خیال بڑی مزیدار چیز ہے۔ یہ کسی بھی وقت‘ کہیں بھی اور کسی بھی چیز کے متعلق آ سکتا ہے۔ خیال میں آسانی یہ ہے کہ اس سے رجوع بھی کیا جا سکتا ہے اور اس سے دستبردار بھی ہوا جا سکتا ہے۔ خیال کوئی ایسی ناقابلِ تنسیخ شے نہیں کر اس پر بلاوجہ جم کر کھڑا ہوا جائے۔ سمجھدار لوگ اپنے خیالات کو منجمد کرنے کے بجائے آبِ رواں کی صورت رکھتے ہیں۔ دوسروں سے سیکھتے ہیں اور اپنے خیال کے گھوڑے پر دانش کے مراحل طے کرتے رہتے ہیں۔ اسی طرح کسی کے خیال سے اختلاف بھی کیا جا سکتا ہے اور اتفاق بھی کیا جا سکتا ہے‘ فی الوقت ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملے کے بعد مختلف الخیال لوگ خیال کے اپنے اپنے گھوڑے دوڑا رہے ہیں۔ کوئی اسے امریکی شکست سے تعبیر کر رہا ہے تو کوئی اسے ایران کی تباہی سے منسلک کر رہا ہے۔ کوئی ایران کو بہادر کہہ رہا ہے اور کسی کا خیال ہے کہ ایران حماقت آمیز دلیری کا مظاہرہ کر رہا ہے جو سراسر نقصان اور گھاٹے کا سودا ہے۔ اس مؤقف کے داعیوں کا کہنا ہے کہ بعض اوقات مصلحت آمیز پسپائی حماقت آمیز بہادری سے بہت بہتر ہوتی ہے۔ ملک وقوم‘ عوام‘ رہائشی علاقے‘ ذرائع آمد ورفت‘ مواصلات اور اہم تنصیبات کو بچانا بعض اوقات انا کی بنیاد پر تباہی برداشت کرنے سے بدرجہا بہتر ہوتی ہے۔ یہ مؤقف بظاہر اپنے اندر وزن رکھتا ہے۔ اس میں دانشمندی بھی دکھائی دیتی ہے‘ عقلی اور منطقی تجزیے بھی اس بات کو سہارا دیتے ہیں اور دل ودماغ بھی اس نقطۂ نظر سے اتفاق کرتے ہیں۔ لیکن یہ تمام عقلی تجزیے‘ منطقی نتائج‘ دل ودماغ کے فیصلے‘ تاریخ کے اسباق اور دانشوروں کے سارے خیالات میرے نزدیک اس وقت بے معنی اور بیکار ہو جاتے ہیں جب میں ایران بمقابلہ امریکہ واسرائیل کے معاملات کو سامنے رکھتے ہوئے غور کرتا ہوں۔ کچھ لوگ اس نقطۂ نظر کے حامی ہیں کہ ایران کو ان حالات میں احمقانہ بہادری‘ قومی انا پرستی‘ نقصان دہ دلیری اور طاقت کے اعتبار سے انتہائی غیر متوازن جنگ لڑ کر ناقابلِ تلافی نقصان اٹھانے کے بجائے حکمت آمیز پسپائی‘ مصلحت پسند مراجعت اور دانشمندانہ معافی تلافی سے معاملات کو بگڑنے سے اور ملک کو تباہی سے بچا لینا چاہیے تھا۔ بظاہر یہ نقطۂ نظر دل کی تاروں کو چھو لیتا اور عقل کو بھی متاثر کرتا ہے لیکن معاملات اپنی طے شدہ عقلی اور منطقی حدود میں ہوں تو ہی ان چیزوں سے اتفاق کیا جا سکتا ہے‘ تاہم مقابلے میں کسی قسم کے قانون‘ اخلاق اور انسانیت سے عاری اسرائیل ہو اور وعدوں ومعاہدوں کو جوتے کی نوک پر رکھنے والا امریکہ ہو تو معاملہ اتنا آسان نہیں رہ جاتا۔ اسرائیل اور امریکہ فی الوقت صرف ایک بات پر یقین رکھتے ہیں اور وہ ہے جس کی لاٹھی اُس کی بھینس۔ فی الوقت لاٹھی امریکہ کے ہاتھ میں ہے اور باقی سارا عالم بھینس ہے جسے امریکہ بلاجواز ہانکنے پر بضد ہے‘ تو اَب اس کا کیا علاج ہے؟
سوال یہ ہے کہ ایران کو ایسی صورتحال میں کیا کرنا چاہیے تھا؟ اگر ایران وہ سب کچھ کر بھی لیتا جو روزانہ کی بنیاد پر نئی نئی دھمکیوں کی صورت میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اپنی مطالبات کی پٹاری میں سے نکال رہے ہیں تو ایران کی پسپائی‘ مراجعت اور معافی تلافی کہاں جا کے ٹھہرتی؟ امریکہ کے مطالبات اور اسرائیلی خواہشات کس جگہ پر جا کر دم لیتیں؟ یہ ایسا سوال ہے جو میں ایران کی حماقت آمیز بہادری کے مقابلے میں دانشمندانہ پسپائی کے علمبرداروں سے پوچھنا چاہتا ہوں۔ ایران سے ایٹم بم بنانے سے دستبرداری والا معاملہ مکمل ایٹمی صلاحیت بشمول سول ایٹمی استعمال سے محرومی تک پہنچ جاتا۔ پھر امریکہ بہادر ایرانی ایٹمی ری ایکٹرز کی تلفی یا دستبرداری کی شرط لگا دیتا۔ پھر لانگ رینج میزائل پروگرام کے خاتمے سے شروع ہونیوالا معاملہ عام میزائل پروگرام کے مکمل خاتمے تک پہنچ جاتا۔ اس کے بعد رجیم چینج کا مسئلہ آن کھڑا ہوتا۔ اس کے بعد امریکہ اس جنگ (جو اُس نے از خود بلاوجہ اور بلاجواز ایران پر مسلط کی تھی) میں ہونے والے اپنے نقصانات کی زرِ تلافی مانگ لیتا۔ اس نے سب سے پہلے ایران کے پہلے سے منجمد شدہ اثاثوں کو اس مد میں باقاعدہ ہضم کرنا تھا اور باقی ''نقصان‘‘ ایرانی تیل بیچ کر پورا کرنا تھا۔ پھر عالمی تیل کی تجارت کو ایرانی حکومت کی جانب سے مستقبل میں پیش آنے والے خطرات سے بچانے کیلئے جزیرہ خارگ اور آبنائے ہرمز کا انتظام سنبھالنے اور تیل کی فروخت پر امریکی کنٹرول کا مطالبہ داغ دینا تھا۔ اور یہ کوئی خیال کا گھوڑا نہیں جو فضول میں دوڑایا جا رہا ہے‘ امریکہ یہ سب کچھ عراق اور لیبیا میں کر چکا ہے۔ ایران کو اقتصادی اور دفاعی حوالوں سے مکمل طور پر بے دست وپا کرنے اور بھیڑ کا میمنا بنانے کے بعد اسرائیل کو بھیڑیے کی طرح ایران پر دوبارہ چھوڑ دیا جاتا۔ امریکہ نے بڑی آسانی سے کہہ دینا تھا کہ وہ اسرائیلی جارحیت کو روکنے کا کسی طور ذمہ دار نہیں ہے۔
جب آپ کے لامتناہی مطالبات اور فرمائشوں کی فہرست کسی اختتام سے محروم ہو تو بھلا وہاں انا کی دستبرداری‘ قومی حمیت پر سودے بازی اور مصلحت آمیز پسپائی کا سفر کہاں اختتام پذیر ہو سکتا ہے؟ 2015ء کے مذاکرات ایران امریکہ کے درمیان آسٹریا کے شہر ویانا میں ہوئے۔ اس میں ایران نے چھ عالمی طاقتوں امریکہ‘ روس‘ چین‘ برطانیہ‘ فرانس اور جرمنی کے ساتھ اپنے جوہری پروگرام کے بارے میں ایک معاہدے پر دستخط کر دیے تاہم 8 مئی 2018ء کو اُس وقت کے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اس معاہدے سے ایران کو ایٹمی ہتھیار بنانے سے مستقل طور پر نہیں روکا جا سکتا۔ انہوں نے اس معاہدے کو 'ناقص‘ اور 'یکطرفہ‘ قرار دیتے ہوئے ختم کرنے کا اعلان کر دیا اور ایران پر دوبارہ پابندیاں عائد کر دیں۔ اس سے بھی پہلے 1979ء کے ایرانی انقلاب کے بعد تہران میں امریکی سفارتخانے میں 52 امریکی یرغمالیوں کی رہائی کو یقینی بنانے اور اس بحران کو حل کرنے کیلئے 1981ء میں تیسرے فریق کے طور پر الجزائر میں امریکہ اور ایران کے درمیان معاہدہ ہوا تھا۔ امریکہ نے باضابطہ عہد کیا کہ وہ ایران کے داخلی معاملات میں سیاسی یا فوجی طور پر مداخلت نہیں کرے گا۔ دونوں ممالک کے درمیان مالی تنازعات کو حل کرنے کیلئے نیدرلینڈز کے شہر دی ہیگ میں 'ایران امریکہ کلیمز ٹربیونل‘ قائم کیا گیا۔ امریکہ نے ایران کے منجمد کیے گئے تقریباً آٹھ ارب ڈالر کے اثاثے بحال کرنے کا وعدہ کیا‘ لیکن وہ وعدہ ہی کیا جو وفا ہو گیا۔
جون 2025ء میں ایران اور امریکہ کے درمیان جوہری معاملات کی غرض سے مذاکرات چل ہی رہے تھے کہ 21 اور 22 جون کی درمیانی شب امریکہ نے تین ایرانی شہروں اصفہان‘ نطنز اور فردو کی جوہری تنصیبات پر 125کے لگ بھگ طیاروں کے ساتھ جن میں سات عدد B-2 سٹیلتھ بمبار اور آبدوز سے داغے گئے ٹوماہاک میزائل تھے‘ حملہ کر دیا۔ صدر ٹرمپ نے کہا کہ انہوں نے ایران کے ایٹم بم کے حصول کا خواب چکنا چور کر دیا ہے اور ایران اب دس سال تک جوہری ہتھیار نہیں بنا سکے گا۔ دس سال تو رہے ایک طرف‘ امریکہ نے عین اسی بہانے کے تحت 28فروری 2026ء کو یعنی صرف آٹھ ماہ بعد ایران کیساتھ مذاکرات کے عین دوران دوبارہ حملہ کر دیا۔ اب بندہ کس سے امن کا معاہدہ کرے‘ کس سے امان طلب کرے‘ کس کے آگے مصلحت آمیز پسپائی اختیار کرے اور کس کس مطالبے کو پورا کرے؟ مطالبات لامتناہی ہوں‘ طاقت کا نشہ ہو اور بندہ اخلاقیات سے عاری ہو تو صلح یا امن کا خواب بذاتِ خود حماقت ہے۔ قتل ہونا مقدر ٹھہرا تو منت زاری کس لیے؟ بقول فیض احمد فیض:
مرنے چلے تو سطوتِ قاتل کا خوف کیا؍ اتنا تو ہو کہ باندھنے پائے نہ دست و پا؍ مقتل میں کچھ تو رنگ جمے جشنِ رقص کا؍ رنگیں لہو سے پنجۂ صیاد کچھ تو ہو؍ خوں پر گواہ دامنِ جلاد کچھ تو ہو؍جب خوں بہا طلب کریں بنیاد کچھ تو ہو؍بولو کہ شورِ حشر کی ایجاد کچھ تو ہو؍بولو کہ روزِ عدل کی بنیاد کچھ تو ہو