اسلام نے علما کو کوئی سیاسی کردار نہیں سونپا۔ اس کا مطلب مگر نظمِ اجتماعی سے ان کی لاتعلقی بھی ہے۔
اجتماعی زندگی کے کچھ فطری مطالبات ہیں۔ ان کی تکمیل کا قدرت نے خود اہتمام کیا ہے۔ انسانوں کو متنوع رجحانات کے ساتھ پیدا کیا گیا ہے۔ کوئی سیاست کا مزاج رکھتا ہے اور کسی کو فنونِ لطیفہ سے دلچسپی ہے۔ کوئی ریاضی کا ذوق رکھتا ہے اور کوئی طبیعیات کا۔ افتادِ طبع کا یہ اختلاف اس لیے ہے کہ معاشرے کو مختلف علوم وفنون کے ماہرین کی ضرورت ہوتی ہے جو اس کی معاشی‘ سیاسی‘ سماجی‘ اخلاقی اور جمالیاتی ضروریات کی آبیاری کریں۔ عالم کا پروردگار ان ضروریات سے باخبر ہے۔ جب متنوع خصوصیات کے حاملین بروئے کار آتے ہیں تو سماج کی ضروریات پوری ہو جاتی ہیں۔ اخلاقی تربیت بھی ہر معاشرے کی ضرورت ہے۔ اسے مادی ہی نہیں‘ اخلاقی طور پر بھی صحتمند رہنا ہے۔ اخلاقی زوال کا مطلب معاشرے کو مجرموں کے حوالے کر دینا ہے اور جہاں جرم غالب ہو‘ وہاں زندگی اجیرن بن جاتی ہے۔ اس لیے کوئی معاشرہ اخلاقی تربیت سے بے نیاز نہیں ہو سکتا۔
اخلاقی تربیت کا کام مذہب کرتا ہے۔ لبرل معاشروں میں لوگوں نے متبادل اخلاقی نظام وضع کرنے کی کوشش کی ہے مگر اس کی حقیقی بنیاد بھی مذہب ہی میں ہے۔ مسلم سماج کے بارے میں دوسری رائے نہیں کہ اس کے اخلاقیات مذہب سے پھوٹے ہیں۔ اس کی اخلاقی صحت کے لیے لازم ہے کہ دین کے علما موجود رہیں جو سماج کو اخلاقی طور پر حساس بنائیں۔ اسلامی تصورِ حیات میں ہر خیر کا منبع اللہ تعالیٰ کی رضا اور اس کے حضور میں جوابدہی کا احساس ہے۔ اسلام میں اخلاقی طور پر صحتمند شخصیت وہی ہے جس کے اعمال کی اساس آخرت پر ایمان ہے۔ اسی لیے قرآن مجید یہ ضروری قرار دیتا ہے کہ مسلم معاشرے میں کچھ لوگ ضرور ہونے چاہئیں جو دین کا علم حاصل کریں اور سماج کو انذار کریں۔ انذار سے مراد آخرت میں جوابدہی کا آوازہ بلند کرنا ہے۔ اسی کو دعوت کہتے ہیں۔ یہی تبلیغ ہے۔ قرآن مجید نے بتایا ہے کہ آخرت میں وہی کامیاب ہو گا جو اپنے اخلاقی وجود کو تزکیہ کرے گا۔
سورۂ توبہ کی آیت: 122 میں علما کی یہ ذمہ داری بیان ہوئی ہے۔ اس کی شرح میں استاذ جاوید احمد غامدی صاحب نے لکھا: ''ارشاد ہوا ہے کہ سب مسلمانوں کے لیے تو یہ ممکن نہیں ہے‘ لیکن اُن کی ہر جماعت میں سے کچھ لوگوں کو لازماً اس مقصد کے لیے نکلنا چاہیے کہ وہ دین کا علم حاصل کریں اور اپنی قوم کے لیے نذیر بن کر اُسے آخرت کے عذاب اور خدا کی گرفت سے بچانے کی کوشش کریں۔ یہ‘ اگر غور کیجیے تو بعینہٰ وہی کام ہے جو اللہ کے نبی اور رسول اپنی قوم میں کرتے ہیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ نبیﷺ سے دعوت وانذار کا کام آپؐ کے بعد اس امت کے علما کو منتقل ہوا ہے اور ختم نبوت کے بعد یہ ذمہ داری اب قیامت تک انہیں ہی ادا کرنی ہے‘‘۔ (البیان)
اس انذار کی نوعیت کیا ہے۔ جاوید صاحب نے ''میزان‘‘ میں اس کی تفصیل بیان کی ہے: ''سورۃ التوبہ کی یہ آیت دین میں بصیرت رکھنے والوں کو اس بات کا مکلف ٹھیراتی ہے کہ... وہ اپنی استعداد اور صلاحیت کے مطابق امت کی ہر بستی اور ہر قوم میں اس دعوت کو ہمیشہ زندہ رکھیں۔ وہ اپنی قوم اور اُس کے اربابِ حل وعقد کو ان کے فرائض اور ذمہ داریوں کے بارے میں پوری دردمندی اور دلسوزی کے ساتھ خبردار کرتے رہیں۔ اُن کے لیے ہر سطح پر دین کی شرح ووضاحت کریں۔ انہیں ہر پہلو اور ہر سمت سے حق کی طرف بلائیں۔ اُس سے اعراض کے نتائج سے خبردار کریں اور جب تک زندہ رہیں‘ ان نتائج سے انہیں خبردار کرتے رہیں‘ یہاں تک کہ ظالم حکمرانوں کا ظلم بھی انہیں اس کام سے باز نہ رکھ سکے۔ دین کے علما کے لیے یہی سب سے بڑا جہاد ہے جو اس دنیا میں وہ ہمیشہ کر سکتے ہیں۔
امت کی تاریخ میں دعوت وعزیمت کے عنوان سے جو کام ہمیشہ ہوتے رہے ہیں‘ ان کا ماخذ درحقیقت یہی آیت ہے۔ اللہ تعالیٰ کا بڑا احسان ہے کہ ہماری تاریخ کا کوئی دور ان لوگوں سے خالی نہیں رہا جو بدعت وضلالت کے تہ بہ تہ اندھیروں میں اپنے چراغ کی لو تیز کر کے سر راہ کھڑے ہو جاتے ہیں اور دنیا کی ہر چیز سے بے نیاز ہو کر لوگوں کو حق کی راہ دکھاتے ہیں۔ وہ اس بات کی کوئی پروا نہیں کرتے کہ لوگ کیا چاہتے ہیں اور کن چیزوں کا تقاضا کرتے ہیں۔ ان کی ساری دلچسپی بس حق ہی سے ہوتی ہے اور وہ اسی کے تقاضے دنیا کو بتانے کے لیے اپنے دل ودماغ کی ساری قوتیں صرف کر دیتے ہیں۔ وہ لوگوں سے کچھ نہیں مانگتے بلکہ اپنے پروردگار سے جو کچھ پاتے ہیں‘ بڑی فیاضی کے ساتھ ان کی جھولی میں ڈال دیتے ہیں؛ چنانچہ ہر دور میں وہ ہستی کا ضمیر‘ وجود کا خلاصہ اور زمین کا نمک قرار پاتے ہیں‘‘۔
یہ انذار‘ اس شرح سے واضح ہے کہ اربابِ اقتدار کو بھی کیا جائے گا۔ ابلاغ کے لیے کوئی ذریعہ اختیار کیا جا سکتا ہے۔ تحریر اور تقریر کے علاوہ‘ مؤثر ذریعہ بالمشافہ ملاقات ہے۔ اگر اس کی کوئی صورت پیدا ہو تو علما کو ہرگز اس سے گریز نہیں کرنا چاہیے۔ اگر ریاست کے ذمہ داران کو دعوت دیں تو اس کو ضرور قبول کرنا چاہیے۔ ان کے سامنے حق گوئی کا مظاہرہ کرتے ہوئے یہ تاثر دینا چاہیے کہ ان پر تنقید کا مقصد ان کے ساتھ خیر خواہی ہے‘ خود کو بطلِ حریت ثابت کرنا نہیں۔ مولانا اشرف علی تھانوی نے سورۂ توبہ کی اس آیت کی تفسیر میں بطورِ خاص اس جانب توجہ دلائی ہے۔ بطور جملہ معترضہ عرض ہے کہ جامعہ علومِ اسلامیہ بنوری ٹاؤن کراچی کے سابق استاذ مولانا انور عمر بدخشانی مرحوم نے حضرت تھانوی کی تفسیر ''بیان القرآن‘‘ کی تسہیل کی ہے۔ اس تفسیر اور مولانا شبیر احمد عثمانی کی تفسیر کو یکجا شائع کر دیا گیا ہے‘ جس سے ان دو اہم تفاسیر سے ایک ساتھ استفادہ ممکن ہو گیا ہے۔
انذار اور وعظ کے غیر مؤثر ہونے کا سبب مولانا تھانوی کے مطابق یہ ہے کہ: ''اس میں انذار کے آداب نہیں ہوتے‘ جس کے طرزِ بیان اور لب ولہجے سے شفقت ورحمت اور خیر خواہی مترشح ہو‘ مخاطب کو یقین ہو کہ اس کے کلام کا مقصد نہ مجھے رسوا کرنا ہے‘ نہ بدنام کرنا‘ نہ اپنے دل کا غبار نکالنا‘ بلکہ یہ جس چیز کو میرے لیے مفید اور ضروری سمجھتا ہے‘ وہ محبت کی وجہ سے مجھے بتلا رہا ہے۔ اگر آج ہماری تبلیغ اور خلافِ شرع امور کے مرتکب لوگوں کو اصلاح کی دعوت کا یہ طرز ہو جائے تو اس کا ایک نتیجہ تو قطعاً لازم ہی ہے کہ مخاطب کو ہماری گفتگو سے ضد پیدا نہیں ہو گی...‘‘ (آسان بیان القرآن‘ جلد اوّل)۔
علما کے لیے سیاست ممنوع نہیں ہے لیکن جب وہ اقتدار کی سیاست میں فریق بنتے ہیں تو حکمران ان کو حریف سمجھتے ہیں۔ اس سے ان کا اصل فریضہ متاثر ہوتا ہے جوسماج کے تمام طبقات کو انذار کرنا ہے جن میں حکمران بھی شامل ہیں۔ انذار کے لیے انہیں اربابِ اقتدار سے ملنا چاہیے مگر آداب کے ساتھ۔ یہ ملاقات دنیاوی غرض کے لیے نہ ہو۔ گفتگو میں خوشامد ہو اور نہ ایسی تنقید ہو جس کا مقصد خود کو حق گوئی کا بڑا علمبردار ثابت کرنا ہو۔ حکمرانوں سے ان کے تعلق کی اساس خیر خواہی ہونی چاہیے۔ ان کے ساتھ سب سے بڑی خیر خواہی یہ ہے کہ انہیں ان کے فرائض کی طرف متوجہ کیا جائے۔