"SUC" (space) message & send to 7575

وائی کنگز کے ملک میں … (5)

ڈنمارک میں بہت دوستوں نے مہمان نوازی کی لیکن میری اصل میزبان صدف مرزا اُن میں سر فہرست ہیں۔ ان کی بھرپور مہمان نوازی ناقابلِ فراموش ہے۔ میں صرف چند دن کیلئے کوپن ہیگن میں تھا لیکن اس دوران انہوں نے مجھے شہر کے اہم مقامات دکھانے اور اہم لوگوں سے ملوانے کا بندوبست کر رکھا تھا۔ ایک صبح ہم ان کے گھر کے قریب ہی ساحلِ سمندر پر پہنچے جہاں سمندر سے پہلے کی ایک کریک میں سفید راج ہنس‘ لمبی گردنوں والی رنگا رنگ بطخیں اورکئی قسم کی مرغابیاں تیر رہی تھیں۔ انسانوں سے بے خوف یہ آبی پرندے دانے کی تلاش میں لوگوں کے قریب آجاتے ہیں۔ تیز سرد ہوا‘ نیلا پانی اور خوبصورت پرندے۔ یہ منظر دل میں محفوظ کرنے والا تھا اور ہم نے دل اور کیمروں میں محفوظ کرنے میں دیر نہیں لگائی۔
ذرا آگے بڑھے اور کھلے سمندر کے کنارے ریت پر اُترے تو ایسا لگا جیسے کسی بہت بڑے فریزر میں اُتر گئے ہوں۔ سمندر اگرچہ برف نہیں بنا تھا اور تیز لہریں پانی ہونے کا ثبوت دیتی تھیں لیکن قاتل سرد ہوا ایک منٹ کھڑے ہونے کا موقع نہیں دیتی تھی۔ مجھے یاد ہے کہ یخ بستہ تھپیڑوں کے بیچ چند لمحوں کیلئے تصویر کھنچوانے کیلئے سمندر کنارے کھڑا ہونا بھی بڑی ہمت مانگتا تھا۔ مجھے خیال آیا کہ ان ملکوں کی سردیوں میں زندگی کرنا آج کی سہولتوں والے زمانے میں بھی بہت کٹھن ہے تو صدیوں پہلے یہاں انسان کیسے رہتے ہوں گے۔ ان نسلوں کی جسمانی مضبوطی اور سخت جانی بھی مسلمہ ہے اور جنگجو فطرت بھی۔ وائی کنگز نے شمالی یورپ میں جو اپنے نقش قائم کیے‘ اس کی وجہ ان کی سخت کوشی اور جفا کشی بھی رہی ہو گی۔ جنگوں اور کڑے موسموں کی مستقل سختی سہتے انسانوں کے سامنے بقا کے راستے اور تھے بھی کتنے۔ صدف مرزا کوپن ہیگن کے ایک نجی ٹی وی چینل سے بھی وابستہ ہیں۔ اس چینل کیلئے کیا گیا میرا انٹرویو یوٹیوب پر موجود ہے۔ اسی چینل کے ایک ساتھی کے ہمراہ دریائے نیہاون میں لانچ کا ایک سفر بھی یادگار ہے۔ نیہاون کوپن ہیگن کے بیچوں بیچ بہتا ہے۔ اُس دن بادل برسنے کو تیار تھے اور میں لانچ پر بیٹھا دونوں سمت رنگا رنگ عمارتیں گزرتے اور پانی میں ان کا جھلملاتا عکس دیکھتا تھا۔ ذرا دیر گزری تو ہم شہر کے مرکز میں اہم سرکاری عمارتوں کے بیچ جا پہنچے۔ جہاں لانچ سے اُتر کر گھومنے کا موقع مل گیا۔ یہ ایک وسیع چوک ہے جس میں شاہی محلات‘ پارلیمنٹ‘ وزیراعظم ہاؤس وغیرہ موجود ہیں۔ یہ تمام قدیم یورپی طرزِ تعمیر کی روایتی عمارتیں ہیں۔ میں نے حیرت سے دیکھا کہ اکثر عمارتوں کی چھتیں‘ گنبد‘ چھجے وغیرہ سبز تھے۔ انہیں سبز رنگ کیوں کیا گیا ہے؟ جس جل پری سے کوپن ہیگن میں ملے تھے اس کا رنگ بھی سبز ہے۔ بعد میں سٹیٹن آئی لینڈ‘ نیو یارک امریکہ کے مشہورِ زمانہ مجسمۂ آزادی کو دیکھنے کا موقع ملا تو دیکھا کہ یہ بھی سبز رنگ ہے۔ اس ہلکے سبز رنگ میں کیا خاص بات ہے کہ اکثر بہت سی قدیم عمارتوں اور مجسموں میں نمایاں نظر آتا ہے؟ اصل بات یہ ہے کہ انہیں انسان نے نہیں‘ قدرت نے سبز رنگ میں رنگا ہے۔ تانبے‘ کانسی یا مختلف دھاتوں کو ملا کر بنائے گئے مجسموں‘ چھتوں اور عمارتوں کو جب تیار کیا گیا تھا تو یہ اپنے سنہرے یا زرد رنگوں کیساتھ دھوپ میں چمچمایا کرتے تھے۔ لیکن تانبے یا دیگر دھاتوں پر جب پانی‘ آکسیجن اور کاربن ڈائی آکسائیڈ تعامل کرتے ہیں تو ایک کیمیائی عمل‘ جسے Patina کہتے ہیں‘ ان پر ایک پتلی تہہ چڑھا دیتا ہے جس کا رنگ ہلکا سبز ہوتا ہے۔ اور سنہرے زرد کانسی کے رنگ اسی رنگ میں رنگے جاتے ہیں۔ ایک لحاظ سے یہ ان کیلئے بہتر بھی ہوتا ہے کہ یہ تہہ انہیں موسمی تبدیلیوں اور توڑ پھوڑ سے محفوظ کردیتی ہے۔ چنانچہ جہاں یہ دھاتیں استعمال ہوئی ہیں‘ وہاں عمارتیں اسی رنگ کی چھتوں اور گنبدوں وغیرہ کیساتھ دکھائی دیتی ہیں۔
ڈنمارک میں سائیکل کا بہت رواج ہے۔ یہ حیرت کی بات اس لیے ہے کہ سخت سردی اور اکثر بارش والے ملک میں یہ آسان نہیں ہے لیکن لوگ اس کے عادی ہیں اور انہوں نے خود کو اور سائیکل کو ان موسموں کے مطابق ڈھال لیا ہے۔ میں نے سنا کہ وزیراعظم بھی بہت بار سائیکل پر دفتر آیا جایا کرتے ہیں۔ صدف مرزا مجھے ڈنمارک میں ایک مدت سے مقیم معروف پاکستانی قلمکار جناب نصر ملک کے دفتر لے گئیں جہاں انہوں نے پُر تپاک خیر مقدم کیا اورڈینش زبان اور اردو زبان کے باہمی ربط ضبط کیلئے اپنے علمی کاموں کا تعارف کرایا۔ ان کاموں کی تفصیل وقت مانگتی ہے لیکن یہ بہرحال بڑا کام ہے کہ وہ کئی دہائیوں سے اس میں مصروف ہیں۔
میرے لیے پاکستان اور بھارت کے لکھنے والوں کی ایک بڑی عمدہ محفل اور عشائیہ صدف مرزا نے ایک مقامی ریسٹورنٹ میں منعقد کیا جہاں کوپن ہیگن کے قریب قریب تمام اہلِ قلم موجود تھے۔ سب بہت محبت سے اس محفل میں شریک ہوئے اور ایک دور افتادہ شہر سے آئے ہوئے مہمان کی بھرپور پذیرائی کی۔ اس سرد رات جب میں ریسٹورنٹ کے سامنے اُترا تو پہلے اس نام ''ٹرانک بار‘‘ نے مجھے اپنی طرف کھینچا۔ اس نام کی طرف پہلے توجہ نہیں گئی تھی۔ یہ جنوبی ہندوستان کی ریاست تامل ناڈو کا نام یہاں کوپن ہیگن میں کیسے آگیا؟ احباب سے ملاقات میں اس سوال پر دھیان کی فرصت نہ ملی لیکن ریسٹورنٹ کے ہندوستانی مالک چاند شُکلا سے ملاقات کے بعد بات کچھ کچھ سمجھ آنے لگی۔ چاند شُکلا اپنے گھرانے کے ساتھ محفل میں موجود تھے اور تمام انتظام بہت عمدگی سے کیا گیا تھا۔ چاند شُکلا اور صدف مرزا نے مختصراً پاک و ہند اور ڈنمارک کے بیچ اولین سمندری تجارت اور رابطوں کا بھی ذکر کیا۔ مکالمے‘ مشاعرے اور عشائیے کے بعد بھیگتی رات میں ایک پُر لطف محفل کی یاد ساتھ لیے جب ہم گھر واپس جارہے تھے تو میرا ذہن صدیوں پہلے کے ہندوستانی ساحلوں پر بھٹک رہا تھا۔ سونے کی چڑیا ہندوستان پر یورپ کی نظریں پڑنا شروع ہوئیں تو فرانسیسیوں‘ پرتگیزوں‘ انگریزوں اور ولندیزیوں نے اپنی اپنی تجارتی کوٹھیاں قائم کیں۔ 1600ء میں عہدِ جہانگیری میں انگریز ایسٹ انڈیا کمپنی کے ساتھ یہاں آئے اور اجمیر میں بادشاہ سے انکی ملاقات ہوئی۔ بالآخر سب سے دیرپا تسلط انگلینڈ کا قائم ہوا جس کی ایسٹ انڈیا کمپنی نے جو گل کھلائے وہ تاریخ کا حصہ ہیں۔ لیکن یہ بات کم لوگوں کو علم ہے کہ ڈینش بھی اسی تاریخ کا حصہ رہے ہیں۔ تامل ناڈو میں دریائے کاویری اور سمند رکے قریب ڈنمارک نے بھی ایک ڈینش ایسٹ انڈیا کمپنی قائم کی تھی۔ 1620ء میں ڈینش لوگ یہاں پہنچے اور مقامی راجہ کی اجازت سے یہاں ڈانس بورگ کے نام سے قلعہ اور تجارتی کوٹھی قائم کی۔ اس جگہ کو ٹرانک بار کہا جاتا تھا۔ ہندوستان کے مسالے اور دیگر سوغاتوں کی یورپ میں بہت مانگ تھی اور یہ علاقہ ان سے مالا مال تھا۔ 1639ء میں ڈنمارک کے بادشاہ کرسٹین چہارم نے ولیم لیئل کو کمپنی کے حالات کا جائزہ لینے بھیجا۔ بعد میں بہت سے مسائل کی وجہ سے کمپنی ختم کر دی گئی۔ اسی زمانے میں یورپی مشنری بھی آنا شروع ہوئے جنہیں سرکاری سرپرستی حاصل تھی۔ ڈینش دلچسپی برصغیر میں رفتہ رفتہ ماند پڑتی گئی اور انگریز اور فرانسیسی آگے آتے گئے۔ بہرحال برصغیر کی تاریخ میں یہ کم ذکر ہوتا ہے کہ سترھویں صدی عیسوی میں مغلوں کے زمانوں میں ڈنمارک اور برصغیر کے تجارتی روابط اور تعلقات کیا تھے اورچاند شُکلا نے ٹرانک بار کا نام اپنے ریسٹورنٹ کو دے کر اسی تاریخی حقیقت کا اظہار کیا تھا۔
اگلے دن میری مانچسٹر‘ یوکے واپسی تھی۔ کوپن ہیگن میں چند روزہ قیام پُرلطف بھی تھا اور یادگار بھی۔ اُن دوستوں کی محبت محفوظ ہو گئی۔ بھیگتی رس ٹپکاتی سرد اور تاریک راتوں کی گرم محفلیں اور گپ شپ بھولنے والی باتیں نہیں ہیں۔ سرد‘ خاموش‘ سنسان‘ کھڑنجی اینٹ کی گلیوں میں ٹک ٹک کرتی چہل قدمی دل میں محفوظ ہے۔ واپسی کے جہاز میں بیٹھا میں سوچ رہا تھا کہ لفظ کی طاقت بھی کتنی بڑی طاقت ہے۔ کتنے اجنبی لوگوں کو باہم جوڑ دیتی ہے۔ کتنی اجنبی زمینیں مانوس بنا دیتی ہے۔ کتنی محبتیں قائم کر دیتی ہے۔ وائی کنگز! قلم کی دھار تلوار سے زیادہ تیز ہے۔

Advertisement
0 seconds of 0 secondsVolume 0%
Press shift question mark to access a list of keyboard shortcuts
00:00
00:00
00:00
 
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں