نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- وزیراعظم کی صدارت میں میکرواکنامک مشاورتی گروپ کااجلاس
  • بریکنگ :- پاکستان کےمعاشی اشاریےاورزرمبادلہ کےذخائرمستحکم ہیں،وزیراعظم
  • بریکنگ :- حکومت نےگزشتہ حکومت کےمعاشی مسائل حل کیے،وزیراعظم
  • بریکنگ :- کوروناسےپیدامعاشی مشکلات کابہترطریقےسےمقابلہ کیا،وزیراعظم
  • بریکنگ :- ملکی معیشت پائیدارترقی کی طرف گامزن ہے،عمران خان
  • بریکنگ :- بڑےپیمانےکی صنعتی پیداواربتاتی ہےکہ ملک ترقی کررہاہے،وزیراعظم
  • بریکنگ :- برآمدات میں اضافہ معاشی پالیسیوں کےدرست سمت میں ہونےکی دلیل ہے،وزیراعظم
  • بریکنگ :- معاشی ترقی گزشتہ مالی سال سےزیادہ ہونےکی امیدہے،وزیراعظم
  • بریکنگ :- وزیراعظم نےمعاشی مشاورتی گروپ کےارکان کی تجاویزکاخیرمقدم کیا
  • بریکنگ :- وزیراعظم کی معاشی ریلیف عوام تک جلدپہنچانےکیلئےاقدامات اٹھانےکی ہدایت
Coronavirus Updates
"KSC" (space) message & send to 7575

’’خونِ ناحق‘‘

دنیا کا بڑے سے بڑا ہیرو زیرو بن جاتا ہے‘ اگر اس کے دامن پر خونِ ناحق کے چھینٹے ایسے بکھرے ہوں کہ جیسے بارش کے بعد قوس و قزح آسمان پر۔
شہباز شریف صاحب اپنی تمام تر فراست و دیانتداری کے باوجود‘ اپنی حکومت اور ماتحت پولیس کی گولیوں سے بہنے والے خونِ ناحق کا دفاع اس دنیائے عالم میں تو کر سکتے ہیں مگر عرش کی عدالت میں جب وہ حاضر ہوں گے تو انصاف کا پیمانہ ان کے عہدے و طاقت سے متاثر نہ ہو گا۔ انصاف کے میدان میں وہ برابر تولے جائیں گے اور ان کے مقابل 14 لاشوں کا وزن ہو گا۔ وہ ترازو جو حق کے نیزے پر دونوں پلڑوں کو لئے کھڑا ہوگا‘ وہاں خادمِ اعلیٰ کی نیک سیرت اور نیک کارنامے دھندلا جائیں گے کہ جسٹس باقر نجفی کی رپورٹ میں ان کی طرف انگلی ہی نہیں‘ پورا ہاتھ اٹھ گیا ہے۔
کورٹ کے حکم پر سانحہ ماڈل ٹائون کی جس رپورٹ کو حکومت نے پچھلے ہفتے شائع کیا‘ یہ وہی رپورٹ ہے جو پچھلے ڈھائی سالوں سے میں آپ کے سامنے پیش کرتا آ رہا ہوں۔ جب پہلی مرتبہ میں نے اس رپورٹ کو پڑھا تو پڑھ کر افسوس ہوا تھا مگر آج ‘ اس رپورٹ کو پڑھنے کے بعد دل رنجیدہ ہے۔ عوام کی جان و مال کے تحفظ کا حلف اٹھانے والے وزیراعلیٰ عام تماشائی کی طرح 5 گھنٹے تک ٹی وی سکرین پر لاشیں گرتی دیکھتے رہے۔ وہ شاید لاچار اور بے بس تھے۔ نہ ان کے ضمیر نے انہیں مجبور کیا‘ نہ ان کی آنکھیں ایسے دل خراش نظارے سے بھر آئیں۔
وہ دیکھتے رہے‘ انسان مرتے رہے۔ آج رپورٹ آنے کے بعد بھی وزیراعلیٰ اور ان کی حکومت نہ خود کو اس جرم کا قصوروار سمجھتے ہیں اور نہ ہی وہ اس خون کی ہولی پر معافی مانگنے کو تیار ہیں۔ الٹا خادمِ اعلیٰ اور ان کی صوبائی و وفاقی حکومت‘ ڈنکے کی چوٹ پر ماڈل ٹائون میں ہونے والے سرکاری قتل کا دفاع کرتے ہیں۔
درج ذیل کچھ پیرا گراف اس مکالمے کا خلاصہ ہیں جو میرے اور ایک حکومتی وزیر کی مابین‘ سانحہ ماڈل ٹائون کی رپورٹ شائع کرنے کے بعد ہوا۔
''کامران شاہد: مجھے اچھی طرح یاد ہے پچھلے ڈھائی سالوں میں‘ مَیں آپ کو ماڈل ٹائون رپورٹ کا conclusion پڑھ پڑھ کر سناتا رہا۔ میں آپ کو بتاتا رہا کہ سانحہ ماڈل ٹائون کے تناظر میں وزیراعلیٰ کے بیان حلفی میں تضاد ہے۔ یہ رپورٹ میں لکھا ہوا ہے کہ وزیراعلیٰ تماشائی بن کر دیکھتے رہے اور ان کے صوبے میں لوگ قتل ہوتے رہے۔ میں آپ کو بتاتا رہا کہ عدالت نے پوری ذمہ داری ایگزیکٹو اتھارٹی پر ڈال دی ہے۔ پولیس نے وہی کچھ کیا جس کا اس کو حکم دیا گیا تھا لیکن آپ ایک ہی دلیل دیتے رہے کہ پتا نہیں یہ آپ کس رپورٹ کی بات کر رہے ہیں۔ جب وہ رپورٹ آئے گی تو دیکھیں گے۔ لیں جناب! وہ رپورٹ آ گئی اور من و عن وہی آئی جو ہم نے بتائی تھی۔ کیا آج آپ وزیراعلیٰ پنجاب کے استعفے اور ان پر فرد جرم عائد کرنے کے مطالبات کریں گے؟
وزیر: اس رپورٹ کے بارے میں آپ مجھے ایک سال سے بتا رہے ہیں‘ اس کا نام ہی ''کامران شاہد رپورٹ‘‘ ہونا چاہیے۔ گزارش یہ ہے کہ رپورٹ میںکچھ چیزیں ایسی ہیں جن کے بارے میں ہمارے تحفظات ہیں۔ پوری دنیا میں ایک Shoot to kill کا آرڈر ہوتا ہے لیکن یہ آرڈر پولیس کے پاس نہیں تھا کہ آپ دیکھتے ہی فائرکر دیں۔
کامران شاہد: رپورٹ میں یہ لکھا ہوا ہے کہ
"The action of police of firing and severly beating the people at the crime scene is irrefutably suggested that police did exactly for which they were sent and gatehred over there."
جنابِ والا رپورٹ کی یہ سطریں پڑھ لیں اور عوام کو اس رپورٹ سے متعلق گمراہ نہ کریں۔ 
وزیر: ہمیں لوگوں کو مارنے سے فائدہ کیا ہونا تھا؟ سوائے اپنے گلے میں مصیبت ڈالنے کے‘ ایک فائدہ بتا دیں جو ہماری جماعت کو ہوا ہو؟ بطورِ حکومت ہم نے ایسا آرڈر نہ کبھی دیا اور نہ دے سکتے ہیں۔ آپریشن کے فیصلے کا مطلب ہے کہ بیریئرز آپ نے ہٹانے ہیں‘ آپ نے مظاہرین کو یہاں روکنا ہے‘ یہاں آپ نے آنسوگیس پھینکنی ہے‘ آپ نے املاک کو بچانا ہے۔ یہ ہوتا ہے آپریشن کا فیصلہ اور اس آپریشن کے دوران اگر پولیس کوئی ایسا کام کرتی ہے تو وہ آرڈر نہیں ہوتے۔
کامران شاہد: قانونی بیریئرز جو ہائیکورٹ کے حکم سے وہاں لگے ہوئے تھے‘ پولیس کی ہمت کس طرح ہوئی وہاں اکٹھے ہونے کی؟ پولیس کو مینڈیٹ کس نے دیا؟ وہ قانونی بیریئرز 2011ء سے وہاں موجود تھے۔ پولیس وہاں کیوں گئی؟
وزیر: اس کا بہت آسان جواب ہے۔ پہلی بات یہ ہے کہ ان بیریئرز پر عدالت کا اگر کوئی سٹے آرڈر تھا تو اس کا مطلب ہے کہ بیریئرز متنازع تھے۔ اگر کسی عمارت پر سٹے ہوتا ہے تو اس کا مطلب ہے کہ معاملہ litigation میں ہے۔ اگر پولیس نے سٹے آرڈر کے باوجود کارروائی کی تو غلط کیا۔
کامران شاہد: آپ نے کہا وہ غیر قانونی بیریئرز کا معاملہ تھا۔ میں رپورٹ میں لکھا ہوا آپ کے سامنے پیش کرتا ہوں۔
"Dr. Touqeer Shah also consented on behalf of the Chief Minister Punjab for the removal of barriers. It also came on the surface that the participants were in knowledge of the orders passed by Lahore High Court in I.C.A No.155/2011 and no legal opinion from Advocate General Punjab was sought prior to the decision to start the operation."
یہ آپریشن جب ہوا تو وزیراعلیٰ پنجاب کے نوٹس میں تھا کہ یہ بیریئرز قانونی ہیں۔ اور اگر انہیں اس عدالتی حکم کے بارے میں پتا تھا تو انہیں محض اس بات پر بھی استعفیٰ دے دینا چاہئے کہ اتنی بڑی انفارمیشن سے وہ غافل تھے۔
وزیر: جہاں تک عدالتی فیصلے کا تعلق ہے‘ اگر عدالت نے کوئی حکم دیا تھا تو وہاں ایکشن بالکل نہیں کرنا چاہئے تھا۔ جو بات حقیقت ہے اس کو جھٹلایا نہیں جا سکتا۔ میں آپ کی بات سے اتفاق کرتا ہوں لیکن اصل صورتحال کیا تھی، اس سٹے آرڈر کی کیا پوزیشن تھی؟ اس پر مزید انکوائری ہو سکتی ہے۔ مزید حقائق بھی سامنے آ سکتے ہیں۔
جہاں تک میں اپنی پارٹی لیڈرشپ کو جانتا ہوں وہ کسی بھی عدالت کے سٹے آرڈر کی خلاف ورزی کا کہہ بھی نہیں سکتی۔ ویسے بھی یہ ایک انکوائری رپورٹ ہے اور اس پر مزید تحقیقات ہو سکتی ہیں۔ انکوائری رپورٹ میں رائے تبدیل ہوتی رہتی ہے۔
کامران شاہد: آپ ایمانداری سے میری ایک بات کا جواب دیں۔ پانچ گھنٹے تک ٹی وی پر‘ لوگوں کو مارتے ہوئے دکھایا جا رہا تھا اگر وزیراعلیٰ پنجاب کا صرف ایک فون چلا جاتا تو سب رک جاتا۔ مگر پانچ گھنٹے تک لاشیں گرتی رہیں اور وہ دیکھتے رہے۔ کیا یہ ان کے مستعفی ہونے کے لئے کافی نہیں ہے؟
وزیر: اگر شہباز شریف صاحب کا بیان حلفی موجود ہے کہ میں نے پولیس کو پیچھے ہٹنے کیلئے کہا تھا تو آپ اس بات کو جھٹلا نہیں سکتے۔ لیکن میں اس بات کو مزید واضح کر دیتا ہوں اگر پانچ گھنٹے وزیراعلیٰ کے سامنے فائرنگ ہوتی رہی، بندے مرتے رہے اور انہوں نے کوئی آرڈر نہیں دیا تو یہ انہوں نے زیادتی کی... لیکن اگر انہوں نے پولیس کو پیچھے ہٹنے کا کہا تو پھر ہمیں وزیراعلیٰ کی بات بھی ماننا پڑے گی...
کامران شاہد: میچ میں امپائر کا فیصلہ حتمی ہوتا ہے، امپائر آپ نے خود لگایا اور وہی معزز جج کہہ رہے ہیں کہ وزیراعلیٰ نے پولیس کو عام لوگوں پر گولیاں برسانے سے پیچھے ہٹنے کا حکم کبھی نہیں دیا۔‘‘
وزیر موصوف سے میرا مکالمہ یہاں ختم ہوا۔ دفاع اور دلیل کی جنگ تو البتہ قیامت تک چلتی رہے گی۔ ہاں! مگر خون ناحق کے جو چھینٹے ماڈل ٹائون کی زمین کو رنگین کر گئیں‘ ان قطروں کی مہک مجرموں کے تن سے آتی رہے گی‘ یہاں تک کہ انصاف ہو جائے۔

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں