میں نے اپنی زندگی میں بہت سی چیزوں کو موسموں کے ساتھ جوڑ رکھا ہے۔ ان میں کچھ چیزیں ایسی ہیں جو کیلنڈر سے وابستہ ہیں اور کچھ ایسی ہیں جو براہِ راست موسم سے جڑی ہوئی ہیں۔ اب ناشتے ہی کو لے لیں‘ میرا ناشتہ گرمیوں اور سردیوں کے حساب سے بدلتا رہتا ہے۔ اس دوران میں صرف دو قسم کا ناشتہ کرتا ہوں‘ میری ناشتے کی گرمیاں 15مارچ سے شروع ہوتی ہیں اور 14نومبر کو ختم ہو جاتی ہیں یعنی میں 15مارچ سے لسی کے ساتھ صبح ناشتہ کرتا ہوں اور یہ ناشتہ 14نومبر تک یکسانیت کے ساتھ چلتا ہے۔ 15نومبر سے میں کشمیری چائے کے ساتھ آدھی باقر خانی لیتا ہوں اور یہ معاملہ 14مارچ تک چلتا ہے لیکن میرے نزدیک موسمیاتی اعتبار سے سردیاں اُس روز شروع ہوتی ہیں جس دن باتھ روم میں میری وینٹی پہ پڑی ہوئی پلاسٹک کی بوتل میں ناریل کا تیل جمنا شروع ہو جاتا ہے‘ سو میں اپنا گیزر سٹارٹ کر لیتا ہوں اور جب بوتل میں پڑا ہوا یہ تیل پگھلنا شروع ہوتا ہے تو میں سمجھ جاتا ہوں کہ اب سردی رخصت ہوئی اور گرمیاں آ گئی ہیں۔ اس کے ساتھ ہی میں گیزر بند کر دیتا ہوں لیکن اس سال بڑا عجیب ہوا‘ گرمیاں قبل از وقت دستک دینے لگیں اور 25فروری کو وینٹی پہ رکھی ہوئی پلاسٹک کی بوتل میں پڑا ہوا ناریل کا تیل پگھلنا شروع ہوا تو میں نے گیزر بند کر دیا۔ ابھی گیزر بند کیے چند روز ہی گزرے تھے کہ 15مارچ کو ناریل کا تیل دوبارہ جمنا شروع ہو گیا لہٰذا گیزر دوبارہ سٹارٹ کر لیا لیکن یہ والا معاملہ بھی زیادہ دن نہ چلا اور تین اپریل کو تیل دوبارہ پگھل گیا۔ اصول کے مطابق گیزر بند کیا مگر دو دن بعد تیل پھر سے جمنا شروع ہو گیا اور پہلے دو بار بند کیا گیا گیزر تیسری بار پھر سٹارٹ کر لیا۔ اس بار تو عجب ہورہا ہے۔ گزشتہ سے پیوستہ روز کی ژالہ باری نے جہاں اس خطے کا ریکارڈ توڑا ہے وہیں آم اور گندم کی فصل کو بھی برباد کر کے رکھ دیا ہے۔ موسم کا اعتبار ہی نہیں رہا لیکن موسم کا کیا کہیں‘ کسی چیز کا بھی اعتبار نہیں رہا۔
نہ سرکاری خبر کا کوئی اعتبار رہا ہے اور نہ غیر سرکاری خبر ہی بااعتبار رہی ہے۔ اب نہ سرکاری ترجمان پر کوئی بھروسا رہا ہے اور نہ ہی سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی کوئی خبر یقین کے معیار پر پوری اُترتی ہے۔ دور کیوں جائیں‘ متحدہ عرب امارات کے ادھار پر دیے گئے ڈالروں کی بات کریں تو ترجمان کے مطابق یہ واپسی معمول کی بات ہے اور سوشل میڈیا نئے سے نیا شوشہ چھوڑ رہا ہے۔ بقول حکومتی ترجمان اگر یہ معمول کی بات ہے تو آخر سات سال تک یہ معمول کیوں طاقِ نسیاں پر پڑا رہا اور اس مستعار شدہ ڈپازٹ کی واپسی انہی دنوں میں کیوں ہوئی؟ بہت سی چیزیں اور باتیں اپنی ٹائمنگ کی وجہ سے مشکوک ہو جاتی ہیں اور ابہام پیدا کرتی ہیں۔ یہ بھی ایسا ہی معاملہ ہے۔
ہم اس ادھار پر لی گئی رقم سے جہاں اپنے ڈانواں ڈول قسم کے زرِمبادلہ کے ذخائر کو بہتر کر کے آئی ایم ایف سے قرض لینے میں کامیاب ہو رہے تھے وہیں متحدہ عرب امارات کو اس قرض پر چھ فیصد سالانہ کے حساب سے سود بھی ادا کر رہے تھے‘ یعنی یہ دوستی کے پس منظر میں دیا جانے والا قرضہ اچھی خاصی شرح فیصد کے سود پر لیا گیا تھا۔ عمومی طور پر لوگوں کا خیال تھا کہ یہ رقم ہماری کمزور مالی صورتحال کے تناظر میں برادر اسلامی ملک نے کسی محبت بھرے جذبے کے تحت دی تھی۔ لیکن ایسا نہیں تھا۔ یاد رہے کہ جس آئی ایم ایف کو ہم دن میں 10بار مطعون کرتے ہیں اور ہفتے میں کم از کم تین بار گالیوں سے نوازتے ہیں‘ وہ ہمیں ایک سے ڈیڑھ فیصد سالانہ کی شرح سے قرض دیتا ہے جبکہ متحدہ عرب امارات نے ہمیں تین ساڑھے تین ارب ڈالر کا ادھار آئی ایم ایف کے قرض سے چار گنا زیادہ شرح فیصد پر دیا تھا جو اَب اس نے واپس لے لیا ہے۔ جیسا کہ میں نے پہلے کہا ہے کہ بعض اوقات چیزیں صرف اپنے وقت کے اعتبار سے مشکوک ہو جاتی ہیں۔ اب ایسے موقع پر جب ایران اپنے ہمسائیگی میں واقع عرب ممالک میں قائم امریکی فوجی اڈوں اور امریکی مفادات سے وابستہ مختلف دفاعی و غیر دفاعی مقامات پر ڈرون حملے کر رہا تھا اور میزائل داغ رہا تھا‘ پاکستان ممکنہ حد تک غیر جانبدار رہتے ہوئے اس جنگ کو کسی نہ کسی طور بند کروانا چاہتا تھا۔ المیہ یہ ہے کہ ہمارے بہت سے معاشی مفادات خلیجی ممالک سے جڑے ہوئے ہیں جبکہ ہماری جغرافیائی سرحد ایران سے جڑی ہوئی ہے‘ اب ہم اس جنگ میں کھل کر کس کا ساتھ دیں؟ یہ ایسا سوال ہے جس کا معقول جواب کسی کے پاس بھی نہیں۔ سعودی عرب اور دیگر عرب ممالک جو اس جنگ میں امریکی حمایت کے باعث ایرانی حملوں کی زد میں رہے‘ امریکہ کے ساتھ ساتھ پاکستان سے بھی اپنے دفاع کے طالب تھے اور سعودی عرب کے ساتھ تو ہمارا باقاعدہ دفاعی معاہدہ بھی ہے۔ ہماری مصیبت یہ ہے کہ اگر ہم ایسا کرتے تو اپنی جغرافیائی مصیبتوں کو مزید وسیع کر لیتے۔ ایک طرف ہمارا ازلی دشمن بھارت ہے تو دوسری طرف ہمارا نیا دشمن افغانستان ہے۔ ہمالیہ‘ قراقرم اور ہندو کش کے پار ہمارا دوست چین ہے جدھر سے ہم مطمئن ہیں یا پھر ایران کی سمت سے ہمیں کوئی دفاعی خطرہ درپیش نہیں لیکن اس جنگ کی وجہ سے ہم ایک عجب مشکل میں گرفتار تھے‘ نہ کھل کر عربوں کی حمایت کر سکتے اور نہ ایران کی طرفداری کر سکتے۔ عربوں کی حمایت کریں تو ہمسائے سے تعلقات خراب ہوتے ہیں۔ ایران کی حمایت کریں تو عربوں سے معاملات خراب ہوتے ہیں‘ جہاں ساٹھ ستر لاکھ کے لگ بھگ پاکستانی ورکر کام کرتے ہیں اور ملک کیلئے اربوں ڈالر کا زر مبادلہ بھیجتے ہیں۔ تاہم اگر یہ معاشی معاملہ درپیش نہ بھی ہوتا تب بھی غصے میں منہ سے کف اڑاتے ہوئے مغلوب الغضب ٹرمپ صاحب کی ناراضی مول لینے کی ہمت بھلا کیسے کر سکتے ہیں ؟ نہ جائے ماندن نہ پائے رفتن والا معاملہ آن پڑا۔
اس پر ایک کہانی یاد آ گئی۔ ایک آدمی اپنی دو بیاہی ہوئی بیٹیوں سے ملنے کی غرض سے باری باری ان کے گاؤں گیا۔ پہلی بیٹی کا شوہر بارانی علاقے کا کاشتکار تھا۔ اس کی یہ والی بیٹی اپنی تازہ کاشتہ فصل کے بارے میں پریشان تھی۔ اس نے ملنے پر باپ سے کہا کہ وہ ان کیلئے بارش کی دعا کرے تاکہ ان کی فصل تباہ ہونے سے بچ جائے۔ پہلی بیٹی سے ملنے کے بعد وہ اپنی دوسری بیٹی سے ملنے کیلئے اس کے گاؤں پہنچا‘ جو کمہاروں کے ہاں بیاہی ہوئی تھی‘ تو وہ مٹی سے بنے ہوئے برتن دھوپ میں رکھ کر سکھا رہی تھی۔ چلتے وقت بیٹی نے باپ سے کہا کہ ابا دعا کرو کہ بارش نہ ہو اگر ایسا ہوا تو ہماری کئی دنوں کہ محنت اکارت چلی جائے گی اور ہمارا بہت نقصان ہو جائے گا۔ باپ گھر پہنچا تو اس کی اہلیہ نے پوچھا کہ بیٹیوں کا کیا حال ہے؟ تو وہ ٹھنڈی سانس بھر کر کہنے لگا فی الحال تو دونوں ٹھیک ہیں لیکن دونوں میں سے کسی ایک کا معاملہ تو بہرحال گڑبڑ ہونے والا ہے۔ بارش ہوئی تو کمہاروں کے گھر بیاہی ہوئی بیٹی کو نقصان اٹھانا پڑے گا اور اگر بارش نہ ہوئی تو کاشتکاروں کے گھر بیاہی بیٹی کی فصل سوکھ کر تباہ ہو جائے گی۔ دونوں نے بارش ہونے اور نہ ہونے کی دعا کرنے کا کہا ہے۔ میرے لیے عجب مخمصہ ہے کہ میں کیا دعا کروں؟ ایک نہ ایک بیٹی تو ہر صورت میں مالی طور پر مشکل کا شکار ہونے والی ہے۔ سو ہمارا معاملہ بھی ہر دو صورت میں خراب ہوتا دکھائی دے رہا تھا‘ ہاں! البتہ اب جنگ بندی ہوئی ہے تو شاید عزت بچ جائے۔ لیکن جنگ ختم ہونے کا بھی کیا اعتبار کہ اس کا اختیار صرف ایک آدمی کے ہاتھ میں ہے لیکن اُس آدمی کا بھی کیا اعتبار جو دن میں دس بار اپنے بیانات اور بیس بار خیالات تبدیل کرتا ہو۔ اللہ عزت سلامت رکھے‘ ہم فی الحال تو بطور ثالث عزت کما رہے ہیں لیکن بے اعتبارے بندے کے بس پڑے ہیں جبکہ ہر طرف بے اعتباری کا موسم چل رہا ہے۔