"SUC" (space) message & send to 7575

چہرے

آپ سب پڑھے لکھے دوست ہیں۔ جانتے ہیں کہ ترکی میں خ کا حرف ہ سے بدل جاتا ہے۔ یعنی خلیل کو اگر ''ہلیل‘‘ اور خزانے کو ''ہزانے‘‘ لکھا یا بولا جائے تو بالکل پریشان نہ ہوں۔ خ کو ''ہ‘‘ بنا دینے اور ر کو ڑ سے بدل دینے کا یہ کام تو ہمارے بہت سے لاہوری اور سیالکوٹی دوست بھی بخوبی کرتے ہیں؛ چنانچہ اگر میں آپ کو بتائوں کہ 2016 کی ایک سہ پہر میں ''گل ہانے‘‘ پارک جانے کے لیے نکلا تو سمجھ لیجیے کہ یہ لفظ ''گل خانے‘‘ ہے۔ یہ کھلا اور حسین تاریخی شاہی باغ آیا صوفیہ سے کچھ ہی پیدل فاصلے پر ہے۔ باغ کی بیرونی دیوار اسی قدیم انداز کی ہے‘ جیسے ہمارے جہانگیر کے مقبرے کی۔ میں باغ میں داخل ہوا تو بوندا باندی کا آغاز ہو چکا تھا لیکن یہ رم جھم ایسی نہیں تھی کہ چہل قدمی میں حائل ہو سکے۔ یہ ایک کھلا باغ ہے جس کے قدیم حسن میں نئی روشوں، پھولدار پودوں، جدید فواروں، ریسٹورنٹس کا اضافہ کیا گیا ہے۔ باغ کو دو حصوں میں تقسیم کرتی نیم پختہ سڑک کے دائیں بائیں گھنے اونچے لمبے درخت ہیں۔ اس سڑک سے ہٹ کر سبزہ زار ہیں جو پہاڑی پر چڑھتی ڈھلوانوں کی شکل میں بھی ہیں اور ہموار قطعات کی صورت میں بھی۔ پھولوں کے تختے اور کیاریاں پورے باغ میں پھیلی ہوئی تھیں۔ گل خانہ اس کا نام ہی نہیں اس باغ کا احوال بھی تھا۔
سڑک لمبی تھی، میں چلتا رہا۔ آگے چل کر ایک راستہ دائیں طرف کے ڈھلوان سبزہ زار سے ہوتا ہوا پہاڑی پر چڑھنے لگا۔ اس راستے کو رکاوٹوں سے بند کیا گیا تھا۔ معلوم ہوا کہ پہاڑی کی بلندی پر ایک خوبصورت ریسٹورنٹ ہے جس کی تعمیر نو ہو رہی ہے۔ مرکزی راستے پر ذرا سا اور آگے بڑھا تو اندازہ ہونے لگا کہ باغ کا دوسرا سرا سامنے ہے۔ کچھ ہی دیر میں نیلے پانی کی ایک جھلک نے بتا دیا کہ آگے خوبصورت منظر ہمارا منتظر ہے۔ پہاڑی کی بلندی پر جہاں باغ ختم ہوتا ہے، ایک پلیٹ فارم بنا تھا اور سیاح اس پر کھڑے تھے۔ نیچے، کافی نیچے، جہاں پہاڑی ختم ہوتی تھی، ایک سڑک تھی اور اس کے ساتھ بحر مرمرا شروع ہوتا تھا۔ کالی گھٹا کے ٹکڑے چیر کر کہیں کہیں سے روشنی کے چوڑے دھارے نیچے گرتے تو نیلے پانیوں میں عصر کے وقت کا سونا جھلملانے لگتا تھا۔ اس نیلے سونے میں کشتیاں اور بحری جہاز مرغابیوں کی طرح تیر رہے تھے۔ ہم اس منظر کا حصہ تھے جو خود ایک بہت بڑے منظر کا حصہ تھا۔ سیاح اس لمحے کو کیمرے کی آنکھ سے اس کے دل میں محفوظ کر رہے تھے۔ میں نے سیاحوں کا ایک مختصر سا گروپ دیکھا جو ایک مرد اور دو عورتوں پر مشتمل تھا اور اس تلاش میں تھا کہ کوئی ان تینوں کی اکٹھے تصویریں کھینچ دے۔ مجھ اکیلے کو بھی اپنی تصویر کھنچوانے کے لیے کسی ساتھی کی ضرورت تھی؛ چنانچہ ہم نے ایک دوسرے کی تصویریں کھینچیں‘ لمحات منجمد کیے اور اس کے بعد رخصت ہوئے۔
واپسی تک مغرب کا وقت ہو چکا تھا۔ ابھی واپسی کا آدھا راستا طے کیا تھا کہ موسلادھار بارش شروع ہو گئی۔ چھتری پاس نہیں تھی اس لیے ایک سائبان تلے ایک بنچ پر بیٹھ کر بارش رکنے کا انتظار کرنے لگا۔ کچھ ہی دیر ہوئی تھی کہ میں نے سامنے کے خوبصورت کیفے سے اسی ترک نوجوان کو نکل کر اپنی طرف آتے دیکھا جس سے ابھی ملاقات ہوئی تھی۔ وہ میرے پاس آیا اور دعوت دی کہ آپ ہماری ٹولی کے ساتھ کیفے میں آ جائیں‘ باہر بہت بارش ہے۔ یہ مہربان دعوت غیر متوقع تھی لیکن میں ان کی بے تکلف دوستانہ گپ شپ میں رکاوٹ نہیں بننا چاہتا تھا‘ لہٰذا اس کا شکریہ ادا کرتے ہوئے میں نے معذرت کرلی‘ لیکن اس کا اصرار جاری رہا۔ میں نے دو تین بار معذرت کی لیکن دیکھا کہ اس کا اصرارکم نہیں ہورہا۔ مزید یہ کہ وہ سائبان سے باہر کھڑا میری وجہ سے بارش میں بھیگ رہا ہے۔ میں اٹھا اور اس کے ساتھ ہولیا۔ کیفے آتشدان اور سیاحوں کی گرمی سے بھرا ہوا تھا۔ وہ ایک شیشے کی دیوار کے ساتھ بیٹھے تھے اور وہیں سے انہوں نے مجھے دیکھا تھا۔ ان کی کوشش تھی کہ وہ کچھ دیر میرے اکیلے پن کا مداوا کرسکیں۔ نوجوان ترک بینکار تھا اور اس کا نام فردی دمیر (Ferdi Demir) تھا۔ نوجوان ترک لڑکی گربیٹ کارملتاس (Gurbet karmiltas) کسی سکول میں انگریزی پڑھاتی تھی۔ ان کی تیسری ساتھی سیام یعنی تھائی لینڈ سے ان کی دوست رونگمٹ ڈاوسانان(Roongmit Daosanan) استنبول گھومنے آئی ہوئی تھی اور کل اس کی اپنے وطن واپسی تھی۔ وہ استنبول سے بے حد متاثر تھی اور اس کا واپس جانے کو جی نہیں چاہ رہا تھا۔ فردی ایک مہمان نواز ترک تھا اور اس نے کافی اور سینڈوچ کا بل ہم میں سے کسی کو ادا نہیں کرنے دیا۔ گربیٹ موجودہ حکومت اور اردوان کے سخت مخالفین میں سے تھی۔ شیشے کی دیوار کے باہر بارش مسلسل گرتی اور ترکی چائے کا لطف دوبالا کرتی تھی۔ دو گھنٹے کے بعد جب ہم رخصت ہوئے تو ان اجنبی دوستوں کی مہمان نوازی کا نقش محفوظ ہو چکا تھا۔ اگرچہ استنبول کے سیاحتی مراکز میں ٹورسٹس کے ساتھ دھوکے بازی کے کافی واقعات ہوتے ہیں اور مکمل اجنبیوں سے محتاط رہنا ہی بہتر ہے؛ تاہم ترک عام طور پر خوش مزاج اور مہمان نواز قوم ہے۔ فردی دمیر اور گربیٹ کارملتاس اپنی قوم کے ایسے ہی چہرے تھے۔
لیکن چہرے اور بھی ہیں۔ اکیلے سیاحوں کو دیکھ کر انہیں گھیرنے اور لوٹنے والے۔ ٹورسٹ ایریاز میں روز ایسے واقعات پیش آتے ہیں۔ میرے قریبی دوستوں نے اپنے لٹ جانے یا پیسے نکال لیے جانے یا متروک کرنسی دے دیے جانے کے کئی واقعات سنائے۔ پولیس کے چکر کون لگائے اور بہت سی صورتوں میں پولیس یا بے بس ہے یا کاہل۔ پھر زبان کی مجبوری اور ٹھیک واقعہ بتانا ایک الگ مسئلہ ہے‘ حالانکہ ٹورازم پولیس کا ایک الگ شعبہ بھی قائم ہے۔
خود میرے ساتھ دو بار یہ واقعات ہوتے ہوتے بچے۔ چھٹی حس نے خبردار کیا اور میں بروقت اس جال سے نکلنے میں کامیاب ہو گیا۔ ایک بار یہ ہوا کہ میں استنبول یونیورسٹی سے پیدل اپنے ہوٹل کی طرف آرہا تھا اور رات کا وقت تھا۔ چلتے چلتے عقب سے دو لمبے تڑنگے ترک آئے اور مجھ سے ٹوٹی پھوٹی انگلش میں نیلی مسجد کے بارے میں پوچھا۔ میں نے انہیں بتایا تو وہ بولے کہ ہم ازمیر سے پہلی بار استنبول آئے ہیں اور رہنمائی چاہتے ہیں۔ میرا تعارف مانگا اور میں نے بتا دیا۔ ہم چلتے چلتے یہ باتیں کر رہے تھے۔ پھر غیر محسوس طریقے سے ایک آدمی میرے دائیں طرف اور دوسرا بائیں طرف آگیا۔ ایک کا ہاتھ میری پینٹ کی جیبوں سے کئی بار ٹکرایا تو میری چھٹی حس نے مجھے خبردار کیا لیکن میں باتیں کرتے ہوئے چلتا رہا۔ یہ رونق والا علاقہ تھا اس لیے مجھے زیادہ فکر نہیں تھی لیکن آگے چل کر سڑک کا قدرے سنسان ٹکڑا بھی تھا۔ میں باتیں کرتے کرتے اچانک مڑا اور ان کے کچھ سمجھنے سے پہلے سڑک پار کرکے دوسری طرف ایک قالین کی دکان میںداخل ہوچکا تھا۔ وہ ایک دم وہیں کھڑے ہوگئے۔ میں دکان میں گھومتے ہوئے انہیں دیکھ رہا تھا۔ مجھے ڈر تھا کہ وہ دکان میں نہ داخل ہوں لیکن انہوں نے یہ ہمت نہیں کی۔ میں نے دکاندار سے باتیں کرتے ہوئے اسے اس بارے میں بتایا اور ان دونوں کی طرف اشارہ کیا۔ وہ اِدھر ہی دیکھ رہے تھے۔ جیسے ہی میں نے اشارہ کیا‘ وہ اپنے رخ سے بالکل مخالف سمت میں مڑے اورتیز تیزچلتے ہوئے وہاں سے نکل گئے۔ اب میرا شبہ صرف شبہ نہیں یقین تھا۔ میں نے محفوظ وقت تک انتظار کیا اور پھر دکان سے نکل کر اپنے ہوٹل پہنچا۔ دوسرا واقعہ تقسیم کے پُررونق علاقے کا ہے‘ جب ایک مشکوک سے شخص نے پہلے دوستی گانٹھنے کی کوشش کی اور پھر ایک سگریٹ پلانے کی پوری کوشش کی اور دونوں میں ناکام ہوکر اپنے ساتھیوں سمیت رفو چکر ہوگیا۔ بہرحال آپ استنبول جائیں تو سب سے پہلے اپنے پاسپورٹ اور کرنسی کو محفوظ کریں۔ ہر جگہ ساتھ لے کر نہ پھریں۔ ترک اور شامی اجنبیوں پر بھروسہ نہ کریں اور اکیلے ہیں تو رات کے وقت سنسان علاقوں سے پرہیز کریں۔ ایسا نہیں کہ وارداتیں بکثرت ہیں لیکن سیاحتی علاقوں میں ایک دو واقعات روز کا معمول ہیں۔
لیکن استنبول مجموعی طور پر پُرامن اور محفوظ شہر ہے۔ اور حکومت کو سیاحوں سے بڑی آمدنی ہے؛ چنانچہ وہ اسے محفوظ تر بنانے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔ اور حضور، سیاحتی مراکز میں محفوظ شہر ہے کون سا دنیا میں؟ ذرا نام تو لیجیے۔ ہم بھی جانیں اس ملکِ امن یاب کو۔ ہم بھی جائیں اس قریۂ اعزاز یافتہ کو۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں