قتل کئی جرائم کا مجموعہ ہے۔ یہ فرد کی حق تلفی ہے۔ یہ معاشرے میں فساد برپا کرتا ہے۔ اس کے ساتھ یہ حقوق اللہ کی بھی پامالی ہے۔ اللہ تعالیٰ کی نظر میں یہ اتنا بڑا جرم ہے کہ جو اس کا ارتکاب کرے‘ اس کیلئے دائمی جہنم کی سزا ہے۔ جس سماج میں یہ جرم ہو‘ اس پر بھی اللہ نے فرض کیا ہے کہ وہ اس کا قصاص لے۔ فرض‘ دین میں اس عمل کو کہتے ہیں جسے چھوڑا نہیں جا سکتا۔ جیسے فرد پر نماز فرض ہے اور کوئی مسلمان اس سے غافل نہیں ہو سکتا۔ اگر سماج قصاص نہیں لیتا تو نظمِ اجتماعی اس کا مجرم ٹھیرے گا اور اس کے اربابِ حل وعقد خدا کے حضور میں جواب دہ ہوں گے۔
اسلام کو جتنا کچھ میں سمجھ پایا ہوں‘ اس کے مطابق‘ حقوق اللہ کے باب میں سب سے اہم توحید ہے۔ حقوق العباد میں سب سے اہم انسانی جان کی حرمت ہے۔ دونوں معاملات میں کسی رو رعایت کی گنجائش نہیں ہے۔ خدا کو شرک گوارا ہے نہ قتل۔ شرک کی معافی کا کوئی امکان نہیں۔ اس بارے میں دین کتنا حساس ہے‘ اس کا اندازہ ہر اس فرد کو ہو جاتا ہے جوقرآن مجید پڑھتا ہے۔ انبیاء کرام کو اس کا سب سے زیادہ شعور ہے۔ وہ اپنے پروردگار کے حضور میں عاجزی کی ایسی تصویر بن کر کھڑے ہوتے ہیں کہ حیرت ہوتی ہے۔ وہ جانتے ہیں کہ وہ اپنے رب کا انتخاب ہیں۔ اس کے باوصف وہ لوگوں کو یہ بتاتے ہیں کہ وہ اللہ کے بندے ہیں اور اپنی حاجتوں کیلئے صرف اس کے سامنے ہاتھ پھیلاتے ہیں۔ انہیں معلوم ہے کہ ان کا رب اس معاملے میں کتنا غیرت والا ہے۔ معاشرتی اعتبار سے انسانی جان کی حرمت کو بھی یہی حیثیت حاصل ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ایک انسان کی جان لینے کو پوری انسانیت کا قتل کہا ہے۔ یہ غیر معمولی جملہ ہے اور یہ بول کر بتا رہا ہے کہ عالم کا پروردگار انسانی جان کے بارے میں کتناحساس ہے۔ سورۂ نساء میں مومن کے قاتل کی سزا بیان کرتے ہوئے جو لہجہ اختیار کیا گیا ہے‘ وہ دل دہلا دینے والا ہے۔ پروردگار ایسے مجرم کیلئے دائمی جہنم‘ اللہ کے غضب‘ اللہ کی لعنت اور عظیم عذاب کا اعلان فرما رہا ہے۔ اسی طرح اس نے نظمِ اجتماعی پر قصاص کو فرض کیا ہے۔
ہم جس مسلم معاشرے میں رہتے ہیں‘ یہ اللہ تعالیٰ کے بارے میں حساس رہا ہے نہ انسانی جان کے باب میں۔ سوشل میڈیا ایسی خرافات سے بھرا ہوا ہے جو بتاتی ہیں کہ توحید کے حوالے سے ہم کس درجے لاپروا ہیں۔ بزرگوں کے احترام کے نام پر خرافات مساجد میں‘ مذہبی اجتماعات میں بیان ہوتی ہیں اور ان کی تشہیرِ عام ہوتی ہے۔ مسجد کے منبر پر بیٹھ کر جو کچھ کہا جاتا ہے‘ اگر قرآن مجید کا سرسری مطالعہ بھی کسی نے کیا ہو تو اس کی جسارت نہیں کر سکتا۔ صد افسوس کہ محض مسلکی تعصب کی بنا پر‘ وہ علما بھی ان خرافات کو جائز قرار دیتے ہیں جو واقف ہیں کہ قرآن مجید اور اللہ کے رسولﷺ اس معاملے میں کتنے حساس تھے۔ غیر اللہ کو اللہ کے ساتھ اس طرح شریک ٹھیرایا جاتا ہے کہ الامان والحفیظ۔
انسانی جان کی حرمت کے بارے میں بھی یہی بے حسی ہے۔ مذہب کے نام پر‘ غیرت کے عنوان سے‘ زمین کے ایک ٹکڑے کی خاطر‘ چھوٹے چھوٹے تنازعات پر انسانی جان اس طرح لی جاتی ہے جیسے مرغی ذبح کی جاتی ہو۔ اس پر سماج اور ریاست کو جس حساسیت کا مظاہرہ کرنا چاہیے‘ وہ کہیں دکھائی نہیں دیتی۔ ریاست کی لاتعلقی تو مجرمانہ ہے۔ اس کیلئے دیت کا قانون جس طرح استعمال کیا جاتا ہے‘ وہ اس کی ایک مثال ہے۔ اسلام نے دیت کا قانون ایک حکمت کے ساتھ دیا ہے۔ یہ حکمت دو مقاصد میں ڈھل گئی ہے۔ ایک تو اس میں مقتول کے ورثا کو فیصلے کا اختیار دیا گیا ہے۔ اس سے مطلوب یہ ہے کہ ان کے جذبات کو قرار ملے۔ دوسرا یہ ہے کہ سماج کو صلح کا راستہ دکھایا گیا ہے تاکہ ایک قتل دو خاندانوں یا گروہوں میں کسی مستقل دشمنی میں نہ بدل جائے۔
ہمارے ہاں ریاست نے اس کا یہ مفہوم لے لیا کہ وہ دو فریقوں کے مابین محض ایک سہولت کار ہے‘ درآں حالیکہ اس قانون کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے کہ صلح کے بعد ریاست کی ذمہ داری ختم ہو جاتی ہے۔ اس پر قصاص فرض ہے۔ اس کو یہ دیکھنا ہے کہ صلح کیسے ہوئی۔ اس میں کہیں جبر کا پہلو تو نہیں۔ اس سے سماج میں انسانی جان کے حرمت کے بارے میں غیر حساسیت تو پیدا نہیں ہو رہی؟ متاثرہ فریق اگر معاف کر دے تو یہ لازم نہیں کہ حکومت بھی معاف کر دے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ جرم فرد کے خلاف ہے اور سماج کے خلاف بھی۔ اسی طرح یہ حقوق اللہ کی بھی پامالی ہے۔ اللہ ایسے مجرم کے ساتھ کیا معاملہ کرے گا‘ وہ اس نے بتا دیا۔ ریاست کو یہ دیکھنا ہے کہ مجرم کو معاف کرنے سے انسانی جان کے بارے میں بے حسی تو پیدا نہیں ہو رہی۔ اگر ریاست انسانی جان کی حرمت کو وہ اہمیت نہیں دیتی‘ جس کی یہ مستحق ہے تو وہ ایک طرح سے قتل میں معاون بن جاتی ہے۔ حضرت ابوہریرہؓ سے روایت کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا ''جس شخص نے کسی مسلمان کے قتل میں آدھے کلمے سے بھی اعانت کی‘ وہ قیامت کے دن اللہ کے سامنے اس حالت میں آئے گا کہ اس کی پیشانی میں لکھا ہو گا: یہ شخص اللہ کی رحمت سے محروم ہے‘‘ (ابن ماجہ)۔
قتل ایک جرم ہے اور گناہ بھی۔ جرم کو روکنا ریاست کا کام ہے اور گناہ کے بارے حساسیت پیدا کرنا علما اور معاشرے کی ذمہ داری ہے۔ قرآن مجید نے قصاص کو اجتماعی فریضہ قرار دیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ریاست قانون کے اس پہلو کی ذمہ دار ہے کہ مجرم کو اس کی سزا ملے۔ سماج کو اس باب میں حساس بنانے کیلئے علما اور ان سماجی اداروں کو بروئے کار آنا ہے جو رائے عامہ پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ علما قتل کی سنگینی کو جمعہ کے خطبوں کا موضوع بنائیں۔ ریڈیو‘ ٹی وی سماجی آگہی کی مہم اٹھائیں۔ اس کو تو نصاب کا حصہ ہونا چاہیے تاکہ بچپن ہی سے اس جرم کی سنگینی کا احساس پیدا ہو اور کوئی اس بارے میں سوچنے پر بھی آمادہ نہ ہو۔
ایک اور پہلو بھی قابلِ غور ہے۔ اس قتل کو بھی قتلِ عمد ہی قرار دینا چاہیے جو کسی غفلت یا لاپروائی کا نتیجہ ہو۔ بہت سے ایسے قتل‘ قتلِ عمد میں شمار ہوتے ہیں جو وقتی اشتعال کا نتیجہ اور کسی منصوبہ بندی کے بغیر ہوتے ہیں۔ جنہیں ہم حادثہ سمجھ کر ان کی سنگینی کو کم کر دیتے ہیں‘ وہ سماج میں انسانی جان کی بارے میں تساہل پیدا کرتے ہیں۔ اگر یہ قانون موجود ہو کہ لاپروائی کی بھی سخت سزا ہے تو اشرافیہ کے بچے سڑکوں پر خرمستیاں نہ کریں۔ اس کے ساتھ لاپروائی میں شریک افراد کو اس قتل میں شریک مجرم قرار دینا بھی ضروری ہے۔ اگر ایک باپ یہ جانتے ہوئے کہ اس کا بیٹا یا بیٹی ڈرائیونگ کا قانونی استحقاق نہیں رکھتے یا نشہ کرتے ہیں یا کسی اور سبب سے ڈرائیونگ کی اہلیت نہیں رکھتے‘ گاڑی ان کے حوالے کرتا ہے جس کے نتیجے میں کوئی جان لیوا حادثہ ہو جاتا ہے تو اسے بھی اس جرم میں شریک سمجھا جانا چاہیے۔ انسانی جان کے بارے میں ریاست اور سماج کی غفلت اللہ تعالیٰ کی ناراضی کو دعوت دینا ہے۔ اگر اہلِ معاشرہ اس باب میں اپنی ذمہ داری سے غافل رہتے ہیں تو انہیں خدا کے حضور میں جواب دہی کیلئے تیار رہنا چاہیے جہاں ان کا شمار جرم کے معاونین میں ہو سکتا ہے۔