کلر اٹھی زمینوںمیںدھان کی کاشت ہوسکتی ہے : ماہرین زراعت
کالے کلر سے متاثرہ زمین میں کیلشیم ، جپسم یا فری کاربونیٹ ڈال کراس کی اصلاح کو یقینی بنایاجاسکتاہے ، کھیت میں پانی کھڑا رکھیں
فیصل آباد(اے پی پی) حکومت اور کاشتکار مل کر کلراٹھی زمینوں میں دھان کی کاشت میں کامیابی حاصل کرسکتے ہیں ۔ ماہرین زراعت نے بتایاکہ اگر تھوڑی سی کوشش کی جائے توتھور و کلر سے متاثرہ اراضی کو آسانی سے قابل کاشت بنایاجاسکتاہے ۔ سفید کلر میں نمکیات عام طورپر سفید رنگ کی تہہ کی شکل میں زمین کی سطح پر نظر آتے ہیں جس کے باعث زمین میں پانی و ہوا کی نفوذ پذیری متاثرنہیں ہوتی اور پانی زمین میں جذب ہو جاتاہے ۔ایسی زمینوں کے اصلاحی عمل کیلئے کھیتوں کو ہموار کرکے پہلے دوہرا ہل چلایاجائے اور پھر سہاگہ دے کر وٹ بندی کر لی جائے ۔ بعدازاں نہر یا ٹیوب ویل کا پانی جس میں حل پذیر نمکیات کی مقدار زیادہ سے زیادہ 1500 سے 2000پی ایم کے درمیان ہو کو کھیت میں بھر کر کھڑاکردیاجائے یہ عمل کئی بار دہرانے سے زمین قابل کاشت بنائی جاسکتی ہے ۔ اسی طرح کالے کلر سے متاثرہ زمین میں کیلشیم ، جپسم یا فری کاربونیٹ ڈال کراس کی اصلاح کو یقینی بنایاجاسکتاہے ۔سفید و کالے کلر کی آمیز ش والی زمین اکثر کالا یابھورا رنگ اختیار کرلیتی ہے ۔ جس کی وجہ نامیاتی مادے کا سوڈیم کی وجہ سے منتشر ہو کر مٹی کے زرات کو کالارنگ دینا ہے ۔کھیت کے بعض حصے ایسے ہوتے ہیں جن پر کوئی گھاس ، جڑی بوٹی یافصل نہیں ہوتی لہٰذا زمین کو پانی لگانے سے یہ کلر ختم کیا جا سکتا ہے ۔