نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- ملک میں 2 ایل این جی ٹرمینلز کام کررہےہیں،محمد زبیر
  • بریکنگ :- ایل این جی کے2 ٹرمینلز ہم نے لگائے،محمد زبیر
  • بریکنگ :- حکومت نوازشریف کاشکریہ اداکرے جنہوں نے یہ منصوبہ شروع کیا،محمد زبیر
  • بریکنگ :- پورٹ قاسم میں بجلی کے2 منصوبے ہم نے مکمل کیے،محمد زبیر
  • بریکنگ :- ن لیگ کےاقدامات کی وجہ سے کراچی میں امن آیا،محمد زبیر
  • بریکنگ :- حکومت کہتی ہے کوویڈ کی وجہ سےبسوں میں تاخیر ہوئی،محمد زبیر
  • بریکنگ :- ہمیں زبردستی ہٹایا نہ جاتاتوکراچی کیلئے بہت زیادہ بسیں آتیں،محمد زبیر
  • بریکنگ :- حکومت نے3 سال میں صرف 40 بسیں منگوائیں،محمد زبیر
  • بریکنگ :- گرین لائن منصوبہ ہماری حکومت نےشروع کیاتھا،محمد زبیر
  • بریکنگ :- امن آنے کےبعد ن لیگ نے کراچی میں بڑے منصوبے شروع کیے،محمد زبیر
Coronavirus Updates
"KMK" (space) message & send to 7575

اڑتیس سال بعد

پاکستان کی سیاست میں اخلاقیات اور اعلیٰ اقدار کی بات ہو تو دو چار واقعات کے بعد ''تلوں‘‘ سے تیل ختم ہو جاتا ہے۔ ہماری پارلیمانی تاریخ میں صرف اپنی ایک اخلاقی جرأت کے طفیل سید فخر امام کا نام ایک با اصول سیاستدان کے طور پر ہمیشہ زندہ رہے گا۔ لوگوں کو اب بھی یاد ہے اور آئندہ بھی یہ بات یاد رہے گی کہ سید فخر امام نے ضلع کونسل ملتان کے چیئرمین کا الیکشن ہارنے کے بعد بطور مرکزی وزیر بلدیات اپنی وزارت سے استعفا دے دیا تھا۔لوگوں کو یہ بات قطعاً یاد نہیں رہے گی کہ بطور کرایہ دار سید فخر امام اپنی آفیسرز کالونی ملتان والے گھر کے مالک کیسے بنے‘لیکن بطور سیاست دان شکست کے بعد ان کے وزارت سے دئیے جانے والے استعفے کی یاد ہماری سیاسی تاریخ کے روشن باب کے طور پر فروزاں رہے گی۔
کرایہ دار سے مالک مکان بننے کا قصہ پھر کبھی سہی‘ فی الحال تو ان کے استعفے کی بات کرتے ہیں۔ اب مجھے ووٹوں کی تعداد تو ٹھیک طرح یاد نہیں، لیکن باقی واقعات تقریباً تقریباً پوری طرح سے یاد ہیں۔ 1983ء میں ضلع کونسل ملتان کے چیئرمین کا الیکشن تھا۔ ایک طرف سید فخر امام اور دوسری طرف سید یوسف رضا گیلانی تھے۔ سید فخر امام کے ساتھ بطور وائس چیئرمین نواب لیاقت تھا اور سید یوسف رضا گیلانی کا وائس چیئرمین کا امیدوار ظفر ہراج تھا۔ الیکشن رضا ہال، جو ضلع کونسل کی عمارت ہے، میں ہو رہا تھا۔ فریقین اپنے اپنے حواریوں اور ووٹرز کے ہمراہ ضلع کونسل کی عمارت میں پہنچے۔ سید فخر امام اور سید یوسف رضا گیلانی کے ساتھ ان کے حامی ممبران ضلع کونسل بھی تھے۔ یہ ممبران ضلع کونسل ان کے ووٹرز بھی تھے اور گروپ کا حصہ بھی۔
جیسا کہ میں نے پہلے کہا ہے، اب مجھے فریقین کے حامی ارکان ضلع کونسل کی تعداد پوری صحت کے ساتھ یاد نہیں۔ فرض کر لیں کہ سید فخر امام کے ساتھ انتیس ارکان تھے اور سید یوسف رضا گیلانی کے ہمراہ رضا ہال میں آنے والے ارکان ضلع کونسل کی تعداد ستائیس تھی۔ یعنی فخر امام کے ہمراہ آنے والے ارکان ضلع کونسل کی تعداد سید یوسف رضا کے ساتھ آنے والے ان کے حامی ارکان ضلع کونسل سے دو عدد زائد تھی۔ کسی اخباری رپورٹر نے یوسف رضا گیلانی سے پوچھا کہ آپ کے حامی ووٹروں کی تعداد فخر امام کے ساتھ آنے والے ووٹروں سے کم ہے تو آپ کا کیا خیال ہے کہ آپ یہ الیکشن ہار نہیں جائیں گے؟ یوسف رضا گیلانی مسکرائے، پھر سید فخر امام کے ساتھ آنے والے ارکان ضلع کونسل کی طرف اشارہ کر کے کہنے لگے: ان میں دو لوگ ہمارے ہیں۔ انتخابی سیاست میں وعدے، قسمیں، یقین دہانیاں اور حلف وغیرہ جنوبی پنجاب کی سیاست کا حصہ ہیں اور اپنے وعدوں، قسموں، یقین دہانیوں اور حلف سے بھاگ جانے کی روایت بھی بڑی پرانی ہے؛ تاہم اس وقت سید یوسف رضا گیلانی کے دعوے کو زیادہ سنجیدگی سے نہ لیا گیا کہ ہمارے ہاں کوئی بھی سیاستدان اپنی عددی کمزوری کا اعتراف نہیں کرتا اور اپنی ہار کو دھاندلی، بے ایمانی، چمک اور نادیدہ قوتوں کے ذمے تھوپ کر بری الذمہ ہو جاتا ہے۔ اس وقت یوسف رضا گیلانی کی دو ارکان والی بات کو بھی اسی تناظر میں دیکھا گیا۔
پہلے ضلع کونسل کے چیئرمین کا الیکشن ہوا اور اس کا نتیجہ سید یوسف رضا کے دعوے کے مطابق آیا۔ فخر امام ہال میں اپنے انتیس حامیوں کے ہمراہ آئے اور ان کے ووٹ ستائیس نکلے جبکہ سید یوسف رضا گیلانی ستائیس ارکان ضلع کونسل کے ہمراہ آئے اور ان کے ووٹ انتیس نکلے۔ یعنی سید یوسف رضا گیلانی کا یہ کہنا 'کہ سید گروپ کے انتیس میں سے دو ووٹ ان کے ہیں‘ درست نکلا اور سید فخر امام ضلع کونسل کی چیئرمینی کا الیکشن ہار گئے۔
اس کے فوراً بعد وائس چیئرمین کا الیکشن تھا۔ سید گروپ کا امیدوار نواب لیاقت تھا‘ اور گیلانی گروپ کا وائس چیئرمین کا امیدوار ظفر ہراج تھا۔ بالکل ویسے ہی جیسے سینیٹ کے چیئرمین کے حالیہ الیکشن میں تکنیکی طور پر یوسف رضا گیلانی کی شکست کے بعد ووٹ ضائع کرنے والے سات ارکان سینیٹ کی اس حرکت کے باعث سب کو ووٹ ڈالنے کا صحیح طریقہ دوبارہ ذہن نشین کروایا گیا۔ اسی طرح تب وائس چیئرمین کے الیکشن سے پہلے سید گروپ کے ارکان کو ضلع کونسل کی مسجد لے جایا گیا اور وہاں دوبارہ ''ایمانداری‘‘ سے ووٹ ڈالنے کا وعدہ لیا گیا اور ہال میں داخلے سے قبل ان انتیس ارکان ضلع کونسل کو قرآن مجید سے نیچے سے گزارا گیا۔ قرآن مجید کو ایک خاتون رکن ضلع کونسل نے اٹھایا ہوا تھا۔ وائس چیئرمین کا الیکشن ختم ہوا اور جب گنتی ہوئی تو نتیجہ پھر وہی حسب سابق والا نکلا، یعنی انتیس ارکان کی ظاہری حمایت والے سید گروپ کے وائس چیئرمین کے امیدوار نواب لیاقت کے ستائیس ووٹ نکلے اور گیلانی گروپ کے وائس چیئرمین کے امیدوار ظفر ہراج کے ستائیس کے بجائے انتیس ووٹ نکلے اور وہ وائس چیئرمین ضلع کونسل ملتان منتخب ہو گیا۔ شنید تھی کہ دو میں سے ایک ووٹ اس خاتون کا تھا جس نے ہاتھ میں قرآن مجید پکڑ کر اپنے گروپ کے سب ارکان کو اس کے نتیجے سے گزارا تھا۔ بعد ازاں یوسف رضا گیلانی دو سال بعد ہی لودھراں سے پہلی بار ممبر قومی اسمبلی منتخب ہو گئے اور محمد خان جونیجو کی حکومت میں انہیں وفاقی وزیر برائے ہائوسنگ اینڈ ورکس کا قلم دان مل گیا۔ انہوں نے قومی اسمبلی کے الیکشن سے قبل ضلع کونسل ملتان کی چیئرمین شپ سے استعفا دے دیا۔
مجھے یہ سب کچھ عشروں بعد سینیٹ کے حالیہ انتخابات سے یاد آ گیا ہے۔ کس طرح قومی اسمبلی میں 180 ارکان کے حمایت یافتہ حفیظ شیخ کو 340 کے حاضر ایوان سے 164 ووٹ ملے اور 159 ووٹ رکھنے والی متحدہ اپوزیشن کے امیدوار سید یوسف رضا گیلانی 169 ووٹ لے کر کامیاب ہو گئے۔ پھر چیئرمین کے الیکشن میں متحدہ اپوزیشن کے پاس بظاہر اکاون ووٹ تھے، مگر ان کو بیالیس ووٹ ملے اور سات ووٹ جان بوجھ کر ضائع کر کے اڑتالیس ووٹوں والے صادق سنجرانی کو چیئرمین بنوا دیا گیا۔ اس کے بعد تو حد ہی ہو گئی اور اپوزیشن کے ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کے مشترکہ امیدوار عبدالغفور حیدری کو چوالیس ووٹ ملے اور حکومتی امیدوار مرزا محمد آفریدی کو چون ووٹ ملے۔ یعنی چیئرمین کے الیکشن میں جان بوجھ کر سات ووٹ ضائع کرنے والوں نے ڈپٹی چیئرمین کو ووٹ ڈالتے ہوئے تکنیکی ہیر پھیر سے نکل کر سیدھے سبھائو حکومتی امیدوار کے حق میں ووٹ ڈال دیے۔
قارئین! معذرت خواہ ہوں کہ آپ کو زبردستی کھینچ کھانچ کر اڑتیس سال پیچھے لے گیا؛ تاہم کیا کروں؟ اڑتیس سال قبل 1983 میں جو کچھ ضلع کونسل کے الیکشن ہوا تھا، اڑتیس سال بعد 2021 میں پاکستان کے ایوان بالا میں بالکل وہی کچھ ہوا‘ یعنی اس دوران قریب چار عشرے گزر گئے لیکن کچھ بھی نہیں بدلا۔ ہاں البتہ اس تقابلی جائزے میں ایک فرق نظر آیا ہے اور وہ ہے اپنے حفیظ شیخ صاحب کی ''ثابت قدمی‘‘۔
ملتان کی ضلع کونسل کی چیئرمینی اس وقت سید فخر امام کی وفاقی وزارت سے نہ تو مشروط تھی اور نہ ہی اس کے ساتھ اس طرح جڑی ہوئی تھی جس طرح حفیظ شیخ صاحب کی وزارت ان کے سینیٹ کے الیکشن میں جیت سے جڑی ہوئی تھی‘ لیکن فخر امام نے استعفا دے کر اپنا قد ہمیشہ کے لیے بلند کر لیا۔ ادھر یہ عالم ہے کہ حفیظ شیخ کو عدالت عظمیٰ نے وفاقی وزیر کے لیے چھ ماہ کے اندر اندر ایوان کا رکن بننے سے مشروط کیا تھا۔ اب وہ اس بنیادی شرط کو پورا کرنے میں ناکام ہو گئے ہیں‘ لیکن وزارت پر براجمان ہیں۔ اڑتیس سال بعد ووٹرز کا اخلاقی معیار تو ویسا ہی ہے لیکن ہارنے والے امیدواروں کے اخلاقی معیار اور سیاسی اقدار میں جو تنزلی آئی ہے وہ خاصے کی چیز ہے!

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں