نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- ترجمان دفترخارجہ کی صحافیوں سےغیررسمی گفتگو
  • بریکنگ :- اوآئی سی وزرائےخارجہ کونسل کااجلاس 19دسمبرکواسلام آبادمیں ہوگا،ترجمان
  • بریکنگ :- اسلامی ممالک کےوزرائےخارجہ کوشرکت کی دعوت دی گئی، ترجمان
  • بریکنگ :- اجلاس میں سلامتی کونسل کےمستقل ارکان کوشرکت کی دعوت،ترجمان
  • بریکنگ :- یورپی یونین،اقوام متحدہ اوراس کی امدادی ایجنسیوں کوشرکت کی دعوت،ترجمان
  • بریکنگ :- اجلاس میں افغانستان کااعلیٰ سطح وفدشرکت کرےگا،ترجمان
  • بریکنگ :- اوآئی سی سیکرٹریٹ کےآفیشلزاجلاس کی تیاریوں کاجائزہ لیں گے،ترجمان
  • بریکنگ :- اوآئی سی وزرائےخارجہ کاغیرمعمولی اجلاس 1980میں ہواتھا،ترجمان
  • بریکنگ :- 41سال بعدپاکستان افغانستان پراوآئی سی وزرائےخارجہ اجلاس کی میزبانی کررہاہے
  • بریکنگ :- افغانستان کوامدادنہ پہنچائی گئی تومعاشی بحران جنم لےسکتاہے، ترجمان
Coronavirus Updates

کھیل ختم ہو رہا ہے؟

قدرت کے کرشمے بھی عجیب ہیں۔ انہونی کو ہونی کر دیتی ہے۔ ممولے کو شہباز بنا دیتی ہے۔ جس صوبے کو ملک کا سب سے کم ترقی یافتہ، بلکہ پسماندہ ترین صوبہ سمجھا جاتا تھا وہ سائنس اور انفارمیشن ٹیکنالوجی میں سب سے آگے نکل گیا ہے۔ کیا پنجاب، کیا کے پی، کیا سندھ اور کیا گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر، سب میلوں پیچھے رہ گئے! رہا وفاق! تو اس کا ذکر ہی کیا! وہ تو یوں بھی صوبوں سے پیچھے ہے۔ سائنس اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کی وزارتیں تو سب صوبوں میں ہیں مگر جو کارنامہ بلوچستان کی وزارت سائنس اور انفارمیشن ٹیکنالوجی نے سرانجام دیا ہے، وہ کسی اور صوبے کی وزارت نے نہیں سرانجام دیا۔ وفاق کی وزارت سائنس اور ٹیکنالوجی نے بھنگ کی کاشت شروع کرکے تاریخ میں نام تو پیدا کر لیا ہے‘ اس کے باوجود وہ بلوچستان کی وزارتِ سائنس کا مقابلہ نہیں کر سکتی۔
تاریخ میں بہادر خان سیکشن افسر کا نام بھی ضرور آئے گا کیونکہ بلوچستان کی وزارت سائنس و انفارمیشن ٹیکنالوجی کے اسی افسر نے اس کارنامے کے احوال سے ہمیں اور پوری قوم کو بلکہ پوری دنیا کو باخبر کیا ہے۔ بلوچستان کے چیف سیکرٹری نے ایک سرکاری اجلاس بلایا اور صوبے کے تمام افسروں اور محکموں کے سربراہوں کو حکم دیا کہ آئندہ ان کے موبائل ٹیلیفونوں کی رنگ ٹون سے ''پاکستان زندہ باد‘‘ کے الفاظ بلند ہوں۔ اس حکم کی نقول صوبے کے تمام سیکرٹریوں، ایڈیشنل سیکرٹریوں، ڈپٹی سیکرٹریوں اور ذیلی محکموں کے سربراہوں کو بھیجی گئی ہیں کہ جب بھی یہ حضرات کسی کو ٹیلی فون کریں تو سننے والے کو ''پاکستان زندہ باد‘‘ کی آواز آئے۔ خبر میں چیف سیکرٹری صاحب کا نام نہیں دیا گیا مگر اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ تاریخ ان کا نام بھی تلاش کر کے اپنے صفحات پر نقشِ دوام کی صورت ثبت کر دے گی۔
ہم اس حکم کی تحسین کرتے ہیں۔ اس سے اگلا اقدام یہ ہونا چاہیے کہ عوام بھی اس حکم کے پابند ہوں۔ سوال یہ پیدا ہوگا کہ سرکاری ملازم تو چیف سیکرٹری کے احکام کے پابند ہیں، عوام کو کس طرح آمادہ کیا جائے گا؟ اس کیلئے ہم تجویز کرتے ہیں کہ اس حکم کی خلاف ورزی قابلِ دست اندازیٔ پولیس قرار دی جائے۔ خلاف ورزی کرنے والے بالغ مرد اور عورت کو دس سال اور نابالغ بچی یا بچے کو اگرچہ سزا نہیں دی جا سکتی لیکن اتنی بڑی غلطی کی کچھ تو سزا ہونی چاہیے۔ مزید یہ کہ یہ جرم قابلِ ضمانت بھی نہ ہو۔ بادی النظر میں بچوں اور بچیوں کیلئے قید وغیرہ سخت سزا ہے مگر غور کیجیے کہ اگر حب الوطنی کا دارومدار رنگ ٹون پر ہے تو بچوں اور بچیوں کو محب وطن ہونے کی تربیت شروع ہی سے دینا ہو گی!
وجہ نہیں معلوم مگر ہمیں اس حکم سے گملوں میں درخت لگانے کا عمل یاد آرہا ہے۔ بظاہر دونوں مختلف عمل ہیں۔ حکم کے ذریعے پاکستان زندہ باد کہلوانا ایک اور عمل ہے اور گملے میں درخت لگانا ایک اور، بالکل مختلف، عمل ہے۔ مگر نہ جانے کیوں ہمیں یہ دونوں عمل ایک جیسے لگ رہے ہیں۔ اگر قارئین میں سے کسی کو ان دونوں کاموں میں کوئی مشابہت، کوئی قدرِ مشترک، نظر آرہی ہو تو ضرور ہماری رہنمائی کریں۔ ہماری چھٹی حس بتا رہی ہے کہ ہو نہ ہو ضرور کوئی ربط ہے۔ بہرحال ہم تجویز کرتے ہیں کہ پورے ملک میں درخت زمین میں نہ لگائے جائیں بلکہ گملوں میں لگائے جائیں۔ زمین میں درخت لگانا سراسر گھاٹے کا سودا ہے۔ اس سے درخت کی جڑیں زمین میں پھیل جاتی ہیں۔ یوں درخت مضبوط ہو جاتا ہے۔ اس کا نقصان یہ ہے کہ درخت کو اکھاڑنا مشکل، بلکہ بہت مشکل ہو جاتا ہے۔ اگر آپ موبائل فون کی گھنٹی ( رِنگ ٹون) کو گملا سمجھیں اور دل کو زمین کا ہم مرتبہ قرار دیں تو شاید کچھ ربط بھی نکل آئے۔ ایسے اقدامات کرنا حکومت کے لیے بہت مشکل ہیں جن کے نتیجے میں زندہ باد کی آواز دل سے نکلے۔ اس کا آسان علاج یہ ہے کہ عوام کی فلاح کے لیے کچھ نہ کیا جائے اور زندہ باد کی آواز رنگ ٹون میں بھر دی جائے۔ ظاہر ہے کام وہی کرنا چاہیے جو سہل ہو۔
زاہدان، بارڈر سے لے کر تھرپارکر کے مشرقی کناروں تک، خنجراب سے لے کر کراچی تک، گرم چشمہ سے لے کر گوادر تک اور باجوڑ سے لے کر واہگہ تک کوئی ایک بھی ایسا پاکستانی نہیں جو پاکستان زندہ باد نہیں کہتا‘ تو پھر یہ اعزاز صرف بلوچستان کے سرکاری ملازموں کے لیے کیوں؟ سب کے لیے کیوں نہیں؟ کیا باقی ملک کے عوام بلوچستان کے عوام سے کم محبِ وطن ہیں؟ نہیں! تو پھر وفاق اور باقی صوبوں کے چیف سیکرٹری کیا سو رہے ہیں؟ یور ایکسی لینسیز (your Excellencies) آپ بھی اپنے اپنے دائرۂ اقتدار میں یہ احکام جاری و ساری کیجیے اور سختی سے ان کا نفاذ کرائیے۔ عوام، خاص طور پر سرکاری ملازم آپ حضرات کی طرف امید بھری نظروں سے دیکھ رہے ہیں۔
کون سی اولاد ہے جو اپنے باپ کی شکر گزار نہیں! ہر بیٹے اور بیٹی کو معلوم ہے کہ اس کا باپ دن رات محنت کر کے اس کی ضروریات اور خواہشات پوری کرتا ہے۔ سب اپنی اپنی ماؤں سے محبت کرتے ہیں مگر اس محبت کا کیا فائدہ جو دل میں ہو یا زبان سے جس کا اظہار نہ ہو۔ محبت کا آلۂ پیمائش تو رنگ ٹون ہے! رِنگ ٹون! موبائل فون کی رنگ ٹون! اس لیے اپنے اپنے بچوں کو حکم دیجیے کہ کل سے، بلکہ آج سے، ابھی سے، ان کے ٹیلی فون جب بھی بولیں تو ابو زندہ باد اور امی زندہ باد کی آوازیں برآمد ہوں۔ بیوی جب بھی میاں کو فون کرے تو میاں کے کان میں ''تھینک یو سرتاج‘‘ کی آواز رس گھولا کرے!
پسِ نوشت: پٹرول کی قیمت ملکی تاریخ میں بلند ترین سطح پر لانے کے بعد ارباب اختیار یہ دلیل دے رہے ہیں کہ دوسرے ملکوں کی نسبت اب بھی یہاں پٹرول کی قیمت کم ہے۔ یہ بہت پرانی اور گھسی پٹی دلیل ہے اور زمانے ہوئے قدر و قیمت کھو چکی ہے۔ قیمت کا موازنہ کرتے ہیں تو آمدنی کا موازنہ بھی تو کیجیے۔ کیا دوسرے ملکوں کی کرنسیاں بھی اتنی ہی بے جان اور ضعیف ہیں؟ کیا ان کی قوت خرید پاکستانی روپے کی طرح ہے؟ ایک امریکی ڈالر ایک سو ستر پاکستانی روپوں کے برابر ہے جب کہ وہی ایک امریکی ڈالر بھارتی چوہتر روپے، بنگلہ دیشی پچاسی ٹکا اور نو ترکی لیرا کے برابر ہے! دوسرے ملکوں میں اگر پٹرول کی قیمت زیادہ ہے تو وہاں کی کرنسی اس کے باوجود، زیادہ پٹرول، زیادہ خوراک اور زیادہ اشیا خرید سکتی ہے! حکومت جس طرح موازنہ کر رہی ہے وہ ایسے ہی ہے جیسے دو افراد کا مقابلہ کرایا جائے یہ دیکھے بغیر کہ ایک تندرست ہے اور ہٹا کٹا، جبکہ دوسرا کمزور، ناتواں اور نحیف ہے! جب آپ استعماری مالی اداروں کا قلادہ قوم کے گلے میں ڈال دیتے ہیں تو پھر اسی قبیل کے عذر ہائے لنگ سننے میں آتے ہیں۔ کبھی کہا جاتا ہے: یہ مہنگائی عارضی ہے۔ کبھی الزام کورونا پر ڈال دیا جاتا ہے۔ کبھی دوسرے ملکوں کی قیمتوں کا ذکر لے بیٹھتے ہیں۔ عوام کو سب معلوم ہے۔ کیونکہ
کوئی آکھے پیڑ لکے دی‘ کوئی آکھے چُک
وچلی گل اے محمد بخشا اندروں گئی اے مُک
کہ کوئی کمر کا درد بتا رہا ہے اور کوئی کچھ اور ‘ حالانکہ اصل بات یہ ہے کہ کھیل ختم ہو رہا ہے!

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں