نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- کراچی:نسلہ ٹاورگرانےکےلیےضلعی انتظامیہ متحرک
  • بریکنگ :- نسلہ ٹاورکےتمام کنکشن منقطع کردیئےجائیں گے،ضلعی انتظامیہ
  • بریکنگ :- ایم ڈی واٹربورڈ،سی ای اوکےالیکٹرک،ایم ڈی سوئی گیس کوخط لکھ دیا گیا
  • بریکنگ :- کراچی:27 اکتوبرتک نسلہ ٹاورکےتمام کنکشن منقطع کیےجائیں،خط
Coronavirus Updates
"SUC" (space) message & send to 7575

کھیل اور کھلاڑی

کھلاڑی چوگرد بیٹھے ہوئے ہیں۔ بساط جمی ہوئی ہے لیکن کچھ کیلئے تو بساط الٹ چکی ہے۔ بعض کھلاڑیوں کے بڑے مہرے پٹ چکے ہیں اور بعض کھلاڑی شہ مات دینے کی پوزیشن میں آرہے ہیں۔ دنیا کی یہ بساط ویسے تو مشرق سے مغرب تک ہے لیکن اصل کھیل اسی خطے میں ہورہا ہے جو پاکستان‘ افغانستان‘ ایران‘ چین اور روسی ترکستانی آزاد ریاستوں پر مشتمل ہے۔ کھلاڑی چھوٹے بھی ہیں اور بڑے بھی لیکن کھیل کے بڑا ہونے میں کوئی شک نہیں۔ یہ کھیل بعض کے نزدیک واپس آیا ہے۔ اس دور سے واپس آیا ہے جو دوسری جنگ عظیم سے لے کر افغانستان کے روسی انخلا تک کھیلا جاتا رہا‘ جس میں بڑے کھلاڑی شامل تھے اور انہوں نے چھوٹے کھلاڑیوں کو بھی مہروں کے طور پر استعمال کیا۔ اس بار تین بڑے کھلاڑی ہیں۔ امریکہ‘ چین ‘روس۔ چین بڑے کھلاڑی کی حیثیت میں پہلی بار کھیل میں داخل ہوا ہے۔ امریکہ اور روس پرانے پاپی ہیں اور دونوں افغانستان کے زخم خوردہ بھی۔ درمیانے درجے کے کھلاڑیوں میں‘ جن میں کچھ زیادہ اہم ہیں اور کچھ کم‘ پاکستان‘ ایران‘ بھارت اور وہ روسی آزاد ریاستیں شامل ہیں جن کی سرحدیں افغانستان سے ملتی ہیں۔ ایک بظاہر چھوٹا لیکن اب اہمیت کے لحاظ سے سب سے بڑا کھلاڑی افغانستان ہے۔ ان کے اپنے اپنے کردار پر بات کرتے ہیں لیکن پہلے میخائل گورباچوف کی بات سن لیں‘ سابقہ روسی صدر‘ جنہوں نے افغانستان سے روسی انخلا کا اہم لیکن بہت مشکل فیصلہ کیا تھا۔ گوربا چوف نے حالیہ امریکی انخلا کے بارے میں کہا کہ یہ شروع ہی سے ایک ناکام کوشش تھی‘ حالانکہ ابتدا میں روس نے اس کی حمایت کی تھی۔ حالات ایسے ہیں کہ بظاہر چین اور روس نے ان معاملات کے سلسلے میں ہاتھ ملا لیے ہیں حالانکہ روس کافی محتاط ہے اور ابھی اس کے افغانستان والے زخم بھی مندمل نہیں ہوئے۔ روس میں طالبان پر پابندی ہے‘ اس لیے اس نئی حکومت کو فوری طور پر تسلیم کرنے کا راستہ فی الحال نہیں اپنایا‘ لیکن مستقبل کے بارے میں روس سارے امکان کھلے رکھے گا۔ فی الحال اس نے طالبان سے بات چیت کا رویہ اپنایا ہے‘ اور اس کی خواہش ہے کہ محاذ آرائی کے بجائے تجارتی دروازے کھلے رکھے جائیں۔ روس کا بڑا اندیشہ یہ ہے کہ روسی ترکستان کی آزاد ریاستوں میں دہشت گرد عناصر داخل نہ ہو جائیں۔ اسی وجہ سے اس نے افغان مہاجرین کی ان ریاستوں میں داخلے کی مخالفت کی ہے۔
بساط بہت حد تک چین کے حق میں ہے۔ وہ افغانستان میں اپنا اثر‘ اپنی تجارت‘ بیلٹ اینڈ روڈ کے منصوبے کے بہت سے فوائد حاصل کرنا چاہتا ہے۔ افغانستان امریکہ کے ہاتھ سے پھسل کر چین کے ہاتھ میں آ جائے تو یہ عالمی بڑی گیم میں چین کی بڑی کامیابی ہو گی۔ اسی لیے وہ مسلسل طالبان کی حوصلہ افزائی کر رہا ہے اور ان سے تعلقات بڑھا رہا ہے۔ طالبان نے بھی سی پیک کے منصوبے کو افغانستان کے لیے بہت مفید قرار دیا ہے۔ چین کے لیے ایک بہت مفید ساتھی پاکستان ہے جو افغانستان میں اس کے لیے بہت سی راہیں ہموار کر سکتا ہے۔ چین کا بنیادی خدشہ مشرقی ترکستانی سرحدی صوبے میں ETIM نامی تنظیم کی دہشت گردی ہے۔ وہ ہر قیمت پر یقینی بنانا چاہتا ہے کہ طالبان نہ اس تنظیم کا ساتھ دیں اور نہ افغانستان سے حمایتی عناصر اس ریاست میں داخل ہوں۔ اگر چین کا یہ خدشہ دور ہو جائے تو افغانستان کے بدلے ہوئے حالات سے چین اور پاکستان سب سے زیادہ فائدہ اٹھانے والے ملکوں میں ہوں گے۔ جولائی 2021ء میں طالبان کے وفد کے بیجنگ کے دورے سے چین کو یہ خدشہ دور کرنے میں بہت مدد ملی۔ حالیہ طالبان عبوری حکومت کا بھی چین نے خیر مقدم کیا ہے‘ جو ظاہر کرتا ہے کہ بہت سے معاملات پہلے ہی طے پا چکے ہیں۔ اگرچہ چین نے امارت اسلامی افغانستان کی حکومت کو فی الحال تسلیم نہیں کیا لیکن حالات اسی نہج پر رہے تو یہ بہت جلد متوقع ہے۔ بظاہر چین اور روس نے علاقے میں نیا بلاک تشکیل دینے کا فیصلہ کر لیا ہے جس میں پاکستان‘ افغانستان اور ممکنہ طور پر ایران بھی‘ شامل ہوں گے۔ یہ ممکنہ بلاک جس کی تشکیل کے آثار واضح ہیں‘ دنیا کے طاقت ور ترین بلاکس میں سے ہو گا۔ اس میں ایک رکاوٹ پاکستان روس تعلقات تھے لیکن وہ حالیہ برسوں میں بہت بہتر ہو چکے ہیں۔
امریکہ‘ جو ہمیشہ عالمی کھلاڑیوں میں سب سے بڑا کھلاڑی رہا ہے‘ فی الحال اپنے زخم چاٹ رہا ہے۔ اسکے مہرے بری طرح پٹے ہیں اور اسکے پاس اپنی مرضی کی چالیں بہت کم رہ گئی ہیں۔ وہ زیادہ سے زیادہ مخالف بیانات دینے کے قابل ہے۔ عملی طور پر کچھ کرنے کے قابل بھی نہیں اور موجودہ امریکی صدر اس پر راضی بھی نہیں ہوں گے۔ امریکہ کا بڑا مسئلہ اب چین ہے۔ اس نے اب تک اسے قابو کرنے کے جو طریقے اپنائے ‘ وہ کامیاب نہیں ہوئے‘ اور اب افغانستان میں وہ بے بسی سے چین کو نفوذ کرتے دیکھ رہا ہے۔ اس خطے میں اسکے پاس پاکستان بھی عملاً باقی نہیں ہے۔ دونوں ملکوں کے تعلقات سرد مہری اور بد اعتمادی کا شکار ہیں اور پاکستان واضح طور پر چینی بلاک کا حصہ بن چکا ہے۔ بھارت کو افغانستان میں فریق بنانے اور چین کے مقابل کھڑا کرنے کی پالیسی بھی ناکام رہی ہے۔ سو اب اس خطے سے امریکہ عملی طور پر باہر ہو چکا ہے۔
لیکن جس طرح ہندوستان افغانستان سے باہر ہوا ہے‘ اس کی تو کسی کو توقع ہی نہیں تھی۔ اب ہندوستانی حکومت کے پاس انتظار کرو اور دیکھو کی پالیسی سے بہتر کوئی پالیسی ہے ہی نہیں۔ صاف ظاہر ہے کہ درمیانی یا لمبی مدت تک کیلئے افغانستان طالبان ہی کا ہے تو ان سے رابطہ کیے بغیر چارہ نہیں‘ ورنہ ہندوستانی مفادات‘ جو ضائع ہوئے وہ تو ہوئے‘ آئندہ کے تجارتی تعلقات اور تجارتی راستے بھی خطرے میں پڑ گئے ہیں۔ پھر طالبان نے کشمیر میں اور ملک کے دوسرے علاقوں میں بھارت مخالف تحریکوں کو تیز کرنے کا عندیہ دیا ہے۔ بھارت کے بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں دخل اندازی کے منصوبے بھی دھرے کے دھرے رہ گئے ہیں۔ سو ایک دم جو افتاد بھارت پر آن پڑی ہے اس میں اسے کچھ سجھائی نہیں دے رہا۔ایک پڑوسی ملک میں حالیہ مظاہرے اور بیانات سے دو باتیں واضح ہیں‘ ایک تو پنجشیرمیں طالبان کی کامیابی اس کیلئے غیر متوقع ہے۔ دوسرے‘ طالبان کی مجوزہ حکومت میں حامی عناصر کی غیر موجودگی سے وہ ناخوش ہے۔ بظاہر ایران کو اندیشہ ہے کہ وہ افغانستان سے بتدریج باہر ہو رہا ہے۔ ازبکستان‘ تاجکستان اور ترکمانستان روسی اثر و رسوخ سے باہر نہیں ہیں‘ اس لیے اپنے اپنے مفادات سامنے رکھتے ہوئے بھی انکی مرضی وہی ہو گی جو روس کی ہو گی۔
پاکستان ان کھلاڑیوں میں ہے جو درمیانے درجے کے کھلاڑی تھے لیکن انہوں نے بتدریج اس کھیل میں اپنی اہمیت اس طرح منوا لی کہ بڑے کھلاڑی ساتھ چلنے پر مجبور ہیں۔ طالبان کے برسر اقتدار آنے سے خطے میں سب سے بڑا فائدہ پاکستان کو ہوا ہے۔ یہ ثمر اسے بیالیس سال کے صبر‘ قربانیوں اور دباؤ برداشت کرنے کی وجہ سے ملا ہے لیکن پاکستان عجلت سے کام لے کر ان ثمرات کو ضائع نہیں کرنا چاہتا۔ وہ پھونک پھونک کر قدم رکھ رہا ہے۔ اس کے بنیادی طور پر چار مقاصد ہیں جو پورے نہ ہوں تو یہ کاوش ادھوری ہو گی۔ پہلا تو مغربی سرحدوں کی طرف سے اطمینان‘ جو اَب اسے میسر آ رہا ہے۔ دوسرا‘ افغان پناہ گزینوں کی واپسی‘ جس کیلئے معاملات ابتدائی درجے میں ہیں۔ تیسرا‘ افغانستان سے تجارت‘ تجارتی راستوں کی بہتری اور روسی ریاستوں تک رسائی ہے۔ اور سب سے آخری لیکن اہم ٹی ٹی پی کے دہشت گردوں کی افغانستان میں ممکنہ پشت پناہی نہ ہونا ہے۔
کھلاڑی چوگرد بیٹھے ہوئے ہیں۔ بساط جمی ہوئی ہے لیکن کچھ کے لیے تو بساط الٹ چکی ہے۔ بعض کھلاڑیوں کے بڑے مہرے پٹ چکے ہیں اور بعض کھلاڑی شہ مات دینے کی پوزیشن میں آ رہے ہیں۔

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں