پاکستان میں انگریزی زبان کے قابلِ ذکر اخبارات کی تعداد چار ہے۔ ان میں ایک اخبار اشاعت کے اعتبار سے اگر چوتھے نہیں تو تیسرے نمبر پر ہوگا۔ اس کے باقاعدہ قارئین اگر ایک نہیں تو دو ہاتھوں کی انگلیوں پر شمار ہوتے ہوں گے۔ اگر کوئی مبالغہ کرنا چاہے تو اس تعداد کو دگنا کر دے۔ اس اخبار میں ایک مضمون شائع ہوا۔ اگر اسے معمول کا ایک واقعہ سمجھا جاتا تو اس مضمون کی رسائی پچاس سو تک ہی ہوتی۔ اس مضمون کو اچانک اخبار کے ویب سائٹ سے ہٹا دیا گیا۔ سوشل میڈیا پر بھونچال آ گیا۔ تھوڑی دیر میں یہ کالم میڈیا کے ہر قابلِ ذکر فورم پر زیرِ بحث تھا۔ اس کا اردو زبان میں ترجمہ ہوا اور تقسیم ہونے لگا۔ بلاشبہ یہ چندگھنٹوں میں لاکھوں افراد تک پہنچ گیا۔
ایک ناقابلِ ذکر مضمون کو اتنا اہم کس نے بنایا؟ تنقید کے خوف نے‘ طاقت کے زعم نے یا پھر اس مضمون کو مقبول بنانے کی ایک سوچی سمجھی سکیم نے؟ میرے پاس اس کا حتمی جواب موجود نہیں۔ میں صرف قیاس کر سکتا ہوں۔ یہ تنقید کا خوف تو نہیں ہوگا کہ پریس کانفرنسوں میں سخت سوالات کا سامنا کیا جاتا ہے اور انہیں براہِ راست دکھایا بھی جاتا ہے۔ پھر یہ عقلِ عام کی بات ہے کہ ایسے بے ضرر مضمون کو نظر انداز ہی کیا جانا بہتر ہوتا ہے۔ معلوم نہیں اس طرح کے کتنے مضمون شائع ہوتے اورکوئی تاثر قائم کیے بغیر‘ شام تک گمنامی کی نذر ہو جاتے ہوں گے۔ ابلاغی حکمتِ عملی کے مبادیات سے واقف بھی یہ بات جانتا ہے۔ اس لیے مجھے اس بات کابہت کم امکان دکھائی دیتا ہے کہ تنقید کا خوف اس کا محرک ہو سکتا ہے۔
کیا اس کا سبب طاقت کا زعم ہے؟ میں اس امکان کو رد نہیں کر سکتا۔ زعم اقتدار کا ہو‘ علم کا ہو‘ حسن کا ہو‘ کسی منطق کے تابع نہیں ہوتا۔ انسان کی اگر اخلاقی تطہیر نہ ہوئی ہو تو زعم اس سے حماقتیں سرزد کروا سکتا ہے۔ تاہم اہلِ اقتدار بالعموم اس بات سے واقف ہو تے ہیں کہ طاقت کا غیر ضروری استعمال مسائل پیدا کرتا ہے۔ اگر حکمت کے ساتھ ان کا واجبی سا تعلق ہو تو وہ طاقت کے سوئے استعمال سے گریز کرتے ہیں۔ تو کیا پھر اسے سوچی سمجھی سکیم سمجھا جائے؟ میں اس امکان کو بھی رد نہیں کر سکتا۔ مضمون کو ویب سائٹ سے ہٹانے کا فائدہ اگر کسی کو ہوا ہے تو اس گروہ کو‘ جو اس مقدمے پر اپنے سیاسی مفادات کی عمارت کو کھڑا کیے ہوئے ہے۔ اسی نے اس کی اشاعت اور ابلاغ کیلئے ایک بھرپور مہم چلائی اور یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ اپنی ساری ابلاغی قوت صرف کر ڈالی۔
اب ایک نظر اس مضمون پر ڈالیے۔ یہ محض الفاظ ہیں۔ صرف ایک دعویٰ ہے۔ اس کے حق میں کوئی ایک دلیل نہیں دی گئی۔ دنیا کا کوئی ایک ملک ایسا نہیں ہے جس کی باگ نوجوانوں کے ہاتھ میں ہو اور پرانی نسل ازکارِ رفتہ قرار پائی ہو۔ ترقی کی سب سے بڑی علامت چین ہے۔ کمیونسٹ پارٹی کی قیادت میں کوئی جوان آدمی کبھی شامل نہیں رہا۔ ٹرمپ امریکہ میں تبدیلی کی علامت بن گئے۔ ان کی عمر ہمیں معلوم ہے۔ مودی صاحب کی جوانی بھی ہم نے دیکھ رکھی ہے۔ پاکستان میں بھی جسے تبدیلی کا دیوتا سمجھا جاتا ہے‘ وہ بھی حیاتِ مستعار کے ستر برس بِتا چکا۔ اس لیے یہ کہنا کہ دنیا میں پرانی نسل متروک ہو چکی‘ سماجیات سے ناواقفیت ہے۔ معاشرے ایک تسلسل میں آگے بڑھتے ہیں۔ آپ بس یہ کہہ سکتے ہیں کہ جب نوجوان کسی بیانیے کو قبول کر لیں تو وہ شتابی سے پھیل جاتا ہے۔
مضمون میں کہا گیا ہے کہ بہتر انفراسٹرکچر اور مؤثر نظام ہی نوجوانوں کو مطمئن کر سکتا ہے۔ پی ٹی آئی اس مقدمے کو غلط ثابت کر چکی۔ ایک صوبے میں تیرہ برس کے مسلسل اقتدار کے باوجود‘ ان اہداف کے حصول کیلئے ایک انچ پیش رفت نہیں ہوئی۔ نوجوانوں کیلئے ایک ڈھنگ کا منصوبہ شروع نہیں کیا گیا۔ اس کے برخلاف (ن) لیگ کی حکومت نے نوجوانوں کی بہتری کیلئے کئی نئے پروگرام دیے۔ انفراسٹرکچر کیا ہوتا ہے‘ (ن) لیگ کے اقتدار سے پہلے لوگ اس لفظ ہی سے واقف نہیں تھے۔ نتیجہ مگر کیا رہا؟ یہی بات تو تجزیہ کاروں کیلئے ناقابلِ فہم ہے کہ کارکردگی وہ عامل ہی نہیں رہا جس کی بنیاد پر سیاسی وابستگی کا فیصلہ ہوتا ہو۔ یہ فیصلے کسی منطق یا عقلی اساس پر نہیں کیے جا رہے۔ پھر یہ تجزیہ بھی غلط ہے کہ لوگوں کی ہجرت کا سبب وطن سے تعلق کا کمزور ہونا ہے۔ بہتر مواقع کی تلاش میں ترقی یافتہ دنیا کی طرف ہجرت ایک مستقل عمل ہے جو فطری ہے۔ پاکستان ایک ترقی پذیر ملک ہے۔ ریاست خود باہر جانے کی حوصلہ افزائی کرتی بلکہ اعلیٰ تعلیم کیلئے وظائف بھی دیتی ہے۔ خارجہ پالیسی کا ایک ستون یہ ہے کہ امیر ممالک میں پاکستانیوں کی ملازمت کیلئے مواقع تلاش کیے جائیں۔ ہم سعودی عرب اور دوسرے ممالک سے اس پر مذاکرات کرتے آ رہے ہیں۔ اس لیے لوگ اگر باہر جاتے ہیں تو اس سے یہ نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا کہ وہ ناراض ہیں اور ملک میں رہنا نہیں چاہتے۔ اعلیٰ تعلیم اور بہتر مواقع کی تلاش میں لوگ سفر کرتے ہیں اور اس میں کوئی برائی نہیں۔ یو ٹیوبرز کا معاملہ اور ہے‘ جس کا عام حالات سے کوئی تعلق نہیں۔
عجیب بات یہ ہے کہ پاکستان کو ہیجان کی نذر کرنے والے لوگ وہ ہیں جو آسودہ حال ہیں۔ مضمون نگار کا تعلق ایک خوشحال گھرانے سے ہے۔ اس کے والدین نے اسے اعلیٰ تعلیم کیلئے امریکہ بھیجا ہے۔ میرا خیال ہے کہ اس کی فیس وغیرہ یہیں سے جاتی ہو گی۔ مضمون کی زبان بتا رہی ہے کہ پاکستانی معاشرے کے بارے میں اس کی معلومات سوشل میڈیا سے ماخوذ ہیں۔ وہ نوجوانوں کی انہی ضروریات کو بیان کر رہا ہے جو بنیادی نہیں‘ ثانوی ہیں۔ مضمون نگار کو اس کا بہت کم ادراک ہے کہ ریاست اور سماج میں کیا فرق ہے اور دونوں کے مطالبات ایک دوسرے سے کیسے مختلف ہیں۔ وہ جرم کے علم کا طالب علم ہے۔ جرم کی نفسیات یقینا اس کے نصاب کا حصہ ہو گی۔ اسے پڑھایا جاتا ہو گا کہ سماج کیسے ارتقا سے گزرتا ہے اور اس میں ایک تسلسل ہوتا ہے۔ انسان کمپیوٹر نہیں ہوتا کہ اس کی ایک جنریشن‘ دوسرے سے جوہری طور پر مختلف بنا دی جائے۔ مغرب کا نظامِ اقدار صدیوں پہلے جن اساسات پر قائم ہوا تھا اپنی تمام تر ترقی کے باوصف آج بھی انہی پر کھڑا ہے۔ اسی طرح پاکستانی سماج کی کچھ سماجی بنیادیں ہیں جو سیاسی عمل سے ماورا سلامت ہیں۔ مضمون نگار اور اس کی نسل کو میری نصیحت یہ ہو گی کہ وہ نتائج اخذ کرنے میں جلدی نہ کریں۔ اپنے علم کو پختہ بنائیں اور اس کے بعد کوئی رائے اختیار کریں۔ مغرب کے نظامِ تعلیم کی ایک خصوصیت یہ ہے کہ اس میں حتمیت نہیں ہوتی۔ بڑے اہلِ علم بھی اپنے نتائجِ فکر کو ایک رائے کے طور پر پیش کرتے اور ان پر نظر ثانی کیلئے آمادہ رہتے ہیں۔
اس مضمون کی غیر معمولی اشاعت نے اس مقدمے کو تقویت پہنچائی ہے جو میں نے پچھلے کالم میں بیان کیا تھا کہ کیسے منظم طریقے سے ایک رائے کو جنگل کی آگ کی طرح پھیلایا جاتا ہے اور پھر سماج اس کی گرفت میں چلا جاتا ہے۔ یہی جبر ہے جس نے مجھ سے نہ چاہتے ہوئے بھی یہ کالم لکھوایا۔ اب اس جبر میں طاقت کے زعم کا کتنا حصہ ہے اور ابلاغی مہم کا کتنا‘ اس کا فیصلہ میں نہیں کر سکتا۔ میں یہ بھی نہیں جانتا کہ فیصلہ ساز حلقوں نے ایک ناقابلِ ذکر بات کو 'ٹاک آف ٹاؤن‘ بننے کے اس عمل کا کتنا تجزیہ کیا ہے۔