"KNC" (space) message & send to 7575

خاندان یا بازیچہ اطفال؟

خاندان مسلم تہذیب کی اساس ہے۔ اسے ہم بچوں کا کھیل نہیں بنا سکتے۔
سعودی عرب میں شادی کی قانونی عمر اٹھارہ برس ہے۔ تاہم قانون میں یہ استثنا موجود ہے کہ غیر معمولی حالات میں عدالت اس عمر کو کم کر سکتی ہے۔ ترکیہ‘ متحدہ عرب امارات‘ ملائیشیا‘ انڈونیشیا میں بھی قانون بنا دیا گیا ہے کہ اٹھارہ برس سے کم عمر‘ شادی نہیں کر سکتا الّا یہ کہ اس کے پاس کوئی عذر ہو۔ عذرکے قابلِ قبول ہونے کا فیصلہ حکومت کرے گی۔ سعودی عرب میں علما امورِ ریاست‘ بطورِ خاص قانون سازی میں‘ شریک ہیں۔ ترکیہ میں اسلامی تحریکوں کے محبوب راہنما طیب اردوان کی حکومت ہے۔ میرا حسنِ ظن ہے کہ ان حضرات کی موجود گی میں‘ کم از کم سعودی عرب اور ترکیہ میں قرآن وسنت کے خلاف قانون سازی نہیں ہو سکتی۔
نکا ح کا ادارہ محض جنسی مطالبے کی تکمیل کیلئے نہیں ہے کہ اس کے انعقاد کیلئے صرف جسمانی بلوغت کو کافی سمجھا جائے۔ یہ مسلم سماج کی کئی ضروریات کو سامنے رکھ کر قائم کیا جاتا ہے۔ قرآن مجید اور نبیﷺ نے بتایا ہے کہ خاوند کی ذمہ داریاں کیا ہیں اور بیوی کی کیا۔ ان دونوں کے آغوش میں مسلم تہذیب کے نمائندے نے پرورش پانی ہے۔ بارہ تیرہ سال کی بچی کیا ایک ماں کا کردار نباہ سکتی ہے؟ بارہ برس کا لڑکا‘ کیا جانتا ہے کہ خاندان کی کفالت کیسے ہوتی ہے اور باپ کے فرائض کیا ہیں؟ عقلِ سلیم کیا کہتی ہے؟ کیا اس عمر میں بچوں کو ماں باپ کی ذمہ داری سونپ دینی چاہیے؟ کیا یہ گڈا گڈی کا کھیل ہے؟
اللہ اور اس کے رسولﷺ نے کہیں نکاح کی عمر طے نہیں فرمائی۔ تاہم یہ بتا دیا گیا ہے کہ نکاح کا مقصد کیا ہے۔ فریقین کی ذمہ داریاں کیا ہیں‘ جن کیلئے وہ خد کی عدالت میں جواب دہ ہوں گے۔ مثال کے طور پر ایک خاوند اگر بیوی کا نان نفقہ ادا نہیں کرتا تو اللہ تعالیٰ اس سے سوال کریں گے؟ ایک بیوی اگر خاندانی امور میں سربراہ کی بات نہیں مانتی تو اسے جواب دینا پڑے گا۔ اللہ تعالیٰ نے نکاح کے ساتھ طلاق کے بارے میں بھی جزئیات کے ساتھ احکام دیے ہیں۔ طلاق کیسے دینی ہے‘ اس کا طریقہ قرآن مجید میں بیان ہو گیا ہے۔ یہ بھی بتایا گیا ہے کہ نکاح کی گرہ خاوند کے ہاتھ میں ہے۔ یہ سب باتیں بتائیں لیکن کہیں نکاح کیلئے عمر مقرر نہیں کی۔ دس برس کا بچہ تو اس کی حکمت نہیں سمجھ سکتا لیکن اربابِ حل وعقد تو سمجھ سکتے ہیں۔ ان کو یہ طے کرنا ہے کہ جس فرد کو اتنی بڑی ذمہ داری سونپی جا رہی ہے‘ وہ اس کو ادا کرنے کے قابل ہے یا نہیں۔ یہ ذمہ داری ادا کرنے کی کم ازکم اہلیت کیا ہونی چاہیے؟
حکومت ووٹر کی عمر طے کرتی ہے۔ کیوں؟ حکومت یہ فیصلہ کرتی ہے کہ فلاں ذمہ داری کیلئے بنیادی تعلیم یہ ہو گی۔ ایک نائب قاصد سے لے کر پارلیمان کے رکن اور وزیراعظم سے لے کر صدر تک‘ ہر منصب کی اہلیت طے کی جاتی ہے۔ اس کی حکمت ہم پر واضح ہے۔ اس لیے ہم نے کبھی اس کو چیلنج نہیں کیا۔ ہم جانتے ہیں کہ امورِ جہان بانی بچوں کا کھیل نہیں۔ اس کیلئے اہلیت طے ہونی چاہیے۔ کیا خاندان کا ادارہ حکومت سے کم اہم ہے؟ کیا یہ بچوں کا کھیل ہے؟ عقلِ عام کیا کہتی ہے کہ اسے بازیچہ اطفال بنا دیا جائے؟ شریعت کا مقصد کس سے پورا ہو گا؟
اللہ تعالیٰ نے سیاسی اور سماجی مناصب کیلئے معیارات مقرر کیے ہیں۔ ایک اہلیت کو لازم کہا ہے۔ اس اہلیت کو کہیں ما ہ وسال کے پیمانے میں بیان نہیں کیا گیا۔ عقلِ عام کا تقاضا یہی تھا۔ حالات تبدیل ہوتے ہیں اور ان کی رعایت کو پیشِ نظر رکھا جاتا ہے۔ ہمارے اہلِ علم کو اس کا ادراک ہے۔ یہی سبب ہے کہ انہوں نے ریاست کے باب میں قوانین کی افادیت کو سمجھا ہے اور ان پر کبھی اعتراض نہیں اٹھایا۔ سماج کے بارے میں مگر نجانے کیوں‘ وہ اس تفقہ کو کام میں نہیں لاتے۔ سماجی مناصب کیلئے اہلیت کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔ ہمارے ہاں خاندان کا ادارہ جس توڑ پھوڑ کا شکار ہے‘ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ہم نے خاوند اور بیوی کے منصب کو نہیں سمجھا۔ اسے صرف جسمانی ضرورت کے پہلو سے دیکھا ہے۔
ریاست اور سماج‘ دونوں معاملات میں‘ صحابہ کو اس بات کا سب سے زیادہ ادراک تھا۔ صحابہ کرام میں بھی سیدنا عمرؓ کا ثانی‘ سیدنا ابوبکر صدیقؓ کے علاوہ‘ کوئی نہیں۔ انہیں علامہ اقبال نے اس امت کی تاریخ میں حریتِ فکر کی پہلی آواز قرار دیا۔ انہوں نے سیاست ومعاشرت میں نظمِ اجتماعی کی ذمہ داری کو بہت خوبی کے ساتھ سمجھا۔ انہوں نے زبانِ حال سے بتایا کہ حد کب اور کیسے نافذ ہوگی‘ اس کا فیصلہ حکومت کرے گی۔ طلاق کے انعقاد جیسے معاملے میں بھی قانون سازی کر دی جس پر نص موجود تھی۔ یہ کوئی سوچ بھی نہیں سکتا کہ وہ شریعت کی خلاف ورزی کر سکتے تھے۔ انہوں نے شریعت کر روح کو سب سے بہتر سمجھا۔ یہاں تک کہ نمازِ تراویح کے بارے میں بھی ایک فیصلہ کر دیا۔
اگر ہم سماج کی اہمیت کو سمجھتے ہوں تو یہ جاننے میں کوئی دقت نہیں ہونی چاہیے کہ خاندان کا ادارہ کسی طرح ریاست سے کم اہم نہیں ہے۔ اگر ریاست کی بقا اور سلامتی کیلئے قوانین بن سکتے ہیں تو بدرجہ اولیٰ خاندان کی بہتری اور سلامتی کیلئے بھی قوانین بننے چاہئیں۔ تاہم اربابِ حل وعقد کو اس بات کا ادراک ہو نا چاہیے کہ کہاں کسی حل کا نفاذ بالقوۃ کیا جائے گا اور کہاں نصیحت اور ترغیب کا طریقہ اختیار کیا جائے گا۔ خاندان کی بقا کیلئے‘ کہاں قانون سازی کی ضرورت ہے اور کہاں نصیحت کی۔ اس ضمن میں میری چند تجاویز ہیں:
1۔ شادی کیلئے ایک لڑکے کی یہ اہلیت طے کر دی جائے کہ وہ خاندان کی کفالت کر سکے اور ایک باپ کی ذمہ داری اٹھا سکے‘ جس میں سب سے اہم تربیت ہے۔ لڑکی کیلئے یہ اہلیت مقرر ہونی چاہیے کہ وہ خاوند اور گھر کے رازوں کی حفاظت کر سکے‘ خاندانی ذمہ داریاں نباہ سکے اور ایک اچھی ماں بن سکے۔
2۔ میاں بیوی اور آنے والے بچوں کی جسمانی‘ ذہنی اور اخلاقی صحت کو یقینی بنایا جائے۔ اس کیلئے شادی سے پہلے خون کا ٹیسٹ‘ بنیادی سماجی واخلاقی تعلیم وتربیت کا اہتمام لازمی قرار دیا جائے۔ فریقین کو نکاح وطلاق کے مسائل کاعلم ہو۔
3۔ اگر کہیں استثنا کی ضرورت ہو تو اس کا فیصلہ نظمِ اجتماعی کرے کہ اس کا کوئی جواز موجود ہے یا نہیں اور یہ کہ اس سے خاندان کے قیام کے بنادی مقاصد تو مجروح نہیں ہوں گے۔
اس پر مشورہ ہو کہ کن امور پر قانون سازی ہونی چاہیے اور کون سے معاملات محض ترغیب سے حل ہو نے چاہئیں۔ مفتی محمد شفیع مرحوم شادی کیلئے عمر کی تحدید کو جائز نہیں سمجھتے لیکن وہ اس بات کے قائل تھے کہ کم عمری کی شادی کی حوصلہ شکنی ہو نی چاہیے اور اس کے مفاسد کے بارے میں عوام کو آگاہ کیا جانا چاہیے۔ آج عالمِ اسلام میں قانون سازی ہو رہی ہے۔ کئی مسلم ممالک نے شادی کی کم از کم عمر طے کر دی ہے اور اس میں استثنا کی گنجائش رکھی گئی ہے جیسے سعودی عرب میں ہے۔ کہیں قانون سازی کے ساتھ‘ سماجی تربیت کے پروگرام بھی بنائے گئے ہیں جیسے انڈونیشیا میں علما کے سب سے بڑی تنظیم 'نہضۃ العلما‘ کے حلقہ خواتین 'المسلمات‘ نے سماجی تربیت کا شاندار منصوبہ بنایا ہے۔ علما کی تائید سے واضح ہے کہ ان میں سے کوئی بات خلافِ شریعت نہیں۔ اس کا فیصلہ مقامی حالات اور عقلِ عام کی روشنی میں کیا جانا چاہیے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں