیصلے کرنے کی بجائے وہاں کے عوام کو یہ فیصلہ کرنے دے کہ وہ بھارت اور پاکستان میں سے کس کے ساتھ شامل ہونا چاہتے ہیں۔ لیکن یہ محض ایک سوچ‘ ایک خواہش اور ایک تمنا ہے جس کا پورا ہونا محال نظر آتا ہے۔ لہٰذا بھارتی قیادت کے پاس آنے والے وقت میں وہ پہلے والا آپشن ہی باقی بچے گا جس کا ذکر میں نے سطورِ بالا میں کیا ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں