"KNC" (space) message & send to 7575

قومی مکالمے کا آغاز

کسی صاحبِ منصب کی تعریف یا اس کے لیے کلمہ خیر کہنا ایک مشکل کام ہے‘ بالخصوص جب وہ آپ کو نفع یا نقصان پہنچانے پر قادر ہو۔ ہمارے ہاں اس کا ایک ہی مفہوم ہوتا ہے اور وہ ہے خوشامد۔ خود کو بطلِ حریت ثابت کرنے کے لیے یہ ضروری ہے کہ تنقید کی تلوار آپ کے ہاتھ میں ہو اور ہر صاحبِ حیثیت اس کی زد میں ہو۔ اس سماجی رکاوٹ کو عبور کرنے کی ہمت مجھ میں نہیں تھی۔ آج فواد چودھری صاحب کے لیے کلمۂ خیر لکھتے وقت مجھے اپنی اس کم ہمتی کا احساس ہوا۔
میں پی ٹی وی کا جنرل منیجر بنا تو اس کا سبب فواد چودھری صاحب تھے۔ انہوں نے یہ چاہا کہ پی ٹی وی کے مذہبی پروگرام روایتی مذہبیت سے نکلیں اور اسلام کے بارے میں یہ تاثر زائل ہو کہ وہ جدید عہد کے تقاضوں سے ہم آہنگ نہیں ہے۔ میرے بارے میں ان کا گمان تھا کہ میں یہ کام کر سکتا ہوں۔ انہوں نے مجھے یہ ذمہ داری سونپی‘ یہ جانتے ہوئے بھی کہ میں پی ٹی آئی کی سیاست کا ناقد ہوں۔ اس سارے عرصے کے دوران میں انہوں نے مجھے ایک دفعہ بھی یہ نہیں کہا کہ میں کوئی کالم ان کے حق میں لکھوں یا کم از کم ان پر تنقید نہ کروں۔ انہوں نے ہمیشہ وسعت نظری کا مظاہرہ کیا۔ ایک مرتبہ ربیع الاول میں مَیں نے سیرت النبیﷺ کے موضوع پر خصوصی خطبات کا ایک پروگرام ترتیب دیا۔ میں نے اہلِ علم کی ایک فہرست ان کے سامنے رکھی جنہیں میں مدعو کرنا چاہتا تھا۔ ان میں ایک نام (ن) لیگ کے ایک راہنما کا بھی تھا جو وزیر قانون رہے تھے۔ انہوں نے مقررین پر ایک آدھ جملے میں تبصرہ کیا اور بغیر کسی تبدیلی کے‘ اس فہرست کی منظوری دے دی۔ سب کے خطبات حسبِ پروگرام نشر ہو گئے۔ انہوں نے مذہبی پروگراموں کے لیے کئی بار تجاویز دیں مگر کبھی کسی بات پر اصرار نہیں کیا۔ میں نے ان کے ہوتے ہوئے یہ ذمہ داری پوری آزادی کے ساتھ نبھائی۔
آج جب انہوں نے قومی سطح پر ایک مکالمے کا ڈول ڈالا تو مجھے ان کے بارے میں بہت سی اچھی باتیں یاد آئیں جن کا تعلق میرے مشاہدے اور تجربے سے ہے۔ فواد چودھری صاحب ان چند افراد میں سے ہیں جو فطری سیاستدان ہیں۔ وہ سیاسی حرکیات کو اچھی طرح سمجھتے ہیں۔ قومی مکالمے کے لیے ایک فورم کا قیام اسی کا اظہار ہے۔ اس وقت قومی منظرنامے پر یہ وہ خلا ہے جس کی اہمیت سب جانتے ہیں مگر کوئی بارش کا پہلا قطرہ بننے کے لیے آمادہ نہیں تھا۔ میں نے بھی ایک مرتبہ محترم مجیب الرحمن شامی صاحب اور کئی دوسرے اہلِ دانش سے یہ درخواست کی کہ وہ آگے بڑھیں اور متحارب سیاسی قوتوں کے ساتھ رائے ساز شخصیات اور سول سوسائٹی کو ایک قومی مکالمے کے لیے جمع کریں۔ یہ قرعہ فال اب فواد چودھری صاحب کے نام نکل آیا۔
سیاست دیواروں سے ٹکرانے کا نہیں‘ بند دروازے کھولنے کا نام ہے۔ یہ کام طاقت نہیں‘ تدبیر کا مطالبہ کرتا ہے۔ سیاسی تدبیر مکالمے سے عبارت ہے۔ سیاست آئیڈیلز کے حصول کے لیے نہیں ہوتی‘ یہ موجود سیاسی وسماجی ماحول میں کسی ایسے حل کی تلاش ہے جو تصادم سے بچتے ہوئے‘ سماج کو جمود سے نکال سکے۔ سیاست اپنے مفادات کا تحفظ کرتے ہوئے‘ دوسروں کے وجود کو تسلیم کرنے کا نام ہے۔ سیاست حق وباطل میں فیصلہ کرنے کے لیے نہیں ہوتی۔ نظریاتی سیاست کے دور میں سماج کو اسی طرح تقسیم کیا گیا کہ اقتدار کی سیاست کو حق وباطل کا معرکہ بنا دیا گیا۔ عام آدمی اس مخمصے میں رہا کہ ایک ہی مسجد میں ایک ساتھ نماز پڑھنے والوں میں کفر اور اسلام کی بنیاد پر کیسے فرق کرے؟
بدقسمتی سے سیاست کو آج ایک بار پھر حق وباطل کے درمیان جنگ بنا دیا گیا ہے۔ یہ صرف پیغمبر کی موجودگی میں ہوتا ہے کہ لوگ دو گروہوں میں منقسم ہو جاتے ہیں۔ اقتدار کے کھیل میں یہ تقسیم نہیں ہوتی۔ آپ کے خیال میں آپ کا مؤقف درست ہو سکتا ہے دوسرے کے خیال میں ان کی بات قرین بالصواب ہے۔ دونوں اپنا اپنا مؤقف عوام کے سامنے رکھ دیتے ہیں اور وہ کسی ایک کے حق میں فیصلہ دے دیتے ہیں۔ جمہوریت کی روح یہی ہے۔ اسی لیے یہ بات کہی جاتی ہے کہ سیاسی معاملات کے لیے سیاسی ذہن کی ضرورت ہوتی ہے۔
قومی مکالمے کے لیے برپا کی جانے والی پہلی مجلس کا اعلامیہ قابلِ توجہ ہے۔ اس میں سب سے مثبت بات یہ ہے کہ اس میں اہلِ سیاست کے مابین مکالمے کی بات کی گئی۔ اگر مسئلہ سیاسی ہے تو اس کا حل اہلِ سیاست ہی کو نکالنا چاہیے۔ فوج کو اس میں فریق بنانے کی کوشش مستحسن نہیں ہو سکتی۔ اعلامیے میں درست نشاندہی کی گئی کہ سیاست کے بڑوں کے مابین مکالمہ ہونا چاہیے۔ اس میں یہ تجویز کیا گیا ہے کہ حکومت ایک مذاکراتی ٹیم بنائے اور جواب میں اپوزیشن بھی بنائے گی۔ میری تجویز ہو گی کہ اس فورم کو حکومت اور اپوزیشن میں تقسیم کر نے کے بجائے اسے قومی نمائندہ فورم بنایا جائے جو حکومت اور اپوزیشن سمیت سماج کے تمام طبقات کے لیے ایک لائحہ عمل تجویز کرے۔ اس میں شبہ نہیں کہ اہم ترین کردار حکومت اور پی ٹی آئی کا ہو گا لیکن ان دونوں کو کسی حل پر آمادہ کرنے کے لیے جس سماجی دباؤ کی ضرورت ہے‘ وہ کسی ایسے فورم ہی کی طرف سے ہو سکتا ہے جو قومی ہو اور اس تقسیم سے ماورا ہو۔ حکومت اور اپوزیشن اس میں شامل ہوں مگر فریق کے بجائے ایک نقطہ نظر کی بنیاد پر۔
اعلامیے میں میڈیا پر عائد پابندیاں ختم کر نے کی بات ہوئی ہے جس سے سب کو اتفاق ہو گا۔ اس کے ساتھ مگر ذمہ دار میڈیا کی ضرورت کو نمایاں کرنا بھی ضروری ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ اس وقت جو سیاسی اضطراب ہے‘ اس میں میڈیا کا بھی ایک کردار ہے۔ تعمیری مکالمے کے لیے میڈیا کی طرف سے کم ہی کوئی کوشش کی گئی ہے۔ اسی طرح سوشل میڈیا پر سیاسی جماعتوں کے حامی جو گل کھلا رہے ہیں‘ اسے بھی اس مکالمے کے ایجنڈے کا حصہ بننا چاہیے۔ اس بات سے شاید ہی کوئی اختلاف کرے کہ ماحول کو تلخ بنانے میں ان وی لاگرز کا کردار بنیادی ہے جو سیاسی درجہ حرارت کو کم نہیں ہونے دیتے اور جھوٹی خبریں پھیلاتے ہیں۔
بہتری کا امکان یقیناً ہر کوشش میں ہوتا ہے لیکن اہم بات یہ ہے کہ کسی نے اس طرف قدم تو اٹھایا۔ قومی سطح پر مکالمے کا آغاز فی نفسہٖ خیر کا کام ہے۔ اس فورم کے لیے سب سے اہم کام اپنی ساکھ کا تحفظ ہے۔ اس کی غیر جانبداری اور مثبت انداز اس کو عوامی سطح پر مقبول بنا سکتا ہے۔ اس فورم کی اخلاقی قوت جتنی زیادہ ہو گی‘ یہ حکومت اور اپوزیشن پر اتنا زیادہ دباؤ ڈال سکے گا۔ حکومت کے ساتھ مذا کرات کے لیے اسے کم ازکم بالفعل (de facto) حکومت تو ماننا پڑے گا۔ اسی طرح یہ بات بھی ماننا پڑے گی کہ مکالمہ سیاسی قوتوں ہی کے مابین ہونا چاہیے۔ سول سوسائٹی اقتدار کی سیاست کا حصہ نہیں ہوتی مگر رجحان سازی میں مؤثر کردار ادا کر سکتی ہے۔ اس لیے اسے بھی مکالمے میں شریک ہونا چاہیے۔
فواد چودھری صاحب نے سیاست کی منجمد جھیل میں پتھر پھینکا ہے‘ جس سے پانی میں حرکت کے آثار دکھائی دیے ہیں۔ اسے اب آبِ رواں بنانا اہلِ سیاست کا کام ہے۔ اعلامیے میں فوج سمیت سلامتی کے دوسرے اداروں کے کردار کو سراہا گیا ہے جو یہ دہشت گردی اور مفسدین کے خلاف ادا کر رہے ہیں۔ اس وقت اسی کی ضرورت ہے کہ اہلِ سیاست‘ سیاست کریں اور قوم ملک کے تحفظ کے لیے ان اداروں کے پیچھے کھڑی ہو جائے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں