"SUC" (space) message & send to 7575

کالا

بایاں گھٹنا موڑ کر شکار کی گردن پر۔دایاں ہاتھ پیچھے ‘ شاید بھرے ہوئے ریوالور پر یا جیب میں ۔بایاں ہاتھ اطمینان سے جیب میں۔دھوپ کا چشمہ ماتھے کے اوپر بالوں میں۔ہونٹ آدھے کھلے ہوئے ‘جیسے کیمرے کی طرف دیکھ کر کچھ کہنا چاہتا ہے۔پولیس کی یونی فارم پر چمکتا بیج۔چہرے پر اطمینان۔ہم نسل‘ ہم پیشہ ساتھیوں کے سا منے اپنی اعلیٰ کارکردگی کی وجہ سے چہرے پر فخر کے جذبات۔پولیس گاڑی کے پچھلے دائیں ٹائرکے قریب شکار کا سر کیمرے کے سامنے‘ باقی دھڑ گاڑی کے پیچھے چھپا ہوا ۔بایاں رخسار مٹی پررگڑتا ہوا اور چہرہ دائیں طرف‘ یعنی کیمرے کی طرف مڑا ہوا ۔سیاہ رنگ‘ درد کی شدت سے مزید سیاہ ہوتا ہوا۔منہ قدرے کھلا ہوا۔سانس لینے کے لیے یا شاید یہ بتانے کے لیے کہ میرا سانس گھٹ رہا ہے۔منہ کے اندر قدرتی سرخی یا مار پیٹ کا خون۔کچھ پتا نہیں۔
کچھ پتا نہیں کہ یہ تصویر شکاریوں میں سے کسی نے کھینچی یا پاس سے گزرنے والے دیگر جانوروں میں سے کسی نے۔کچھ پتا نہیں کہ یہ شکار کی جان نکلنے کے بعد کا لمحہ ہے یا اس سے کچھ پہلے کا۔کچھ پتا نہیں اس کی ماں زندہ تھی یا مرنے سے پہلے فلائیڈ کا آخری جملہ سن‘ جیتے جی مر گئی۔ '' ماں ! مجھے سانس نہیں آرہا ‘‘ ۔ بیوی تھی؟ بچے تھے؟۔ شاید ہوں گے ۔ جانوروں کے بھی تو گھرانے ہوتے ہیں ۔ہاں !شکار اور شکاری کے نام پتا ہیں۔مرنے سے پہلے شکار کا نام'' کالا‘‘ تھا۔عرف عام میں ''بلیک‘‘۔بعد مرنے کے بعداس کے گھر سے سامان تو نہیں‘لیکن کالے کا نام جارج فلائیڈ نکلا۔شکاری کا نام ڈیرک شاون تھا۔ساتھی شکاریوں کے بھی کچھ نام تھے ۔نام تو یہ ہوئے ۔کام کے بارے میں یہ تصویر بتا دیتی ہے۔
بچپن کی دیکھی کچھ تصویریں ‘پڑھی ہوئی کچھ کہانیاں ذہن میں ایسے بیٹھ جاتی ہیں کہ نکلتی ہی نہیں ۔کچھ گورے شکاریوں کی سیاہ و سفید تصویریں آنکھوں میں گھومتی ہیں‘ جس میں وہ کسی ہاتھی‘ شیر ‘ چیتے ‘ نیل گائے کے شکار کے بعد فاتحانہ انداز میں اپنا ایک گھٹنا یا پاؤں یا بندوق کا بٹ شکار کے اوپر رکھ کر کیمرے کی طرف دیکھتے تھے ۔افریقا کے گھنے جنگل ہوں‘ وسطی ہندوستان کی شکار گاہیں یا بنگال کے دریائی جنگلات ۔ان کی بندوق‘ ان کی تصویر اترواکر ہی رہتی تھی ۔
ہرنوں کے ایک شکاری کی کہانی بھی تو پڑھی تھی ۔وہ اقتباس اب تک یاد ہے : '' میرے سامنے ریت کے ایک ٹیلے کی چوٹی پر کالا کھڑا تھا۔ اس کا منہ میری طرف نہیں تھا اورڈھلتے سورج میں اس کا شاندارجوان گٹھیلا جسم چمک رہا تھا۔ سیاہ ریشمی جلد سے جیسے کرنیں پھسل رہی تھیں۔میں نے دل ہی دل میں اس کی خوبصورتی کی داد دی ‘رائفل سیدھی کی اور اسے بھاگنے کا موقع نہیں دیا ۔وہ زور سے اچھلا اور ریت پر ڈھیر ہوگیا۔سفید ریت پر اس کے خون کا تالاب سا بننے لگا‘‘ میں نے اپنے کسی بڑے سے پوچھا: '' کالا‘‘ کسے کہتے ہیں ؟اس نے کہا: شکار کو ۔ میں نے کہا: کون سا شکار؟ اس نے بتایا :وہ نایاب ہرن‘ جس کا رنگ کالا ہوتا ہے اور جو شکاریوں کے ہاتھ مشکل سے آتا ہے۔
جوان ہوئے تو الیکس ہیلے کی روٹس (Roots)پڑھی اور اس پر فلم کی سلسلے وار قسطیں دیکھیں ۔ دیکھیں کا لفظ غلط ہے۔بعض منظر تو دیکھے ہی نہ جاتے تھے۔بہت دل چاہیے تھا۔افریقا کے ان ساحلوں کی روداد پڑھی ‘جہاں سے کالے شکارجہازوں میں بھر کر یورپ اور امریکہ کی منڈیوں میں بھیجے جاتے تھے۔ایک سفید چیز‘ یعنی ہاتھی دانت اور ایک سیاہ چیز‘ یعنی سیاہ غلام زیادہ قیمت پاتے تھے؛چنانچہ ایک ساحل کا نام ہاتھی دانت کا ساحل ‘ اور ایک کا نام غلاموں کا ساحل پڑ گیا تھا اور یہی اس زمانے کے افریقا کی سفید و سیاہ تصویر تھی ۔
ایک کروڑ پچیس لاکھ کالے بحر اوقیانوس کے پار امریکہ لے جائے گئے تھے ۔کچھ راستوں میں مر گئے ۔مزید غلام پیدا کیے بغیر ۔باقی غلام بیچے گئے ‘خریدے گئے۔امریکہ پہنچے ۔ غلامی کا حق ادا کرنے کے لیے اور مزید غلام پیدا کرنے کے لیے ۔انہی غلاموں میں سے ایک کی نسل سے جارج پیری فلائیڈ تھا‘جو 25مئی2020ء کو منی سوٹا کی ایک پر رونق سڑک پر مارا گیا۔ڈھلتے سورج کی روشنی میں اس کا شاندار جوان چھیالیس سالہ گٹھیلا بدن چمکتا تھا اور اس کی ریشمی سیاہ جلد سے جیسے کرنیں پھسلتی تھیں ۔
نام جو بھی ہوں ۔میرے لیے تو یہ ایک کالے کی تصویر ہے اور ایک گورے کی ۔ایک شکاری کی اور ایک شکار کی ۔ایک جابر کی اور ایک مجبور کی ۔ایک قوم کی اور ایک دوسری قوم کی ۔ایک ملک کی اور ایک دوسرے ملک کی ۔ بایاں رخسار خاک پر رگڑتا ہوا کالا‘کبھی نیگرو دکھائی دیتا ہے ‘کبھی شمالی امریکہ میں ویسٹ انڈین گھڑسوار ‘کبھی آسٹریلیا میں ابورجنل (Aborignal) قبیلے کا سردار ‘کبھی الجزائر میں شیخ عمر مختار کا کوئی جنگجو اورکبھی سری رنگا پٹم میں ٹیپو سلطان کا کوئی سپاہی ۔مختلف بر اعظموں کے یہ سب چہرے وہ ہیں‘ جن میں ایک بات مشترک ہے ۔وہ گوری چمڑی نہیں ہیں ‘نہ کبھی گوری چمڑی والوں کے وسائل پر قبضہ کرنے پہنچے تھے‘نہ ان کی زمین پر۔یہ سب سینکڑوں سال سے اپنے مذہب‘ اپنی تہذیب‘ اپنے رسم و رواج کے ساتھ اپنی زمین میں بسر کررہے تھے ‘لیکن ان سب کو اُن سب کے لیے لڑنا پڑا ۔ اور اسی مٹی میں ان کے رخسار رگڑے گئے ۔ان سب کو اپنے وطن کی مٹی نصیب ہوئی ۔کالے کی قسمت میں یہ بھی نہیں تھی ۔
ایک کروڑ پچیس لاکھ کالے بحر اوقیانوس کے پار نئی دنیا‘ امریکہ میں لے جائے گئے تھے۔اپنی مرضی کے خلاف اور آزاد زندگی سے بہت دور ۔اب ‘ساڑھے چار سو سال بعد ان کی تعدادپانچ کروڑ کے لگ بھگ ہے۔ امریکہ کی کل آبادی کا تقریباً پندرہ فیصد۔ہم اس میں یورپ اور دیگر گورے ممالک کی بات نہیں کر رہے‘ جہاں وہ الگ بھاری تعداد میں موجود ہیں۔ اب‘ یہ پانچ کروڑ کالے ایک الگ زندگی ‘ایک الگ دنیا میں رہتے ہیں ۔موجودہ دنیا میں نسل پرستی کو برا سمجھنے اور قوانین بن جانے کے باوجو د نسلی آقائیت اور ذہنی برتری ختم نہیں ہوسکی ۔نہ شکار کی خو ۔کالا‘ تعلیم ‘ صحت کی سہولت‘معیار زندگی ‘ملازمت‘ہر میدان میں پیچھے ہے ‘لیکن جسمانی لحاظ سے برتر اور ان دونوں وجوہات کی وجہ سے جرائم میں آگے ۔صدیوں کی غلامی ‘نسلی امتیاز اور ظلم نے کالے کی نفسیات عجیب کردی ہے اور کالے ہی کی کیا ۔ذرا‘ گورے کے ساتھ یہی کچھ کیجیے ‘جو سیاہ چمڑی کے ساتھ ہوتا رہا ہے ‘اس کی نفسیات بھی بدل جائے گی ‘پھر اسی پر جاہل ‘ غیر مہذب ‘جنگلی ‘ جرائم پیشہ ہونے کے الزام بھی لگادیجیے‘ کالا ڈرائیو کر رہا ہو تو جانے دیجیے‘ گورے کو روک لیجیے ‘پھر دیکھیے کیا ہوتا ہے اور گوری دنیا کیسے رد عمل کا اظہار کرتی ہے ۔
اور اب‘ فلائیڈ کے ساتھ ظلم کے رد عمل میں کالا شاپنگ مالز اور دکانیں لوٹ رہا ہے‘بڑے سٹورزسے ایک ہجوم کی شکل میںجو ہاتھ لگے اٹھا کر لے جارہا ہے ۔روز وہ ویڈیوز تاریخ کا حصہ بن رہی ہیں‘ جن میں بڑے برانڈز لوٹنے والوں میں کالوں کے ساتھ گورے بھی شامل ہیں ۔حکومت چشم پوشی کر رہی ہے کہ چلو غصے میں بھری سیاہ فام اقلیت کی بھڑاس نکل جانے دو‘دکانیں اور ان کے مال انشورڈ ہیں ‘سو ان کا نقصان بھی پورا ہوجائے گا‘اگر کسی کا نقصان ہے تو وہ انشورنس کمپنیوں کا ۔اور وہ اتنی مالدار ہیں کہ یہ جھٹکے انہیں زیادہ اثر نہیں ڈالتے ۔
اس منظر میں گندمی چمڑی کا رنگ بھی شامل ہے اور بھی قومیں ہیں‘ لیکن ہمیں تو پاکستانیوں سے غرض ہے ۔امریکی پاکستانی۔ ان میں بھی ایک خاص زہریلے طبقے سے۔ہر واقعے پر جو پاکستان کے اندر ہوا ہو‘جی بھر کر ملک اور پاکستانیوں کو مطعون کرنے والے۔دل کا سارا زہر سوشل میڈیا پر بکھیر دینے والے‘ ہر برائی ہم وطنوں کے اندر تلاش کرلینے والے ۔ہر نصیحت کرڈالنے والے ۔جن کی اچھی خاصی تعداد امریکی وظیفوں پر پلتی ہے۔ان کا کیا رد عمل ہے اس واقعے پر ؟چالاکی؟‘ منافقت؟ عیاری؟یہ کوشش کہ گورا ہم سے تو خوش رہے ؟لیکن یہ کوشش کب تک ؟کیا ساڑھے چار سو سال؟
میںجارج فلائیڈ اور ڈیرک شاون کی اس تصویر کو ایک بار پھر غور سے دیکھتا ہوں ۔میری کوشش یہ ہے کہ ان دونوں میں زیادہ ''کالا‘‘ پہچان سکوں ۔ دل کا کالا۔کون ہے وہ ؟شکار کہ شکاری ؟میں نے تو پہچان لیا ہے۔کیا آپ نے بھی ؟

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں