کیا حکومت آب پارہ کو پاکستان آنے کی دعوت دے گی؟

آصف محمود نے اچھا نہیں کیا۔ اس نے میرے اصلی‘ پرانے‘ گمشدہ اسلام آباد کو میرے سامنے لا کھڑا کیا۔ میرا دل رو رہا ہے۔
اٹھارہ برس کا تھا جب میں اپنے کنبے کے ساتھ درختوں اور پھولوں بھرے اسلام آباد میں منتقل ہوا۔ کیا شہر تھا یہ اُس وقت! بس یوں سمجھیے شہروں میں ایک شہر تھا۔ پارکوں اور باغوں سے لدا ہوا! خزاں میں درختوں کے پتے سرخ ہو کر شہر کو دلہن بنا دیتے تھے۔ اور بہار تو پھر بہار تھی! ایک ایک شاہراہ‘ ایک ایک پگڈنڈی اقبال کے ساقی نامے کے اس شعر کی تصویر بن جاتی تھی۔
گل و نرگس و سوسن و نسترن
شہیدِ ازل لالہ خونیں کفن!
شہر کا گرین ایریا آنکھوں کی بینائی بڑھاتا تھا۔ سڑکیں سلامتی کی ضامن تھیں۔ گرد تھی نہ دھواں! سرکاری مکان تھے۔ صاف ستھرے! دُھلے دُھلے سے! سائیکلیں زیادہ تھیں اور گاڑیاں کم! میں آب پارہ سے لے کر زیرو پوائنٹ تک اور واپس آب پارہ تک سیر کرتا تھا۔ کیا توانائی بخش سیر تھی! پھر حکمرانوں نے اس شہر کو بے آبرو کرنا شروع کر دیا۔ ایک کے بعد ایک حکمران ایسا آیا جو گرین ایریا کو نوچنے اور بھنبھوڑنے لگ گیا! آغاز ایک آمر نے کیا۔ غلط بخشیوں کی انتہا کر دی۔ پھر نام نہاد منتخب حکمرانوں نے یہ بربادی جاری رکھی۔ فلاں کو محل بنانے کیلئے پلاٹ دے دو۔ فلاں کو نرسری کیلئے زمین دے دو۔ مترفین کو بڑے بڑے فارم دیے گئے جہاں انہوں نے عظیم الشان قصر بنا کر اپنے احساسِ کمتری کو گنے کا رس پلایا۔ اصل اسلام آباد مر گیا۔ اسلام آباد کی جو شکل سامنے آئی وہ مرے ہوئے اسلام آباد کی تضحیک تھی۔ تمسخر تھا۔ مذاق تھا۔ آصف محمود نے اسی مرے ہوئے اسلام آباد کا ماتم کیا ہے!
آصف محمود وائلڈ لائف محکمے کے اُس اہلکار کا ماتم کرتا ہے جسے سر میں گولی مار کر قتل کر دیاگیا۔ یہ 2018ء کی بات ہے۔ سفیر حسین شاہ کا کام بے زبان پرندوں اور جانوروں کو بچانا تھا۔کوئی قاتل نہ پکڑا گیا۔ نہ مدعی نہ شہادت‘ حساب پاک ہوا ؍ یہ خون خاک نشیناں تھا‘ رزقِ خاک ہوا! آصف محمود بتاتا ہے کہ ایوب خان کے حکم سے کس طرح اس شہر میں جنگلی توت کے درآمد شدہ بیج جہازوں کے ذریعے پھینکے گئے۔ یہ اس نحوست کا آغاز تھا جو پولن الرجی کی شکل میں‘ بلائے بے درماں بن کر شہر کے مکینوں پر نازل ہوئی۔ سرخ ناک‘ بہتی آنکھیں‘ چھینکیں‘ خشک گلا‘ سانس کی تکلیف‘ سینے سے نکلتی آوازیں‘ اکھڑتی سانسیں‘ اس الرجی کا انعام ہے۔ کتنے بیمار پڑے؟ کتنے ہلاک ہو گئے؟ کچھ نہیں معلوم! نالائق بیورو کریسی سے یہ بلا آج تک کنٹرول نہ ہو سکی! ایوب خان میں عقل ہوتی تو حکومت پر قبضہ ہی نہ کرتا۔ مگر کسی عقل مند نے بھی نہ بتایا کہ جہاں پناہ! دساور سے آئے ہوئے درخت ہوں یا زبان یا تہذیب‘ ہمیشہ سے فساد کا باعث ہیں! آصف محمود کی ایک بات نے مجھے حیرت کے سمندر میں غرق کر دیا۔ جنگلی توت کے کسی درخت پر کبھی کوئی گھونسلا نہیں دیکھا گیا۔ پرندے اس موذی سے بچتے ہیں! آصف بتاتا ہے کہ اسلام آباد کی تعمیر سے پہلے بھی یہاں ایک تہذیب تھی۔ ایک کلچر تھا۔ ایک ثقافت تھی۔ 1880ء میں راولپنڈی تحصیل میں سولہ سکول تھے۔ ان میں سے سات ان جگہوں میں تھے جو آج اسلام آباد میں ہیں۔ 1880ء میں اسلام آباد کی حدود میں چھ ڈاکخانے تھے۔ راولپنڈی گزیٹیئر کے مطابق اس علاقے کے ہندوئوں اور مسلمانوں میں کچھ دلچسپ توہمات رائج تھے۔ سفر کے آغاز میں برہمن یا مُلّا نظر آ جاتا تو اسے بدشگونی پر محمول کیا جاتا۔ تاثر یہ تھا کہ یہ جب بھی ملیں گے لوگوں سے کچھ ہتھیانے کی کوشش کریں گے اور اپنے مفاد ہی کا سوچیں گے۔ خالی گھڑا یا سانپ دیکھ لینا یا کسی کو روتے یا چھینکتے دیکھ لینا بھی بدشگونی تھی۔ صرف پشتون مسلمان ان توہمات پر یقین نہیں رکھتے تھے۔
یہ کالم نگار مغل تاریخ کا طالب علم ہے۔ یوٹیوب پر اس کے ایک سیریز ''مغل کہانی‘‘ کے پچاس ایپی سوڈ نشر ہو چکے ہیں۔ مگر یہ پڑھ کر کہ شہنشاہ جہانگیر موجودہ اسلام آباد کا داماد تھا‘ حیرت کا پہاڑ ٹوٹ پڑا! آصف محمود لکھتے ہیں کہ پوٹھوہار کے حکمران سارنگ خان اور شہنشاہ بابر کی ملاقات دریائے سندھ کے کنارے ہوئی۔ بابر نے خلعتِ خاص عطا کی۔ سارنگ خان نے وفاداری کا عہد کیا۔ سارنگ خان نے اپنا عہد نبھایا۔ ہمایوں کی حمایت میں شیر شاہ سوری سے لڑائی کی اور سولہ بیٹوں سمیت قتل ہو گیا۔ اس کے بعد معاملات اس کے بیٹے سید خان کے ہاتھ میں آ گئے۔ اکبر نے وفاداری کے صلے میں سید خان کو جاگیریں دیں جن میں ایک گاؤں ''فتح پور باؤلی‘‘ بھی شامل تھا۔ سید خان کی وجہ سے اس گاؤں کا نام سیدپور پڑ گیا۔ وہی سیدپور! جو آج اسلام آباد کے شمالی کنارے پر واقع ہے۔ جہانگیر نے تزک میں لکھا ہے کہ پنڈی کے قریب ایک ایسا جانفزا مقام ہے جو دیکھنے والے کو اپنی محبت کا اسیر بنا لیتا ہے۔ پھر جہانگیر کی شادی سید خان کی بیٹی سے ہوئی۔ باپ نے بیٹی کو یہ گاؤں شادی کے تحفے کے طور پر دے دیا۔ ایک ''تختِ جہانگیری‘‘ کے مٹتے نقوش آج بھی یہاں باقی ہیں۔ کسے معلوم تھا کہ یہ تاریخی مقام ایک ایسے شہر میں تبدیل ہو جائے گا جہاں انسانوں کی شناخت گریڈوں سے ہو گی اور محلّوں کی پہچان انگریزی حروف تہجی سے ہو گی۔ آصف محمود کی یہ سطر دل میں درد کی لہر اٹھاتی ہے۔ ''ڈھوک جیون سیکٹر ای سیون ہو گئی۔ بانیاں ایف سکس کہلانے لگا۔ کٹاریاں جی فائیو بن گیا۔ بھیکا سیداں ایف ٹین قرار پایا اور روپڑاں جناح سپر ہو گئی‘‘۔
مگر درد کا ایک مقام ابھی باقی ہے! دل کو تھام لیجیے۔ اسلام آباد کا سب سے پہلا سیکٹر جی سکس تھا۔ یعنی موجودہ سرینا ہوٹل کے مغرب میں! یہاں جو گاؤں آباد تھا اس کا نام ''باگاں‘‘ تھا۔ حضرت بری امام کے والد گرامی سید محمود شاہ کاظمی کا مزار یہاں آج بھی قائم ہے۔ باگاں ہی میں شروع کے سرکاری کوارٹر بنے۔ کراچی سے مرکزی حکومت کے ملازمین کو یہاں بسایا گیا۔ ان میں مشرقی پاکستان کے بنگالی بھی تھے۔ ایک بنگالی کا نام عبد الواحد تھا۔اس کے گھر بچی کی ولادت ہوئی۔ یہ نئے شہر اسلام آباد کا پہلا ننھا وجود تھا۔ پورے سیکٹر جی سکس (باگاں) میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ اس وقت کے چیئرمین سی ڈی اے کی اہلیہ مبارک دینے عبد الواحد کے گھر آئیں۔ آصف محمود نے آرکائیو میں پرانے اخبارات سے تصویر بھی ڈھونڈ نکالی! بنگالی افسر بچی کو اٹھائے ہے۔ ایک خاتون ساتھ کھڑی ہیں۔ بچی کا نام آب پارہ رکھا گیا۔ باگاں میں اسلام آباد کا پہلا بازار تعمیر ہو رہا تھا۔ سی ڈی اے نے اس پہلے بازار کا نام‘ پہلی بچی کے نام پر آب پارہ رکھ دیا۔ یہی وہ آب پارہ بازار ہے جو آج پورے ملک میں معروف ہے۔ پھر کیا ہوا؟ پھر بدبختی نے ہمیں گھیر لیا۔ طویل آمریت اور بنگالیوں کے ساتھ مسلسل ناانصافیوں نے مشرقی پاکستان کو الگ کر دیا۔ اسلام آباد کی پہلی نومولود بچی آب پارہ بنگلہ دیش چلی گئی۔ آج وہ بچی چونسٹھ پینسٹھ برس کی ہو گی۔ اسلام آباد کی تاریخ اس بچی کے ساتھ جُڑی ہوئی ہے۔ کتنا بڑا المیہ ہے کہ سی ڈی اے کے کسی سربراہ نے‘ کسی وزیر نے‘ آج تک نہ سوچا کہ اس تاریخ ساز بچی کو بنگلہ دیش میں تلاش کیا جائے۔ نہیں معلوم یہ تحریر حکومت کے کھڑپینچ پڑھیں گے یا نہیں؟ کیا امید رکھنی چاہیے کہ وفاقی حکومت بنگلہ دیش میں آب پارہ کو تلاش کر کے اسلام آباد آنے کی دعوت دے گی؟؟ ایسا ہو گیا تو کرشمہ ہو گا۔ نہ ہوا تو تعجب نہ ہو گا! حرفِ آخر یہ کہ میرے اختیار میں ہوتا تو آصف محمود کی اس تصنیف ''مارگلہ۔ جنگل کہانی‘‘ کا مطالعہ متعلقہ وزیر اور سی ڈی اے کے سربراہ سے لے کر‘ سی ڈی اے کے ہر افسر اور اہلکار تک‘ سب کے لیے لازم قرار دیتا!!

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں