ہم پالکی سے اُتر ہی نہیں رہے

یہ اشتہار امریکی حکومت کی طرف سے ایک کثیر الاشاعت امریکی اخبار میں دیا گیا '' امریکہ کے ایک سرکاری ادارے کو خاکروبوں کی ضرورت ہے۔صرف مسلمان یا غیر مسیحی درخواست دیں‘‘۔ایسا نہیں ہوا۔ آپ کا کیا خیال ہے اگر فی الواقع ایسا ہو جائے تو آپ پسند کریں گے ؟ امریکہ میں مقیم مسلمانوں کا کیا ردِ عمل ہو گا؟جو امریکی غیر مسلم ہیں‘ کیا وہ اس پر خاموش رہیں گے ؟ ہمارے ہاں تو ایسا ہو رہا ہے۔ جانے کب سے ہو رہا ہے۔ ہماری وزارتیں اور سرکاری محکمے خاکروبوں کی خالی اسامیاں مشتہر کرتے ہیں تو اشتہار میں صراحت اور التزام کے ساتھ بتاتے ہیں کہ درخواست دینے والے غیر مسلم ہونے چاہئیں یا مسیحی! بھلا ہو کہ آخر کار اسلام آباد کی عدالتِ عظمیٰ نے مختلف وزارتوں کو اس ضمن میں نوٹس جاری کئے ہیں اور دو ہفتوں میں جواب طلب کئے ہیں۔ یہ ازخود نوٹس نہیں تھا۔ پاکستان یونائٹڈ کرسچین موومنٹ اور ایک اور تنظیم ''سنٹر فار رُول آف لا‘‘ نے عدالت میں درخواست دائر کی اور فریاد کی کہ اس طرزِعمل سے مذہبی تعصب کی فضا پیدا ہوتی ہے اور مسیحی اور غیر مسلم پاکستانیوں میں احساسِ محرومی پیدا ہوتا ہے۔ یہ وزارتیں اور یہ محکمے عدالت کو کیا جواب دیں گے ؟ غالباً ان کا جواب یہ ہو گا کہ ''شروع‘‘ سے ہی ایسا ہو رہا ہے اور ماضی میں دیے جانے والے اشتہار بھی ایسے ہی تھے۔ ظاہر ہے ان کے پاس کوئی اور دلیل نہیں ہو گی۔ یہ تو کہہ نہیں سکتے کہ غیر مسلم کمتر ہیں یا یہ تقاضا آئین کا ہے۔ فرض کیجیے عدالت ان سے پوچھتی ہے کہ کیا ایسا اشتہار اخلاقی‘ قانونی یا آئینی لحاظ سے درست ہے تو ان کا کیا جواب ہو گا؟
ایسا بھی نہیں کہ پاکستانی دنیا سے کٹے ہوئے ہیں۔ہر تیسرے گھر کا ایک فرد امریکہ میں مقیم ہے یا یورپ میں یا آسٹریلیا میں۔ ان ملکوں میں کسی سے نہیں پوچھا جاتا کہ مسیحی ہو یا غیر مسیحی۔ مسلمانوں کے لیے نہ ہی دوسرے غیر مسیحی مذاہب کے پیرو کاروں کے لیے اقلیت کالفظ استعمال کیا جاتا ہے۔ منطقی طور پر جو سلوک ہم غیر مسلموں کے ساتھ کرتے ہیں‘ ویسا ہی اگر مغرب میں غیر مسیحیوں کے لیے ہو تو کیا ہم اعتراض کر سکتے ہیں؟ کچھ لوگوں کے لیے ہمارے گھروں میں‘ عام طور‘ پر برتن الگ رکھے جاتے ہیں۔ کیا یہ کوئی مذہبی تقاضا ہے؟ مغربی ملکوں میں انہی لوگوں کے گھروں میں کھانا کھائیں تو ہم میں سے بہت سے اس پر فخر محسوس کریں گے۔ وہاں کے ریستورانوں میں یہی لوگ کھانا پکاتے ہیں‘ پیش کرتے ہیں اور برتن بھی دھوتے ہیں۔ ان ملکوں میں جا کر انہی ریستورانوں میں ہم کھانا کھاتے ہیں۔ تو پھر یہ خودساختہ اصول وہاں کیوں غائب ہو جاتا ہے؟ وہاں الگ برتنوں کا تقاضا کیوں نہیں کیا جاتا؟اصل مسئلہ ہمارا احساسِ کہتری ہے جس نے مختلف روپ دھار رکھے ہیں۔دامن میں کچھ بھی نہیں ہے۔ للچائی ہوئی نظروں سے ترقی یافتہ ملکوں کا معیارِ زندگی دیکھتے ہیں۔ جو ہمارے لوگ ان ملکوں میں جا کر بس گئے‘ ان پر رشک بھی کرنا ہے اور اعتراض بھی! کاش اعداد و شمار معلوم کیے جا سکتے کہ کتنے لوگوں نے امیگریشن کے لیے درخواستیں دے رکھی ہیں۔کتنے قطار میں لگنے کی تیاری کر رہے ہیں اورکتنے ہی دلوں میں باہر جا بسنے کی خواہش انگڑائیاں لے رہی ہے۔ ہمارے ایک عزیز امریکہ میں ایک اسلامک سنٹر کے انچارج ہیں۔ جب بھی کچھ دنوں کے لیے وطن میں آتے ہیں‘ صالحین انہیں گھیرے رکھتے ہیں کہ کسی اسلامک سنٹر میں وہاں رکھوا دیں۔جتنے بڑے بڑے نام ہمارے ہاں امریکہ اور یورپ کی مخالفت کے حوالے سے مشہور ہیں‘ سب کی اولادیں امریکہ اور یورپ میں پڑھی ہیں اور پڑھ رہی ہیں۔ ایک طرف مدارس کے نظام میں ذرا سی تبدیلی کی بھی مخالفت‘ دوسری طرف اپنے بچے مغربی یونیورسٹیوں سے فارغ التحصیل ہوں تو خوشی کے شادیانے! دُہرا معیار! اپنے لیے کچھ اور ! دوسروں کے لیے کچھ اور ! پھر انہی ملکوں پر تنقید! یہ کہ مغرب کی سائنس اور ٹیکنالوجی کی ترقی مشکلات اور بربادی کا ذریعہ بن رہی ہے۔ یہ کہ مغربی نظام اب چلنے کے قابل نہیں۔ بالکل درست کہا۔ چلنے کے قابل نہیں کیونکہ یہ لوگ دوسرے ملکوں سے آنے والوں کے لیے شہریت اور ترقی کے دروازے کھول دیتے ہیں۔ مذہب کا پوچھتے ہیں نہ فرقے کا! یہ بیچارے ہمارا مقابلہ کیسے کر سکتے ہیں۔ ہم نے تو اپنے ہی کچھ ہم وطنوں‘ اپنے ہی کچھ شہریوں کو خاکروبی کے لیے مخصوص کیا ہوا ہے۔
اس احساسِ کہتری کے کئی مظاہر ہیں! کیا آپ نے کبھی نوٹ کیا ہے کہ ہمارے سرکاری محلات میں خدام کو کون سا لباس پہنایا جاتا ہے ؟ ویٹر‘ دربان‘ چوبدار‘ سب شیروانیوں اور پگڑیوں میں ملبوس ہوتے ہیں۔ ہم سب جانتے ہیں اور اچھی طرح جانتے ہیں کہ انگریزوں نے مفتوح ملک کے باشندوں کو اپنی ہی نظروں میں گرانے کیلئے اپنے خدام کو ان کے اشراف کا لباس پہنا یا تھا۔ ہمارے ہیروز کے ناموں پر اپنے کتوں کے نام رکھے۔ صوبیدار صوبائی گورنر ہوتا تھا۔ اسے اپنے نوجوان لفٹین اور کپتان کا ماتحت کر دیا۔ رسالدار کیولری کا بڑا افسر تھا۔ اس کا مرتبہ بھی چھوٹا کر دیا۔خانِ سامان دربار کا بڑا منصب تھا۔ اسے باورچی بنا دیا۔ آزادی کے بعد سات عشرے گزر چکے‘ ہماری سرکاری ضیافتوں میں خدّام آج بھی شیروانیوں اور دستاروں میں ملبوس‘ غلاموں کی طرح‘ دست بستہ کھڑے ہیں۔ مہمانوں میں غیر ملکی بھی ہوتے ہیں۔ ہماری غیرت والی آنکھ آج تک نہ پھڑک سکی۔ چلیے‘ ان سرکاری محلات میں رہنے والوں کا مطالعہ زیادہ نہیں‘ نہ ہی تاریخ کا شعور ان کا قابلِ رشک ہے۔ان کے پرنسپل سیکرٹری تو مقابلے کے بڑے بڑے امتحان پاس کر کے آئے ہیں۔ ہند و پاک کی تاریخ ان حضرات کو ازبر ہے۔ ان محلات کا انتظام و انصرام انہی بلند مرتبہ افسران کے طاقتور ہاتھوں میں ہے۔ انہوں نے اس وردی کو کیوں نہیں تبدیل کیا ؟
مگر یہ ہمارے افسران تو خود شدید احساسِ کہتری کا شکار ہیں! یہ پارلیمانی کمیٹیوں کے سامنے پیش نہ ہونے کے بہانے تلاش کرتے ہیں۔ جہاں خود حاضر ہونا ہو‘ وہاں اپنے ماتحتوں کو بھیج دینے کا حیلہ تراشتے ہیں۔ اس کی بیسیوں نہیں‘ اس سے بھی زیادہ مثالیں موجود ہیں۔ ابھی چار دن پہلے کی بات ہے۔ ایک وفاقی سیکرٹری نے پبلک اکاؤنٹس کمیٹی میں پیش ہونا تھا۔ رکن پارلیمنٹ‘جناب نوید قمر‘ اس ذیلی کمیٹی کے سربراہ تھے۔ آڈٹ اعتراضات کا جائزہ لیا جانا تھا۔ متعلقہ وفاقی سیکرٹری پیش ہی نہ ہوئے۔ کمیٹی نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے اجلاس ملتوی کر دیا۔ کمیٹی اور کر بھی کیا سکتی تھی ! ہر تیسرے دن اسی قسم کی خبر آتی ہے ! اُدھر الیکشن کمیشن الزام لگا رہا ہے کہ ایک صوبے کے چیف سیکرٹری بہانے بنا بنا کر الیکشن کمیشن کے سامنے پیش ہونے سے گریز کرتے ہیں۔ یہ سب کیا ہے؟ احساسِ کہتری اور اس کے مختلف مظاہر ! مختلف روپ ! وزیر صاحب معاہدے پر دستخط کر رہے ہیں تو گریڈ بیس کا افسر ساتھ کھڑا ہے ؟ کیوں؟ تا کہ صفحہ الٹ سکے۔معاہدہ امداد لینے کا ہے۔ ساتھ امداد دینے والا بھی بیٹھا ہے۔وہ صفحے خود الٹ رہا ہے۔ جو بارہ جماعتیں پاس کر لیتا ہے‘ اپنا سامان اٹھاتے ہوئے اسے شرم آتی ہے۔یہ شان و شوکت آج کی بات نہیں۔ یہ ہمیں ورثے میں ملی ہے۔ غالب ملازمت کے لیے گئے‘ انگریز افسر پذیرائی کے لیے باہر نہ نکلا تو پالکی سے نہ اترے اور واپس چلے آئے ! پھر فخر سے کہا ؎
بندگی میں بھی وہ آزاد ہ و خود بیں ہیں کہ ہم
اُلٹے پھر آئے درِ کعبہ اگر وا نہ ہوا
المیہ یہ ہواکہ ہم پالکی سے اتر ہی نہیں رہے!

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں