آنکھوں کے مسائل اب معمول کی بات بن چکے ہیں لیکن کبھی کبھی ان میں مزید خرابی ہو جائے تو پھر مجبوراً ڈاکٹر نوید صادق کو تکلیف دیتا ہوں۔تکلیف ان معنوں میں کہ ٹائم لیے بغیر بے دھڑک ان کے کلینک چلا جاتا ہوں۔ استقبالیہ پر بیٹھا ہوا نوجوان مسکرا کر کہتا ہے کہ سر جی! اندر چلے جائیں۔ ڈاکٹر صاحب جس مریض کو دیکھ رہے ہوں اسکے بعد اس درویش کو دیکھ لیتے ہیں۔ اسی دوران کافی آ جاتی ہے۔ مشینوں کو آنکھیں دکھانے کے دوران ایسی شاندار گپ شپ اور گفتگو ملتی ہے کہ ہر بار سوچتا ہوں کہ اگلی بار تو صرف گفتگو برائے گفتگو کی غرض سے آئوں گا مگر ارادہ صرف سوچ تک ہی محدود رہتا ہے۔ کارِ جہان میں گوڈے گوڈے پھنسے ہوئے اس مسافر کا عالم یہ ہے کہ ڈاکٹر کہتا ہے کہ دو ماہ بعد دوبارہ دکھائیں مگر چھ ماہ بعد یہ تب جا پاتا ہے جب آنکھیں کوئی نئی مصیبت کھڑی کر دیتی ہیں۔
گزشتہ چند روز سے بھی معاملہ ایسا ہی آن پڑا کہ دو تین روز تو روشنی میں آنکھیں کھولنا مشکل ہو گیا۔ ڈاکٹر نے لکھنے اور پڑھنے سے بڑی تاکید سے منع کیا کہ انہیں علم تھا کہ ہلکی پھلکی ہدایت کا اس لاپروا شخص پر اثر نہ ہوگا۔ لیکن ڈاکٹر نہ بھی کہتا تو اس پر عمل کرنا ہی پڑتا کہ آنکھوں نے ڈاکٹر کی ہدایت کی خلاف ورزی کے معاملے میں کسی قسم کے تعاون سے صاف انکار کردیا تھا۔ کالم کا معاملہ ایسا کہ برسوں بعد شاید کبھی کوئی دن ایسا ہوتا ہے کہ میں اپنے مقرر کردہ دن پر کالم نہ بھیج سکوں‘ گزشتہ کالم سے ناغہ اسی وجہ سے ہوا۔
مجھے چھٹی جماعت میں ہی نظر کی عینک لگ گئی تھی۔ کلاس میں پہلی قطار میں بیٹھنے کے باوجود مجھے تختہ سیاہ پر ماسٹر غلام رسول مرحوم کی نفاست سے لکھی ہوئی تحریر پڑھنے میں مشکل پیش آتی تھی۔ مجھے تو اس بات کا احساس نہ ہوا کہ میری دور کی نظر کمزور ہے تاہم ماسٹر غلام رسول نے ہی پہلی بار اسے بھانپا اور مجھے کہا کہ میں گھر جا کر بتائوں اور اپنی نظر چیک کرائوں۔ ابا جی مجھے حرم گیٹ کے باہر شاہین مارکیٹ کے ساتھ پانی والی ٹینکی کے نیچے میونسپلٹی کی دکانوں میں قائم عینکوں کی دکان پر لے گئے۔ ابا جی اپنی اور ماں جی کی عینکیں یہیں سے بنواتے تھے۔ اسی جگہ سے میری پہلی عینک بنی۔ بعد میں مَیں خود ڈائریکٹ ہو گیا اور پہلے دکان کے مالک‘ جن کا نام مجھے آج بھی معلوم نہیں تاہم میں انہیں چاچا چی کہتا تھا‘ سے عینکیں بنواتا رہا۔ اسی دوران دکان پر بیٹھنے والا ان کا بیٹا جو مجھ سے عمر میں کافی بڑا تھا مگر خوش مزاج ہونے کی وجہ سے میرا دوست بن گیا تھا۔ جب اس نے بوہڑ دروازے کے باہر اپنی دکان بنائی تو میں اُدھر شفٹ ہو گیا۔ اس زمانے میں کبھی کسی سے جھگڑے کے باعث‘ کبھی کھیل کے میدان میں‘ کبھی سائیکل سے گر نے اور کبھی لاپروائی کے باعث ہر دوسرے تیسرے مہینے عینک ٹوٹ جاتی تھی۔ لہٰذا میں ان کا مستقل گاہک تھا اور ابا جی کے کھاتے میں عینکیں بنواتا رہتا تھا۔1968ء میں شروع ہونے والا یہ معاملہ آنکھوں کے ہمہ قسم کے عارضوں‘ مختلف قسم کے مسائل اور درجنوں اقسام کے اتار چڑھائو سے ہوتا ہوا آج اٹھاون سال بعد بھی چل رہا ہے۔ لیکن اُس مالک کا ہزار کرم ہے کہ گلوکوما جیسی بیماری اور پچاس فیصد Optic Nerves کے ختم ہو جانے کے بعد جب سب ڈاکٹر بینائی کے مستقبل کے بارے بری خبریں سنا رہے تھے اور اختلاف صرف بینائی سے محروم ہو جانے کی ڈیڈ لائن پر تھا‘ چند مہینوں کے بعد جب آنکھوں کا چیک اَپ کروایا تو دوبارہ پیدا نہ ہونے والی Optic Nervesکو بہتری کی طرف گامزن پایا۔ ڈاکٹر بھی اس معجزے پر حیران تھے۔ قادرِ مطلق اسی قسم کے واقعات سے اپنی کبریائی کا اعلان کرتا رہتا ہے مگر ہم نادان ان چیزوں سے سبق نہیں حاصل کرتے۔
اُس روز ڈاکٹر نوید صادق کے کلینک سے باہر قدم رکھا تو انداز ہ ہوا کہ مجھ سے بہت بڑی غلطی ہو چکی ہے۔ آنکھوں میں ڈالی جانے والی دوائوں کے زیر اثر میری آنکھوں کی پتلیاں بہت زیادہ پھیل چکی تھیں اور روشنی میں نہ تو کھل رہی تھیں اور نہ کچھ دکھائی دے رہا تھا۔ اوپر سے مصیبت یہ تھی کہ میں گاڑی خود چلا کر آیا تھا اور اب واپسی سے متعلق پریشان تھا کہ دن بھر کے باقی ماندہ کام تو رہے ایک طرف‘ ابھی تو یہ مسئلہ آن پڑا کہ گھر واپس کیسے جائوں؟ سوچا کہ واپس کلینک میں چلا جائوں مگر پھر سوچا کہ آخر ادھر بھی کب تک بیٹھا جا سکتا ہے۔ پھر یاد آیا کہ شاید گاڑی کے گلوز کمپارٹمنٹ میں اسد یا انعم کا رنگین شیشوں والا چشمہ پڑا ہو گا۔ آنکھوں پر ہاتھ سے چھجا بنا کر محض چند قدم پر کھڑی گاڑی تک جاتے ہوئے میں سوچ رہا تھا کہ جن لوگوں کی بینائی بالکل ہی ختم ہو جاتی ہے وہ زندگی کو کس مشکل اور حوصلے سے گزارتے ہوں گے۔ ان چند لمحوں اور گنتی کے قدموں کو طے کرتے ہوئے مرحوم دوست اور شاعر تیمور حسن بہت یاد آیا۔
گلوز کمپارٹمنٹ میں ایک چھوڑ دو چشمے پڑے تھے۔ ایک چشمہ لگا کر دیکھنے کی کوشش کی تو حالات بہتر محسوس ہوئے۔ عام حالات میں تو شاید میں ایسی صورتحال میں ڈرائیونگ نہ کرتا مگر مجبوری تھی‘ اس لیے نہایت احتیاط اور پورے ارتکاز کے ساتھ گاڑی چلانا شروع کی۔ اس دوران مختلف قسم کے خیالات آتے رہے۔ پھر خیال آیا کہ مجھے اس حالت میں حالانکہ پوری طرح دکھائی نہیں دے رہا مگر اس کے باوجود توجہ اور احتیاط کے باعث ٹریفک کو دیکھ رہا ہوں۔ ابھی یہ سوچ ہی رہا تھا کہ میرے ساتھ سے ایک رکشہ نما چیز گزری۔ میں اس عجیب و غریب سواری کو دیکھ کر پہلے تو حیران ہوا پھر خیال آیا کہ مجھے گاڑی ایک طرف کھڑی کرکے تھوڑا انتظار کرنا چاہئے تاوقتیکہ مجھے تھوڑا مزید بہتر دکھائی دینا شروع ہو جائے۔ لیکن اسی اثنا میں آگے اشارہ بند ہو جانے کے باعث میں اس عجیب و غریب جگاڑ مارکہ سواری کے برابر پہنچ گیا تو مجھے احساس ہوا کہ جو میں نے دیکھا تھا وہ واقعی وہ تھا جو مجھے دکھائی دیا تھا۔ یہ دو مکمل کمپارٹمنٹس پر مشتمل رکشہ ہی تھا۔ اس میں پوری بارہ سواریوں کے بٹھانے کی گنجائش تھی۔ مجھے خیال آیا کہ یہ ویگن نما رکشہ اگر سیاہ شیشوں کے پیچھے بمشکل کھلنے والی آنکھوں کو دکھائی دے رہا ہے تو یہ رکشہ ان کو آخر کیسے دکھائی نہیں پڑ رہا جو اس قسم کی چیزوں کا خیال رکھنے پر مامور ہیں؟
تھوڑا عرصہ پہلے ہی کی بات ہے کہ رکشہ پر بمشکل تین سواریاں بیٹھتی تھیں۔ اگر اس سے زیادہ سواریاں بٹھائی جاتیں تو اس رکشہ کا چالان ہو جاتا تھا۔ پھر چنگ چی آ گیا۔ کسی منظوری اور سٹینڈرڈز سے بالا بالا تیار ہونے والا یہ اڑن کھٹولا سڑکوں پر دندنانے لگ گیا۔ پھر رکشے کی تین سواریوں والی سیٹ کے بالمقابل ایک اور پھٹا لگا کر سواریوں کی تعداد کو ڈبل کر لیا گیا۔ اسی دوران موٹرسائیکل کے پیچھے لکڑی یا لوہے کا فریم لگا کر موٹرسائیکل لوڈر رکشہ ایجاد کر لیا گیا۔ جسے بریک لگائیں تو اول رکتا نہیں اور اگر رکے تو اکثر الٹ جانے کے باعث رکتا ہے۔ اور اب یہ بارہ سواریوں والا رکشہ۔ اللہ جانے ہمارے ادارے از قسم ٹریفک پولیس‘ ایکسائز ڈپارٹمنٹ‘ موٹر وہیکل ڈپارٹمنٹ وغیرہ کہاں سوئے ہوئے ہیں۔ میرا خیال ہے ان سب نے بھی شاید آنکھوں میں پتلیاں پھیلانے والی دوائی ڈال رکھی ہے لیکن میری طرح کالے شیشوں والا چشمہ نہیں لگا رکھا۔ پہلے پہل چشم پوشی کی جاتی ہے‘ جب پانی سر سے گزر جاتا ہے تو ہمیں خیال آتا ہے لیکن تب تک معاملہ ہاتھ سے نکل چکا ہوتا ہے۔ مسئلہ یہاں آن کر ٹھہرتا ہے کہ اس ایجاد سے پچاس ہزار گھروں کا خرچہ پانی چل رہا ہے‘ اب اسے کیسے ختم کیا جا سکتا ہے؟ چالان کریں تو غریب آدمی کا استحصال ہوتا ہے۔ سارا ملک چشم پوشی اور بعد ازاں دوسری قسم کی چشم پوشی پر چل رہا ہے اور لگتا ہے ایسے ہی چلتا رہے گا۔