"SUC" (space) message & send to 7575

دستخط …(2)

کم لوگوں کو علم ہوگا کہ معروف صاحب اسلوب مصور اورخطاط صادقین بہت اچھے شاعر بھی تھے۔ رباعیات سے ان کو خاص شغف تھا اور ''رباعیات صادقین ‘‘ کے نام سے انہوں نے اپنا مجموعہ بھی شائع کیا تھا۔ اس کی اشاعت بھی بہت منفرد ہے۔ سرورق پر ''رباعیات صادقین نقاش ۱۳۹۰‘‘لکھا ہے۔ ٹاٹ کا سرورق، دو رنگہ طباعت، موٹا قدرے کھردرا کاغذ جس پر ان کے اپنے قلم کی خطاطی ہے۔ ایک ندرت یہ بھی ہے کہ رباعیات کی تعداد ۱۱۱۱ ہے۔ یہ تعداد بھی لوح پر رقم ہے۔ پرنٹ لائن صفحے پر قیمت۱۱۱۱ پیسے۔ میرے والد زکی کیفی صاحب کو انہوں نے یہ مجموعہ کراچی میں پیش کیا تھا اور اس پر ایک صفحے پر ایک خاکۂ نیم رخ اور ۲۸ ربیع الاول۱۳۹۱ھ کی تاریخ کے ساتھ ان کے دستخط ہیں اور اگلے صفحے کی مخصوص لوح پر زکی کیفی صاحب لکھا ہے۔ انداز یہ ہے کہ ایک خیال کو ایک ہی صفحے پر کئی کئی رباعیات میں رقم کرتے ہیں اور پھر اگلے خیال کی طرف بڑھتے ہیں۔
جناب ماہرالقادری اپنے دور کے معروف اور مقبول شاعر تھے۔ قیام پاکستان سے پہلے بھی اور بعد کے ادوار میں بھی مشاعروں کے مقبول شعرا میں ان کا شمار تھا۔ بہت مترنم شاعر تھے۔ اگرچہ عمر میں جناب زکی کیفی سے کافی بڑے تھے لیکن نہایت بے تکلف اور دوستانہ مراسم تھے۔ ماہر صاحب کا لاہور اکثر آنا جانا رہتا تھا‘ اور وہ صرف ہمارے گھر ہی ٹھہرتے تھے۔ میں نے بہت بچپن سے انہیں اپنے گھر کے مستقل مہمان کی حیثیت میں دیکھا۔ (ابتدائی یادیں نیلا گنبد والے گھر کی ہیں جہاں ماہر صاحب اور دیگر مشاہیر بہت آتے جاتے تھے۔ بعد میں سمن آباد والے گھر میں یہ آمدورفت اور زیادہ رہی) میرے والد کے انتقال کے بعد بھی دونوں طرف سے یہ تعلق رہا اور یہ روایت جاری رہی۔ ماہر صاحب آخر تک لاہور ہمارے گھر ہی ٹھہرتے رہے۔ بہت سے یادگار واقعات ہیں جو ان شاء اللہ کسی وقت لکھنے کا ارادہ ہے۔ فردوس نامی ان کے اس مجموعہ کلام پر 29 مارچ 1956 کی تاریخ موجود ہے۔ انہوں نے لکھا: ہدیۂ خلوص و محبت/ بخدمت جناب مولانا محمد زکی صاحب/ مخلص ماہرالقادری/ لاہور۔ ۲۹ مارچ ۵۶ئ۔
کوثر نیازی ایک زمانے سے میرے والد کے قریبی دوست تھے۔ آنا جانا، ملنا ملانا، شاعری، مشاعرے، صحافت، علمی گفتگو، گھنٹوں نشستیں ہوا کرتی تھیں جو اپنے بچپن میں ہم نے بھی بہت دیکھیں۔ پھر وہ سیاست میں بھی آ گئے اور ان کی مصروفیات و ترجیحات بدلنے کے ساتھ ساتھ بڑھ بھی گئیں‘ لیکن میرے والد کے پاس آنا جانا رہا۔ اس زمانے میں ان کی آغا شورش کاشمیری سے سیاسی معاملات میں شدید مخالفت شروع ہو گئی۔ آغا صاحب بھی میرے والد کے قریبی دوستوں میں تھے۔ وہ خاصے جذباتی آدمی تھے۔ ایک بار کوثر نیازی میرے والد کے پاس انارکلی کی دکان پر آئے تو اتفاق سے شورش صاحب بھی آ گئے۔ میرے والد کی دوستی اور ان کے احترام میں دونوں ضبط کیے بیٹھے رہے لیکن اٹھ کر گئے تو سامنے مال روڈ چوک پر پرانی ٹولنٹن مارکیٹ پر دونوں کا پھر آمنا سامنا ہوگیا۔ وہاں تو تکار کے بعد ہاتھا پائی تک نوبت آ گئی اور دونوں نے ایک دوسرے پر ڈالڈا کے ڈبے پھینکے۔ اس لڑائی کی خبر اخبارات سمیت ہر محفل میں پورے ملک کا موضوعِ گفتگو بن گئی۔ آہستہ آہستہ کوثر نیازی سیاست میں آنے کے بعد دوستوں کے پرانے حلقے سے خاصا کٹ گئے۔ پھر بھٹو صاحب کے وفاقی وزیر بننے کے بعد مصروفیات بھی الگ ہو گئیں۔ لیکن میرے والد سے ان کا رابطہ کچھ نہ کچھ رہا اور دونوں ایک دوسرے کو یاد کرتے رہے‘ ملاقات بہت کم ہوئی حتیٰ کہ میرے والد کا دل کے دورے میں انتقال ہو گیا۔ اس موقع پر کوثر نیازی اسلام آباد سے جنازے میں شرکت کے لیے آئے اور ہم بھائیوں سے تعزیت کی۔ زرگل اور بوئے گل کے ناموں سے ان کی دو دستخط شدہ کتابیں میرے والد کے کتب خانے میں موجود ہیں۔ زر گل پر لکھا ہے: برادر گرامی حضرت زکی کیفی کی خدمت میں/ کوثر نیازی /۱۱ دسمبر 1958۔ بوئے گل پر رقم ہے: اپنے عزیز دوست اور بھائی حضرت زکی کیفی کی خدمت میں/ کوثر نیازی/ لاہور 25 اکتوبر 1964۔
کتابیں کھنگالتے ہوئے ایک بھولی بسری کتاب کیا ملی بہت سے منظر روشن ہو گئے۔ حکیم اجمل خان دہلوی محتاج تعارف نہیں ہو سکتے۔ ان کے پوتے حکیم محمد نبی خان جمال سویدا، دواخانہ حکیم اجمل کے مالک، گلبرگ میں رہتے تھے۔ سویدا تخلص تھا اور عمدہ شاعر تھے۔ خاص طور پر چھوٹی بحر کی غزل بہت عمدہ کہتے تھے۔ اسی کے ساتھ ساتھ نوادرات جمع کرنے کے شوقین تھے اور بیش بہا نوادرات‘ جن میں خطاطی کے نمونے بھی بڑی تعداد میں تھے‘ ان کے ذخیرے میں تھے۔ میں نے ایک بار یہ نوادرات دیکھے ہیں۔ ایک سے ایک نادر چیز تھی۔ خطاطی کے نمونوں میں میر پنجہ کش دہلوی کی اصل وصلیاں بھی تھیں (وصلی: دو باہم جوڑے ہوئے کاغذ جنہیں مسالا لگا کر اور خشک کرکے چکنا بنا لیا جاتا ہے اور جس پر خوش نویس اور خطاط رباعی اور قطعہ وغیرہ لکھ کر مشق کرتے ہیں)۔ حکیم صاحب میرے والد کے دوستوں میں تھے اور ہمارے گھر کئی بار آئے۔ جب 1972 میں ان کا شعری مجموعہ ''نقش سویدا‘‘ شائع ہوا تو انہوں نے میرے والد کو پیش کیا۔ مجھے یاد ہے کہ اس وقت کی کتابوں میں خوبصورتی اور دیدہ زیبی کے حوالوں سے کوئی کتاب ''نقش سویدا‘‘ کو نہیں پہنچتی تھی۔ باکمال خطاط محمدصدیق الماس رقم کی نہایت خوبصورت خطاطی ہے۔ بہترین آفسٹ کاغذ۔ دو رنگہ طباعت۔ ہلکے گلابی رنگ کی زمین پر سیاہ حروف۔ عمدہ جلد‘ شاعری بھی اعلیٰ۔ جمال سویدا غزل اور ہندی گیتوں کے عمدہ معیارات پر پورا اترنے والے شاعر تھے اور شعر گوئی ان کا صرف نوابی شوق نہیں تھا۔ انہوں نے لکھا: بخدمت شریف جناب زکی کیفی صاحب/ جمال سویدا۔ ۸/۸/۷۲ ‘اور ان کا یہ شعر بھی سن لیجیے ؎
کم سہی التفات دوست مگر 
میری امید سے زیادہ ہے 
زکی کیفی صاحب کے انتقال کے بعد بھی ہمارا حکیم جمال سویدا صاحب سے رابطہ رہا۔ ایک بار جب جناب ماہرالقادری ہمارے گھر ٹھہرے ہوئے تھے، وہ ملنے کے لیے ہمارے گھر تشریف لائے اور اگلے دن عشائیے پر ماہر صاحب کو اور ہمیں دعوت دی۔ غالباً یہ 1977 کی بات ہے‘ ہم دونوں یعنی میں اور میرے بڑے بھائی مسعود شوق سے ان کی دعوت پر گئے، کیونکہ ان کی دعوتوں کا بہت شہرہ تھا اور مرغ و ماہی کے ساتھ مرغابی تیتر اور ہرن کے کباب بھی ان کی دعوتوں میں شامل ہوتے تھے۔ میں بچہ تھا اور اس وقت تک میری شعر گوئی شروع نہیں ہوئی تھی۔ معروف شاعر باقی احمد پوری بھی اس محفل میں شامل تھے۔ اس عشائیے اور محفل کی کئی خاص باتیں مجھے اب تک یاد ہیں۔ گلبرگ میں جمال سویدا کے گھر اس مختصر شعری نشست میں پندرہ بیس مخصوص احباب شریک تھے۔ کھانے‘ شعری نشست سے پہلے غالب کی شاعری پر بات شروع ہو گئی۔ ماہر صاحب غالب کے مداح تھے لیکن غالب کے کمزور شعر یا غلطیوں پر بھی بات کیا کرتے تھے۔ مجھے یاد ہے کہ وہ غالب کے ان مصرعوں پر بات کر رہے تھے
کاو کاو سخت جانی ہائے تنہائی نہ پوچھ
اور موئے آتش دیدہ ہے حلقہ مری زنجیر کا
جہاں تک یاد ہے ان کا نکتہ یہ تھا کہ پہلے مصرعے میں کاو کاو سخت ناپسندیدہ لفظ ہے اور دوسرے میں موئے آتش دیدہ خلاف واقعہ ہے۔ بال کو آگ دکھائی جائے تو وہ حلقہ نہیں بناتا، جیسا کہ غالب کی مراد ہے، بلکہ راکھ ہوجاتا ہے۔ ساتھ والے کمرے میں جناب خواجہ محمد شفیع دہلوی عشاء کی نماز پڑھ رہے تھے۔ خواجہ صاحب خود شاعر، شعر شناس اور دہلی کی تہذیب کے نمائندہ تھے۔ ماہر صاحب کی گفتگو سن کر ان سے رہا نہیں گیا۔ وہ شاید نماز توڑ کر بھاگے آئے اور آتے ہی ماہر صاحب کو سخت لہجے میں مخاطب کیا۔ انہیں ماہر صاحب کی تنقید بری لگی تھی۔ دونوں بزرگوں میں تیز الفاظ کا تبادلہ شروع ہوگیا۔ دونوں کا موڈ خراب ہوگیا اور محفل خاصی تناؤ کا شکار ہوگئی۔ پوری محفل کے دوران دونوں ایک دوسرے سے روٹھے بیٹھے رہے۔ پُرتکلف کھانے کے بعد شعری نشست ہوئی جس میں دیگر شعرا کے ساتھ جناب جمال سویدا اور ماہر صاحب نے کلام سنایا۔ یاد پڑتا ہے کہ خواجہ صاحب نے حصہ نہیں لیا اور محفل کے دوران اٹھ کر چلے گئے تھے۔ شعری نشست کے بعد حکیم صاحب نے اپنے نوادرات دکھائے ان میں خطاطی کے بہت نادر نمونے شامل تھے۔ معلوم نہیں یہ نوادر اب ان کے خاندان میں کس کے پاس ہیں۔ کیا کمال خانوادہ تھا۔ خواہش ہے کہ اس خاندان سے پھر رابطہ ہوسکے۔

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں