"KNC" (space) message & send to 7575

جنگ اور مذہب

جنگ میں مذہب کا استعمال انسانی تاریخ کے لیے اجنبی نہیں۔ آج کی جنگ بھی اس سے مستثنیٰ نہیں۔
نیتن یاہو نے 28 فروری کو جنگ کا آغاز کیا تو عیدِ قرعہ (Purim) کا حوالہ دیا۔ یہود ہر سال اس دن کو خوشی مناتے ہیں۔ امسال یہ عید دو اور تین مارچ کو منائی جا رہی تھی۔ یہود کی تاریخ کے مطابق 2500 برس پہلے اسی دن قدیم ایران میں یہود کے قتلِ عام کی سازش کی گئی تھی۔ یہ سازش بادشاہ کے وزیر ہامان نے کی۔ یہودی ملکہ آستر اور اس کے چچا مردخائی نے مل کر اس سازش کو ناکام بنایا۔ نیتن یاہو نے جدید ایران کے ساتھ جنگ کو اپنی تاریخ کے ساتھ جوڑتے ہوئے‘ اسے مذہبی رنگ دیا۔
نیتن یاہو نے ایران اور حماس کو عمالیق کی مثل قرار دیا۔ یہ بھی مذہبی حوالہ ہے۔ عمالیق وہ قوم ہے جس نے مصر سے خروج کے بعد اسرائیلوں پر حملہ کیا۔ ان کے ساتھ یہود کا جھگڑا تادیر چلتا رہا۔ عہدِ نامہ عتیق کی کتاب سموئیل۔1 کے مطابق بنی اسرائیل سے کہا گیا کہ وہ انہیں زمین سے مٹا ڈالیں۔ خدا نے ساؤل بادشاہ کو حکم دیا: ''ربّ الافواج یوں فرماتا ہے کہ مجھے اس کا خیال ہے کہ عمالیق نے اسرائیل سے کیا کِیا اور جب یہ مصر سے نکل آئے تو وہ راہ میں ان کا مخالف ہو کر آیا۔ سو اب تُو جا اور عمالیق کو مار اور جو کچھ ان کا ہے سب کو بالکل نابود کر دے اور اُن پر رحم مت کر بلکہ مرد اور عورت‘ ننھے بچے اور شیرخوار‘ گائے بیل اور بھیڑ بکریاں‘ اونٹ اور گدھے سب کو قتل کر ڈال۔ (باب: 15‘ آیات: 2 تا 3)۔ گویا نیتن یاہو کے نزدیک ایرانیوں اور حماس کو مارنا ان کی مذہبی ذمہ داری ہے۔
صدر ٹرمپ کی قیادت میں امریکی بھی پیچھے نہیں رہے۔ انہوں نے بھی مذہب کو خوب استعمال کیا۔ 5 مارچ کو اوول آفس میں ایک خاص گروہ سے تعلق رکھنے والے مسیحی راہنما جمع ہوئے۔ انہوں نے صدر ٹرمپ کے حق میں دعا کی کہ خدا ان پر اپنا سایہ کرے اور وہ فتح سے ہم کنار ہوں۔ امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ تو کھلم کھلا اس جنگ کو مذہبی سمجھتے ہیں۔ انہوں نے تو اپنے جسم پر ٹیٹو بھی کھدوا رکھا ہے۔ یہ حرکت کوئی مذہبی جنونی ہی کر سکتا ہے۔ یہی نہیں 'عسکری مذہبی آزادی فاؤنڈیشن‘ کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں امریکی فوجیوں کی طرف سے ایک سو دس سے زیادہ ایسی شکایتیں موصول ہوئیں جن کے مطابق فوج کے اعلیٰ عہدیداروں نے ان سے یہ کہا کہ وہ ایک خدائی جنگ لڑ رہے ہیں۔ صدر ٹرمپ حضرت مسیح کی طرف سے اس پر مامور ہیں کہ وہ ایران کے خلاف اعلانِ جنگ کریں اور آرمیگڈون کے لیے فضا تیار کریں تاکہ مسیح کی آمدِ ثانی ہو۔ آرمیگڈون وہ آخری معرکۂ حق وباطل ہے جو ان کے نزدیک اس زمین پر حق کی فتح پر منتج ہوگا۔ یہ حضرت مسیح کی قیادت میں لڑا جائے گا۔ یہ فلسطین کی سرزمین پر برپا ہو گا اور اس میں تین ارب کے قریب انسان مار دیے جائیں گے۔ یروشلم سے دو سو میل تک اتنا لہو بہے گا کہ یہ گھوڑوں کی باگوں تک جا پہنچے گا اور وادی انسانوں اور جانوروں کے خون سے بھر جائے گی۔
ایران بھی یہ جنگ مذہبی جذبے کے ساتھ لڑ رہا ہے۔ اثنا عشری شیعہ بھی اپنے بارہویں امام‘ امام مہدی کے انتظار میں ہیں جو قربِ قیامت میں تشریف لائیں گے۔ اس سے پہلے زمین فساد سے بھر جائے گی۔ پھر امام کی قیادت میں دنیا میں حق کی حکومت قائم ہو گی اور ہر طرف انصاف کا دور دورہ ہو گا۔ ان کے نزدیک اس کے لیے فضا تیار ہو رہی ہے۔ دنیا اسی آخری معرکے کی طرف بڑھ رہی ہے۔ موجودہ حکومت نے ایرانی قومیت اور انتظارِ مہدی کے تصورات کو یک جان کر دیا ہے۔ اس باب میں ایرانی قوم یکسو ہے کہ و ہ ایک مذہبی جنگ لڑ رہی ہے۔ یہ معرکہ ہی نہیں‘ اس کی ہر جنگ مذہبی ہے‘ چاہے وہ صدام حسین کے خلاف ہی کیوں نہ ہو۔
گویا تمام فریق حسبِ توفیق اس معرکے کو ایک مذہبی رنگ دے رہے ہیں۔ تینوں ابراہیمی ادیان میں ایک مسیحا کا تصور موجود ہے‘ جو اس زمینی حیات کے اختتام پر نمودار ہوگا۔ وہ خدا کی بادشاہی قائم کرے گا۔ سب کو اسی کا انتظار ہے۔ اس تصور کو ماننے والے اپنے ہر معرکے کو اسی طرح پیش کرتے اور اسی جذبے کے ساتھ لڑتے ہیں۔ سب کو ایک مسیحا کا انتظار ہے؛ اگرچہ کسی کے پاس منتظَر کی آمد کا کوئی حتمی پروگرام موجود نہیں۔ سب نشانیاں بیان کر تے ہیں لیکن کوئی یہ نہیں بتا سکتا کہ وہ فلاں تاریخ کو تشریف لائیں گے۔ اسی طرح اس شخصیت کے بارے میں بھی سب یک زبان نہیں کہ وہ کیسی ہو گی۔ مثال کے طور پر امام مہدی کا تصور سنیوں اور شیعوں‘ دونوں میں موجود ہے لیکن یہ ایک جیسی شخصیت نہیں۔ شیعوں کے مطابق امام مہدی پیدا ہو کر غیبتِ کبریٰ میں چلے گئے اور قیامت سے پہلے ان کا ظہور ہو گا۔ سنیوں کے نزدیک وہ قربِ قیادت میں پیدا ہوں گے۔ اسی طرح مولانا مودودی کا تصورِ مہدی شیعہ سنی علما‘ دونوں سے مختلف ہے۔ تاہم اس ایک بات پر سب متفق ہیں کہ قیامت سے پہلے ایک بڑا معرکۂ حق وباطل ہو گا۔
یہ تمام مذاہب کے جمہور کا مؤقف ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ یہ کوئی اجتماعی عقیدہ ہے۔ اس کی تفصیلات میں بہت اختلاف ہے۔ مثال کے طور پر مسیحیوں کا ایک طبقہ جنہیں 'مسیحی صہیونی‘ کہا جاتا ہے‘ وہ اس معرکے کو آرمیگڈون قرار دے رہے ہیں لیکن کیتھولک اس کے مخالف ہیں۔ جب امریکی وزیر دفاع نے ایران کے ساتھ جنگ کو مذہبی رنگ دینا چاہا تو عالمِ مسیحیت کے سب سے بڑے راہنما پوپ لیو نے جرأت مندانہ مؤقف اختیار کرتے ہوئے اس دعوے کو رد کیا اور یہ کہا کہ ایران‘ امریکہ اور اسرائیل کی جنگ ظالمانہ ہے اور اس کے جواز کے لیے حضرت مسیح کا نام استعمال نہ کیا جائے۔ انہوں نے بائبل کی ایک آیت بھی سنائی کہ جو جنگ مسلط کرتے ہیں‘ جن کے ہاتھ خون سے رنگین ہیں‘ خدا ان کی دعا کو نہیں سنتا۔ وہ ان کو مسترد کرتا ہے۔ اسی طرح مسلمان اہلِ علم میں ابن خلدون اور علامہ اقبال جیسی شخصیات بھی مسیحا کی آمد کے تصور کو مسلم فکر کے لیے اجنبی قرار دیتے ہیں۔ مسلم تاریخ میں کئی لوگوں نے امام مہدی ہونے کا اعلان کیا لیکن مسلمانوں نے ان کے دعوے کو قبول نہیں کیا۔
بظاہر لگتا ہے کہ عالمِ انسانیت‘ مجموعی طور پر اس جنگ کو مذہبی قرار دینے پر آمادہ نہیں۔ اکثریت صدر ٹرمپ کی ناقد ہے اور انہیں مجرم سمجھتی ہے۔ یہ مؤقف مگر مذہبی بنیادوں پر نہیں‘ عام انسانی اخلاقیات اور عقل کی اساس پر اپنایا گیا ہے۔ اسی طرح اسرائیل کے مظالم پر بھی کم وبیش اجماع ہے۔ اس کی بنیادیں بھی وہی غیر مذہبی ہیں۔ مسلمانوں میں شیعہ سنی اختلاف اس جنگ کو مذہبی رنگ دینے میں مانع ہے۔ عملاً عالمِ اسلام اس جنگ سے لاتعلق ہے۔ عرب وعجم کے تعصبات اس جنگ کو بھی اپنی لپیٹ میں لیے ہوئے ہیں۔ قرآن مجید نے یہود کے بارے میں یہ پیشگوئی کی ہے کہ وہ قیامت تک حضرت مسیح کے ماننے والوں کے زیرِ دست رہیں گے۔ اس جنگ نے ایک بار اس کو ثابت کیا ہے۔ ساری دنیا نے دیکھ لیا کہ اگر امریکہ اسرائیل کی پشت پر نہ ہو تو اس کے وجود کو مٹانے کے لیے ایران ہی کفایت کرتا ہے۔ تاہم اگر وہ نافرمانی سے باز آئیں‘ توبہ کریں تو اللہ تعالیٰ کی رحمت ان کو بھی خوش آمدید کہے گی۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں