ملامتی

کیا آپ جانتے ہیں کہ ملامتیہ کون ہیں؟ ملامتی صوفی وہ ہیں جو اپنے نیک اعمال مخلوق سے چھپاتے ہیں۔ وہ لوگوں کے سامنے کبھی کبھی ایسے خلافِ شریعت کام کرتے ہیں جو عوام کو ان سے بدظن کر دیں۔ ایک لحاظ سے یہ ریاکاری کا توڑ ہے۔ ایک انتہا یہ ہے کہ نیک اعمال دوسروں کو دکھانے کے لیے کیے جائیں۔ جیسے کچھ حضرات حج کرنے کے بعد اپنے نام کے ساتھ الحاج لکھنا شروع کر دیتے ہیں۔ کچھ ''برسبیل تذکرہ‘‘ بتاتے ہیں کہ وہ قیام اللیل کرتے ہیں۔ بعض اہلِ ثروت کسی غریب مسکین کی مدد کریں تو تصویر بنواتے ہیں جو میڈیا میں شائع ہوتی ہے۔ یہ سب ریاکاری کی صورتیں ہیں۔ اس کے مقابلے میں دوسری انتہا ملامتی حضرات ہیں جو نہ صرف اپنی نیکیوں کو پوشیدہ رکھتے ہیں بلکہ اپنے بارے میں پھیلائی گئی غلط فہمیوں کے متعلق کسی قسم کی وضاحت تک نہیں پسند کرتے۔ الٹا کوشش کرتے ہیں کہ لوگ انہیں گنہگار سمجھیں! یہ طرزِ عمل درست ہے یا ناروا، اس کے بارے میں رائے دینا ہمارا منصب نہیں۔ یہ معاملہ ان کے اور ان کے پروردگار کے درمیان ہے۔
کیا آپ نے کسی ملامتی صوفی کو اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے؟ غالباً اس کا جواب نہیں سے دیں گے۔ اگر آپ کو یہ بتایا جائے کہ آپ ملامتی صوفیا کو ٹیلی ویژن پر اور اخبارات کی تصویروں میں، اکثر و بیشتر دیکھتے ہیں تو حیران ہرگز نہ ہوں۔ ہمارے حکمران دراصل فرقۂ ملامتیہ سے تعلق رکھتے ہیں۔ یہی تو وہ ملامتی بزرگ ہیں جو اپنے اعمالِ صالحہ کو اِخفا میں رکھتے ہیں اور لوگوں کو یہ تاثر دیتے ہیں کہ وہ نیکیاں نہیں کرتے۔
وزیر اعظم کی مثال لے لیجیے۔ میڈیا میں حشر برپا ہے کہ اڑھائی سالہ اقتدار کے دوران آپ نے 65 غیر ملکی دورے کیے جن پر 64 کروڑ روپے خرچ ہوئے۔ چھ سو سے زیادہ افراد ان کے ہمراہ گئے۔ سترہ دورے صرف لندن کے تھے۔ میڈیا یہ تاثر دے رہا ہے کہ یہ دورے وزیر اعظم نے بیت المال کے خرچ پر کیے۔ وزیر اعظم صاحب سب کچھ سن رہے ہیں، زیر لب مسکرا رہے ہیں، وضاحت نہیں کرتے ع
ہم ہنس دیے، ہم چپ رہے، منظور تھا پردہ ترا
اگر ان کا کوئی ترجمان وضاحت کر دیتا کہ خاندان کے افراد کا خرچ وزیر اعظم صاحب نے ذاتی جیب سے اٹھایا، یا یہ کہ لندن کے سترہ دورے سارے کے سارے سرکاری کام سے نہیں کیے تو عوام وزیر اعظم کی تعریف کرتے۔ غالباً دنیا کے کسی بھی اور سربراہِ حکومت نے اس اثنا میں لندن کو اتنی بار نہیں نوازا۔ مگر وزیر اعظم صاحب یہی سوچتے ہیں کہ آخر لوگوں کو اصل بات بتا کر کیوں اپنے آپ کو نیکو کاروں میں شامل کریں۔
اسی طرح عوام سوچتے ہیں اور کچھ تو برملا پوچھتے ہیں کہ وزیر اعظم لاہور اور اسلام آباد کے درمیان موٹروے پر سفر کرتے ہیں تو کیا ٹول ٹیکس خود ادا کرتے ہیں یا یہ بھی بیت المال کے ذمے ہوتا ہے؟ حاشا وکلّا۔ عوام وزیر اعظم صاحب کا محاسبہ نہیں کر رہے، ایک نیب ہی وزیراعظم صاحب کو مضطرب کرنے کے لیے کافی ہے۔ عوام کیوں ایسا کریں! وہ تو صرف یہ جاننا چاہتے ہیں کہ کیا وزیر اعظم کو معلوم ہے کہ لاہور اسلام آباد کے درمیان موٹروے کا ٹول ٹیکس، موجودہ حکومت سے پہلے اڑھائی سو روپے سے بھی کم تھا، اب پانچ سو روپے سے بھی بڑھ چکا ہے۔ اب تو عوام کا رُخ جی ٹی روڈ کی طرف ہے۔ آخر وہی شیر شاہ سوری کام آ رہا ہے جو جی ٹی روڈ کی بنیاد ڈال گیا تھا۔ ''ذہین‘‘ حکومت آمدنی زیادہ کرنے کے لیے ٹول ٹیکس بڑھاتی جا رہی ہے۔ مسافروں کی تعداد کم ہو رہی ہے۔ ٹیکس کچھ دنوں بعد مزید بڑھا دیا جاتا ہے۔ اگر آپ نے دارالحکومت سے فتح جنگ جانا ہو تو اس سفر میں سے صرف پانچ منٹ کا حصہ موٹروے پر گزرتا ہے، اس پانچ منٹ سفر کا ٹول ٹیکس چالیس روپے ہے۔ مگر حیرت یہ ہے کہ واپسی پر اسی سفر کے پچاس روپے لیے جاتے ہیں۔ یعنی ایک طرف چالیس روپے، دوسری طرف اسی فاصلے کے پچاس روپے۔ یہ صرف ایک مثال ہے ورنہ رنجیت سنگھ کا دورِ حکومت قدم قدم پر یاد آنے کے متعدد اسباب اور بھی ہیں ع
پاسباں مل گئے کعبے کو صنم خانے سے
جناب آصف زرداری کی بے گناہی کی گواہی اب خود حکومتی کیمپ دینے لگا ہے۔ پنجاب کے وزیر قانون نے نیب پر طنز کیا ہے 
کہ اتنے سال لگے رہے مگر زرداری صاحب کے خلاف کچھ نہیں نکلا۔ وزیر قانون نے متنبہ کیا ہے کہ نیب کے طرزِ عمل کی وجہ سے اگر سرمایہ کار چلے گئے تو ملک میں سرمایہ کاری کون کرے گا؟ غالباً وزیر صاحب کا اشارہ حکمران خاندان کی طرف ہے جن کی سرمایہ کاری جدہ، لندن اور دوسرے ملکوں میں ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا ہے کہ ملک اس طرح نہیں چل سکتا۔ اصل میں سارا مسئلہ ہی یہ ہے کہ جس طرح موجودہ حکومت ملک کو چلانا چاہتی ہے، اس طرح ملک چلانے نہیں دیا جا رہا۔ اس رکاوٹ کی ایک اور مثال عدلیہ ہے۔ لاہور ہائی کورٹ نے کہا ہے کہ بچیوں کی عزتیں لوٹی جا رہی ہیں مگر حکومت کی ترجیح شہریوں کے جان و مال اور عزت و آبرو کی حفاظت کے بجائے صرف اورنج ٹرین منصوبے اور پل بنانا رہ گیا ہے۔ کیا ہی اچھا ہو اگر پنجاب کے وزیر قانون نیب کے ساتھ ساتھ، عدلیہ کو بھی کھری کھری سنائیں۔ آخر کوئی تو ہو جو عدلیہ کو بھی بتائے کہ حکومت کا کام عزتوں کی حفاظت کرنا نہیں، نہ ہی ڈاکے چوریاں، قتل، بھتہ خوری اور اغوا برائے چالان کو روکنا ہے۔ یہ تو عوام کا اپنا دردِ سر ہے۔ حکومت کا کام تو ٹرینیں چلانا اور پل بنانا ہے۔ اب تو ہماری حکومت کے نیک اعمال کی گواہی پوپ نے بھی دے دی ہے۔ ہوا یہ کہ امریکی ری پبلکن پارٹی کے صدارتی امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ نے دھمکی دی کہ وہ اقتدار میں آیا تو میکسیکو اور امریکہ کے درمیان سرحد پر دیوار تعمیر کروا دے گا تاکہ تارکین وطن کی روک 
تھام ہو سکے۔ اس پر پوپ فرانسس نے اس کی مذمت کی اور کہا کہ دیواریں کھڑی کرنے کے بجائے اسے پُل تعمیر کرنے کی فکر ہونی چاہیے۔ یہ درست ہے کہ پوپ کی مراد پُل تعمیر کرنے سے یہ ہے کہ لوگوں کے درمیان نفرتیں اور دُوریاں کم کی جائیں۔ مگر بات سے بات تو پھر نکلتی ہے۔ ایک کسان کھیت میں ہل چلا رہا تھا۔ قریب سے اس کا دوست گزرا۔ اس نے کہا السلام علیکم! کسان نے جواب دیا کہ پھر تم نے اپنی بہن کی شادی پر مجھے تو دعوت نہیں دی تھی نا! سلام کرنے والے نے حیرت سے پوچھا کہ میں نے سلام دیا تو تم نے کیا بات شروع کر دی۔ اس پر وزیر نے، نہیں معاف کیجیے، وزیر نے نہیں، کسان نے جواب دیا کہ بات سے بات تو پھر اسی طرح نکلتی ہے؛ چنانچہ حکومتی شعبۂ تشہیر کو پوپ کے اس بیان سے ضرور فائدہ اٹھانا چاہیے۔ آخر پل بنانے کی تعریف تو پوپ نے کر ہی دی ہے۔
پس تحریر: مصر کے مشہور صحافی محمد حسنین ہیکل انتقال کر گئے ہیں۔ ایک معاصر نے(روزنامہ دنیا نہیں) اس ضمن میں ایک کنفیوژن پھیلائی ہے۔ اس نے عالمی شہرت یافتہ کتاب ''حیاتِ محمد‘‘ کا مصنف حسنین ہیکل کو قرار دیا ہے۔ ہماری معلومات کے مطابق اس کتاب کے مصنف محمد حسین ہیکل ہیں جو 1956ء میں وفات پا چکے۔ حیاتِ ابوبکر صدیقؓ بھی انہی کی تصنیف ہے۔ انہی کی معرکہ آرا تصنیف عمر فاروق اعظمؓ بھی ہے۔ حکیم حبیب اشعر دہلوی مرحوم نے اس کا شاہکار ترجمہ کیا ہے جو اردو کی ادبی تاریخ میں ممتاز مقام رکھتا ہے۔ محمد حسنین ہیکل نے صحافی کی حیثیت سے شہرت پائی۔ وہ مشہور مصری اخبار الاہرام کے مدیر رہے۔ ریٹرن آف آیت اللہ اور دی روڈ ٹو رمضان ان کی مشہور تصانیف میں سے ہیں۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں