"KNC" (space) message & send to 7575

پاکستان زندہ باد

عزت اور ذلّت کے فیصلے آسمانوں پر ہوتے ہیں۔ قسامِ ازل نے عزت پاکستان کے حصہ میں لکھ دی۔ وزیراعظم شہباز شریف‘ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور جناب اسحاق ڈار سرخرو ہوئے۔ الحمدللہ!
اللہ تعالیٰ کا اعلانِ عام ہے: جس نے ایک انسان کی جان بچائی‘ اس نے پوری انسانیت کی جان بچائی۔ جنگ بندی کے اعلان نے اَن گنت جانوں کو بچا لیا۔ یہ معمولی کارنامہ نہیں۔ خدا کے اس اعلان پر لاکھوں نوبیل انعام قربان۔ بظاہر جنگ کے بادل چھٹ گئے۔ پروردگار سے دعا ہے کہ وہ جنگ بندی کے اس اعلان کو دائمی امن کا مقدمہ بنا دے۔ فریقین کو اپنے وعدے نبھانے کی توفیق دے۔ دنیا کو فسادیوں سے نجات دے۔ ہم ایک نیا مشرقِ وسطیٰ دیکھیں جس میں امن ہو اور اس کے نتیجے میں اہلِ فلسطین کو بھی عزت اور وقار کے ساتھ اپنے وطن میں رہنا نصیب ہو۔
اللہ تعالیٰ نے اپنے فیصلوں کو عالمِ اسباب سے جوڑ رکھا ہے۔ اسے وہ اپنی سنت کہتے ہیں جسے کوئی تبدیل نہیں کر سکتا۔ اس سنت کے مطابق دعا کی قبولیت کیلئے لازم ہے کہ انسان پہلے مقصد کے حصول کیلئے جان لڑا دے۔ پاکستان کی قیادت نے اس شرط کو پورا کیا۔ ملامت کرنے والوں کی ملامت سے بے نیاز ہو کر‘ نرگسیت اور اَنا کی رکاوٹوں کو عبور کرتے ہوئے‘ ہمارے راہنماؤں نے دن رات ایک کر دیے۔ امید کا دامن ہاتھ سے جانے نہ دیا۔ ایک ایک لفظ ناپ تول کر ادا کیا۔ جب دعا کی قبولیت کی شرطیں پوری ہو گئیں تو بشارت آ گئی۔
اس جنگ بندی سے کون خوش ہوا؟ دنیا کے تمام امن پسند۔ پاکستان سے محبت رکھنے والے‘ جو اس ریاست کے شہری ہیں یا وہ جو دنیا کے مختلف خطوں میں آباد ہیں۔ ان بستیوں کے مکین جن کی فضائیں جنگ کے بادلوں سے اَٹی تھیں۔ اس سے ناخوش کون ہیں؟ وہ جو فسادی ہیں۔ جن کے مفادات جنگوں سے وابستہ ہیں۔ جو انسانی جان کی حرمت کے قائل نہیں۔ اسرائیل‘ جس نے اپنے ناجائز وجود کی بقا کیلئے امریکہ کو اس جنگ میں جھونکا اور انسانی لہو جس کے منہ کو لگ چکا۔ بھارت‘ جسے پاکستان کی کامیابی ایک آنکھ نہیں بھاتی‘ جو مسلسل انگاروں پر لوٹ رہا ہے کہ اللہ نے پاکستان کو یہ عزت کیوں دی۔ پاکستان کے بدخواہ‘ وہ جو ملک کے اندر ہیں یا باہر۔ شہباز شریف صاحب اور عاصم منیر صاحب کی نفرت میں اندھا ہو جانے والا وہ طبقہ جو ایک کلٹ کی اسیری میں ہر اخلاقی قدر اور قومی مفاد کو بھلا چکا۔
یہ آسان کام نہیں تھا۔ خارجہ امور کے محاذ پر ایک حکیمانہ جنگ لڑی گئی۔ صدر ٹرمپ کا اعتماد حاصل کیا گیا کہ بالآخر فیصلہ انہی کے ہاتھ میں تھا۔ ان کی نفسیات کے گہرے مطالعے کے بعد‘ ایک ایک قدم اٹھایا گیا۔ پنجابی محاورے کے مطابق‘ جس نے منہ سے کتے باندھ رکھے ہوں‘ اس کی زبان سے اپنے لیے کلمۂ خیر نکلوانا آسان نہیں ہوتا۔ جو جھوٹ سچ میں تمیز کا قائل نہ ہو‘ اسے کسی معاہدے کیلئے یکسو کرنا جان جوکھوں کا کام ہے۔ اس میں شبہ نہیں کہ ایران نے بھی اسے ناکوں چنے چبوا دیے تھے لیکن ایک نرگسیت پسند‘ مایوسی اور غصے میں کوئی بڑی حماقت کر سکتا تھا۔ پاکستانی قیادت نے لوگوں کی باتیں سنیں‘ سطحی ذہن کے جذبات فروشوں کے طعنے برداشت کیے اور آخرکار اسے جنگ بندی پر آمادہ کر لیا۔
اس حکمتِ عملی کا دوسرا اہم پہلو عربوں اور ایران کے مابین براہِ راست تصادم کو روکنا تھا۔ اس باب میں ایرانی قیادت‘ بالخصوص پاسدارانِ انقلاب نے حکمت کا مظاہرہ نہیں کیا۔ پاکستان کو مگر دونوں کا اعتماد میسر رہا۔ ایرانی صدر‘ سپیکر اور وزیر خارجہ نے مذہبی راہنماؤں کے مقابلے میں زیادہ بصیرت کا مظاہرہ کیا اور صورتِ حال کو سمجھا۔ انہیں ایک طرف اپنے ملک کے وقار کو بچانا تھا اور دوسری طرف خود کو ایک شریر کے شر سے بھی محفوظ رکھنا تھا۔ انہوں نے پاکستان کی مخلصانہ کوششوں کا ساتھ دیا‘ اس کے باوجود کہ پاکستان میں موجودان کے نادان دوستوں نے ایران کو بے پناہ نقصان پہنچایا۔ ان کی طرف سے کسی اظہارِ ندامت کا امکان تو نہیں مگر اب انہیں یہ بات یقینا سمجھ آ گئی ہو گی کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر صاحب کے لہجے میں تلخی کیوں تھی۔ جو آدمی ایران کی خیر خواہی میں دن رات ایک کیے ہو‘ اس کو اگر ایران مخالف ثابت کیا جائے تو اس کی ناراضی کو بلاجواز نہیں کہا جا سکتا۔
اس پیش رفت کے بعد‘ کیا یہ کہا جا سکتا ہے کہ جنگ کا خطرہ ہمیشہ کیلئے ٹل گیا؟ اس وقت اس کا جواب اثبات میں دینا ممکن نہیں؛ اگرچہ امید غالب ہے۔ سب سے بڑا خدشہ تو اسرائیل کی طرف سے ہے جو چاہے گا کہ امریکہ ایران کے ساتھ کسی معاہدے کی طرف نہ بڑھے۔ اسی خطرے کو توسیع دیتے ہوئے‘ صہیونیوں کے ساتھ ان صہیونی مسیحیوں کو بھی اس میں شامل کر لیں جو امریکہ کے شہری ہوتے ہوئے‘ امریکہ سے زیادہ اسرائیل کے خیر خواہ اور مذہبی جنونی ہیں۔ صدر ٹرمپ کے داماد بھی ان میں شامل ہیں۔ دوسرا خطرہ صدر ٹرمپ خود ہیں‘ جو کسی قانون اور اخلاقی قدر کے پابند نہیں ہیں۔ ان سے کسی بھی وقت توقع کی جا سکتی ہے کہ وہ معاہدے کی کسی شق کو پامال کر دیں۔ تیسرا خطرہ ایران کے انتہا پسند ہیں جو توسیع پسند عزائم کے ساتھ حکمت سے زیادہ جذبات سے کام لیتے ہیں۔ چوتھا خطرہ امریکہ کے ان مخالفین کی طرف سے ہے جو ایران کو امریکہ کیلئے افغانستان بنانا چاہتے ہیں تاکہ امریکہ کی ناک رگڑی جائے اور عالمی قوت کا بھرم ختم ہو۔ انہیں اس سے دلچسپی نہیں کہ ایران‘ افغانستان کی طرح اس کی کیا قیمت ادا کرے گا۔
یہ خدشات یقینا دنیا کی نظر میں ہوں گے۔ پاکستان معاملات کو یہاں تک لے آیا ہے۔ اب دنیا کے امن پسندوں کا کام ہے کہ ان خدشات پر قابو پانے کیلئے اپنا حصہ ڈالیں۔ اس میں سب سے اہم کردار یورپ اور نیٹو کے رکن ممالک کا ہے۔ اب تک ان کا طرزِ عمل سب سے حکیمانہ اورنسبتاً قرینِ انصاف رہا ہے۔ انہوں نے صدر ٹرمپ کی جلی کٹی برداشت کیں لیکن خود کو اس جنگ میں جھونکنے سے انکار کیا۔ ان ممالک کو پاکستان کا ساتھ دینا چاہیے تاکہ یہ جنگ بندی مستقل ہو۔ پاکستان کی خارجہ پالیسی کا اگلاہدف یہ ہونا چاہیے کہ یورپ اور روس کو جنگ بندی کے اس عمل کا متحرک کردار بنایا جائے۔ اس کے ساتھ یہ کوشش کی جائے کہ امریکہ کے سمجھ دار لوگ آگے آئیں تا کہ صدر ٹرمپ صہیونی لابی کے زیرِاثر مزید کوئی حماقت نہ کر بیٹھیں۔
آج وقت کی اہم ترین ضرورت جنگ بندی تھی۔ اللہ کا شکر ہے یہ مرحلہ طے ہوا۔ ایک کٹھن کام جو باقی ہے‘ وہ مشرقِ وسطیٰ میں پائیدار امن کا قیام ہے۔ اس پر ان شاء اللہ تفصیلاً لکھوں گا۔ مختصراً یہ کہا جا سکتا ہے کہ اس کیلئے تین اقدام لازم ہیں۔ ایک یہ کہ مشرقِ وسطیٰ کے سب ممالک پُرامن بقائے باہمی کیلئے ایک معاہدہ کریں اور اپنے دفاع کیلئے امریکہ سمیت سب خارجی قوتوں پر انحصار ختم کریں۔ اس باب میں پاکستان ان کا معاون اور ثالث بالخیر ہو سکتا ہے جس پر سب کو اعتماد ہے‘ جو مشرقِ وسطیٰ کی قیادت کے جھگڑے میں فریق نہیں۔ دوسرا یہ کہ ایران مشرقِ وسطیٰ میں اپنی پراکسیز کو ختم کرے اور کسی دوسرے ملک کے معاملات میں مداخلت نہ کرے۔ اس کیلئے ضروری ہے کہ ایران داخلی سطح پر قیادت کی تطہیر کے عمل سے گزرے۔ تیسرا یہ کہ مسلم ممالک اسرائیل کے بارے میں ایک قابلِ عمل اور حقیقت پسندانہ حکمتِ عملی پر اتفاق کریں تاکہ فلسطینیوں کی ایک خودمختار ریاست وجود میں آ سکے۔ دعا ہے کہ جنگ بندی مستقل ہو۔ پاکستان نے امن کیلئے ایک تاریخ ساز کردار ادا کیا اور ہماری قیادت نے قوم کا سر فخر سے بلند کر دیا۔ اس پر وہ تحسین کی مستحق ہے۔ پاکستان زندہ باد!

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں