اسحاق ڈار نے ایران اور مشرق وسطیٰ میں پھنسے پاکستانیوں کی تعداد بتا دی

اسلام آباد: (دنیا نیوز) نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار نے موجودہ سکیورٹی صورتحال کے باعث ایران اور مشرق وسطیٰ میں پھنسے پاکستانیوں کی تعداد بتا دی۔

نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان نے فوری طور پر ایران، خطے کے ممالک اور عالمی قیادت سے رابطے کیے۔

ان کا کہنا تھا کہ کشیدگی کم کرنے اور مذاکرات کے ذریعے مسئلے کے حل کی کوشش کی گئی جبکہ 35 ہزار پاکستانیوں کے محفوظ انخلا کے لئے ہنگامی اقدامات بھی شروع کر دیئے گئے ہیں۔

اسحاق ڈار نے فضائی حدود کی بندش سے متعلق بتایا کہ ایران اور خلیجی ریاستوں کی فضائی حدود بند ہیں جس کے باعث متعدد افراد مختلف ممالک میں پھنسے ہوئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ایران میں 33 ہزار سے زائد پاکستانی مقیم ہیں، زمینی راستے کھلے ہیں تاہم سفر طویل ہے اور مجموعی صورت حال تشویشناک ہے۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان دل و جان سے ایران کے ساتھ، معاملہ سلجھانے کی کوشش کر رہے ہیں: اسحاق ڈار

اسحاق ڈار نے کہا کہ وزارت خارجہ میں کرائسز مینجمنٹ سیل 24 گھنٹے فعال ہے اور اس کے رابطہ نمبر سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر موجود ہیں، تہران، زاہدان اور مشہد میں بھی ہنگامی مراکز کام کر رہے ہیں جبکہ ابوظبی میں سفارت خانہ اور دبئی و جدہ میں قونصل خانے متحرک ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ پاکستان ایران اور امریکا کے درمیان اسلام آباد میں ثالثی کے لیے تیار تھا، ایرانی میزائل حملوں کے دوران ابوظبی میں ایک پاکستانی شہری جاں بحق ہوا۔

وزیر خارجہ نے بتایا کہ اب تک 64 پاکستانی آذربائیجان منتقل ہو چکے ہیں، 300 ایرانی شہری پاکستان پہنچے ہیں اور 792 پاکستانی ایران سے واپس آ چکے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ عراق میں 40 ہزار پاکستانی، قطر میں ساڑھے تین لاکھ پاکستانی (جن میں 1450 وزٹ ویزا پر ہیں) جبکہ کویت میں ایک لاکھ دو ہزار پاکستانی کام کر رہے ہیں۔

اسحاق ڈار نے مزید بتایا کہ اس وقت 35 ہزار پاکستانی ایران میں موجود ہیں، کمرشل پروازیں معطل ہیں تاہم تفتان سمیت دیگر سرحدی راستے کھلے ہیں اور 792 پاکستانیوں کو نکالا جا چکا ہے۔

وزیر خارجہ نے کہا کہ ہیلپ لائنز 24 گھنٹے فعال ہیں جبکہ آذربائیجان سرحد پر پاکستانیوں کو ویزا سہولت بھی دی جا رہی ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں