میں نے زندگی میں جن تین‘ چار کتابوں کے چھپنے کا انتظار کیا ہے ان میں ایک کتاب سابق وزیراعظم نواز شریف کے پرنسپل سیکرٹری سعید مہدی کی ہے۔ سعید مہدی کی کتاب The Eyewitnessجس نے چھپنے میں کئی برس لے لیے۔ تاخیر کی وجہ یہ نہیں تھی کہ انہیں کوئی پبلشر نہیں مل رہا تھا بلکہ یہ تھی کہ وہ خودبھی مطمئن نہیں ہورہے تھے۔ وہ شاید ان لوگوں میں سے ہیں جو پرفیکشنسٹ ہوتے ہیں اور اپنے کام سے جلدی مطمئن نہیں ہوتے۔ اپنے کام میں وہ خود ہی خامیاں نکال کر انہیں درست کررہے ہوتے ہیں اور دوسروں پر بالکل بھروسہ نہیں کرتے۔ اتنا انتظار شاید ہم لوگ کسی دور میں سب رنگ رسالے کا کیا کرتے تھے۔ سعید مہدی کی اس کتاب کا انتظار پاکستان کے ان تمام لوگوں کو تھا جنہیں اس ملک کی سیاسی تاریخ‘ محلاتی سازشوں‘ غلام گردشوں کی سرگوشیوں اور مارشل لاء بغاوتوں سے دلچسپی ہے‘ اور جو اندرونی کہانی جاننے کے شوقین ہیں۔
مجھے یاد ہے کہ گزشتہ برس ہمارے دوست میجر (ر) عامر کے گھر ایک پارٹی میں سعید مہدی بھی موجود تھے تو میں نے کتاب کا پوچھ لیا کہ کہاں تک پہنچی ہے۔ کہنے لگے: مکمل تو ہوگئی ہے بس مناسب وقت کا انتظار کررہا ہوں۔ میں ہنس پڑا کہ دو سال پہلے بھی انہوں نے یہی جواب دیا تھا۔ اس وقت وہ کتاب کے نام پر کچھ سوچ بچار کر رہے تھے۔ میں نے انہیں تجویز کیا کہ اس کا نام The Last Witness رکھیں۔ انہیں The Witness لفظ پسند آیا۔ میرا کہنا تھا کہ آپ بھٹو کو پھانسی لگنے کے مناظر کے آخری سلامت گواہ ہیں‘ اس کے علاوہ نواز شریف حکومت کی برطرفی اور مارشل لاء بھی آپ کی آنکھوں کے سامنے ہوااور آپ گرفتار بھی ہوئے۔ ضیا دور میں بینظیر بھٹو جب پاکستان واپس آئیں تو بھی آپ وہاں لاہو رمیں موجود تھے۔ اس کے علاوہ بھی کئی اہم واقعات کے آپ چشم دید بلکہ شاید آخری گواہ ہیں لہٰذا کتاب کا نام بھی ایسا ہی ہونا چاہیے۔ خیر انہیں یہ نام بہت پسند آیا اور کتاب کا نام رکھا گیا ''چشم دید گواہ‘‘۔
جب میں نے اس کتاب کو پڑھنا شروع کیا تو واقعتاً یہ محسوس ہوا کہ یہ ان کتابوں میں سے ایک ہے جنہیں آپ مکمل کیے بغیر نہیں چھوڑ سکتے۔ بڑے عرصے بعد کسی سابق ٹاپ بیورو کریٹ نے اس کمال انداز میں یادداشتیں لکھی ہیں جس میں بے شمار انکشافات ہیں۔ اگرچہ اس کتاب کے بارے میں لکھنے کو بہت کچھ ہے لیکن میں اُس باب کا ذکر کرنا چاہتا ہوں جو کارگل جنگ کے حوالے سے ہے۔ میں نے اپنی کتاب ''ایک سیاست کئی کہانیاں‘‘ میں اس ایشو پر کافی لوگوں کے انٹرویوز کیے تھے‘ جن میں چودھری شجاعت حسین‘ چودھری نثار علی خان‘ اسحاق ڈار‘ جنرل علی قلی خان اور نواز شریف شامل ہیں‘ جن کا 2005ء میں جدہ جا کر انٹرویو کیا تھا۔ ان سب کے ملے جلے تاثرات تھے؛ البتہ یہ طے ہے کہ نواز شریف حکومت کی برطرفی اور اس سے پہلے پرویز مشرف کی برطرفی کا براہِ راست تعلق کارگل جنگ سے تھا۔ جنرل پرویز مشرف کہتے تھے کہ انہوں نے نواز شریف کو بتا کر کارگل پر قبضہ کیا تھا جبکہ نوازشریف کیمپ کا دعویٰ تھا کہ نواز شریف کو چھوڑیں‘ ایئر اور نیول چیفس تک کو اس کا علم نہ تھا۔ چودھری شجاعت حسین‘ جو اُس وقت وزیر داخلہ تھے‘ ان کا کہنا تھا کہ نواز شریف کو اس کا علم تھا۔ خیر سعید مہدی کی یہ کتاب اس پُراسرار پہلو کو بے نقاب کرتی ہے اور بڑی تفصیل سے بیان کیا گیا ہے کہ کارگل جنگ کے وقت کیا کچھ ہوا تھا۔
جب بھارتی وزیراعظم واجپائی بس کے ذریعے لاہور آئے تو پاک بھارت تعلقات میں خاصی بہتری آئی اور مسئلہ کشمیر کے حل کی امید جاگی۔ مئی 1999ء کی بات ہے‘ سعید مہدی اس وقت وزیراعظم کے ساتھ کراچی گورنر ہائوس میں موجود تھے۔ وہاں دو کمرے ایسے ہیں کہ جہاں قائداعظم اور فاطمہ جناح نے آخری دنوں میں قیام کیا تھا۔ ان دونوں کمروں کا وزٹ کرتے ہوئے نواز شریف ان کی تعریف کر رہے تھے کہ انہیں اچھے طریقے سے سنبھال کر رکھا گیا ہے۔ وہاں پرانے دور کا وہ سنہری ٹیلی فون سیٹ بھی موجود تھا جو قائداعظم کے زیر استعمال رہا۔ اتنی دیر میں نواز شریف کے اے ڈی سی نے انہیں بتایا کہ بھارتی وزیراعظم واجپائی ان سے فون پر بات کرنا چاہتے ہیں‘کوئی ارجنٹ معاملہ ہے۔ نواز شریف وہاں سے دوسرے کمرے میں چلے گئے اور فون اٹھایا۔ واجپائی نے نواز شریف کے سر پر بم پھوڑا کہ آپ نے ہمیں لاہور بلا کر پیٹھ میں چھڑا گھونپا ہے اور کارگل پر قبضہ کر لیا ہے‘ آپ سے یہ امید نہیں تھی۔ لاہور بلا کر ہمیں آپ نے بڑی عزت دی مگر اب پیچھے سے ہم پر وار کر دیا ہے۔ نواز شریف کو یہ سن کر جھٹکا لگا کہ بھارتی وزیراعظم کیا کہہ رہے ہیں۔ نواز شریف نے انہیں بتایا کہ انہیں ہرگز علم نہیں کہ پاکستانی آرمی نے کارگل پر قبضہ کر لیا ہے۔ انہوں نے واجپائی سے کہا کہ وہ اپنے آرمی چیف سے بات کر کے دوبارہ ان سے بات کرتے ہیں۔
ابھی نواز شریف اس بم شیل سے سنبھلنے کی کوشش کررہے تھے کہ دوبارہ واجپائی کی آواز آئی: صاحب رکیے! اپنے ایک چاہنے والے سے بات کرلیں۔ یہ کہہ کر واجپائی نے فون کسی دوسرے شخص کو پکڑا دیا۔ دوسری طرف سے آواز آئی: میاں صاحب! دلیپ کمار بات کررہا ہوں۔ آپ سے یہ توقع نہیں تھی کہ جب آپ وزیراعظم پاکستان ہوں گے تو یہ سب کچھ ہوگا کیونکہ آپ تو ہمیشہ سے دونوں ملکوں میں امن کے سفیر رہے ہیں۔ میں آپ کو بتانا چاہتا ہوں کہ پاک بھارت کشیدگی کی قیمت بھارتی مسلمان ادا کرتے ہیں۔ جب بھی دبائو بڑھتا ہے تو ہم مسلمان اپنے گھروں سے باہر نہیں نکل سکتے۔ آپ اس صورتحال کو سنبھالیں اور فوراً کچھ کیجیے۔ دلیپ کمار کہنے لگے: مجھے علم نہیں کہ آپ اس بات سے آگاہ ہیں یا نہیں کہ پاکستان کے دورے میں مجھے آپ نے پاکستان کا سویلین ایوارڈ نشانِ امتیاز دیا تھا تو اس کے خلاف بھارت میں میرے گھر کے باہر دو ماہ تک مسلسل احتجاج ہوتا رہا کہ یہ ایوارڈ واپس کرو۔ یہی وزیراعظم واجپائی تھے جنہوں نے میرا حوصلہ بڑھایا اور کہا تھا کہ دلیپ صاحب! یہ مظاہرے اگر برسوں تک بھی آپکے گھر کے باہر ہوتے رہیں تب بھی آپ نے یہ پاکستانی ایوارڈ واپس نہیں کرنا۔
نواز شریف نے دلیپ کمار کو تسلی دی کہ وہ اس ایشو کو مزید پھیلنے سے روکیں گے اور حالات کو بگڑنے نہیں دیں گے۔ فون بند ہوا تو نواز شریف نے پہلا فون اس وقت کے آرمی چیف جنرل پرویز مشرف کو کیا۔ نواز شریف نے پوچھا کہ یہ سب کیا چل رہا ہے؟ پرویز مشرف نے کہا کہ آپ اسلام آباد آئیں‘کل ہم ملاقات کرتے ہیں۔ یہ 17 مئی 1999ء کا دن تھا۔ نواز شریف اور جنرل پرویز مشرف کی ملاقات فیض آباد کے قریب آئی ایس آئی کے اوجڑی کیمپ میں رکھی گئی۔ نواز شریف وہاں پہنچے تو آرمی چیف تمام سینئر جنرلز کے ساتھ وہاں موجود تھے۔ نواز شریف بھی اپنے ساتھ سینئر سیاسی قیادت کو لے کر گئے تھے۔ سعید مہدی اور سیکرٹری دفاع لیفٹیننٹ جنرل افتخار بھی موجود تھے۔ جنرل پرویز مشرف نے نواز شریف کو بریفنگ دینا شروع کی تو ایسے محسوس ہوا کہ نواز شریف کے چہرے کا رنگ بدل رہا ہے۔ پرویز مشرف نے فوراً اصدیوں پرانا ایک آزمودہ نسخہ نواز شریف پر آزمانے کا فیصلہ کیا اور اس کے نتائج ان کی توقع کے عین مطابق نکلے جو آخرکار 12 اکتوبر کو نواز شریف کی گرفتاری پر منتج ہوئے۔
اس اجلاس میں جو پتا جنرل پرویز مشرف نے چالاکی سے کھیلا تھا‘ نواز شریف اس کو نہ سمجھ سکے اور اس لمحے‘ جب انہیں سمجھ کا مظاہرہ کرنا چاہیے تھا‘ وہ جذبات کی رو میں بہتے چلے گئے‘ یہی پرویز مشرف کا مقصد تھا۔ اس اجلاس کے بعد اب بڑا کھیل شروع ہو رہا تھا۔ پرویز مشرف نے بڑی چالاکی سے نواز شریف کو گھیرنے کیلئے بساط بچھانا شروع کر دی تھی۔ کارگل پر پرویز مشرف کی سنسنی خیز بریفنگ ابھی جاری تھی۔ (جاری)