"KMK" (space) message & send to 7575

کوئلوں کی دلالی

صدر ٹرمپ کے قائم کردہ بورڈ آف پیس المعروف غزہ بورڈ سے مجھے اپنا چھٹی کلاس والا بلیک بورڈ یاد آ گیا ہے۔ ہماری کلاس کے پہلے دو پیریڈ مرحوم ماسٹر گلزار حسین لیتے تھے۔ اللہ تعالیٰ ماسٹر گلزار کو کروٹ کروٹ جنت نصیب فرمائے‘ وہ ہمیں انگریزی اور اردو پڑھاتے تھے۔ پہلا پیریڈ انگریزی کا ہوتا تھا اور دوسرا اردو کا۔ جونہی انگریزی کا پیریڈ ختم ہوتا وہ ڈسٹر سے بلیک بورڈ پر چاک سے لکھی ہوئی اپنی ساری انگریزی صاف کرتے اور بلیک بورڈ پر اردو کتاب کے مشکل معنی‘ واحد جمع اور تذکیرو تانیث لکھتے۔ تیسرے پیریڈ میں ماسٹر علامہ سعید صاحب آجاتے۔ وہ ہمیں اسلامیات پڑھاتے تھے۔ وہ کلاس میں آتے ہی جو پہلا کام کرتے تھے‘ وہ بلیک بورڈ سے ماسٹر گلزار صاحب کے اردو اسباق کو مٹانا ہوتا تھا۔ وہ یہ کام کرنے کے بعد کرسی پر بیٹھتے‘ اپنی جناح کیپ کو دوبارہ سے سر پر جماتے‘ کلاس کی حاضری لیتے اور پھر کھڑے ہو کر پڑھانا شروع کر دیتے۔
چوتھا پیریڈ ڈرائنگ کا ہوتا تھا۔ یہ میرا پسندیدہ ترین پیریڈ ہوتا تھا۔ ڈرائنگ ماسٹر نیاز احمد صاحب نہ صرف یہ کہ اپنے مضمون پر شاندار گرفت اور دسترس رکھتے تھے بلکہ اسے پوری طرح طلبہ تک پہنچانے کے فن پر بھی پورا عبور رکھتے تھے۔ ہمارے آنے پر وہ بلیک بورڈ پر پہلے سے بنی ہوئی اشکال اور بڑی کلاسوں کی ٹیکنکل و جیومیٹریکل ڈرائنگ کی تصاویر اچھی طرح صاف کرتے اور نئی تصاویر و اشکال بنانا شروع کر دیتے۔ میں ڈرائنگ اور اشکال کو ان کے درست تناسب اور صفائی سے بنانے کے باعث ان کے پسندیدہ طالبعلموں میں شمار ہوتا تھا۔ ریٹائرمنٹ کے بعد ماسٹر نیاز صاحب نکاح خوان بن گئے۔ شادی کی دو تین تقریبات میں میری ان سے ملاقات ہوئی تو مل کر بہت خوش ہوئے۔ چوتھے پیریڈ کے بعد بریک‘ جسے ہم آدھی چھٹی کہتے تھے‘ ہو جاتی۔ بریک کے بعد کے تین پیریڈز کی ترتیب یاد نہیں تاہم یہ پیریڈز حساب‘ سائنس اور معاشرتی علوم کے ہوتے تھے جو علی الترتیب ماسٹر عزیز بخاری‘ ماسٹر منظور بٹالوی اور ماسٹر عبدالقادر صاحب پڑھاتے تھے۔ ہر اگلے پیریڈ میں آنے والا استاد گزشتہ کلاس کے دوران بلیک بورڈ پر چاک سے لکھے ہوئے سبق کو مٹاتا اور اپنے مضمون سے متعلق لکھنا شروع کر دیتا۔ ہر پیریڈ کے بعد بلیک بورڈ پر نیا مضمون اور نیا سبق ہوتا تھا۔ کسی لکھائی کو ثبات یا دوام حاصل نہ تھا۔
مجھے ڈونلڈ ٹرمپ کے قائم کردہ بورڈ آف پیس سے اپنے چھٹی کلاس کے بلیک بورڈ پر ہر پیریڈ میں ہونے والی نئی لکھائی کی بے ثباتی یاد آ گئی اور اس بے ثباتی سے اس امن بورڈ کا مستقبل دکھائی دینے لگ گیا۔ یہ بورڈ اُس وقت تک ہے جب تک ٹرمپ امریکہ کی صدارت کے منصب پر فائز ہیں۔ اس کے بعد جب اگلا پیریڈ شروع ہو گا تو کلاس میں آنے والا نیا ماسٹر اس بورڈ کو بلیک بورڈ کی طرح کپڑا مار کر صاف کرے گا اور دنیا بھر کے حکمرانوں یعنی اپنی کلاس کے طالبعلموں کو مخاطب کرکے کہے گا کہ ٹرمپ کا پیریڈ بمعہ اس کے سبق کے ختم ہوا۔ آئیں اب نئے مضمون کی شروعات کرتے ہیں۔ اس امن بورڈ کو نہ تو اقوام متحدہ اور نہ دنیا ہی کے دیگر قابلِ ذکر ممالک جیسے چین‘ روس‘ برطانیہ‘ کینیڈا‘ بھارت یا آسٹریلیا وغیرہ کی تائید و حمایت حاصل ہے۔ یہ صرف اور صرف امن کا نوبیل انعام حاصل کرنے میں ناکام رہنے والے امریکی صدر ٹرمپ کی ذہنی اختراع و ایجاد ہے اور وہی اس کے موجد ہیں اور وہی اس کے خاتم بھی ہوں گے۔
مجھے فی الوقت اس امن بورڈ کے اغراض و مقاصد پر بات نہیں کرنی اور اس کی وجہ یہ ہے کہ اس بورڈ کے اغراض و مقاصد سراسر ڈونلڈ ٹرمپ کی مرضی و منشا سے جڑے ہوئے ہیں اور اس وجہ سے وہ ہمہ وقت قابلِ ترمیم‘ قابلِ تنسیخ اور قابلِ تبدیل ہیں۔ جس دن صدر ٹرمپ کا جیسا موڈ ہوگا اس کے اغراض و مقاصد وہی ہوں گے اور یہ روزانہ کی بنیاد پر تبدیل بھی ہو سکتے ہیں۔ فی الحال تو جو دکھائی دیتا ہے وہ یہ ہے کہ اس پر دستخط کرنے والے سبھی وہ سربراہانِ مملکت ہیں جن کے پاس ان حالات میں صدر ٹرمپ کی حکم نما فرمائشوں پر سرِتسلیم خم کرنے کے علاوہ اور کوئی چارہ ہی نہیں ہے۔ سچی بات تو یہ ہے کہ کسی کو اس بورڈ کے قیام کا نہ تو حقیقی مقصد ہی معلوم ہے اور نہ ہی اس کے مستقبل کا کوئی پتا ہے۔ بس صدر ٹرمپ کا حکم ہے اور اس کی تعمیل ہے۔ تاہم مستقبل میں سرزمینِ فلسطین کی اس چھوٹی سی پٹی کو جسے غزہ کہتے ہیں‘ کا جو ابتدائی نقشہ اس بورڈ کے پیشِ نظر ہے اس میں غزہ کے ساحل پر ریزورٹس‘ فلک بوس عمارتیں‘ ڈیٹا سنٹرز‘ رہائشی ٹاورز اور ساحلی تفریح گاہوں کی تعمیر شامل ہے۔ اس سے خوب اچھی طرح اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ غزہ امن بورڈ کا مقصد اس ساحلی پٹی کو ایک عالمی سطح کے Recreational Beach یعنی تفریحی ساحلی مقام میں بدلنا ہے۔ اس کے بنیادی مقاصد میں فلسطینیوں کی آبادکاری کا کم از کم اس عاجر کو تو کوئی تذکرہ دکھائی نہیں دیا۔ یاد رہے کہ صدر ٹرمپ کافی عرصہ پہلے ہی غزہ کو وہاں رہنے والے فلسطینیوں سے خالی کروا کر انہیں کہیں دور پار آباد کرنے اور اس شاندار جغرافیائی محل وقوع والی ساحلی پٹی کو تفریحی کمرشل مقام بنانے کا ارادہ ظاہر کر چکے ہیں۔ اب اس پر عملی کام شروع ہو رہا ہے۔
اس قائم کردہ امن بورڈ کے قیام کا بظاہر فوری محرک غزہ میں ہونے والا انسانی المیہ ہے لیکن حیران کن بات ہے کہ اس امن بورڈ میں قاتل بھی بیٹھا ہوا ہے اور قاتل کی دامے‘ درمے اور قدمے سخنے مدد کرنے والا اس کا پشت پناہ بھی موجود ہے۔ حتیٰ کہ اس بورڈ میں ہمارے جیسے مجبورِ محض تماشائی بھی موجود ہیں لیکن حیران کن بات ہے کہ اس پورے بورڈ میں نہ تو مقتولین کا کوئی نمائندہ ہے اور نہ ہی مدعیوں کی کوئی نمائندگی ہے۔ جارح اور قاتل اسرائیل شریکِ محفل ہے۔ اسرائیل کا غیرمشروط پشتیبان‘ سرپرست اور سامانِ قتل فراہم کرنے والا امریکہ اس بورڈ کا نہ صرف بانی بلکہ مکمل سرپرست بھی ہے۔ حالانکہ برطانیہ نے بوجوہ اس امن بورڈ میں شریک ہونے سے انکار کر دیا ہے مگر اپنے دورِ اقتدار میں اسرائیل کے ہر ظلم و ستم کو جائز قرار دینے اور اس کی ہر ظالمانہ حرکت کو جواز فراہم کرنے والا سابقہ برطانوی وزیراعظم ٹونی بلیئر اس بورڈ کے صدر ٹرمپ کی جانب سے نامزد کردہ انتظامی پینل کا رکن ہے۔ کسی اہم یورپی ملک مثلاً فرانس‘ جرمنی‘ اٹلی‘ سپین اور سکینڈے نیویا کے کسی ملک نے اس بورڈ میں شمولیت اختیار نہیں کی۔ شامل ہونیوالے ممالک میں ہمارے علاوہ امریکی صدر کے آگے سرتسلیم خم کرنیوالے اور امریکہ کو اپنے علاقے میں اڈے فراہم کرنیوالے ممالک جیسے مصر‘ ترکیہ‘ اردن‘ قطر‘ بحرین‘ متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب وغیرہ شامل ہیں۔ رکن بن کر دستخط کرنے والے باقی سب ملک غیرمتعلقہ اور تماشائی ہیں ان میں منگولیا‘ پیراگوئے‘ آرمینیا اور کوسوو وغیرہ شامل ہیں۔ بھلا کوئی امن بورڈ‘ اگر وہ واقعی امن قائم کرنا چاہتا ہے‘ مقتول اور مدعی کے بغیر صرف قاتلوں‘ ان کو سامانِ قتل فراہم کرنے والوں اور تماشائیوں کی نمائندگی سے حقیقی امن بورڈ کیسے بن سکتا ہے؟ مجھے اس پر منو بھائی مرحوم کی شہرہ آفاق نظم ''احتساب دے چیف کمشنر صاحب بہادر‘‘ کے چار مصرعے یاد آ گئے: درداں کولوں لئو شہادت ؍ زخماں تو تصدیق کرا لئو؍ ساڈے ایس مقدمے دے وچ؍ سانوں وی تے گواہ بنا لئو۔
ہم ابھی اس بورڈ کے عارضی رکن ہیں۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس بورڈ کی مستقل رکنیت کیلئے ایک ارب ڈالر مانگ رہا ہے جو اس کے عرصۂ صدارت تک کی عمر کا حامل ہے جس میں تین سال باقی ہیں۔ اس کے بعد یہ بورڈ بھی کلاس کا پیریڈ تبدیل ہونے کے بعد بلیک بورڈ کی طرح صاف ہو جائے گا۔ صدر ٹرمپ تو اپنے کوئلے سونے کے بھاؤ بیچنے جا رہا ہے لیکن ان کی دلالی کرنے والوں کو سوائے اپنا منہ کالا کروانے کے اور کچھ بھی نہیں بچے گا۔ محاورہ تو یہی کہتا ہے اور محاورے صدیوں سے ایسے ہی تو زندہ نہیں ہیں۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں