مقامی صنعت کو مسابقت کے قابل بنایا جائے ،گوہر اعجاز
شرح سود، توانائی نرخ اور ٹیکسیشن خطے کے دیگر ممالک کے مقابلے دوگنی ٹھوس اصلاحات متعارف نہ کرائیں تو صنعتی بنیاد مزید کمزورہونیکا خدشہ ہے
کراچی(بزنس رپورٹر)ملک اس وقت ایک ایسے فیصلہ کن معاشی موڑ پر کھڑا ہے جہاں صنعتی مسابقت کی بحالی یا معاشی جمود میں پھنسے رہنے کے درمیان انتخاب ناگزیر ہوچکا ہے ۔سابق وفاقی وزیر اور بزنس لیڈر گوہر اعجاز نے سوشل میڈیا پر ٹوئٹ کرکے حکومتی حلقوں کو آگاہ کیا کہ پاکستان کی معاشی مشکلات کا پائیدار حل صرف اسی صورت ممکن ہے جب مقامی صنعت کو خطے کے معیار کے مطابق دوبارہ مسابقت کے قابل بنایا جائے ،موجودہ صورتحال میں شرح سود، توانائی نرخ اور ٹیکسیشن کی سطح خطے کے دیگر ممالک کے مقابلے میں دوگنی ہونے کے باعث صنعت شدید دباؤ کا شکار ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ گزشتہ 36 ماہ کے دوران حکومت نے معاشی استحکام کیلئے متعدد اقدامات کئے۔
اسکے باوجود ملکی معاشی نمو 2 فیصد سے بھی کم رہی ،اسی عرصے میں روپے کی قدر ڈالر کے مقابلے میں 160 سے بڑھ کر 280 روپے تک آگئی ،دوسری جانب ملکی برآمدات مسلسل 30 ارب ڈالر کے آس پاس منجمد ہیں۔ گوہر اعجاز نے مزید بتایا کہ چین اور بھارت جیسے ہمسایہ ممالک میں پالیسی ریٹ 5فیصد سے کم ہے لیکن پاکستان میں پالیسی ریٹ رواں سال کے آغاز سے 11 فیصد پر برقرار ہے جس کے نتیجے میں حقیقی شرح سود 6 فیصد سے زائد ہوگئی ہے ۔ بزنس لیڈر کا کہنا ہے کہ اگر حکومت آئندہ چھ ماہ میں ٹھوس معاشی اصلاحات متعارف نہ کرائی تو صنعتی بنیاد مزید کمزور ہونے کا خدشہ ہے۔