"IYC" (space) message & send to 7575

اگر ایران پر حملہ ہوا

ذوالفقار علی بھٹو نے اپنی قید کے آخری دنوں میں جیل کے اندر کچھ نوٹس لکھے تھے۔ یہ نوٹس بعد میں کتابی شکل میں شائع کیے گئے۔ کتاب کا عنوان تھا '' اگر مجھے قتل کیا گیا‘‘۔ اس کتاب میں ذوالفقار علی بھٹو نے اپنا اور اپنی حکومت کا مقدمہ پیش کیا تھا کہ انہیں غلط طور پر وزارتِ عظمیٰ سے ہٹایا گیا۔ اس بات کو ایک طرف رکھ دیں کہ انہوں نے درست بات کی یا غلط‘ لیکن اس حقیقت کو اٹھا کر ایک طرف نہیں رکھا جا سکتا کہ منتخب حکومتوں اور حکمرانوں کو بار بار ہٹائے جانے کا خمیازہ ہم بطور ایک قوم اب تک بھگت رہے ہیں۔ یہ بات بھی نظر انداز نہیں کی جا سکتی کہ منتخب حکومتوں کی ٹانگیں کھنچنے اور بار بار مارشل لاء لگوانے کے ذمہ دار سیاستدان اور سیاسی جماعتیں ہی تھیں۔ وہ اگر صبر و تحمل کی سیاست کرتے تو آج شاید ملک کی تاریخ مختلف ہوتی۔ ان کی طالع آزمائی نے نقصان کسے پہنچایا؟ ریاست کو‘ جمہوری نظام کو اور جمہور کو۔
آج اسی تناظر میں ملک سے نظریں ہٹا کر دنیا کی بات کرتے ہیں۔ ایران میں احتجاجی مظاہروں پر قابو پا لیا گیا ہے اورصورت حال چند روز پہلے کی نسبت بہتر ہے‘ پھر بھی امریکی انتظامیہ کی جانب سے ایران پر حملے کے بیانات بار بار سامنے آ رہے ہیں۔ امریکی میڈیا مسلسل کہہ رہا ہے کہ صدر ٹرمپ ایران پر زور دار اور فیصلہ کن حملہ چاہتے ہیں اور وہ طویل جنگ کے بجائے مختصر لیکن فیصلہ کن کارروائی چاہتے ہیں۔ ایک برطانوی خبر رساں ایجنسی کے مطابق امریکہ ایران میں 50 اہداف کو نشانہ بنا سکتا ہے‘ جن میں پاسدارن انقلاب کا ہیڈ کوارٹر بھی شامل ہے۔ فہرست میں ایرانی فوج کے 23اڈوں کی بھی نشاندہی کی گئی ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے خبردار کیا کہ جون جیسی غلطی نہ دہرائی جائے ورنہ وہی نتیجہ نکلے گا جو پہلے نکلا تھا۔ انہوں نے کہا: ہمارے عزم کو بمباری سے نہیں توڑا جا سکتا۔
دوسری جانب اسرائیلی میڈیا کے مطابق اسرائیلی آرمی چیف نے فوری دفاعی تیاریوں کا حکم دے دیا ہے‘ چنانچہ اسرائیل کے مختلف علاقوں میں بم شیلٹر کھلنا شروع ہو گئے ہیں۔ اسرائیل توقع کر رہا ہے کہ امریکہ ایران پر حملوں سے قبل وارننگ دے گا‘ بلکہ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے تو صدر ٹرمپ سے یہ کہا ہے کہ وہ ایران پر حملہ نہ کریں۔ آپ یہ سن کر حیران ہوں گے کہ خود ایران کو جنگوں اور حملوں کا نشانہ بنانے والا اسرائیل امریکہ کو ایران پر حملہ نہ کرنے کا کیسے کہہ سکتا ہے؟ تو اس کی وجہ وہ خوف ہے جو نیتن یاہو کو لاحق ہے۔ خوف یہ ہے کہ اگر امریکہ نے ایران پر حملہ کیا تو ایران بدلے میں اپنے میزائلوں سے اسرائیل کا تورا بورا بنا دے گا۔ ایرانی انٹیلی جنس حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ پاسدارانِ انقلاب نے اپنے ہائپر سونک میزائلوں پر اسرائیل کے آٹھ بڑے شہروں کے ٹارگٹ سیٹ کر دیے ہیں اور امریکہ کی جانب سے حملے کی صورت میں ایران اسرائیل کے تمام بڑے شہروں پر ہائپر سونک میزائلوں کی بوچھاڑ کر دے گا۔
اگرچہ جہاں امریکہ کے ایران پر حملے کی خبریں آ رہی ہیں وہاں یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ کچھ عرب ممالک کے سمجھانے پر اور کچھ صورتحال کو دیکھ کر صدر ٹرمپ نے فی الحال ایران پر حملہ نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے لیکن قارئین جانتے ہیں کہ ایسے ہی دعوے امریکی صدر ٹرمپ گزشتہ برس جون میں ایران پر حملے سے پہلے بھی کرتے رہے تھے۔ غیر متوقع اقدامات امریکی عسکری حکمتِ عملی کا اہم حصہ ہوتے ہیں۔ اس لیے عین ممکن ہے کہ صورتحال کو جان بوجھ کر غیر واضح رکھا جا رہا ہو اور پھر اچانک پتا چلے کہ حملہ کر بھی دیا گیا ہے۔ خلیجی ممالک کی جانب سے ٹرمپ کو ایران پر حملے سے باز رہنے کے لیے اس لیے کہا گیا ہے کہ انہیں خدشہ لاحق ہے کہ ایران پر امریکی حملہ نہ صرف تیل کی عالمی قیمتوں میں بے تحاشا اضافے کا باعث بنے گا بلکہ خلیجی ریاستوں کی سرمایہ کاری اور تجارت کے محفوظ مراکز کے طور پر قائم کردہ ساکھ کو بھی نقصان پہنچائے گا‘ اس کے ساتھ ساتھ ایران کی جانب سے جوابی کارروائی کا خطرہ بھی لاحق ہے۔
اب بھی میڈیا رپورٹیں سامنے آ رہی ہیں کہ ایران کے ساتھ کشیدگی کے تناظر میں امریکہ نے مشرقِ وسطیٰ میں جنگی طیاروں‘ میزائل اور جہاز وں کا ایک گروپ بھیجا ہے۔ یوں یہ کہا جا سکتا ہے کہ امریکہ نے ممکنہ طور پر ایران کی جانب پیش قدمی کے لیے مشرقِ وسطیٰ میں صف بندی شروع کر دی ہے۔ پینٹاگون نے بتایا ہے کہ جنوبی چین کے سمندر سے یو ایس ایس ابراہام لنکن (CVN-72) نامی طیارہ بردار جنگی بیڑے کو مشرقِ وسطیٰ کی جانب بھیجا ہے۔ جنوبی چین کے سمندر میں پہلے سے موجود امریکی طیارہ بردار جنگی بیڑا ممکنہ طور پر امریکی سنٹرل کمان(CENTCOM) کے لیے استعمال ہو گا۔ مشرقِ وسطیٰ بھیجے گئے اس جنگی بیڑے میں ایک ایئرکرافٹ کیریئر کے ساتھ تیر بہ ہدف میزائل کروز‘ تباہ کن جہاز اور دیگر جنگی کشتیاں شامل ہیں۔
گزشتہ برس جون میں امریکہ کی جانب سے ایران پر جو حملہ کیا گیا وہ ایک الگ تناظر میں تھا‘ اور اب ممکنہ حملہ کے سیاق و سباق کچھ الگ نوعیت کے نظر آتے ہیں۔ امریکہ ایران میں رجیم چینج چاہتا ہے اور 1979ء کے انقلابِ ایران کے بعد سے اب تک اس کی یہی کوشش رہی ہے کہ وہاں وہی رضا شاہ پہلوی والی یا اس جیسی حکومت قائم ہو جائے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اس بار امریکہ کی جانب سے ایران پر حملہ ہوا تو وہ زیادہ شدید‘ دو ٹوک اور فیصلہ کن ہو سکتا ہے اور یہ بات بالکل واضح ہے کہ اگر ایسا ہوا تو پھر اس کے بعد مشرقِ وسطیٰ کبھی پہلے جیسا مشرقِ وسطیٰ نہیں بن سکے گا کیونکہ یہاں سب کچھ تبدیل ہو جائے گا۔ پہلی بات یہ ہے کہ ایران میں اگر پرو امریکہ یا پرو اسرائیل حکومت بن گئی تو خطے کے عرب ممالک کے لیے نئے مسائل کھڑے ہو جائیں گے۔ دوسری بات یہ ہے کہ امریکہ اگر ایران کو راستے سے ہٹانے میں کامیاب ہو گیا تو مشرقِ وسطیٰ میں گریٹر اسرائیل کے قیام کی راہ میں کوئی رکاوٹ باقی نہیں رہے گی‘ اور گریٹر اسرائیل کے قیام کا عرب دنیا کے لیے کیا مطلب‘ کیا مقصد اور کیا نتیجہ نکل سکتا ہے‘ اس کے بارے میں کسی کو کوئی شبہ نہیں ہونا چاہیے۔ شاید اسی لیے پاکستان کی جانب سے بار بار یہ کہا جا رہا ہے کہ جنگ مسئلے کا حل نہیں اور معاملات کو بات چیت اور مذاکرات کے ذریعے طے کرنے کی کوشش کی جانی چاہیے۔
آگے کیا ہوتا ہے یہ تو اللہ ہی بہتر جانتا ہے لیکن میرے خیال میں ایران پر امریکی حملہ رکوانے کے لیے جتنی کوششیں ہو رہی ہیں وہ کم ہیں۔ عالمی برادری کی جانب سے اس سے زیادہ تیز‘ مؤثر اور سرگرم کوششوں کی اشد ضرورت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کیونکہ اگر ایران امریکہ جنگ کے نتیجے میں مشرقِ وسطیٰ پہلے جیسا نہیں رہتا تو یقینی طور پر باقی دنیا بھی ماضی والی دنیا نہیں رہے گی۔ بہت کچھ تبدیل ہو جائے گا۔ واپس نہیں لوٹا جا سکے گا۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں