موسمیاتی بگاڑ میں ناقص صنعتی حکمت عملی کابڑا کردار ، قیصر شیخ

موسمیاتی بگاڑ میں ناقص صنعتی حکمت عملی کابڑا کردار ، قیصر شیخ

معیشت پربراہ راست منفی اثرات، چیلنجز سے نمٹنے کے لئے متحرک، وفاقی وزیر دیگر ممالک پلاسٹک فضلہ سڑکوں کی تعمیر کیلئے استعمال کررہے ، کلائمیٹ کانفرنس

کراچی (کامرس رپورٹر)وفاقی وزیر بورڈ آف انوسٹمنٹ قیصر شیخ نے کہا ہے کہ پاکستان کو موسمیاتی تبدیلیوں کے سنگین چیلنجز کا سامنا ہے اور حکومت ان سے نمٹنے کیلئے متحرک حکمت عملی پر عمل پیرا ہے ، مائی کراچی نمائش کے موقع پرکلائمیٹ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات ملکی معیشت پر براہ راست منفی اثر ڈالتے ہیں، اس لیے پائیدار صنعتی ترقی اور ماحول دوست پالیسیوں کو فروغ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے ، وفاقی وزیر نے کہا کہ ملک میں پلاسٹک کے فضلے کو درست طریقے سے استعمال نہیں کیا جا رہا، جبکہ دنیا کے کئی ممالک پلاسٹک کو ری سائیکل کر کے سڑکوں کی تعمیرجیسے مفیدمنصوبوں میں استعمال کر رہے ہیں۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ بعض صنعتیں فضلہ سمندروں میں پھینک کر آلودگی میں اضافہ کر رہی ہیں اور موسمیاتی بگاڑ میں ناقص صنعتی حکمت عملی کا بڑا کردار ہے ، انہوں نے بتایا کہ بن قاسم میں تقریباً 6 ہزار ایکڑ زمین سرمایہ کاری کیلئے دستیاب ہے اور حکومت چاہتی ہے کہ سرمایہ کار یہاں نئی صنعتیں قائم کریں، اسپیشل اکنامک زونز میں مشینری کی درآمد پر زیرو ڈیوٹی کی سہولت دی جا رہی ہے تاکہ صنعتی لاگت کم ہو اور پیداواری سرگرمیاں تیز ہوں۔وفاقی وزیر نے کہا کہ این ایف سی کے تحت صوبوں کے ساتھ مل کر غیر ملکی سرمایہ کاری بڑھانے کیلئے عملی اقدامات کیے جارہے ہیں،جبکہ براہ راست بیرونی سرمایہ کاری میں اضافے کیلئے غیر ضروری پابندیاں ختم کی جا رہی ہیں انکا کہنا تھا کہ اسٹیٹ بینک اور سکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان میں بھی اصلاحات کی گئی ہیں تاکہ کاروباری ماحول کو مزید بہتر بنایا جا سکے قیصر شیخ نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ایف بی آر کے غیر ضروری اختیارات کو بھی جلد ختم کیا جائے گاتاکہ سرمایہ کاروں اورصنعتکاروں کو درپیش رکاوٹیں کم ہوں اور کاروبار میں آسانی پیدا ہو۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں