اسٹیٹ بینک کا ایکسچینج کمپنیوں کو راست سے منسلک کرنے کا فیصلہ
ترسیلات براہِ راست بینک اکاؤنٹس ، ڈیجیٹل والٹس میں وصول کی جاسکیں گی سہولت کیش لیس اکانومی کی جانب اہم پیش رفت ثابت ہوگی،اسٹیٹ بینک
کراچی(بزنس رپورٹر)اسٹیٹ بینک نے اپنے اسٹریٹجک پلان 2023 تا 2028 کے تحت جدید اور جامع ڈیجیٹل مالیاتی خدمات کے فروغ کو ایک اہم ہدف قرار دیا ہے ،اسی مقصد کے حصول کیلئے اسٹیٹ بینک مسلسل ڈیجیٹل ادائیگیوں کے بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانے ،جدت کو فروغ دینے اورریگولیٹری فریم ورک کو ازسرِ نو تشکیل دینے کے اقدامات کر رہا ہے تاکہ محفوظ، باہم مربوط اور صارف دوست نظام کے تحت سرحد پار رقوم کی ترسیل کو آسان بنایا جا سکے ،اس وژن کو آگے بڑھاتے ہوئے اسٹیٹ بینک نے اب ایکسچینج کمپنیوں کو راست استعمال کرنے کی اجازت دے دی ہے ،راست جدید اور ریاستی سطح کا ادائیگی نظام ہے جو اسٹیٹ بینک نے 2021 میں متعارف کرایا تھا۔
اس اقدام کے تحت اب ایکسچینج کمپنیوں کے ذریعے بھیجی جانے والی ترسیلات زر کے وصول کنندگان اپنی رقوم براہِ راست بینک اکاؤنٹس، مائیکروفنانس بینکوں یا الیکٹرانک منی انسٹی ٹیوشنز میں موجود والٹس میں محفوظ اور تیز رفتار طریقے سے وصول کر سکیں گے ۔اسٹیٹ بینک کے مطابق یہ سہولت نہ صرف ترسیلات زر کے نظام کو مزید مؤثر اور شفاف بنائے گی بلکہ ملک میں کیش لیس اکانومی کے قومی ہدف کے حصول کی جانب ایک اہم پیش رفت بھی ثابت ہو گی۔ اس حوالے سے باقاعدہ ہدایات ای پی ڈی سرکلر لیٹر نمبر 02، مؤرخہ 15 جنوری 2026 کے ذریعے جاری کر دی گئی ہیں۔ اسٹیٹ بینک کا کہنا ہے کہ ڈیجیٹل مالیاتی نظام کی توسیع سے ترسیلات زر میں سہولت، لاگت میں کمی اور صارفین کے اعتماد میں اضافہ ممکن ہو سکے گا۔