''مذاکرات فلاں نے کیوں کیے؟ یہ تو فلاں کو کرنے چاہئیں‘‘۔ ''پہلے تو ملک میں ہونے والی ناانصافی کا ازالہ کریں اس کے بعد دنیا میں ثالثی کریں‘‘۔ ''ملک میں اتنے لوگ مار دیے گئے اور آپ مشرقِ وسطیٰ میں جانیں بچا رہے ہیں‘‘۔ ''یہ کیسی دانش ہے جو ملک میں ہونے والے مظالم پر خاموش رہتی اور باہر کے ظلم پر شمشیرِ برہنہ بن جاتی ہے‘‘۔
یہ سوالات ایک طبقے کی طرف سے اٹھائے جاتے ہیں۔ بظاہر یہ پاکستان کی حالیہ کامیابی کو گہنانے کی ایک شعوری کوشش ہے۔ اس طبقے کے لیے اس کامیابی کو ہضم کرنا مشکل ہے ا ور انکار اس سے زیادہ مشکل۔ نہ جائے ماندن‘ نہ پائے رفتن۔ انکار آپ کے عقل وخرد پر سوالیہ نشان ہے اور اقرار سیاسی مؤقف پر۔ ان کی اس مشکل کو پس منظر میں رکھتے ہوئے‘ ان سوالات کا تجزیہ لازم ہے۔ بعض سوالات‘ ہو سکتا ہے کہ سنجیدگی کے متقاضی ہوں اور انہیں اس وجہ سے نظر انداز نہیں کرنا چاہیے کہ یہ سیاسی مایوسی کا بیانیہ ہے۔ دانش کو خود احتسابی کرنی چاہیے اور داخلی سیاست کا جائزہ بھی لیا جانا چاہیے۔
آج ملک میں جو نظام قائم ہے‘ یہ مروجہ معنوں میں جمہوری نہیں ہے۔ ایک جمہوری نظام میں معیشت ہو یا سیاست‘ باگ سیاسی قیادت کے ہاتھ میں ہوتی ہے۔ وہی پالیسی ساز ہے اور قوتِ نافذہ بھی اسی کے پاس ہے۔ یہاں ایسا نہیں ہے۔ یہ ایک ہائبرڈ نظام ہے۔ اس میں قوت واختیار کا مرکز ایک نہیں ہے۔ وحدت نہیں تعدد ہے۔ جمہوریت متقاضی ہے کہ فیصلے کا حق عوام کے منتخب نمائندوں کے ہاتھ میں ہو۔ یہ مثالیت پسندی ہے۔ 'چاہیے‘ کی حد تک مجھے بھی اس سے اتفاق ہے۔ امرِ واقعہ مگر یہ ہے کہ کچھ ریاستی ادارے پارلیمان سے زیادہ طاقتور ہیں۔ دنیا بھی اُنہی کو مانتی ہے۔ برسبیلِ تذکرہ‘ پاکستان میں کبھی مثالی جمہوریت نہیں رہی۔ بعض وزرائے اعظم کا قد کاٹھ ایسا تھا کہ وہ سیاسی منظر نامے پر نمایاں دکھائی دیے۔ 'یہ صنّاعی مگر جھوٹے نگوں کی ریزہ کاری ہے‘۔ واقعہ یہ ہے کہ ہم ایک ہائبرڈ نظام ہی میں جیتے رہے ہیں۔ جو آج اس کے سب سے بڑے ناقد ہیں‘ ان کا عہدِ اقتدار اس کی بدترین مثال ہے۔ جو شخص وزیراعظم ہوتے ہوئے اپوزیشن سے ملنا پسند نہ کرے اور پارلیمان میں موجود سیاسی جماعتوں سے براہ راست بات کرنے کے بجائے ان سے رابطے کا کام ریاستی اداروں کے کارکنوں کے سپرد کر دے‘ اس کے حامیوں کو تو زیبا نہیں کہ وہ اس ہائبرڈ نظام کے خلاف آواز اٹھائیں۔
حکومت اسی کی تسلیم کی جاتی ہے جس کے پاس قوتِ نافذہ ہو۔ اقتدار کی سیاست اصول پر نہیں‘ حقائق کی بنیاد پر کھڑی ہوتی ہے۔ اسی کو تسلیم کرتے ہوئے آگے بڑھنا ہوتا ہے۔ آج تحریک انصاف کو بھی اسی عدالتی نظام سے رجوع کرنا ہے۔ اسی جیلر سے مراعات کے لیے درخواست کرنی ہے جو اس منصب پر تعینات ہے۔ گویا پی ٹی آئی نے زبانِ حال سے اس نظام کو قبول کیا ہوا ہے۔ اب اسی نظام نے دنیا کے سامنے بھی پاکستان کی نمائندگی کرنی ہے۔ اسی کے فیصلے‘ پاکستان کے فیصلے ہیں۔ اس پر یہ سوالات اٹھانا بے وقت کی راگنی ہے کہ فلاں نے مذاکرات کیوں کیے اور فلاں نے کیوں نہیں۔ دنیا آج افغانستان میں طالبان سے معاملہ کر رہی ہے۔ قانون کی زبان میں بات کریں تو اس حکومت کی کوئی اخلاقی اور قانونی بنیاد نہیں۔ ان کی حکومت مگر بالفعل قائم ہے اور قوتِ نافذہ رکھتی ہے۔ اس لیے اس موقع پر اس نوعیت کے سوالات کی کوئی عملی افادیت نہیں۔
رہی بات ناانصافیوں کی تو اس پر آواز اٹھانی چاہیے مگر انہیں بھی خارجہ پالیسی سے نتھی کرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔ اگر اس بات کو سچ مان لیا جا ئے کہ ناانصافی ہو رہی ہے تو کیا اس وجہ سے مشرقِ وسطیٰ میں امن کی کوشش نہیں کرنی چاہیے؟ کیا وہاں قتلِ عام روکنے کے لیے کوئی کردار ادا نہیں کرنا چاہیے؟ اس کو خلطِ مبحث کہا جاتا ہے۔ یہ دو الگ معاملات ہیں اور انہیں الگ الگ ہی دیکھنا چاہیے۔ ہمیں اگر موقع ملا ہے کہ ہم جنگ کو روک کر عام لوگوں کی زندگی بچا سکتے ہیں تو ہمیں اس کے لیے بھرپور کردار ادا کرنا چاہیے۔ اس کے ساتھ اگر پاکستان میں بے گناہوں کا خون بہایا جاتا ہے تو اس کے خلاف بھی ضرور آواز اٹھانی چاہیے۔ یہاں صرف اتنی گزارش ہے کہ ہر معاملے کو اس کی جگہ رکھ کر سمجھنا جائے۔
اس الزام میں مگر کتنی حقیقت ہے کہ آج کل پاکستان میں بے گناہوں یا حکومت مخالفین کو قتل کیا جا رہا ہے؟ میری معلومات کی حد تک یہ محض الزام ہے جس کا کوئی ثبوت نہیں۔ ہر دورِ حکومت میں‘ جب امن وامان کا مسئلہ پیدا ہو جائے اور ریاست کو بالقوت چیلنج کیا جائے تو ریاست طاقت کا استعمال کرتی ہے۔ اس نوعیت کے واقعات ہر دور میں ہوتے ہیں۔ حالیہ دنوں میں کراچی یا اسلام آباد میں امریکی سفارتخانے یا قونصلیٹ پر حملہ ہوا۔ بینظیر بھٹو صاحبہ کے دور میں‘ جب اعتزاز احسن صاحب وزیر داخلہ تھے تو اسلام آباد میں ایسا ہی واقعہ ہوا۔ اسی طرح وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا بھی اسلام آباد پر چڑھ دوڑے۔ ان واقعات کی روک تھام کے لیے ریاست نے جوابی کارروائی کی تو اس میں انسانی جانیں گئیں۔ ایک انسان کی جان کا جانا یقینا ایک افسوسناک واقعہ ہے لیکن اس سے یہ نہیں کہا جا سکتا کہ ریاست شہریوں کا قتلِ عام کر رہی ہے۔ بستیوں کو فساد سے بچانا بھی لازم ہوتا ہے کہ یہ انسانی جان کی حرمت کا تقاضا ہے۔ احتجاج یا سیاسی آزادی جب فساد بن جائے تو ریاست کو اقدام کرنا پڑتا ہے۔ یہ ممکن ہے کہ کہیں حدود سے تجاوز ہوا ہو۔ اس کی تحقیقات ہونی چاہیے لیکن اس سے یہ نتیجہ اخذ کرنا کہ ملک میں ظلم کاکوئی نظام نافذ ہے‘ مبالغہ ہے۔
پھر یہ کہ ایسے واقعات کی ہمیشہ ایک سے زیادہ تعبیریں ہوتی ہیں۔ یہ تاریخ میں ہوا ہے اور آج بھی ہوتا ہے۔ اس میں کسی ایک فریق کے مؤقف کو بلاتحقیق‘ امرِ واقعہ کا بیان قرار نہیں دیا جا سکتا۔ 2014ء کے دھرنے میں عمران خان صاحب نے اعلان کیا کہ اتنی لاشیں پمز میں پڑی ہیں۔ ہم جانتے ہیں کہ اس دھرنے میں خون کا ایک قطرہ نہیں بہا۔ میں اس پر اللہ کا شکر ادا کرتا ہوں۔ کچھ لوگ چاہتے تھے ایسا ہو اور اس کے لیے مسلح لوگ طاہر القادری صاحب کے دھرنے میں موجود تھے جو ایک مسلح مذہبی گروہ کے کارکن تھے۔ وزیر داخلہ چودھری نثار علی خاں صاحب نے ان کے راہنما کوبلا کر متنبہ کیا اور انہیں وہاں سے اٹھانے کے لیے الٹی میٹم دیا۔ اگر وہ ایسا نہ کرتے تو آج ریاست کے نامۂ اعمال میں معلوم نہیں کیا رقم ہو تا اور نواز شریف صاحب اسی وقت فارغ ہو چکے ہوتے۔ میرا کہنا یہ ہے کہ ایسے واقعات کو بنیاد پر بنا کر‘ جن کی ایک سے زیادہ تعبیرات ہوں‘ یہ رائے دینا کہ ملک میں قتلِ عام ہو رہا ہے اور دانشور اس پر بات نہیں کرتے‘ مبالغہ آمیزی ہے جس کی کوئی اخلاقی اور قانونی بنیاد نہیں۔ یہ لازم نہیں کہ آپ ایک واقعے کی جس تعبیر کو درست سمجھ رہے ہیں‘ دوسرا بھی ایسا ہی سمجھتا ہو۔
یہی وہ بیانیہ ہے جو پاکستان میں کسی سیاسی عمل کو آگے نہیں بڑھنے دیتا۔ اس نظام کے مخالفین جب اقتدار کی سیاست کر رہے ہیں تو اخلاقیات اور اصول کا مصنوعی چولا اتار کر سیاسی حقائق سے ہم کلام ہوں۔ ہائبرڈ نظام آپ کے لیے اجنبی نہیں‘ اس سے حجاب کیسا؟
تو خدا ہے نہ مرا عشق فرشتوں جیسا
دونوں انساں ہیں تو کیوں اتنے حجابوں میں ملیں